محبت کرنے والے حوصلہ رکھیں


\"ramzan\"گزشتہ دنوں محبت میں ناکامی کے باعث ہونی والی خود کشیوں پر دل لزر اٹھا۔ مختلف علاقوں میں کئی لڑکوں اور لڑکیوں نے پسند کی شادی نہ ہونے کی وجہ سے خودکشی کر لی۔ پسند کی شادی میں کوئی عیب نہیں مگر بے رحم والدین کی طرف سے انا پرستی، جھوٹی غیرت کی آڑ لے کر منع کر دیا گیا اور ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا جیسے محبت کی شادی کرنا ہی گناہ عظیم یا پھر ناجائز ہو؟
میں اس کیفیت میں بہت پریشان اور مختلف سوچ میں مگن تھا اور چند ایک سوال بھی میرے ذہن میں گردش کر رہے تھے کہ خودکشی خود ایک جرم اور حرام ہے لیکن خودکشی پر ان بچے بچیوں کو مجبور کرنے والوں سے بھی دنیا و آخرت میں کوئی ایسا حساب کا عمل ہوگا؟ یہاں پر ایک بات واضح بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ لوگ جو مذہب کا نام استعمال کر کے دو محبت کرنے والوں کو بجائے جوڑنے کے توڑ دیتے ہیں (میری ذاتی رائے میں) ان کا مذہب سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی انہیں مذہب کا علم ہے۔ وہ ظالم لوگ بالکل اس کے منافی کام کرتے ہیں یعنی محبت کرنے والوں کو ملانے کے بجائے جدا کر دیتے ہیں جس کے باعث وہ بیچارے بچے بچیاں دو میں سے ایک کام ضرور کرتے ہیں خودکشی یا گھر سے بھاگ جانا جو خود زندہ رہتے ہوئے بھی مرجانے کے مترادف ہے۔ پسند کی شادی کرنا ہر شخص کا اپنا ذاتی فیصلہ ہوتا ہے اور اس کو اس کی ذات تک ہی رکھا جائے تو والدین کے ساتھ ساتھ ان بچے بچیوں کے لئے بھی بہتر ہوگا۔
عرصہ پہلے کی بات ہے ہمارے ساتھ پڑھنے والا ایک دوست جو پسند کی شادی کرنا چاہتا تھا اس غرض سے اپنے والد کو رشتے کے لئے لڑکی کے گھر بھیجا مگر ان کے والدین نے رشتہ دینے سے انکار اس وجہ سے کہ ان کا مسلک الگ الگ ہے۔ اب یہاں پر یہ سوال جنم لیتا ہے کہ ان لوگوں کو ایسا جس عالم دین نے کہا فقہ، مسلک الگ ہونے کے باعث شادی کرنا جائز نہیں کیا ایسے جاہل عالم کے خلاف بھی کوئی کارروائی ہونی چاہئے؟ آخر دونوں طرف ٹھاٹے مارتے سمندر کی طرح محبت نے جوش مارا تو دونوں نے بھاگ کر شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ لڑکی اپنے گاؤں سے چوری نکل کر لڑکے کے شہر بس اسٹاپ پر پہنچی۔ عاشق اپنی محبوب کو جونہی منتخب کردہ جگہ پر لینے پہنچا تو لڑکی کے ورثا نے اس نواجوان پر فائر کیا جو لڑکے کی ٹانگ پر لگا یہ حال دیکھ لڑکی آگے سیسا پلائی دیوار بن گئی اور کہا اگر تمہیں اس کو قتل کرنے سے پہلے مجھے گرانا ہوگا۔ مگر ظالم بھائیوں نے ذرا بھر بھی دیر نہ کرتے دونوں کو قتل کر دیا۔ یوں دونوں موقع پر ہی خالق حقیقی کو جا ملے اور دنیا کو بتادیا کہ محبت کرنے والے ایک ساتھ مرنا تو قبول کرسکتے لیکن ایک دوسرے سے جدا ہونا ہرگز نہیں۔ اس کے بعد اب تک لڑکی کے والدین کے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں کیوں ان کی اکلوتی بیٹی تھی جس کو سوتیلے بھائی نے ؛لڑکے سمیت قتل کر دیا۔
میری تمام محبت کرنے والوں سے گزارش ہے کہ ٹھیک ہے کہ عشق بہت اندھا ہوتا ہے مگر آپ نے ہار نہیں ماننی کیونکہ جس دن آپ نے عشق میں ہار مان کر بھاگنے یا خودکشی جیسے منفی اقدام کی ٹھانی تو آپ کی محبت بے موت مر جائے گی۔ محبت میں مرنا نہیں ایک دوسرے کے لئے جینا سیکھیں بلکہ ان والدین کے لئے جینا سیکھیں جو آپ کے سہارے جی رہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ملک رمضان اسراء

ملک رمضان اسراء مصنف معروف صحافی و قلم کار ہیں۔ انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز سے وابسطہ ہیں جبکہ دنیا نیوز، ایکسپریس، ہم سب سمیت مخلتف قومی اخبارات کےلیے کالم/بلاگ لکھتے ہیں اور ہمہ وقت جمہوریت کی بقاء اور آزادئ صحافت کےلیے سرگرم رہتے ہیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی اے ماس کیمونی کیشن کررہے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر اور فیس بُک آئی ڈی اور ای میل ایڈریس پر رابطہ کیا جاسکتاہے۔ [email protected]

malik-ramzan-isra has 7 posts and counting.See all posts by malik-ramzan-isra