ناخدا اور بندگان خدا


naveed ali khanنوید علی

یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم ہمیشہ سے اپنی ہر سعی، ہر جدوجہد ، ہر مہم ، ہر امتحان میں نا خدا ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں، نہ انفرادی نہ ہی اجتماعی سطح پر فرد کو خود اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنے کی تلقین کے بجائے یہ سکھایا جاتا ہے کہ کوئی نہ کوئی مرد کامل اس کی کشتی پار لگائے گا، نتیجہ یہ کہ کچھ خوش گماں ایسے بھی ہیں کہ جنہیں منزل نہیں رہنما چاہیے، بھائی جب منزل ہی نہیں تو رہنما کا کرنا کیا ہے ؟ ایسی فکری خانہ بدوشی کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے ؟ یہ ناخدا کی تلاش اور پرستش کی عادت کچھ ہماری تاریخ اور کچھ جاگیرداری روایات میں جڑی ہے، اس کا فائدہ اشخاص، جماعتوں اور اداروں سب نے اٹھایا ہے جہاں دیکھیں صنم خانے کھلے ہیں، اور اصنام کی پرستش جاری ہے، جہاں دیکھیں وہاں عام آدمی کا فریضہ یہ ہے کہ وہ سر جھکائے رکھے اور امید رکھے کہ ایک دن سب صحیح ہو جائے گا، اور یہ درس توتے کی طرح دہراتا رہے کہ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
ہر کوئی کسی نہ کسی نا خدا کے کھونٹے سے بندھا ہے، صحافت کہ ریاست کا چوتھا ستون کہلاتی تھی اپنی جگہ سے کھسک چکی ہے، ہے تو ستون ہی مگر جس چھت کو سہارا دیے ہے اس کے سائے سے انسان جل رہے ہیں، عدالت کہ انصاف فراہم کرتی تھی کام تو کر رہی ہے مگر معاشرہ اس انصاف کا آئینہ بنا مسخا چکا ہے،مقننّہ کی ناکارکردگی ضرب المثل ہے تو انتظامیہ اپنے ہی وزن تلے سسک رہی ہے اور اس کے باوجود ناخدا ہیں کہ اکڑے بیٹھے ہیں اور ساتویں آسمان سے نیچے نہیں اترتے. ایک ہی دن میں دو واقعات ہوتے ہیں، ایک دس ماہ کی بچی مر جاتی ہے کہ ہسپتال نہیں پہنچنے دی جاتی ، اور ایک غالباً (غالباً اس لئے کہ خبر مصدقہ ہی نہیں ، کس میں ہمت ہے کہ وہاں پہنچے جہاں بال و پر جل جاتے ہیں ) نو سال کی بچی فائرنگ سے مر جاتی ہے. پہلی خبر ایک بھونچال کھڑا کر دیتی ہے، ایک طرف ایک ناخدا کے شیدائی ہیں تو دوسری طرف ایک اور کے، ایک طرف بھونچال ہے، دہن شعلے اگل رہے ہیں تو دوسری طرف شتر مرغ کو مات دی جا رہی ہے، دونوں کے بیچ ایک ننھی جان سوال کر رہی ہے کہ میری جان کیوں گئی ؟ مجھے انصاف دو میرے باپ کو نہیں، مگر کون سنتا ہے؛ کل کوئی اور تو اسی طرح نہیں مرے گا ؟ کس کو فکر ہے. دس ماہ کی بسمہ اور نو( یا چھ) سال کی سمرین ، ایک پروٹوکول کا شکار ہوتی ہے اور دوسری نام نہاد وطن پرستی کی ، ایک کی خبر ہر طرف دوسری کا پتہ بھی نہیں کہ حقیقت بھی ہے کہ نہیں، کون پتہ کرے ؟ کون تصدیق کرے ؟ بلاول کی نانی نے کہا تھا کہ بیٹیاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں، پتہ نہیں بھٹو زرداری کو یاد ہے کہ نہیں۔ انسانی جان تو انسانی جان ہوتی ہے، پتہ نہیں ہم سب کو یاد ہے کہ نہیں۔ اسی اثنا میں ایک پندرہ سالہ بچی درندوں کی ہوس کا شکار ہو جاتی ہے، مگر کیا کریں کہ ناخدا یہاں بھی اپنی رضا کا وزن کسی اور پلڑے میں ڈال دیتے ہیں بندگان خدا کو کئی کہانیاں سنا دی جاتی ہیں ، وہ بچی اپنے ہاتھوں اپنی جان لینے چلی مگر ہم کہ ویسے ہی زیادتی کا شکار ہونے والیوں کو قصور وار سمجھتے ہیں، ہم کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں ہم لذت و تلذذ پانے کا کوئی موقع نہیں جانے دیتے ہم کسی مظلوم کی آہ پر کیا دھیان دھریں ؟
ابھی یہ خبریں یاد بن کر ہمارے کند ذہنوں اور کمزور یادداشت سے محو نہیں ہوئیں کہ اور خبریں آ جاتی ہیں، ایک سرکاری ملازم نے دوسرے سرکاری ملازم کو مار دیا ( کم از کم میڈیا تو ایسے ہی کہتا رہا )۔ جب انسان ناخدا بن جائے تو بندگان خدا کا کیا یہی حال ہوتا ہے ؟ اتنے میں مودی ادھر آ نکلتے ہیں اور ہم سب بھول بھال اس اعلیٰ سطحی ڈرامے میں لگ جاتے ہیں. خون خاک نشیناں تو ہے ہی بہنے کے لئے ، کیا فرق پڑتا ہے ؟ ابھی وہ خون جما بھی نہیں کہ ایک خبر بہاولنگر سے آتی ہے، ایک اور بچہ کسی ناخدا کی شکارگاہ میں پلے درندوں کی ہوس کا شکار ہو گیا. مگر کیا فرق پڑتا ہے، جب تک ہم محفوظ ہیں اور ہمارے ناخدا سلامت ہیں، ہم اپنے اپنے ناخدا لئے بڑھ جاتےہیں، پاپی پیٹ کی مجبوری سب کچھ بھلا دیتی ہے اور خسرو کا یہ کلام صرف سر دھننے کے لئے رہ جاتا ہے.
ناخدا بر کشتی ما گر نباشد، گو مباش
ما خدا داریم ما ناخدا در کار نیست


Comments

FB Login Required - comments