زیورات سے لدی بڑھیا اور جشن آزادی


\"mustafaمیں پچھلے تین گھنٹوں سے ایک ہجوم کے نرغے میں ہوں ۔ لبرٹی چوک کے آس پاس کی ساری سڑکوں پر آزادی کا جشن منایا جا رہا ہے وہی لبرٹی چوک جہاں کئی سال پہلے پوری لبرٹی سے ہماری کرکٹ کا گلا گھونٹا گیا۔ اس سال تقدیر گھیر گھار کے مجھے یہاں کیوں لےآئی ہے مجھے اپنی منزل پر پہنچنا ہے جو یہاں سے تقریباً آدھے گھنٹے کے فاصلے پر ہے لیکن گھنٹوں گزر گئے میں نہیں پہنچ پا رہا۔ گاڑیاں رینگ رہی ہیں ہر طرف لوگ ہی لوگ ہیں۔ ڈھول کی تھاپ پر ناچتے نوجوان اس آزادی کا جشن منا رہے ہیں جس نے انہیں پہچان دی \’ گھر دیا \’ تعلیم دی \’ روزگار دیا \’ صحت کی تمام سہولتیں مفت دیں\’ امن اور سکون دیا \’ عزت اور شعور کے ساتھ ساتھ لپ ٹاپ بھی دیا۔ ہر بچے اور جوان نے اپنے اپنے منہ کے سائز کے مطابق پلاسٹک کی طوطیاں ہونٹوں میں دبا رکھی ہیں جنہیں وقفے وقفے سے بجا کر رب کا شکر بجا لا رہے ہیں کہ جس نے انہیں ایک ایسی ریاست عطا کی جہاں پشاور سے کراچی تک دودھ اور شہد کی لمبی نہر بہہ رہی ہے اتنا امن ہے کہ قصّہ خوانی بازار کی کوئی بڑھیا اسی نہر کے کنارے چلتی چلتی دودھ اور شہد سے اپنی بھوک پیاس مٹاتی پورٹ قاسم پر مزدوری کرتے اپنے بیٹے سے ملنے آ سکتی ہے ۔ یاد رہے کہ اس بڑھیا نے اپنا سارا زیور بھی پہن رکھا ہوتا ہے لیکن مجال ہے جو کسی چور اچکے کی اتنی ہمت ہو کہ اسے لوٹنے کا سوچ بھی سکے۔ یہ جشن اسی امن کا ہے۔ گاڑیوں میں پوری آواز سے قومی نغموں کی آوازیں اچھل اچھل کر باہر آ رہی ہیں کہیں جنون کا جذبہ مچل رہا ہے تو کہیں سوہنی دھرتی کو قدم قدم پر آباد کیا جا رہا ہے۔ سڑک کے بیچوں بیچ نوجوانوں کی ٹولیاں اعضا کی آزاد شاعری کر رہی ہیں نہ بازووں کے قافیے کی فکر ہے نہ پتلی پتلی ٹانگوں کے ردیف کا غم۔ وزن اور اخلاق سے گرا رقص جاری ہے۔ دوران رقص اعضا کی حرکت کچھ ایسے اشاروں میں بھی تبدیل ہو جاتی ہے جنہیں ہر معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے لیکن آج تو آزادی کا جشن ہے سارے اشارے کھلے ہیں جس کا جو جی چاہے اشارے کرے۔ جنوں کے جذبے سے سرشار ہو کے جنونی ہو جائے یا ٹانگ کو بل دے کر اپنی گردن پر رکھے اور رقص فرماۓ۔ آج سب کچھ کرنے کی آزادی ہے۔ یہ موقع سال میں ایک بار ہی تو آتا ہے۔ ایک گاڑی سے دل دل پاکستان کی صدا آتی ہے خدا جانے کیوں دلی کا غالب یاد آتا ہے

ایک ہنگامے پے موقوف ہے گھر کی رونق

نغمہ شادی نہ سہی نوحہ غم ہی سہی

لیکن یہ تو نغمہ آزادی ہے غالب کیوں یاد آتا ہے۔ شرابی کبابی وظیفہ خوار آج کے دن اس کا کیا کام یہ تو شاعر مشرق کی دھرتی ہے جہاں ہر طرف اسکے شاہین غالب کے پرزوں کی طرح اڑتے پھرتے ہیں۔ ابھی بھی میرے اردگرد اڑ رہے ہیں لو جی پھڈا ہو گیا۔ شاہینوں کی ایک ٹولی دوسری سے گتھم گتھا ہو گئی ۔۔ مسئلہ کیا ہے ۔۔ وہی پرانا ۔۔ کبھی پینے پلانے پہ جھگڑا کبھی گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا۔ ایک ٹولی نے گاڑی آگے بڑھانا چاہی تو سڑک پر ناچتے شاہین کا ایک ٹھمکا ان کی گاڑی کے سائیڈ مرر سے جا ٹکرایا۔ وقت کے تھپیڑے سہتا آئینہ شاہین رقاص کے ٹھمکے کا صدمہ نہ سہہ پایا اور شہادت کی راہ کا مسافر ہو گیا۔ گاڑی میں بیٹھے شاہینوں کی آنکھوں میں خون اترا رقاص ٹولی کی رگوں میں جنون اترا۔ پہلے گھروں میں بیٹھی ماں بہن کی شان میں قصیدہ گوئی ہوئی پھر پنجابی میں رجز پڑھتے ہوۓ دونوں ٹولیاں ایک دوسرے پر جھپٹ پڑیں۔ جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کی آواز تیز ہو گئی۔ پہلے قمیصوں کے بٹن ٹوٹے پھر دھجیاں اڑیں مکے گھونسے چلے ناک اور ماتھے سے خون کے قطرے دھرتی پر گرنے لگے۔ ایک گاڑی سے استاد امانت علی خان کی آواز بلند ہوئی۔ میں یہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایہ تن۔ اچانک گاڑیوں میں بیٹھے تماشبین شاہین محسوس کرنے لگے کہ پھڈے کا ٹیمپو کچھ سلو ہو رہا ہے تو سب نے اپنے اپنے منہ میں طوطیاں دبائیں اور آسمان سر پر اٹھا لیا ان آوازوں نے جنگجو شاہینوں کے پست ہوتے حوصلے بلند کئے وہ ایک بار پھر مرغوں کی طرح ایک دوسرے پر جھپٹنے ہی والے تھے کہ کہیں دور بہت دور سے پولیس یا کسی ایمبولینس کے سائرن کی آواز سنائی دی۔ ایک پہلوان نما تماش بین چلایا \” پولس آئی جے\” یہ سن کر سب شاہین بچے اپنے اپنے بال و پر سمیٹ کر ادھر ادھر ہو گئے۔ ٹریفک آہستہ آہستہ کھسکنے لگا۔ ایک منچلے نے سائیڈ مرر کی بے گور و کفن لاش گرین بیلٹ میں پھینک دی۔

مجھے اپنی منزل پر جلدی پہنچنا ہے لیکن یہ ہجوم بڑھتا ہی جاتا ہے۔ آدھی رات بیت چکی ہے لیکن جشن نہیں بیت رہا۔ لو جی ایک بار پھر رک گئے پھر ایک اور ٹولی نے سبز ہلالی پرچم کے سائے میں رقص برپا کر دیا۔ آدھے گھنٹے کا سفر چار گھنٹوں میں طے کر کے اپنی منزل پر پہنچا جہاں پتہ چلا کہ جن سے ملنے آیا ہوں وہ ابھی تک آزادی کے راستے میں پھنسے ہوۓ ہیں۔ لہٰذا میں گیسٹ ہاؤس کی ٹھنڈی لابی میں انتظار کا لطف لینے لگا جہاں مدھم آواز میں بجتے سجاد علی کے سریلے گانے ذہنی مساج کا کام کرنے لگے۔ کاؤنٹر پر بیٹھے ایک بیس اکیس سال کا نوجوان نے بجتا فون اٹھایا اور آہستہ آہستہ کسی دوسری زبان میں باتیں کرنے لگا مجھے ان باتوں کی سمجھ تو نہیں آئی لیکن اسکے چہرے پر آتی جاتی اداسی سمجھنے لگا۔ اسنے کچھ دیر بعد فون بند کیا اور خاموشی سے اپنے آپ میں گم ہو گیا۔ اسکے سینے پر لگی نام کی تختی نے مجھے اسکا نام بتایا۔ میں نے انتظار کے لمحوں کا کرب کم کرنے کے لئے ایک اجنبی سے گپ شپ لگانے کا فیصلہ کرتے ہوۓ اس پر سوال داغ دیا کہاں کے ہو بہرام۔ اجنبی کے منہ سے اپنا نام سن کر اس کے چہرے پر خوشی یا حیرت کی ایک لہر آئی ۔ لیکن اس نے فورا جواب دیا کوہلو بلوچستان سر۔ ایک بار پھر فون کی گھنٹی بجی اس نے لپک کے فون اٹھایا اپنے گیسٹ ہاؤس کا نام لیا لیکن اگلے لمحے پھر بلوچی میں بات چیت شروع ہو گئی۔ شاید اس کے گھر سے فون آ رہا تھا۔ فون رکھنے کے بعد ابتدائی گپ شپ میں پتہ چل گیا کہ بہرام اس گیسٹ ہاؤس میں ریسپشنسٹ کی نائٹ ڈیوٹی اور دن میں کسی نجی ہسپتال میں کام کرتا ہے۔ فون ایک بار پھر بجا اس سے پہلے کہ وہ فون اٹھاتا میں بول پڑا جلدی اٹھاؤ کہیں تمہاری محبوبہ ناراض نہ ہو جاۓ۔ محبوبہ نہیں سر ماں فون کر رہی ہے بار بار۔ مجھے اپنے چہرے پر برستی لعنت نظر آنے لگی۔ اس نے ماں سے بات کرنے کے بعد مجھ سے کلام کیا۔ میرا ماما کوئٹہ دھماکے کا زخمی ہے ماں کہتی ہے میں اسے لاہور کے اس ہسپتال لےجاؤں جہاں میں کام کرتا ہوں ماں کا خیال ہے یہاں میری بہت جان پہچان ہے ڈاکٹر میرے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں میری عزت کرتے ہیں میں جب تک نہ پہنچوں ہسپتال کا کام شروع نہیں ہوتا۔ میں اسے بتا بتا کے تھک گیا ہوں کہ یہاں مجھے کوئی نہیں پہچانتا کوئی نہیں جانتا میں صرف ایک وارڈ بواۓ ہوں لیکن وہ نہیں مانتی وہ سمجھتی ہے میں جھوٹ بولتا ہوں ماما کی ذمےداری نہیں لینا چاہتا میں اسے کیسے بتاؤں کہ یہاں کوئی میری ذمےداری نہیں لینا چاہتا میں تو اب اپنے نام کے ساتھ بلوچ بھی نہیں لکھتا کہ کہیں غائب نہ ہو جاؤں اس کی آنکهوں میں نمی تهی۔ اور ہاتهوں میں ایک باریک سی لرزش۔ جو صرف غصے کی حالت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اسکے نام کی تختی کے اوپر لگا پاکستان کا جھنڈا اسکے دل کی دھڑکن اور سانسوں کی تیزی کے ساتھ اوپر نیچے دھڑک رہا تھا۔ لابی میں بجتے سجاد علی کی آواز کانوں میں پڑی۔ ساحل پہ کھڑے ہو تمہیں کیا غم چلے جانا میں ڈوب رہا ہوں ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں اے وعدہ فراموش میں تجھ سا تو نہیں ہوں۔

میں نے اپنے سینے کی طرف دیکھا جہاں کوئی جھنڈا نہیں تھا نہ سینے کے اندر نہ باہر لیکن میں پھر بھی اپنا مکمل نام لکھتا ہوں کیوں کہ مجھے غائب ہونے کا کوئی خطرہ نہیں۔ وہ چپ تھا لیکن مجھے یوں لگا جیسے میں ڈوب رہا ہوں اور بہرام ابھر رہا ہے۔

اچانک آنکھوں کے سامنے سی پیک کی شاہراہ نظر آئی جس پر ایک بڑھیا بلوچستان کی طرف سے اکیلی چلتی ہماری طرف آ رہی ہے اسے کسی سے لٹنے کا کوئی خطرہ نہیں کیوں کہ یہ ایک محفوظ شاہراہ ہے جگہ جگہ محافظ بیٹھے ہیں۔ کوئی اسے لوٹنے کی جرات ہی نہیں کر سکتا زیورات سے لدی بڑھیا جب ہمارے قریب آئی تو ہم نے دیکھا اس کے گلے میں زیور نہیں، بہرام کی تصویر ہے ۔۔۔۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مصطفیٰ آفریدی

ناپا میں ایک سال پڑھنے کے بعد ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامے لکھنا شروع کیے جو آج تک لکھ رہا ہوں جس سے مجھے پیسے ملتے ہیں۔ اور کبھی کبھی افسانے لکھتا ہوں، جس سے مجھے خوشی ملتی ہے۔

mustafa-afridi has 13 posts and counting.See all posts by mustafa-afridi

4 thoughts on “زیورات سے لدی بڑھیا اور جشن آزادی

  • 18/08/2016 at 11:43 am
    Permalink

    بہت عمدہ. مزہ آ گیا.آپ کا بہت شکریہ

  • 18/08/2016 at 10:47 pm
    Permalink

    Really heart touching and shamefull for all of the young generation who all do this type of shit ..agr koi azadi ka jashm manana chahta ha to usy quaid k nazarye say manana chahye na k apny…. yh log is trha k kam kar k pakistan ko kia dty hn…. m b dkhu agr yh log 14 august ko pakistan k lye k6 kr dkhayn

  • 19/08/2016 at 4:49 am
    Permalink

    Powerful writing. Waiting for a book written by this writer…

  • 19/08/2016 at 10:00 am
    Permalink

    wonder full. a great taste of reality

Comments are closed.