بدلنا گھر مستنصر حسین تارڑ کا….


husnain jamal (2)تارڑ صاحب گھر بدل رہے ہیں۔ گلبرگ سے ڈیفنس جا رہے ہیں۔ ان کے دو کالم اس سلسلے میں آئے اور فقیر کو مار گئے۔ ویسے تو اگلے زمانوں کے فقیر کسی بھی حق بات پر چیخ مار کر لمبے لیٹ جاتے اور چادر تان کر اور کبھی بغیر تانے فوت ہوجاتے تھے۔ لیکن فقیر تھاں مر گیا! بہ خدا آپ کا حسنین جمال مر گیا! یہ کالم سینے میں جا ترازو ہوئے، بس، اور کچھ بھی نہ ہوا۔ اور یہ بھی اچھا ہوا، برا نہ ہوا۔
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاوں گھنی ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے!
بزرگوں سے سنتے تھے کہ عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا، اچھا بھئی نہیں ہو گا۔ مردوں کا کون سا گھر ہوتا ہے؟ مڈل کلاسیوں کا تو مشکل ہی سے اپنا ذاتی گھر ہو پاتا ہے۔ تارڑ صاحب کے نوادرات، کتابیں اور پودے یہ تین دکھ ایسے ہیں جن کا اس فقیر کو بدرجہ اتم اندازہ ہے! خیر سے پانچ گھر بدل چکا ہے!! راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے / عمر بھر حالت سفر میں رہے۔ نوشی گیلانی کا یہ شعر کسی بھی سیلانی جیوڑے کے دکھ کا بہترین اظہار ہے۔
کیا آپ کو خبر ہے کہ جب آپ پہلا گھر چھوڑتے ہیں تو آپ کیا کیا چھوڑ دیتے ہیں؟ آپ اس صحن کو چھوڑتے ہیں جہاں آپ بچپن کی بارشوں میں نہائے ہوتے ہیں۔ آپ اس گلی کو چھوڑتے ہیں جہاں آپ نے سائیکل چلانا سیکھا ہوتا ہے۔ آپ اس لوہے کے پائپ کو چھوڑتے ہیں جس سے لٹک کر آپ نے قد بڑھایا تھا۔ آپ اس بیٹھک کو چھوڑتے ہیں جہاں آپ اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ آپ اس برآمدے کو چھوڑتے ہیں جہاں آپ کی ماں، آپ کی دادی دھوپ سینکا کرتی تھیں۔ آپ وہ باورچی خانہ چھوڑتے ہیں جہاں نعمت خانہ بھی ہوتا تھا۔ آپ وہ کمرے چھوڑتے ہیں جو چھوٹے ہوتے تھے، جہاں ان زمانوں میں شاید اے سی بھی نہیں ہوتا تھا، لیکن گرمی بھی نہیں لگتی تھی۔ آپ وہ بیلیں چھوڑتے ہیں جو آپ یا آپ کے باپ بہت شوق سے لگاتے تھے۔ آپ وہ درخت چھوڑتے ہیں جن کے پھل کھانے کو آپ کے دادا نے انتظار کیا تھا۔ آپ اس ڈھول والے کو بھی چھوڑ جاتے ہیں جو آپ کو سحری پر اٹھاتا تھا۔ آپ چھوڑتے ہیں کچی اینٹوں والا وہ فرش جو دھل کر نکھر جاتا تھا۔ آپ چھوڑتے ہیں چارپائیوں پر سونا، جو شدید گرمیوں میں بھی گرم نہیں ہوتی تھیں۔ آپ ان کو چھوڑ کر فوم پر سونے لگتے ہیں، اے سی بھی چلاتے ہیں کہ فوم تو بابا گرم ہوتا ہے نا۔ آپ کھلے آسمان تلے سونا چھوڑتے ہیں اور پنکھا دیکھ کر سونا پسند کرتے ہیں۔ آپ وہ روشندان چھوڑتے ہیں جو آپ کے نئے گھر میں ہرگز نہیں ہوتے۔ ایسی فضول چیز کی جگہ ہو بھی کیوں۔ آپ وہ چھت چھوڑتے ہیں جس پر پتنگ اڑانے کے بعد آپ گالیاں کھاتے تھے۔ آپ وہ سیڑھیاں چھوڑتے ہیں جن میں ریلنگ کے بجائے دیواریں ہوتی تھیں اور جہاں ہر تین ماہ بعد ہاتھوں کے نشان مٹانے کے واسطے چونا کرایا جاتا تھا۔ آپ وہ پرندے چھوڑتے ہیں جو اس دانے اور پانی پر ا±تر آتے تھے جو آپ کی دادی ڈالتی تھیں۔ واللہ آپ سب چھوڑ دیتے ہیں، وہ لوگ چھوڑ دیتے ہیں جو آپ کے اردگرد رہتے تھے، کیسے پیارے محبتی لوگ چھوڑ دیتے ہیں، اور کہاں کہاں چھوڑ دیتے ہیں۔ الغرض آپ چھوڑ دیتے ہیں وہ سب کچھ جو آپ کے خمیر میں ہوتا ہے اور نکل پڑتے ہیں آپ ترقی کی شاہراہ پر۔
پھر کیا ہوتاہے۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ تمام عمر آپ کو جو خواب آتے ہیں وہ اسی پہلے گھر کے آتے ہیں۔ لوگ بدلتے رہتے ہیں، خوابوں میں موجود گھر نہیں بدلتا۔
ابھی بیگم نے پوچھا کیا لکھ رہے ہیں، ہم نے کہا تارڑ صاحب گھر بدل رہے ہیں، تو چونکہ ہم بھی اس معاملے میں جلے پیر کی بلی ہیں تو ہم بھی ان کا دکھ بانٹ رہے ہیں۔ کہنے لگیں یہ تو ان کے موضوع کی نقل ہوئی، تس پر ہم نے انہیں وہ گئے وقت یاد دلائے جب عطاالحق قاسمی صاحب کا ویسپا چوری ہوا تھا تو کن کن لوگوں نے کالم لکھ مارے تھے۔ اخوت اسی کو تو کہتے ہیں۔
آمدم بر سر مطلب، آپ گھر چھوڑ دیتے ہیں۔ نئے گھر آ جاتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس صرف دو تین ہزار کتابیں بھی ہوں تو آپ ایک امتحان میں ہیں۔ آپ کے بچے سوالیہ نظروں سے دیکھیں گے کہ ابا کتابیں کہاں رکھتے ہیں اور ہمیں کہاں ٹانگتے ہیں۔ پھر اگر آپ مجسموں کے شوقین ہیں، قطع نظر ان کے سائز کے، تو بھی آپ آزمائش میں ہیں۔ پرانے گھر میں ایک ایک کر کے کہیں نہ کہیں آپ نے جیسے تیسے تمام مجسمے اور نوادرات ٹانگ دئیے تھے، اب یہاں کیا کیا بنائیں گے۔ کتنے طاقچے، کتنے کھوپچے، کتنے شیلف، پھر بھی آپ کا آدھے سے زیادہ سامان ڈبوں میں بند رہے گا۔ کیا کہا، آپ کے گھر میں تصویریں بھی ہیں؟ پھر تو آپ باقاعدہ بدنصیب ذی نفس ہیں۔ آپ کے فریم سامان کی منتقلی کے دوران ٹوٹیں گے۔ جو شیشے کے ساتھ ہیں ان کا تو خدا حافظ ہے۔ پھر آپ کے کینوس نے ایک نہ ایک رگڑ بھی ضرور کھانی ہے۔ جو آپ کی سب سے پسندیدہ تصویر ہے اسی کے ساتھ کچھ نہ کچھ ہو گا۔ ہمیشہ ہوا ہے بھئی، ہمارا تجربہ ہے، کیسے نہیں ہو گا؟ ہمارا فاقہ مست بدھا کا ریپلیکا ایسے ہی ٹوٹا تھا۔ کمال کرتے ہیں آپ، اور وہ ایرانی فریم بھی ایسے ہی اپنے اصل سے جا ملا تھا۔
چلیے یہ سب بھی ہو گیا۔ کاغذات کہاں جائیں گے؟ کتنے خطوط، کتنے وزیٹنگ کارڈ، کتنی تصویریں، آپ کے بچوں نے بچپن میں پنسل سے جو ڈرائنگ بنائیں تھیں وہ، کہیں سے کوئی تعویز نکلے گا، کوئی گمشدہ کڑا نکل آئے گا، کبھی صرف ایک کف لنک موجود ہو گا لیکن آپ اسے بھی سنبھالنا چاہیں گے، لیکن کیوں۔ بھئی یہ سب کباڑ ہے اس سے چھٹکارا پانا ہے، نئے گھر جانا ہے، کیا کریں گے اتنا سب کچھ ساتھ لے جا کر۔ چھوڑ دیں، یہ سب بھی چھوڑ جائیں۔
استری کیے ہوئے کپڑے جب اگلی الماری میں جائیں گے تو ان کی دو دو تہیں ہوں گی جو اگلے چھ مہینے آپ کو یاد دلائیں گی کہ آپ نے گھر بدلا تھا۔ سردیوں میں آپ کے مفلر کھو جائیں گے، گرمیوں میں ٹی شرٹ والا بیگ گم جائے گا جو اگلے گھر جانے پر نکلے گا۔
پودے، آپ کے کتنے ہی عزیز از جان پودے کیوں نہ ہوں۔ بونسائی ہوں، کیکٹس ہوں، اگاوے ہوں یا صرف موتیے اور گلاب ہوں، سب کی آتما رل جائے گی۔ بیسیوں گملے ٹوٹیں گے، پودوں کی شاخیں ٹوٹیں گی، دھوپ کے رخ کا اندازہ دو سیزن گزار کر ہو گا اور اس بیچ کتنے ہی پودے شہادت کی معراج پائیں گے۔ اور پھر وہ پام، وہ چنبیلی اور وہ بوگن ویلیا آپ نئے مالک کے رحم وکرم پر چھوڑ جانے پر مجبور ہوں گے جو زمین میں گڑے ہیں۔ وہ آپ کے قدم بھی زمین میں بار بار گاڑیں گے، آپ بھول کر بھاگنا چاہیں گے لیکن آتے جاتے باہر سے انہیں ایک نظر دیکھنے پر مجبور ہوں گے۔ پھر کوئی حرام الدہر انہیں اکھاڑ پھینکے گا۔ آپ گھر آ کر اداس پھریں گے لیکن صاحب نیا گھر تو نیا گھر ہے۔
تو کل ملا کر یہ جان لیجیے کہ اگر آپ اس دھرتی پر موجود بے مایہ چیزوں سے محبت کرنے والے بے وقوف ہیں اور انہیں گلے سے لگا کر رکھتے ہیں تو آپ خسارے میں ہیں۔ اور اگر آپ میں ایسی کوئی فنی خرابی نہیں تو صاحب بسم اللہ، نیا گھر مبارک!! اور اگر آپ ہماری طرح کرائے کے گھر میں ہیں تو آپ کو ہرگز یہ دلدر نہیں پالنے چاہیئیں۔ ورنہ کشمکش دہر سے آزادی نہیں ملتی بھائی، مکتی بہت مشکل ہے اس جہان فانی میں ان تمام چیزوں سمیت۔
تو تارڑ صاحب اس دنیا میں ایک بندہ ایسا ہے جو آپ پر گزرتے ہر لمحے کی کٹھنائی محسوس کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ آپ کے خالی شیلف کی تصویر دیکھتا ہے تو اپنا ملتان والا گھر یاد کرتا ہے۔ وہ آپ کے پودوں کا پڑھتا ہے تو اپنی پانچ شفٹنگ یاد کرتا ہے۔ آپ کو سامان اٹھتے دیکھ کر ہول اٹھتا ہے تو اس کا درد محسوس کرتا ہے۔ آپ نابغہ روزگار محلے داروں کو یاد کرتے ہیں تو وہ اپنے نواں شہر ملتان والے مخلص محلے داروں کو لاہور بیٹھ کر یاد کرتا ہے۔ ہاں آپ اپنے بچوں کی شادیاں یاد کرتے ہیں تو یہ بدنصیب اپنی ماں کے وہ آنسو یاد کرتا ہے جو باورچی خانے کی کھڑکی سے باہر فقیر کا سامان ٹرک پر لدتے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آئے تھے ۔ فقیر کی نظر پڑی تو دل پہ تیر چلے …. مگر وہ موتی دوپٹے میں گم ہو چکے تھے۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 150 posts and counting.See all posts by husnain

16 thoughts on “بدلنا گھر مستنصر حسین تارڑ کا….

  • 10-01-2016 at 12:30 am
    Permalink

    میں نے صرف تین برس کسی اور ملک کے ایک شہر میں ایک فلیٹ کے صرف ایک کمرے میں گزارے تھے اور واپس آتے ہوئے سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا لے جاوں اور کیا چھوڑ جاوں ۔۔ وہاں کی گلیاں کوچے اور سڑکیں تک نہ صرف یاد آتی ہیں بلکہ باقاعدگی سے خواب میں بھی آتی ہیں۔

    • 14-01-2016 at 10:20 pm
      Permalink

      جی بالکل، کبھی کبھی کوئی خاص جگہ ہمیشہ کے لیے اٹک جاتی ہے ذھن میں۔

  • 10-01-2016 at 2:38 am
    Permalink

    بھائی حسنین یہ آپ نے کیا لکھ دیا ہے “کیا آپ کو خبر ہے کہ جب آپ پہلا گھر چھوڑتے ہیں تو آپ کیا کیا چھوڑ دیتے ہیں؟”۔۔۔ واللہ جس جس شے کا ذکر کیا ہے ہم بھی چھوڑ آئے ہیں۔۔۔ تارڑ صاحب کی نقلِ مکانی پر ان کی تحریریں پڑھ کر آبدیدہ ہو ہی رہے تھے کہ آپ کی ناوک اندازی کا شکار ہؤے اور اب دھاروں دھار آنسوؤں کی جھڑی سے نمٹ رہے ہیں۔ بھائی کیا غضب کرتے ہیں۔

    کراچی میں ایک بزرگ شاعر نے اپنے گھر بلا کر ایک خزانہ حوالے کیا جس میں بڑے بڑے مصنفین کی دستخط شدہ کتب تھیں۔ خوشی کے مارے ڈرتے ڈرتے اس عنایت کی وجہ جاننا چاہی تو ٹوٹے دل سے انہوں نے بتایا کہ فیڈرل بی ایریا کے ہزار گز کے مکان سے ڈیفینس کے پانسو گز کے مکان میں منتقل ہو رہے ہیں کہ بیٹے کا آفس وہان سے قریب ہے۔ ہزار گز کا مکان ان کی لائبریری کا متحمل ہو سکتا تھا مگر پانسو گز میں یہ عیاشی نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔ انہوں نے کتابیں تو اہل ذوق میں تقسیم کردیں مگر اور کیا کیا متاع رہی ہوگی جو بک بکا کر برابر ہوئی ہو گی یا پھر ڈبوں میں بند کسی گودام کی زینت ہو گی۔ اناللہ و نا الیہ راجعون

    • 15-01-2016 at 1:42 am
      Permalink

      احمد بھائی۔ بہت نوازش، گھر چھوڑنے والا، گھر چھوڑنے والے کا دکھ ایسے ہی سمجھتا ہے 🙂

  • 10-01-2016 at 3:09 am
    Permalink

    Kitni khubsurat aur sachi baten kr den apny tarar sahb ki tarha. Agracha main ny apna ghar fsc k bad hi chor diya tha parhai k liye aur na bhi chorti to shadi k bad to chorna par hi jata magr sirf do din phly hi khyal ara tha k kiya waja ha k jo bhi khwab ata ha usi ghar ka ata ha? Kisi k ghar men lgy huay aam k per ko ya safaid gulab ki bel ko phulon sy ldy dekh k dil men kasak kion uthti ha?? Jitna ami yad ati han utna hi wo ghar kion yad ata ha.kai dafa socha k agracha future ka kuch pata nai PR kabhi itny paisay huay to wo ghar wapis khareed lun gi phr sochti hun wo to aik choty sy shehr men ha kiya kren gy bachy wahan ja kr….isi trah k swalon k jwab hon to mujhy bhi bta dijye ga…Allah apko aur tarar sab ko Naye gharon men khush o abad rakhy

    • 15-01-2016 at 1:42 am
      Permalink

      بہت شکریہ، بہت نوازش۔ شاد و آباد رہیں!

  • 10-01-2016 at 3:14 am
    Permalink

    ُملتان ُ کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں ۔۔ اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے ۔

  • 10-01-2016 at 6:56 am
    Permalink

    اجی حضرت مارے ڈالتے ہو۔خاکسار کا تعلق عارف والا سے یے، عمر کا معتدبہ حصہ تلاش رزق میں لاہور میں گزر گیا لیکن اس روح کا کیا کریں جو ابی بھی گاوں کی مٹی اٹی گلیوں میں آسودہ ہے۔ لاہور کیسا باجمال شہر کیسا خوش خصال شہر، کیسے کیسے دوست ملے کیسی کیسی صبیہں،شامیں، راتیں، محبتیں ،الفتیں ملیں شمار میں نہیں لیکن اس دل کا کیا کریں صاحب جو ابھی بھی شدید دھند کے پردے میں محبوب کی ایک جھلک کے لئے ابھی بھی انہی گلیوں میں پھرتا ہے۔ کرائے کے مکان کی تو کیا خوب کہی آپ نے ہجرت در ہجرت۔۔۔۔۔ سو صاحب جتنا دکھ آپ نے تارڑ صاحب کے مکان بدلنے کا محسوس کیا اس سے کہیں ذیادہ ہم نے آپ کا دکھ ماں کے دوپٹے میں محسوس ہونے والے آنسوؤں کا کیا۔ جو اب بھی اکثر بہتے ہیں اور بہتے چلے جاتے ہیں۔ “آ کسی روز کسی دکھ پر اکٹھے روئیں”

  • 10-01-2016 at 11:55 am
    Permalink

    بہت پراثر اور آپ کی اس تحریر کا ہر لفظ زندگی کے سفرِ ہجرت میں ہر دل کی آواز بھی ہے ۔۔ ہم سب جانتے ہیں سب سمجھتے ہیں کہ زندگی خواب کی آغوش میں منہ چھپا کر نہیں بلکہ حقیقت کے سامنے سجدہ ریز ہو کر گزرتی ہے چاہے ان سجدوں میں ہمارے خوابوں کی کرچیاں روح زخمی کردیں،لیکن پھر بھی ہم خواب دیکھتے ہیں کبھی کھلی آنکھ سے تو کبھی بنا کسی خلش یا کوشش کے بند آنکھ میں روشن خواب اترتے ہیں۔۔۔۔
    “پھر کیا ہوتاہے۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ تمام عمر آپ کو جو خواب آتے ہیں وہ اسی پہلے گھر کے آتے ہیں۔ لوگ بدلتے رہتے ہیں، خوابوں میں موجود گھر نہیں بدلتا”۔…..
    لفظ لفظ بالکل سچ
    “تو تارڑ صاحب اس دنیا میں ایک بندہ ایسا ہے جو آپ پر گزرتے ہر لمحے کی کٹھنائی محسوس کرنے کا دعویٰ کرتا ہے”۔۔۔۔۔۔
    ۔ آپ کی اس بات سے شدید اختلاف ۔۔۔ ایسے “دعوے” ہر اس شخص کے ہیں جس نے جناب تارڑ کی یہ تحریر پڑھی۔ لیکن آپ نےلفظ کی صورت اظہار کر دیا اور پڑھنے والے بس دل میں محسوس کرتے رہ گئے۔
    ” یہ جان لیجیے کہ اگر آپ اس دھرتی پر موجود بے مایہ چیزوں سے محبت کرنے والے بے وقوف ہیں اور انہیں گلے سے لگا کر رکھتے ہیں تو آپ خسارے میں ہیں۔”۔
    لیکن انسان تو ہے ہی خسارے کا سوداگر اس کی تصدیق کتاب مقدس میں مل چکی بس اسے سمجھتے ہوئے اس پر غور کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہی زندگی برتنے کا اصل قرینہ ہے بجائے اس کے اپنی کم علمی یا نا اہلی پر افسوس کرتے زندگی گزار دی جائے۔۔۔۔۔
    ” مٹی کا بنا فانی انسان جب تک مٹی کی بےجان چیزوں سےقربت محسوس نہیں کرے گاوہ کیونکر اپنی گہرائی محسوس کر سکے گا ۔”
    ہم بےوقوف ہی اچھے ان خودساختہ عقل مندوں اور ہوس پرستوں سے جو محبت کرتے ہیں تو اسے چھوڑنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔آپ کے ان لفظوں کا بہت بہت شکریہ کہ انہوں نے میری سوچ کے در وسیع کیے۔ جیتے رہیں اور اسی طرح لفظوں کی خوشبو بکھیرتے رہیں.

  • 10-01-2016 at 11:58 am
    Permalink

    سال 2016 میں جناب مستنصرحسین تارڑ کے کالمز ۔۔
    چار گھر، میری حیات کے، لاہور کے
    کُجھ مینوں مرن دا شوق وِی سی
    اور میرا بےساختہ اظہار ۔۔۔
    نہ جانے میرے اندر یہ کیسی تکنیکی خرابی ہے کہ ہوا کے مہربان رخ سے الگ میں اس سمت دیکھتی ہوں جہاں شاید کسی اور نظر میں لُو کے تھپیڑے ہیں یا پھر کبھی مجھے سسکتی آہوں میں اطمینان کی شہنائی کی گونج سنائی دیتی ہے۔ یہں حال جناب تارڑ کے ان دوکالمز میں مکمل احساس کو پڑھتے ہوئے ہے۔۔۔۔ دوسرے لوگوں کا دکھ بھرا احساس سر آنکھوں پر۔۔ لیکن مجھے دکھ ہوا تو اس اینٹ پتھر اور سمینمٹ کے پرانےگھر میں بےجان لیکن سانس لیتے زندگی بھرے لمحات کی تنہائی اور بےقدری کا۔۔۔۔ اس خوشبو لمس کے بکھرنے کا۔۔۔۔ ان ستارہ آنکھوں میں رات کی تنہائی میں اترنے والے ان خواب منظروں کی بےثباتی کا جو لفظ میں ڈھل کر امر ہو جاتے تھے۔۔۔ اس ننھے چیڑ کے بوٹے کا جو بڑا تو ہو گیا لیکن اس کا دل آج بھی اتنا ہی نازک ہے جتنا اس کو پروان چڑھانے والے کی فکر کی انتہا۔۔۔ لیکن کیا کیا جائے کہ دیکھنے والے اگر اس بوڑھے ہوتے درخت کے جھریوں بھرے تنے کو نگاہِ الفت تو کیا ایک نگاہِ غلط کا حق دار بھی نہیں سمجھتے تو عمر کی سیڑھیاں رب کی عطا کردہ مہلت کے صدقے بڑی بےجگری سے پھلانگتے اور سب سے چھپ کر اپنے دل کی بات کہتے لیکن بڑے مؑصومیت سے اسے آشکار بھی کرتے اس پکی عمر کے کچے دل کو بھی کسی خاطر میں نہیں لاتے۔جو جانا حق تو سمجھتا ہے راضی بارضا بھی ہے لیکن کیاکرے اس کا دل جو مڑ مڑ کردیکھتا ہے۔ اپنی ہمیشہ کے لیے چلی جانے والی ماں کی سی تلاش میں،۔۔جس نے ایک بار یہی لکھا بھی تھا کہ ماں کے لیے جس کے جانے کے بعد کسی کومیرے نئے جوتوں کی خوشی بھی نہیں.
    لیکن مجھے یہ کالم پڑھتے ہوئے ایک مسرت بھرا احساس بھی ہواکہ اپنا سارا پٹارا اپنے ہاتھ سے سمیٹ کر نئی منزلوں نئے راستوں پر اپنے قدموں سے سفر کر جانا رب کی طرف سے بہت بڑا انعام ہے اور بہت کم کسی کا نصیب ہے۔ لیکن یہ بہت بہت کڑی آزمائش بھی ہے۔۔ امیدوں ،خواہشوں کی گھٹڑی بڑے اعتماد سے باندھ کر صرف اپنوں کی خاطر ہتھیار پھینک دینے ،ان کی جسمانی آسودگی کے لیے اپنی ذہنی آسودگی رخصت کر دینا بڑے ہی حوصلے اور ضبط کا کام ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ زمین میں جڑ پکڑتے اس تناور درخت میں سانس لیتے نازک دل کونئی مٹی میں کچھ وقت کے لیے ہی سہی مکمل اطمینان کی رم جھم اور ذہنی سکون کی زندگی بخش کرنیں نصیب فرمائے ۔ وہ بخوبی جانتا ہے اور مانتا بھی ہے کہ مٹی مٹی میں مل کر کتنی ہی جڑیں مضبوط کیوں نہ کر لے اور سر کیوں نہ بلند کر لے ایک دن تو مٹی نے اسے اپنی آغوش میں لے کر ماں کی طرح ہر شے کی ضرورت سے بےنیاز کر ہی دینا ہے۔۔۔۔
    رہے نام اللہ کا۔
    جیتے رہیں میرے لکھاری اور دوسروں میں بھی جینے کی لگن پیدا کرتے رہیں۔

  • 10-01-2016 at 9:45 pm
    Permalink

    shandaaaaaaaaaar

  • 11-01-2016 at 3:11 am
    Permalink

    یارا حسنین جمال ۔۔۔ تم نے تو تڑپا دیا ،،،بلکہ رلا دیا ،،، بہت سے زخم پھر ہرے سے ہوگئے ،،،، کیونکہ ناظم آباد کا وہ وہ پہلا مکان جہاں میں نے جنم لیا تھا اور عمر کے 26 ویں برس نارتھ کراچی منتقل ہونے پہ مجبور ہوگیا تھا وہ نئے مالک کے ہاتھوں مسمار ہوکر اب ایک نئی عمارت بن گیا ہے جو ایک مدرسے کی عمارت ہے ۔۔۔ میں آج بھی بیقرار ہوکر کبھی رات گئے چھپ چھپا کر اس گھر کے باہر مجرموں کی طرح جا کھڑا ہوتا ہوں ااور وہاں کی فضاؤں میں ماتم سے گھلے ملے پاتا ہوں ،،، 28 برس ہوگئے اس گھر سے میرے وجود کو باہر آئے ہوئے اور 5 مکان بھی بدل چکا ہوں لیکن میرے وجود کی لاش اب بھی اسی پہلے گھر میں پڑی ہوئی ہے ،،، اب بھی میں اکثر اس گھر کے بجلی کے بٹنوں کی ترتیب کے مطابق لائٹ جلانے کی غلطی کرتا رہتا ہوں ،،، اور میری روح انہی کوچوں کا طواف کرتی ہے ،،،

    تمہاری تحریر کچھ ایسی ہے کہ تم حسد کے قابل ہی نہیں،،، بس رشک ہی کیا جاسکتا ہے

  • 14-01-2016 at 10:22 pm
    Permalink

    تمام احباب کا شکر گزار ہوں۔ نیٹ سپیڈ بہتر ہونے پر فرداً فرداً جواب دوں گا۔
    نوازش

  • 03-03-2016 at 12:34 pm
    Permalink

    Alfaz ka chunaa hijrato or un lafzon mn bolta hijrat ka dukh woho jan sakte hn jinhon nay hijrat ki ho .lajawab sir g.May ALLAH bless u

  • 08-03-2016 at 11:45 am
    Permalink

    آپ نے تو رلادیا ۔۔۔ سچ کہا۔۔۔اب بھی خواب اسی گھر کےآ ّتے ھیں۔ اللہ گرے زور قلم اورزیادہ۔۔۔۔

Comments are closed.