ہائیڈل برگ کی ڈائری سے چند اوراق (3)


زیر نظر اوراق ہائیڈل برگ یونیورسٹی، جرمنی میں میرے چھ ماہ کے قیام کے چند دنوں کی روداد ہیں۔ مجھے اس یونیورسٹی کے جنوبی \"nasirایشیائی مرکز میں مئی تا اکتوبر 2011ء میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو شپ ملی۔ میں نے وہاں نو آبادیاتی عہد کے اردو نصابات پر تحقیق کی۔ قرة العین حیدر پر جرمن زبان میں پی ایچ۔ ڈی کا مقالہ لکھنے والی ڈاکٹر کرسٹینا اوسٹر ہیلڈ (Dr. Christina Oesterheld) میری نگران تھیں، جو وہاں جنوبی ایشیا کی جدید زبانوں کے شعبے میں اردو کی استاد ہیں۔ پروفیسر ہانس ہرڈر اس شعبے کے سربراہ تھے، جن سے میں نے دنیا جہان کے موضوعات پر طویل گفتگوئیں کیں۔ میں تقریباً روزانہ وہاں کی مصروفیات، مشاغل اور گفتگوﺅں کی روداد لکھ لیتا تھا۔ وہاں قیام کے دوران میں، راقم نے جو تحقیق کی، وہ ” ثقافتی شناخت اور استعماری اجارہ داری“ کے عنوان سے سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور سے 2014ء میں شایع ہو گئی، مگر ان اوراق کو چھپوانے کی خواہش نہیں ہوئی۔ ایک دوست نے اصرار کیا تو چند اوراق کمپوز کروائے۔ (ن ع ن)

29جون2011ئ

پون بجے کے قریب ڈاکٹر کرسٹینا میرے کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک دیتی ہیں اور جرمنوں کی روایتی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی ہیں ”چلیں!“ یا ”آپ ہمارے ساتھ لنچ پر چلیں گے!“ میں بھی جواباً مسکراہٹ کے ساتھ کہتا ہوں ”کیوں نہیں“__ معلوم نہیں یہ پورے جرمنی میں رواج ہے یا محض یہاں کہ جب بھی آپ کا سامنا کسی جرمن سے ہوگا، وہ ضرور مسکرائے گا۔ یہی اس کی طرف سے ہیلو، السلام علیکم کا متبادل ہے۔ مجھے یہ انداز بے حد اچھا لگا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ میں نے پہلی دفعہ مسکراہٹ کی اہمیت اور اس کا اثر دریافت کیا ہے۔ ایک مسکراتا چہرہ کسی بھی لفظ پر حاوی ہے۔ تمام لفظ کسی نہ کسی کلچر کی زنجیروں سے بندھے ہیں اور فوراً قومی یا علاقائی یا مذہبی شناخت کا ایک ایسا اعلان کرتے ہیں کہ اگر کچھ لوگ قریب آتے ہیں تو کچھ لوگ دور جاتے ہیں۔ میں نے گزشتہ چند ایک بسٹرو (قہوہ/چائے\"13838104_1265830703435576_1268150144_o\" خانہ) پر ایک ایسا ہی واقعہ دیکھا۔ ایک جرمن نے ایک پاکستانی کو انڈین اور ہندو سمجھ کر نمستے کہا۔ اس نے بلاتوقف جواباً زور دار لہجے میں السلام علیکم کہا۔ اس میں بہ صد اصرار سمجھانے کا انداز تھا کہ جناب میں ہندو نہیں مسلمان ہوں۔ گویا اسے نمستے سے اپنی مذہبی شناخت کے مسخ یا گم ہونے کا حقیقی خطرہ محسوس ہوا۔

 کاسمپوپولیٹن اوربین الاقوامی شہروں میں لوگ اپنی شناخت کے سلسلے میں زیادہ حساس ہوتے ہیں اور یہ شناخت عام طور پر اس کلچر، زبان، مذہب یا علاقے کے حوالے سے ہوتی ہے، جس سے وہ ان شہروں میں فاصلے پر ہوتے ہیں۔ وہ نماز پڑھتے،داڑھی رکھتے ،تلک لگاتے،سوٹ کے ساتھ پگڑی پہنتے، پنجابی، اردو، ہندی بولتے ہیں تو محض عادتاً نہیں، اپنی شناخت باقی رکھنے کی غرض سے __ خیر، بات کہاں چلی گئی۔ میں کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ مسکراہٹ کسی کلچر کی زنجیر سے نہیں بندھی۔ میرا خیال ہے کہ رونااور مسکرانا فقط یہ دو عالمی زبانیں ہیں۔ باقی سب مقامی ہیں۔ لہٰذا جب کوئی مسکرا کر آپ کو دعوت دیتا، استقبال کرتا یا چلے چلتے نیک خواہشات کا اظہار کرتا، حال احوال پوچھتا ہے تو ایک دم اجنبیت، فاصلہ ختم ہو جاتا اور آپ کھِل اٹھتے ہیں۔ مسکراہٹ میں قدیم زمانے کا کوئی طلسم ضرورہے کہ یہ پل بھر میں آپ کی کیفیت بدل دیتا ہے۔__ آج بھی ڈاکٹر کرسٹینا نے مسکراتے ہوئے لنچ پہ جانے کی دعوت دی۔ آج ڈاؤسن اور گوتم بھی ساتھ تھے۔ مینزا میں کھانے کی ایک میز پر جرمن ادیبوں کا ذکر چھڑا۔ گوتم نے کہا کہ اس نے اپنے طالب علموں سے پوچھا کہ وہ کون سے جرمن مصنف ہیں جو اس قدر ہندی میں معروف رہے کہ لوگ اسے ہندوستانی سمجھتے ہیں۔طالب علم اس کا جواب نہیں دے سکے۔ میں سوچ رہا تھا کہ شاید گوئٹے ہوگا، یا ہرمن ہیسے۔ مگر گوتم نے کہا کہ بریخت ہیں ۔میں حیران ہوا۔ بریخت کے نام پر\"Heidelbergtrainhill\" نہیں کہ وہ تو ہمارے یہاں ترقی پسندوں کی وجہ سے خاصا معروف ہے؛ اس کے ا فسانوں، ڈراموں اور مضامین کے اردو ترجمے ہوئے ہیں۔ میری حیرانی کا باعث یہ تھا کہ گوتم نے کہا کہ ہندی میں گوئٹے کوکوئی نہیں جانتا۔ ڈاکٹر کرسٹینا نے فوراً ایک جملہ کہا۔ معلوم نہیں اس میں طنز تھا یا محض امر واقعہ کا ’پر زور بیان‘ تھا۔” اس لیے کہ ہندی میں کوئی اقبال پیدا نہیں ہوا۔“ اردو اور پاکستان میں اقبال کی وجہ سے جرمن ادب اور جرمنی کا جو شہرہ ہوا، وہ پاکستان کے گوئٹے سنٹر بھی نہیں کر سکے۔ اس سے ایک بات ضرور معلوم ہوئی کہ ہر زبان میں بڑے چھوٹے کے الگ پیمانے اور تصورات ہیں جو بڑی حد تک بعض تاریخی واقعات اور کچھ اہم حادثات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر بیسویں صدی کے ابتدائی عرصے میں پی ایچ-ڈی کرنے کی سہولیات برطانیہ میں موجود ہوتیں تو کیا اقبال جرمنی آتے اور اگر جرمنی نہ آتے تو کیا وہ ایماویگانسٹ کے علاوہ گوئٹے کو ”دریافت“ کرتے؟ اقبال نے جرمن زبان اور جرمنی میں قیام کی وجہ سے گوئٹے اور پھر اس کی وساطت سے جرمن ادب کی روح کو دریافت کیا اور اسے برطانوی ادب پر ترجیح دی۔ اقبال کے شعری تخیل میں شیکسپیئر سے زیادہ گوئٹے عظیم عالمی شاعر ہے۔ اس طور اقبال نے برطانیہ کی ادبی استعماریت کا زور توڑا۔ برطانیہ نے شیکسپیئر کو ہمیشہ ایک عظیم انگریزی شاعر کے طور پر پیش کیا۔ شیکسپیئر کی عظمت سے انکار نہیں، مگر اس کی عظمت کو ایک تخلیق کار کی عظمت کے بجائے، امپیریل کلچر کی عظمت قرار دینا، استعماری پراجیکٹتھا۔ اقبال نے گوئٹے کو دریافت کرکے اس ایجنڈے کی راہ میں روڑے اٹکائے۔

باتوں باتوں میں ہرمن ہیسے کا ذکر بھی ہوا۔ ڈؤسن کہنے لگا۔ وہ کوئی بڑا جرمن ادیب نہیں۔ میں اورگوتم دونوں چونکے۔ ہندی میں بھی \"Heidelbergstreets\"سدھارتھ، ترجمہ ہو کرمقبول ہو چکا ہے۔ (گوتم کو شاید سدھارتھ سے ذاتی نسبت بھی ہو)۔ ڈاؤسن کی رائے تھی کہ ہیسے 1960ءکی دہائی میں بہت مقبول تھا۔ وہ اس زمانے کی ہپی تحریک سے فکری طور پر وابستہ تھا۔ اس زمانے میں لوگوں نے نشہ آور ادویہ کے ذریعے ’روحانی تجربات‘ کےے تھے۔ناول سدھارتھ بھی اسی رجحان کو ایک اور انداز میں پیش کرتا ہے۔ میں ان کی توجیہ سے خود کو قائل محسوس نہیں کرسکا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے میں نے غور کرنا شروع کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ان کے اور ہمارے ادبی کینن مختلف ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ رائے فقط ڈاؤسن کی ہو، مگر جب میں نے ڈاکٹر کرسٹینا سے پوچھا کہ جرمن ادب میں ہیسے کا مرتبہ کیا ہے تو انھوں نے کہا کہ وہ جرمنی کے عظیم لکھنے والوں میں نہیں، اچھے لکھنے والوں میں ضرور ہے۔ اب یہ جرمنوں کی عمومی رائے تھی۔سدھارتھ اردو میں دو تین مرتبہ ترجمہ ہوا اور بے حد مقبول ہوا۔

 مجھے یاد ہے 1993ء کا اگست کا مہینہ تھا، میں ایبٹ آباد میں ایبٹ آباد پبلک سکول و کالج کے گیسٹ ہاؤس میں رہتا تھا۔ عجیب مماثلت ہے، اِن دنوں کی اُن دنوں سے۔ جس طرح اب گیسٹ اپارٹمنٹ میں اکیلا رہتا ہوں، اسی طرح اُن دنوں بھی گیسٹ ہاؤس ہی میں اکیلا رہتا تھا۔ ویسے ایک اور عجیب بات بھی ابھی مجھے یاد آئی ہے۔ میں یہاں کئی لوگوں سے یہ ذکر کر چکا ہوں کہ ہائیڈل برگ اور ایبٹ آباد میں خاصی مماثلت ہے۔ دونوں ایک جیسے سرسبز اور خوبصورت ہیں۔ دونوں کے موسم کا کوئی بھروسا نہیں، دونوں کا درجہ حرارت بھی قریب قریب یکساں ہے۔ بس ایک فرق ہے، یہاں کے دن بہت لمبے ہوتے ہیں__ خیر، میں ان دنوں ایک ایسی بے چینی محسوس کرتا تھا، جس کی نوعیت اور سدباب دونوں میری سمجھ سے بالاتر تھے۔ میں نے وزیر آغا صاحب کو لکھا کہ کچھ ایسی کتابیں بتائیے کہ میں انھیں پڑھ کر کچھ اطمینانِ قلب\"13730652_1265857570099556_873914938_o\" محسوس کر سکوں۔ انھوں نے دو کتابوں کے نام لکھ کر بھیجے۔ ولیم جیمز کی Varieties of Religious Experience(بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا ترجمہ خلیفہ عبدالحکیم نے نفسیات واردات روحانی کے نام سے اردو میں کررکھا ہے) اور ہرمن جیسے کا ناول سدھارتھ۔ دونوں کتابیں ایبٹ آباد میں نہ مل سکیں۔ انھی دنوں گرمیوں کی ایک ماہ کی چھٹیاں ہوئیں۔ APS کے سینئر ترین انگریز استاد مسٹر کیچول لندن جا رہے تھے۔ مجھے ان کتابوں کا اس قدر اشتیاق تھا کہ میں نے ان سے یہ درخواست کرنے میں عار محسوس نہیں کی وہ یہ کتابیں وہاں سے خرید کے لے آئیں۔ میں نے چند سو روپے انھیں دینے چاہے تو انھیں نے نہیں لیے۔ میں نے سوچا جب کتابیں آ جائیں گی،پھر ان کی قیمت ادا کردوں گا۔چھٹیاں ختم ہوئیں تو واپس آئے اور کتابیں لائے۔ میرے اصرار کے باوجود انھوں نے پیسے نہیں لیے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہاں کے کئی احباب انھیں خاصی مہنگی چیزیں لانے کی فرمائشیں کیا کرتے تھے __ میں نے تنہائی میں وہ دونوں کتابیں پڑھیں اورسچی بات یہ ہے کہ اب تک اس مسرت کو محسوس کرتا ہوں، جو انھیں کوئی انیس برس پہلے پڑھتے ہوئے محسوس کی تھی۔

 ایک وجہ مجھے یہ سمجھ میں آئی ہے کہ سدھارتھ کی بنیاد مہاتما بدھ کی کہانی پر ہے۔ یہاں کے عقلیت پسند اور ترقی پسند اس مشرقی، مذہبی کہانی کو ہپی تحریک سے جوڑ کر دیکھتے ہیں اور خود کو اس عام یورپی طرزِ فکر کا نمایندہ بنا کر پیش کرتے ہیں جس کے مطابق ’روحانی سری صوفیانہ تجربات‘ زوال پسند مشرق سے متعلق ہیں __ ہوسکتا ہے ، اس رائے میں میرا تعصب بھی شامل ہو۔میں نے ڈاؤسن سے گنترگراس کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگا کہ میں اسے تو بالکل پسند نہیں کرتا۔ خاص طور پر اسے جو خبط عظمت ہے، اس کی وجہ سے۔ میں نے دریافت کیا کہ یہ خبط عظمت، تخلیقی وجہ سے ہے یا نسلی سبب سے؟ ڈاؤسن نے کہا کہ نہیں، بس یہ اس کا شخصی رویہ ہے۔ ساتھ اس نے کہا کہ وہ Erich Fried کوبے حد پسند کرتے ہیں۔ میرے لیے یہ نیا نام تھا۔ اس کے تعارف کروایا کہ وہ آسٹریا میں پیدا ہوا۔ ۸۳۹۱ءمیں آسٹریا پر جرمنی نے حملہ کیا تو وہ جان بچا کر لندن چلا گیا اور واپس نہیں آیا۔ سو اس نے جرمن زبان میں شاعری لکھنا شروع کی۔ اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ جرمن ہو کر اسرائیل کی مذمت کرتا ہے۔ جرمن خود کو اسرائیل پر تنقید کا حق دار نہیں سمجھتے کہ انھوں نے خود یہودیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا__ میں نے ابھی ایرخ فریڈ کے بارے میں آ کر پڑھا ہے تو انوکھی خوشی ہوئی ہے کہ ایک ایسے شاعر سے تعارف ہوا ہے ہے، جس کی روح نہ جرمن ہے، نہ انگریز، نہ ایشیائی نہ یورپی، ایک شاعر کی ہے، جو انسانی اقدار پر یقین رکھتا ہے، نسلی تفاخر پر نہیں۔ وہ فلسطینیوں کا حامی اور امریکا اور اسرائیل کا نقاد ہے۔ یہی نہیں، سوشسلٹ تھا، مگر سٹالن ازم کا سخت نقاد تھا۔ اس کی چند نظمیں پڑھی ہیں تو لطف آ گیا۔

جرمن سے انل کلرو(Annal Kallro )نے انگریزی ترجمہ کیا ہے:

Fables\"erich_fried\"

\”Beauty was once a guest

of ugliness

There she felt ugly

because she couldn\’t help her

to be as beautiful as herself\”

But then some say that

\”ugliness

was a guest of beauty

There she felt so comfortable

that she didn\’t feel ugly anymore

Both I will believe

when in all countries

hunger.

has been a guest of repletion so often

that it does not exist any more

But I

was asked  by a child

\”Does then repletion

satisfy the hunger of the hunger

or will it eat up?

اسی طرح کی ایک اور گہری اور دنیامیں موجود دُکھ سے متعلق ہے۔ جس کا عنوان ”ایک گھنٹہ“ One hour ہے۔ اس کا انگریزی ترجمہ ہے:

I have spent one hour/correcting/a poem

that I have written

One hour/that means: In this time/1400\"Erich+Fried+004bearb1\"

small children died of starvation/because every 2 1/2 seconds/

one child under five starves to death

in our world

Also for one hour

the arms race continued

and 62 million eight hundred thousand dollar were spent in this one

hour/for the protection of various powers

from each other

for the military spending of the world

at the moment amount to

550 billion dollars per year

Our country also

contributes its might

The question arises

if it still makes sense

to write poems

with the way things are

It may be true

that some poems are about

military spending and war\"heidelberg-university\"

and starving children

But others are about

love and aging and

meadows and trees and mountains

and also about poems and pictures

If it wanted also for

all these other things

then nobody really cares

about children and peace other

 any more.

بلاشبہ ایرخ کی نظمیں اچھی ہیں۔ معاصر عالمی صورت حال پر طنزکا درجہ رکھتی ہیں۔یعنی اس سچ کو بیان کرتی ہیں، جس سے اربوں لوگ حقیقی طور پر متاثر ہوتے ہیں،مگر یہ بڑی شاعری کی مثال نہیں ،جس میں اس سچ کی تلاش ہوتی ہے ،جو ہر لمحہ ہاتھ سے پھسلنے کا میلان رکھتا ہے ۔ خیر،اسے اتفاق ہی کہنا چاہیے کہ سہ پہر تین بجے کلکتہ کے ایک بنگالی نوجوان کا ستی کی رسم کے مابعدنوآبادیاتی تناظر پر ایک لیکچر تھا، جس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ ستی پر ہونے والے ڈسکورس اور خودستی کی ظالمانہ رسم کے خاتمے کی کوشش میں کیا رشتہ ہو؟ اور یہی بات ایرخ فریڈ نے اپنی نظم میں پیش کی ہے۔ یہاں تنہائی ہونے کی وجہ سے کئی باتوں پر غور و فکر کا موقع ملتا ہے۔ چند دن پہلے خبر پڑھی کہ وزیرستان میں تین ڈرون حملے ہوئے۔ بیس آدمی مارے گئے۔ یہ خبریں گزشتہ چار سال سے متواتر پڑھ رہا ہوں،مگر اس روز میںنے شدت سے محسوس کیا کہ کس قدر بے گناہ مارے جارہے ہیں۔یہ بھی محسوس کیا کہ وطن سے دور رہ کر آدمی اصل میں وطن کے کس قدر قریب ہوتا ہے۔یہ بالکل ہجر جیسا تجربہ ہے۔میرے دل پر اس خیال سے پتھر سا پڑاکہ کسی ایک بے گناہ کے مارے جانے سے بڑا ظلم کوئی نہیںہوسکتااور ہمارے وطن میں امریکا، طالبان، ایجنسیوں، خاندانی دشمنیوں، ڈاکٹر وں کی غفلت اورہواس کے ہاتھوں کتنے لوگ روز مرتے ہیں، مگر کوئی مﺅثر احتجاج نہیں ہوتا۔اسے کیا کہا جائے!یہ بات جانتے ہوئے کہ کتنے معصوم، بے گناہ لوگ بے موت مارے جاتے ہیں اور موت کا دکھ سب سے بڑا دکھ ہے، میں کھانا کھا لیتا ہوں۔ سنجیدہ، تفریحی مطالعہ کر لیتا ہوں، ٹی وی شو دیکھ لیتا ہوں اور پر سکون نیند بھی سو لیتا ہوں۔ میرے شعور میں، میرے پڑوسی کے گھرکو لگنے والی آگ کی تپش کیوں نہیں پہنچتی؟ آخر وہ کون سی دیوار میں ہے، جس نے اس خطرے کا احساس روک رکھا ہے، جو میری طرف بھی بڑھ رہا ہے اور اس دکھ کے سلسلے میں مجھے بے حس بنا دیا ہے، جو دنیا کاسب سے بڑا دکھ ہے۔ کیا یہ دیوار، زندگی کی اندھی محبت نے تعمیر کی ہے، بے پناہ سماجی مصروفیات نے یا کہیں کوئی حیاتیاتی خرابی ہے ؟یا پھر ساری خرابی ”خبر“ اور ”فاصلے“ کی ہے۔ خبر میںشدت پسند، دہشت گرد کا لفظ شامل کر دیں تو کسی آدمی کی موت المیہ نہیں، نجات تصور ہو گئی اور لفظ بے گناہ شامل کر دیں اور درمیان میں فاصلہ ہو تو بس ذرا سا افسوس ہوگا۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان ہیںوہ لوگ موجود نہیں یا ان کی آواز کی گونج نہیں، جو ”خبر“ کی تشکیل ادھیڑ کے رکھ دیں اور لوگوں کے سامنے وہ چہرہ لائیں جو آدمی کا اصل چہرہ ہے۔ ہمارے اجتماعی ضمیر میں کہیں بڑی خرابی واقع ہوئی ہے۔ ایرخ فریڈ کی نظم میں انسانی ضمیر کی اس الجھن کو پیش کیا گیا ہے، جو انسانی المیوں اور انسانی آزادی (یہاں لکھنے کی آزادی) کے درمیان کش مکش کا نتیجہ ہے۔ یہ الجھن ایک عظیم نفسیاتی بحران کو جنم دے سکتی ہے اور پھر جس سے عظیم بصیرتیں جنم لیتی ہیں۔لیکن ہم نفسیاتی بحران سے بچنے کے لیے کھیلوں، شام کے ٹاک شو، آسودگی بخش ادویہ اور جنس میں پناہ لے لیتے ہیں!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

2 thoughts on “ہائیڈل برگ کی ڈائری سے چند اوراق (3)

  • 18/08/2016 at 12:43 pm
    Permalink

    جناب، ’’ ہم سب ‘‘ قویب سائٹ پر آپ کی اس کتاب کے اقتباسات پڑھنے کو ملتے رہے اور پھر جرمنی ہی میں جناب حید قریشی صاحب کے ساتح اس موضوع پر بات بھی ہوتی رہی لیکن یہ درست ہے اور آپ بھی شاید جانتے ہی ہیں کہ یورپ میں رہتے ہوئے پاکستان یا ہندوستان سے اس طرح کی کتابوں کا حصول کتنا مشک ہے انہیں پڑھنا تو دور کی بات ہے ۔ اور پھر المیہ یہ بھی ہے کہ جو کتابیں پانچ سو یا زیادہ سے زیادہ ایک ہزار کی تعداد میں شائع ہوں اور پبلشر انہیں اپنے اثر و رسوخ سے لائبریریوں کو فروخت کردیں یعنی انہیں سرکاری کتب خانوں کی الماریوں میں مقید کردیں وہ عام قاری تک کیسے پہنچیں ۔ انٹرنیٹ پر آپ کی تحاریر پڑھتا رہتا ہوں اور ھتی المقدور استفادہ بھی کرتا ہوں ۔ خوش رہیں ۔ جرمن ادب کو اردو میں منتقل کرنے کے لیے جناب ڈاکٹر منیر الدین احمد کی کاوشوں کو ہرگز فراموش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اُن کی اپنی تخلیقات کو چھپایا جا سکتا ہے ۔ سوال صرف یہ ہے کہ بیرون ملک تخلیق پانے والے اردو ادب کو سامنے کیسے لایا جائے اس معاملے پر ہمارے قومی ادبی اداروں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

  • 18/08/2016 at 12:46 pm
    Permalink

    جناب، ’’ ہم سب ‘‘ ویب سائٹ پر آپ کی اس کتاب کے اقتباسات پڑھنے کو ملتے رہے اور پھر جرمنی ہی میں جناب حیدر قریشی صاحب کے ساتھ اس موضوع پر بات بھی ہوتی رہی لیکن یہ درست ہے اور آپ بھی شاید جانتے ہی ہیں کہ یورپ میں رہتے ہوئے پاکستان یا ہندوستان سے اس طرح کی کتابوں کا حصول کتنا مشکل ہے انہیں پڑھنا تو دور کی بات ہے ۔ اور پھر المیہ یہ بھی ہے کہ جو کتابیں پانچ سو یا زیادہ سے زیادہ ایک ہزار کی تعداد میں شائع ہوں اور پبلشر انہیں اپنے اثر و رسوخ سے لائبریریوں کو فروخت کردیں یعنی انہیں سرکاری کتب خانوں کی الماریوں میں مقید کردیں وہ عام قاری تک کیسے پہنچیں ۔ انٹرنیٹ پر آپ کی تحاریر پڑھتا رہتا ہوں اور حتی المقدور استفادہ بھی کرتا ہوں ۔ خوش رہیں ۔ جرمن ادب کو اردو میں منتقل کرنے کے لیے جناب ڈاکٹر منیر الدین احمد کی کاوشوں کو ہرگز فراموش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اُن کی اپنی تخلیقات کو چھپایا جا سکتا ہے ۔ سوال صرف یہ ہے کہ بیرون ملک تخلیق پانے والے اردو ادب کو سامنے کیسے لایا جائے اس معاملے پر ہمارے قومی ادبی اداروں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

Comments are closed.