قیام پاکستان کی قیمت ادا کرنے والے اور قربانی دینے والے


میرے اجداد کا تعلق روہتک کی گڑھی عنایت سے تھا جہاں وہ احمد شاہ ابدالی کے سرحدی قلعے کے محافظ تھے۔ پھر سنہ 1857 آیا اور بہت اتھل پتھل ہوئی۔ اب کوئی بتانے والا موجود نہیں ہے کہ ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ پناہ گزین ہو کر اپنی بڑی جاگیر پیچھے چھوڑ کر روہتک میں ہی گڑھی اجالے خان کے ایک گاؤں پر قانع ہوئے۔

والد مرحوم بتاتے تھے کہ وہاں مسلمان گھرانوں کی تعداد کل آبادی کا صرف سترہ فیصد تھی، مگر رعب ایسا تھا کہ گاؤں کے چوراہے پر گائے ذبح کیا کرتے تھے اور کوئی اعتراض نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن گھرانہ ایسا بدقسمت تھا کہ خاندان کے سربر آوردہ افراد جوانمرگی کا شکار ہوئے اور دو لوگ ہی سربراہی کے لیے زندہ بچے۔ باقی ساری پود پندرہ سولہ سال کی تھی۔ ایسے میں تحریک پاکستان کی شدید لہر چلی۔ والد مرحوم بھی ان بچوں میں شامل تھے جنہوں نے اپنا جیب خرچ جوڑ کر قائداعظم کو چندہ دیا اور رسید پائی۔

پھر 1857 کے نوے برس بعد 1947 کا ہنگام ہوا اور ایک اور اتھل پتھل ہوئی۔ قائداعظم کی قیادت میں ایک پرامن تحریک کے ذریعے پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ڈائریکٹ ایکشن ڈے کے علاوہ اس تحریک میں خون نہیں ملتا ہے۔ پرامن، سیاسی اور قانونی جدوجہد ہی ملتی ہے۔ خون بہائے بغیر اور کوئی جانی قیمت ادا کیے بغیر قائداعظم پاکستان کا معجزہ دکھانے میں کامیاب رہے۔

کہتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد ابتدا میں اکا دکا فسادات ہی ہوئے تھے۔ پھر ادھر چکوال کی طرف سے ہندو شرنارتھیوں کی ایک ٹرین چلی تو دریائے جہلم کے پل پر اسے روک کر شرنارتھیوں کو کاٹ ڈالا گیا۔ کہتے ہیں کہ ہندوؤں کے خلاف یہ فسادات دراصل اس وجہ سے کیے گئے تھے کہ یہاں کے مسلمان زمیندار قرض میں بال بال ڈوبے ہوئے تھے اور ان کی زمینیں ہندو مہاجنوں کے ہاتھوں گروی پڑی ہوئی تھیں۔ کاروبار پر بھی وہی چھائے ہوئے تھے۔ یعنی بیشتر دولت ہندووں کے ہاتھوں میں تھی۔ ایسے میں ان کو قتل کر کے قرض کا حساب ایک ہی وار میں چکتا کر دیا گیا اور زمینداروں نے آزادی پا لی۔ ایسی چند کٹی ہوئی ٹرینیں جب مشرقی پنجاب پہنچیں تو ادھر بھی منظم انداز میں ہنگامے برپا کیے گئے۔ کہا گیا کہ مہاراجہ پٹیالہ کی فوج باغی ہو کر مسلمانوں کو مارنے لگی۔ جبکہ بزرگ یہ بتاتے ہیں کہ اس سے پہلے باقاعدہ مسلمان شہریوں کو نہتا کیا گیا تھا اور اس کے بعد قتل عام شروع ہوا۔

گڑھی اجالے خان میں پٹھان اور آس پاس کے علاقوں میں مسلم رانگڑ راؤ رہتے تھے۔ پٹھان آبادی روایتی انداز میں گھر بناتی تھی۔ درمیان میں ایک بڑا صحن نما خالی میدان ہوا کرتا تھا اور ارد گرد چاروں طرف گھر ہوتے تھے جن کا راستہ ایک پھاٹک کے ذریعے تھا۔ پہلا حملہ ہونے سے ایک دن پہلے گڑھی والوں سے بندوقیں اور طمنچے پولیس لے گئی اور اگلے اگلے دن سکھوں کا ایک ہتھیار بند جتھا حملہ آور ہوا۔ گڑھی کے پٹھان نسل در نسل سپاہ پیشہ رہے تھے، اس صورت حال میں بھی نہ گھبرائے کہ نہ ان کے پاس جوان تھے اور نہ ہی ہتھیار۔ جنگی چال چلی گئی اور جانوروں کا چارہ کاٹنے والا ایک ٹوکا گڑھی کی فصیل پر نصب کیا گیا، اور اس کا حلیہ کچھ ایسا بنا دیا گیا کہ وہ توپ نظر آنے لگا۔ سکھ حملہ آوار قریب پہنچے، تو پٹھانوں کی سپاہ کو فصیل پر توپ کے ہمراہ تیار پایا۔ سکھ الٹے پاؤں پلٹ گئے۔

اگلی صبح دوبارہ پولیس گڑھی میں پہنچی کہ اطلاع ملی ہے کہ آپ نے سرکاری احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے ہتھیار سرکار کے حوالے نہیں کیے ہیں اور اب بھی آپ کے پاس بارودی ہتھیار موجود ہیں۔ اس وقت تک ٹوکا دوبارہ صحن میں نصب ہو کر گائے بھینس کا چارہ کاٹنے میں مصروف تھا، اس لیے پولیس کو تلاشی کے باوجود کوئی بارودی ہتھیار نہ ملا اور وہ خالی ہاتھ واپس ہوئی۔

شام کو سکھوں کا جتھا دوبارہ حملہ آور ہوا تو فصیل پر دوبارہ توپ نصب تھی اور پٹھان توپچی ان سکھ حملہ آوروں کو کشت و خون میں ملانے کو تیار کھڑے دکھائی دیے۔ گڑھی اجالے خان والوں کی پچھلے دو سو سالوں کی دہشت نے پھر اثر دکھایا اور سکھ واپس پلٹ گئے اور اگلی صبح پھر پولیس بارودی ہتھیار تلاش کرنے آن پہنچی۔

اس کے بعد گڑھی کے بڑوں نے اکٹھ کیا اور سوچا کہ بھلا کب تک ہم اس طرح بچیں گے۔ ہم نہتے ہیں اور حملہ آوروں کے پاس بندوقیں بھی ہیں اور سرکار بھی ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے سوچا کہ ٹھیک ہے کہ حملہ آور سکھ ہیں مگر ایک سکھ کو بھی کتنے عرصہ اس طرح سے توپ دکھا کر بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔ فیصلہ ہوا کہ اب گڑھی کو چھوڑا جائے اور پاکستان کا رخ کیا جائے ورنہ جان سلامت نہیں رہے گی۔

قافلہ روانہ ہوا اور تین سو کلومیٹر کا سفر پاپیادہ طے کر کے پاکستان کی سرحد میں داخل ہوا اور دیپالپور کے نواح میں آباد ہوا۔ قافلہ خوش قسمت تھا کہ اس نے کوئی جانی نقصان نہ اٹھایا۔ والد صاحب کا دیا ہوا وہ ایک روپیہ شاید روایتی امام ضامن ثابت ہوا تھا۔ گڑھی اجالے خان کے گھرانوں نے پاکستان کے قیام کے لیے کچھ مالی امداد تو دی، مگر قیام پاکستان کے بعد ہونے والے فسادات میں اسے کسی جان کی قربانی نہ دینی پڑی۔ ہاں پرکھوں کی دی ہوئی ایک بڑی جائیداد اور نسلوں پرانا گھر گھروندا اسے پاکستان بننے کی قیمت میں ادا کرنا پڑا۔

مگر جب یہ پاکستان میں سیٹل ہوا، تو سارے غم بھول کر اس وطن کو جان سے عزیز جاننے لگا۔ والد صاحب کے سامنے کوئی شخص اگر پاکستان کے خلاف معمولی سی بات بھی کر دیتا تھا، تو اسے شدید غیض و غضب کا نشانہ بننا پڑتا تھا۔ انہوں نے 1971 میں پاکستان کے دو ٹکڑے ہونے کا غم بھی برداشت کیا، یہاں انصاف کا خون بھی ہوتے دیکھا، خود بھی شدید ناانصافی کا شکار ہوئے، مگر پاکستان سے محبت میں کبھی کمی نہ ہوئی۔ کبھی ان کو یہ کہتے نہیں سنا کہ ہم وہاں گڑھی اجالے خان میں زیادہ خوش تھے۔

میں یہی سوچتا ہوں کہ اگر فسادات کی لہر شروع نہ ہوتی، تو کیا یہ خاندان اپنی آبائی زمین چھوڑتا؟ اگر سکھ حملہ آور اس طرح مشرقی پنجاب کو مسلمانوں سے صاف نہ کرتے جیسا کہ مسلمانوں نے مغربی پنجاب کو غیر مسلموں پاک کیا تھا، تو آج بھی وہاں بے شمار مسلمان آباد ہوتے اور پاکستانی مغربی پنجاب میں بھی غیر مسلم اسی طرح کثرت سے دکھائی دیتے۔ آج بھی لاہور میں آدھی آبادی ہندوؤں اور سکھوں کی ہوتی جیسا کہ 1947 میں ہوا کرتی تھی۔

مشرقی پنجاب کے ان سب مہاجروں نے آزادی کی خاطر قربانی نہیں دی تھی۔ ان سب نے قیام پاکستان کے بعد ہی پاکستان بننے کی قیمت چکائی تھی۔ ہاں بہت سے ایسے ضرور ہوں گے جو کہ پاکستان بننے کے بعد راضی خوشی یہاں آ جاتے، مگر فسادات نے ان کو ایسا موقع نہیں دیا کہ وہ خود سے کوئی آزادانہ فیصلہ کر پاتے۔ کم از کم پنجابی زمیندار کے لیے اپنی زمین اور پرکھوں کی قبریں چھوڑنا گالی جیسا ہی ہوتا ہے لیکن جب انسان کو یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ جان بچانی ہے یا جائیداد، تو فیصلہ عموماً جان کے حق میں ہی ہوا کرتا ہے۔ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کا جانی اور مالی نقصان بہت زیادہ ہوا تھا۔

دوسری طرف ہمیں یو پی، لکھنو، مہاراشٹر اور ایسے دوسرے ہندو اکثریتی علاقوں کے لوگ بھی دکھائی دیتے ہیں۔ وہ فسادات کا ایسا نشانہ نہیں تھے جیسا کہ پنجاب بنا تھا۔ لیکن ان میں سے بہت سے لوگ راضی خوشی اپنی زمین جائیداد چھوڑ کر پاکستان آئے تھے۔ بہت سے تو 1965 تک آہستہ آہستہ پرامن ماحول میں پاکستان آتے رہے تھے۔ انہوں نے قیام پاکستان کی قیمت نہیں چکائی تھی، انہوں نے قیام پاکستان کی خاطر قربانی دی تھی۔ یوسفی کا وہ کردار یا آ جاتا ہے جو کہ پاکستان کی خاطر اپنی حویلی وہیں کانپور میں چھوڑ آیا تھا اور بس اس کی تصویر ساتھ لایا تھا۔

ان اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں نے انسانی جان کی صورت میں ویسی قیمت نہیں چکائی جو ادا کرنا پنجابیوں کی قسمت میں لکھا تھا، مگر بہرحال وہ بھی اپنے بھرے پرے گھر چھوڑ کر یہاں آن بسے تھے۔ بیشتر نے کراچی کو مستقر بنایا۔ یہاں خاص طور پر پاکستان کے ابتدائی برسوں میں اس اعلی تعلیم یافتہ طبقے نے پاکستان کو وہ مضبوطی عطا کی جس کی وجہ سے کانگریسی لیڈروں کا وہ خواب برباد ہو گیا کہ پاکستان محض چند برس بعد ہی دوبارہ بھارت کا حصہ بن جائے گا۔

ان مہاجرین کو بھی شدید ناانصافی کا نشانہ بننا پڑا۔ خاص طور پر کوٹہ سسٹم ان کے لیے ایک بڑا عذاب تھا۔ کوٹہ سسٹم ایک محدود مدت کے لیے نافذ کیا گیا تھا مگر یہ ختم ہونے میں ہی نہیں آیا۔ ایسے میں مہاجروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی نے الطاف حسین کو ایک بڑا لیڈر بنا دیا۔

خواہ بانوے کا آپریشن اور اس میں برآمد ہونے والے جناح پور کے نقشے ہوں، یا اس کے بعد کے ریاستی الزامات و اقدامات، مہاجروں نے الطاف حسین کے سوا کسی کو ووٹ دینا پسند نہیں کیا۔

اگر اب کل کی حیرت انگیز باغیانہ تقریر کے بعد، جس پر الطاف حسین نے اب معافی مانگ لی ہے، اگر آج بھی دوبارہ الیکشن ہوں تو اردو سپیکنگ ووٹ پھر بھی ایم کیو ایم کو ہی پڑے گا۔

معافی نامے میں الطاف حسین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل، مسلسل گرفتاریوں اور ان کی مشکلات دیکھ کر شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھے اور بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے ساتھیوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے ان کا ذہنی تناؤ مزید بڑھ گیا۔ ”شدت جذبات سے مغلوب ہوکر میں جو الفاظ ادا کر بیٹھا، وہ مجھے ہرگز استعمال نہیں کرنے چاہیے تھے“۔

معافی نامے میں ایم کیو ایم قائد کا کہنا تھا کہ انھوں نے بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے ساتھیوں سے ٹیلیفونک خطاب میں پاکستان کے خلاف جو الفاظ استعمال کیے، وہ انتہائی ذہنی دباؤ کے نتیجے میں کہے گئے۔ الطاف حسین نے مزید کہا کہ، ”میں ایک پاکستانی کی حیثیت سے پاکستان کے عوام، اسٹیبلشمنٹ، فوج، انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، تمام ارباب اختیار اور حکمرانوں کو یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ میری جانب سے ایسے الفاظ ہرگز استعمال نہیں ہوں گے“۔

ریاستی جبر، غداری کا مقدمہ اور سزائیں، یہ ووٹ نہیں توڑ پائیں گی۔ جس طرح پاکستان کے غدار قرار دیے جانے والے قوم پرست لیڈر ایک سیاسی عمل کے ذریعے دوبارہ پاکستان کی سیاست کا حصہ بن گئے ہیں اور اب پارلیمان میں بیٹھ کر پاکستان کی بات کرتے ہیں، ویسا ہی کچھ سیاسی حل ایم کیو ایم کو بھی دیا جانا چاہیے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ الطاف حسین مسلسل اپنے لائیو خطابات میں ایسی بات کر جاتے ہیں جس کی قیمت ایم کیو ایم کو چکانی پڑتی ہے۔ ان کی شدید علالت اور دوسرے مسائل کی خبر بھی آتی رہتی ہے، ایسی کیفیت میں ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ لائیو خطابات کا سلسلہ ترک کر کے ریکارڈ شدہ تقاریر ہی کیا کریں۔

ورنہ ریاست کے لیے یہ برداشت کرنا ممکن نہیں ہے کہ اس طرح مسلسل باغیانہ تقاریر جاری رہیں، پاکستان اور ریاستی اداروں کو برا بھلا کہا جاتا رہے،  اور ٹی چینلوں اور دوسرے اداروں پر حملوں کی کال دی جاتی رہے، اور ریاست ایک خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہے۔

 Aug 23, 2016


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 632 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar