لاہور میں کانگڑہ، کانگڑی اور برف کی کانگیں


husnain jamal (2)سردیاں اپنے جوبن پر ہیں۔ سورج دیکھنے کو آپ کا مصنف ایسے ہی ترسا ہوا ہے جیسے اردو کے روایتی شاعر محبوب کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں۔ یا اس سے بھی بڑھ کر اگر کوئی تشبیہ ذہن میں آتی ہے تو فبھا، فوراً وہی سوچ لیجیے اور اس شخص کا گمان کیجیے جو ہر آنے والے دن کو یہ سوچ کر آنکھ کھولتا ہے کہ سورج کے درشن ہوں گے لیکن وہی سڑی دھند، بلغمی مزاج کا بے کار موسم۔

دسمبر آتے ہی ہمارے دوستوں کو جو شاعری اور بے وفا محبوب کی یادوں کا بخار چڑھتا ہے وہ سب اس فقیر کے ساتھ صرف ان چند ہفتوں میں ہوتا ہے جب سورج اپنا منہ چھپا لے اور روز و شب ایک ہی سے لگنے لگیں، بھلے وہ اب دسمبر ہو جنوری یا فروری۔
اگر شہر لاہور میں ایسی ہی سردی ایک ماہ اور پڑ جائے تو قسم بہ خدا فقیر بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور ہو جائے۔ اب یہ مولا کا کرم ہے کہ نوکری سے لگے ہیں، تو اس کو نبھانے صبح تڑکے اٹھنا بھی ہوتا ہے اور باہر بھی نکلنا ہوتا ہے، لیکن صاحب یقین جانیے اگر یہ سردی ان بیس بائیس دن سے سوا ہوتی تو اس بارے میں بھی سنجیدگی سے کچھ سوچنا پڑتا۔

“گھر بیٹھے کاروبار کیجیے” اور اس نوعیت کی دوسری کتابیں آج سے پہلے جب بھی مارکیٹ میں دیکھتے تھے تو خریدنے والوں کی بے وقوفی پر ماتم کرتے کہ لکھنے والا اگر اتنا ہی کامیاب ہوتا تو گھر بیٹھے ایسی کتابیں ہی کیوں لکھتا۔ مگر نہیں بھئی، اس وقت ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ سردی کچھ بھی کروا سکتی ہے، گھر بیٹھے کاروبار بھی اور اگر وہ کرنے کی طاقت نہ ہو تو ایسی کتاب تو آدمی ان حالات میں لکھ ہی سکتا ہے۔

جانے دیجیے اب در بیان مذمت سردی اور کیا کیا کہا جائے، ایسا کیجیے یہ ایک نظم دیکھیے شفیع الدین نئیر صاحب کی؛

جاڑا دھوم مَچاتا آیا
کپڑے گرم پہناتا آیا
کیسی ہَوا ہے،فَرفَر،فَرفَر
کانپتے ہیں سب تَھر تَھر،تَھر تَھر
چھ±پ جاتا ہے سورج جلدی
لگتی ہے اس کو بھی سَردی
ہاہا، ہاہا، ہی ہی، ہی ہی
ہو ہو، ہو ہو، سی سی، سی سی
ہائے رے سَردی، ہائے رے سَردی
سارے بَدَن میں برف سے بھر دی
یاد رہے کہ شفیع صاحب نے بچوں کے لیے بہت کچھ لکھا، تو یہ نظم بھی اسی میں سے ایک تھی۔ اب اس ساری نظم میں جو شعر کمال کا ہے، یعنی سردی کو اپنے پورے جوبن پر ظاہر کر دکھاتا ہے، اسے دیکھیے؛
ہاہا، ہاہا، ہی ہی، ہی ہی
ہو ہو، ہو ہو، سی سی ، سی سی

جی جی، ہنس لیجیے، کہہ لیجیے کہ صاحب کیا ہی لغو بات کی، لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر ایمان داری کی کہیں، آپ برف باری میں پھنسے ہوں اور چاروں طرف سے سرد ہوائیں چل رہی ہوں تو آپ کو اس شعر کے علاوہ اور کچھ سوجھے گا؟
تو اب جانیے اس فقیر کی کیفیت کو، جیسے آپ کو گرمی زیادہ لگتی ہے ویسے کچھ کم نصیبوں کو سردی زیادہ محسوس ہوتی ہے، اور جن کو زیادہ محسوس ہوتی ہے وہ بے چارے کر بھی کیا سکتے ہیں سوائے چند اضافی کپڑے لادنے کے۔ ابا کہتے ہیں سردی کم ہو یا زیادہ، دو کپڑوں سے زیادہ جتنا مرضی پہن لو برابر لگے گی۔ یعنی بنیان کے علاوہ کہہ لیجیے ایک قمیص اور ایک سوئٹر۔ چلو ایک کوٹ بھی رعایتی نمبروں کے ساتھ پہنا جا سکتا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اب فقیر پوچھتا ہے کہ ہم جیسے “فن کار” لوگ کہاں جائیں جن کی سردی کپڑوں میں دفن ہو کر بھی نہیں رکتی۔ پھر فٹنگ بھی برقرار رکھنی ہے، کوئی ایک مسئلہ ہے یارو!
ہائے، یاد کیجیے۔

یاد کیجیےوہ گرمی کے دن، بھئی کیا کہنے، آہاہا، مزے ہی مزے، کہیں بھی بیٹھ جائیے، کچھ بھی کر لیجیے، کچھ بھی کھا لیجیے، کچھ بھی پی لیجیے، من میں آئے تو لوٹیں لگائیے، دل کہے تو شام میں واک پر نکل جائیے، کچھ نہ کرنے کو جی چاہے تو جہاں دل کرے “بوریے پر فقیر بیٹھا ہے” کی عملی تفسیر ہو جائیے۔ آئس کریم کھائیے، روح افزا، صندل، گڑ کا شربت، تھادل، ستو، لسی، پی لیجیے، کوئی عیاشی سی عیاشی ہے، اور جب دل بھر جائے تو پنکھا چلا کر پڑ جائیے کمرے میں۔ پسینہ بہے گا تو خشک بھی ہو گا، خشک ہو گا تو جسم ٹھنڈا ٹھار، سکون!
ایک کہانی ہم بچپن میں دادی سے سنتے تھے۔ اس میں ایک بڑی بی کو ان کی اولاد کے ہاتھوں گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔ وہ بے چاری جنگل میں جا پناہ لیتی ہیں۔ ایک درخت کے نیچے بیٹھی ہوتی ہیں کہ چاروں موسم باری باری ان کے پاس آتے ہیں۔ اب وہ اچھے اخلاق والی ہوتی ہیں، کیا جاڑا، کیا گرمی، کیا برسات، کیا بہار، سب کی تعریف کرتی ہیں، سب کا دل بڑھاتی ہیں تو سب موسم ان پر مہربان ہو جاتے ہیں اور جاتے جاتے انہیں اتنے تحائف دیتے ہیں کہ وہ ایک انبار سے لدی پھندی گھر واپس آتی ہیں، ان کی اولاد بھی روپے کے لالچ انہیں عزت سے رکھ لیتی ہے اور کہانی آگے بڑھتی ہے۔

ان کی ایک پڑوسن ہوتی ہیں، سخت جھگڑالو اور بدمزاج، انہیں پوری کہانی تو معلوم نہیں ہوتی بس یہ دیکھا ہوتا ہے کہ ساتھ والی بڑی بی جنگل گئیں اور واپس آئیں تو امیر و کبیر تھیں۔ یہ بھی حسد کے مارے جل بھن کر اپنے بچوں سے کہتی ہیں کہ مجھے تھوڑا مار پیٹ کر جنگل میں چھوڑ آو۔ بچے فرماں برداری میں خوشی خوشی انہیں چھوڑ آتے ہیں۔ اب جاڑا آتا ہے تو ساتھ سرد ہوائیں آتی ہیں، انہیں کپکپی شروع ہو جاتی ہے، خوب گالم گلوچ کر کے اسے بھگاتی ہیں، جاڑا انہیں تحفے میں بخار دے کر جاتاہے۔ پھر گرمی آتی ہے تو یہ اسے خوب کوسنے دیتی ہیں، لو لگتی ہے تو اسے بد دعائیں دیتی ہیں، گرمی انہیں سرسام کا تحفہ دے کر جاتی ہے۔ اسی طرح برسات اور بہار کو بھی لتاڑتی ہیں اور نتیجے میں لقوہ اور چھپاکی مار جاتی ہے۔ صبح دم جب بچے لینے آتے ہیں تو بڑی بی معذور پڑی ہوتی ہیں، گھر لائی جاتی ہیں اور باقی عمر ایسے ہی تکالیف میں گزارتی ہیں۔

اس کہانی سے ہمیں تین سبق ملتے تھے، ایک تو اب سمجھ آیا کہ بچوں کی کہانیوں میں موت نہیں دکھنی چاہیے، کیا تھا کہ بڑی بی کو دادی جان مار دیتیں، مگر نہیں، موت کیا ہے، اب ٹی وی پر خود ہی ہمارے بچے یہ جان پاتے ہیں، ہمیں کہانیاں سنانے تک کی ضرورت نہیں ہوتی۔
دوسرا سبق وہی پرانا کہ باادب بانصیب، بے ادب بے نصیب، پہلے والی بڑی بی نے اچھے اخلاق سے تمام موسموں کے دل موہ لیے اور تحائف سے لدی پھندی گئیں، دوسری بوڑھی خاتون نے سب کو لعنت ملامت کی تو وہ خیر سے بیماریاں ہی مول لے گئیں۔

تیسرا سبق خالصتاً ہمارے لیے ہے کہ اے حسنین جمال، گرمیوں کو یاد کر کے آہ سرد نہ بھر، اور یہ موسم بے شک آنی جانی چیز ہے، جو یہ سرد جہنمی دن لایا ہے وہی وہ گرم دن بھی دکھائے گا کہ جن کی یاد میں تو یوں بے کل و بے قرار پھرتا ہے۔ اور جان لے کہ موسم کی برائی کرنے والے سے موسم بدلہ ضرور لیتا ہے۔ موسم کے قہر سے ڈر اور اپنے خداوند کی حمد و ثنا میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھ کہ وہ ہی تیرا پالن ہار ہے۔ لاہور میں بیٹھا ہے تو کانگڑے کی سردی کو یاد کر، کشمیر کی کانگڑی کو سینے سے لگا ، اور اس شاعر بے بدل مسعود منور کر یاد کر جو کہتا ہے

تک پتناں دے اوس پار
کھڑے سب یار
تے کانگاں برف دیاں


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 149 posts and counting.See all posts by husnain