ہمیں کس کے سہارے چھوڑ جاتے ہو؟


zeffer1آج اس دکھ بھری خبر نے ہمیں نڈھال کر دیا، کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کہتے ہیں کہ وہ سروس میں توسیع پر یقین نہیں رکھتے اور اپنے وقت پہ ریٹائر ہو جائیں گے۔ یہ خبر نہیں، ہنود و یہود کی پھیلائی افواہ ہے۔ ایک المیہ ہے، جس پر سیاست دانوں نے بے جا طور پر “شکریہ راحیل شریف” کے بیان دینا شروع کر دیئے۔ یہ سیاست دان چور اچکے، قاتل، بدمعاش، ٹیکس چور، جفا پرست اور جانے کیا کیا ہیں۔ یہ الیکشن چرا کر اسمبلیوں میں آتے ہیں۔ کسی فوجی جرنیل کی طرح ایک شان سے نہیں۔ ہمیں یہ گِلا ہے جی، کہ ہم اتنے عرصے سے “شکریہ راحیل شریف” کہتے نہ تھکے، اور آپ نے دیکھنا تک گوارا نہ کیا؟

خیر ہمارے شکووں کو جانے دیجیے۔ بس جناب عالی یہ کہنا ہے، آپ نہ ہوتے تو آج یہ سیاست دان ملک کو بیچ کھاتے۔ ہمیں یقین ہے، مودی نے پاکستان کے دورے میں جاتی عمرہ میں یہی درخواست کی ہوگی، کہ آپ کو توسیع نہ دی جائے۔ اِن سیاست دانوں کا کیا بھروسا۔ دشمن کی سازش کو نا کام بنایئے صاحب۔ جناب عالی اِس غم کی گھڑی میں ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں، کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ وہ جو کہتے ہیں کہ فرد لازم نہیں ہوتا ادارہ ہی مقدم ہے ،وہ بھٹکے ہوے ہیں۔ وہ راندہ درگاہ ہیں۔ وہ مجذوب ہیں۔ خدارا اپنا فیصلہ واپس لیجیے۔ آپ کی حوصلہ افزائی کے لیے یاد دلاتا چلوں، سروس میں توسیع کروانے والے آپ پہلے فرد نہ ہوں گے۔ زرا گردن گھما کر قریب ہی دیکھیے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی تین سال کی توسیع لی تھی، ا±س کے دور رس نتائج بھی آپ کے سامنے ہیں۔ اور اگر مشرف بھائی کے ساتھ یہ سیاست دان دھوکا نہ کرتے، تو وہ مرتے دم تک توسیع لیتے رہتے۔ ہاے آپ بھ±ول گئے جنرل مشرف کے دور میں اس ملک میں کتنا امن تھا، شانتی تھی۔ حال آں کہ چند نا ہنجاروں نے بارہ مئی جیسے ایڈوینچر کیے، لیکن ان کی حکومت نے کمال تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی ایف آئی آر درج نہ ہونے دی۔

اس کے بعد دیکھیے ان سیاست دانوں نے کیسے کیسے ملک کو خطرے میں ڈالا۔ اس کی تفصیل کیا بیان کروں، آپ راہ چلتے کسی سے پوچھ لیں، وہ بتا دے گا، کہ اِس ملک کی تقدیر کا ستارہ، سیاست دان نہیں آپ ہیں۔ یہی جمہوریت ہے جناب۔ یہی جمہوریت ہے اگر آپ اقتدار پر قبضہ بھی کرلیں، جو کہ آپ کا حق بنتا ہے تو جمہور آپ کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوں گے۔ ہمیں تو یہ فکر بھی کھائے جا رہی ہے کہ اب مشرف بھائی کا کیا ہوگا! اور یہ بھی کہ آپ کے بعد، اس ملک کی وزارتِ خارجہ کو کون دیکھے گا۔ اگر آپ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ موجودہ حکومت آپ کو وزیرِ خارجہ نام زد کر دے گی، تو یہ بھول ہے کیوں کہ بھائی جان آئین انھیں ایسا کرنے سے روکے گا۔ اگر آپ ابھی اور اسی وقت ہمت کریں تو آئین کو کاغذ کا ٹکڑا قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہاے! آپ چلے گئے تو ضربِ عضب کا کیا ہوگا؟ کراچی آپریشن کو کون دیکھے گا؟ بلوچستان کا کیا ہوگا؟ ہائے بھائی جان ۔ آپ چلے گئے تو ہمارا کیا ہوگا، ہم کس کا شکریہ ادا کریں گے؟


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 85 posts and counting.See all posts by zeffer-imran