اگر پاکستان نہ بنتا تو۔۔۔


قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر مسلم لیگی زعما کے کیبنٹ مشن پلان سے اتفاق کے بعد پندرہ اگست 1947 کو تاج برطانیہ ہندوستان سے رخصت ہوا اور اقتدار دیسیوں کو سونپ گیا۔ پلان میں صوبائی خودمختاری کا وعدہ کیا گیا تھا۔ مرکز میں کانگریس نے حکومت بنائی۔ مسلم اکثریتی صوبوں میں سے سندھ میں مسلم لیگ کی حکومت بنی۔ سرحد میں سرخپوشوں کی حکومت بنی اور پنجاب میں یونینسٹ پارٹی اقتدار میں آ گئی۔ یونینسٹ پارٹی کے وزیر اعلی خضر حیات تھے مگر ہندو اور سکھ رہنما بھی اہم وزارتوں پر فائز تھے۔ بنگال کے صوبے میں کمیونسٹ پارٹی کا کا مسلم لیگ سے حکومت کی تشکیل کے لیے سے اتحاد ہوا۔ مگر قائداعظم کی 1948 میں رحلت کے بعد جب 1949 میں ہندوستان کا دستور بنایا جانے لگا تو اس میں کیبنٹ مشن پلان کے وعدوں کو کانگریس نے اپنی اکثریت کے بل پر نظرانداز کر دیا۔ اب ہندوستانی مسلم زعما میں سے کوئی ایسا لیڈر باقی نہیں بچا تھا جو مسلمانوں کو متحد کر کے کانگریس کا راستہ روک پاتا اسی لیے کم اختیار والے صوبوں پر ہی ہندوستان مسلمانوں کو قناعت کرنی پڑی۔

آزادی کے تین سال بعد ہی سندھ کو دوبارہ بمبئی کے صوبے سے جوڑ دیا گیا تھا اور بال ٹھاکرے وہاں کے وزیراعلی بن گئے۔ خیر پور اور دوسری ریاستوں کو وزیراعظم نہرو نے بہاولپور کے صوبے میں شامل کر دیا۔ وہاں کی معیشت پر ہندو تاجر چھائے ہوئے تھے اور مسلمان شدید تعلیمی اور معاشی پسماندگی کا شکار تھے۔ سندھی زبان کو دیوناگری میں لکھا جانے لگا مگر ایک بڑا طبقہ اس کے خلاف تحریک چلا رہا تھا جو کہ روز بروز زور پکڑتی جا رہی ہے۔ گجرات کے شہر احمد آباد میں مسلم کش فسادات کے بعد کراچی کو گجراتی مہاجرین کے ایک بہت بڑے ریلے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مسلم لیگ یہاں اب بھِی بمبئی کی سندھ سے علیحدگی کے لیے مہم چلائے ہوئے ہے مگر یہ ناکامی سے دوچار ہے کیونکہ دہلی سرکار اس کی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔ کراچی ایک بہت بڑا شہر بن چکا ہے۔ وہ بمبئی، لاہور اور کلکتہ کے بعد ہندوستان کا چوتھا بڑا شہر بن چکا ہے۔ یہاں تجارت پر سندھی ہندو اور گجراتی مسلمان چھائے ہوئے ہیں۔

بلوچستان میں قلات کی ریاست کو ہندوستان کی دیگر ریاستوں کی مانند ختم کیا جا چکا ہے اور بلوچستان کی گیس کو پائپ لائنوں کے ذریعے بمبئی تک پہنچایا جا چکا ہے۔ بلوچستان میں گاہے بگاہے مرکز کے خلاف بغاوتیں سر اٹھاتی رہتی ہیں مگر ان کو صرف افغانستان سے کچھ محدود سپورٹ ملتی ہے اس لیے کافی کمزور ہیں۔ یہ خطہ شدید غربت اور پسماندگی کا شکار ہے اور یہاں کے عوام کو ہندوستانی فوج کی گورکھا اور سکھ رجمنٹس کے ہاتھوں سخت مصائب کا سامنا ہے۔ شہریوں پر پیلٹ گن کے چھروں سے فائرنگ کی جاتی ہے جس سے بے شمار لوگ اندھے ہو چکے ہیں۔

سرحد میں کانگریس کے اتحادی سرخ پوش خدائی خدمت گار برسر اقتدار ہیں۔ وہ گریٹر پختونستان کے حامی ہیں اور افغانستان سے پختون علاقے چھین کر ہندوستان میں شامل کروا کر صوبہ سرحد کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ڈیورنڈ لائن ایک مصنوعی لکیر ہے جو کہ برطانوی راج نے کھینچی تھی اور وہ اسے نہیں مانتے ہیں۔ دوسری طرف افغانستان والے تخت برطانیہ سے کیے گئے ڈیورنڈ لائن کے معاہدے کو یاد دلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہندوستان اور افغانستان کی سرحد کا ہمیشہ کے لیے تعین ہو چکا ہے اور اب اسے متنازع نہ بنایا جائے۔ افغانستان پر ایک طرف سے ہندوستان کا شدید دباؤ ہے، دوسری طرف ہندوستان کے اتحادی سوویت یونین کا اور تیسری جانب سے اسے ہندوستان کا حامی ایران پیس رہا ہے۔ برطانوی دور میں افغانستان کو بفر سٹیٹ کے جس مقصد کے لیے قائم رکھا گیا تھا، اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی ہے اور ہندوستان اس کے پختون اور سوویت یونین اس کے تاجک اور ازبک علاقوں کو ہڑپ کرنے کی فکر میں ہے۔ ایران کی نظریں ہرات پر جمی ہوئی ہیں۔

کشمیر کی ریاست ختم ہو چکی ہے اور ہندوستان کے دیگر رجواڑوں کی طرح راجہ کو رخصت کر دیا گیا تھا۔ اب ریاست کشمیر کو جموں، کشمیر، ہنزہ اور بلتستان کے صوبوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے جن پر مسلم وزرائے اعلی کی حکومت ہے، مگر باقی ہندوستان کی طرح ادھر بھی مسلمان غریب ہیں اور کاروبار اور ملازمتوں پر غیر مسلموں کی اجارہ داری ہے۔ یہاں سکھوں کا زیادہ زور ہے۔ چین کے ساتھ جنگ کے بعد لداخ کا کچھ علاقہ چین کے قبضے میں جا چکا ہے اور یہ مقدمہ اقوام متحدہ کے پاس چل رہا ہے جس کے حل ہونے کی کوئی توقع نہیں ہے۔

بنگال میں مسلم لیگ اور کمیونسٹ اتحادی حکومت کو گاہے بگاہے کانگریس کی طرف سے چیلنج ملتے رہتے ہیں مگر وہ قائم ہے۔ مسلم لیگ کئی مرتبہ بنگال کے صوبے کی دو حصوں میں تقسیم کی کوشش کر چکی ہے مگر یہ کوشش ناکامی سے دوچار ہوتی رہی ہے۔ بنگال میں مسلمانوں کی حالت بقیہ ہندوستان سے کچھ بہتر ہے مگر پھر بھی وہاں خوشحالی صرف ہندوؤں کے مقدر میں ہی لکھِی گئی ہے۔

برطانوی راج کا صوبہ پنجاب اب تین صوبوں میں بٹ چکا تھا۔ مشرقی حصے کو ہریانہ صوبے کی شکل دے دی گئی ہے۔ وسطی صوبے کا نام پنجاب برقرار رکھا گیا ہے اور اس کا دارالحکومت لاہور ہے۔ جنوبی سمت میں بہاولپور کا صوبہ قائم کر دیا گیا ہے جس میں ملتان سے لے کر خیر پور تک کے علاقے شامل ہیں۔ یہاں کسی زمانے میں بڑی زمینداریاں غیر مسلموں کے پاس تھیں، مگر زرعی اصلاحات کے بعد جب جاگیروں کا خاتمہ ہوا، تو یہ علاقہ سستے مزدوروں کی وجہ سے آہستہ آہستہ صنعتوں کا مرکز بننے لگا۔ صنعتوں پر باقی ہندوستان کی طرح غیر مسلم ہی قابض ہیں۔ ہاں گنے چنے سندھی، گجراتی اور چنیوٹی مسلم صنعت کار دکھائی دیتے ہیں۔ پنجاب میں یونینسٹ پارٹی کی حکومت ہے اور وزیراعلی مبشر حیات خان ٹوانہ ہیں جن کی کابینہ میں سکھ اور ہندو اہم وزارتوں پر فائز ہیں۔

لاہور کا شہر بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس کی آبادی اس وقت ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ ہو چکی ہے اور یہ بمبئی کے بعد ہندوستان کا دوسرا سب سے بڑا شہر بن چکا ہے۔ آزادی سے قبل ہی لاہور کو ہندوستان کا پیرس کہا جانے لگا تھا کیونکہ ہر نیا فیشن یہیں سے پھوٹتا تھا۔ یہاں کے قہوہ خانے آباد ہیں اور تعلیمی اداروں کی کثرت اسے دوسرے شہروں سے ممتاز کیے ہوئے ہے۔ اب جبکہ دہلی اور لکھنو میں اردو گہنا چکی ہے تو اردو زبان کا مرکز لاہور کو ہی تسلیم کیا جاتا تھا اور یہاں کی زبان سند مانی جاتی ہے۔ کرشن چندر، بیدی، منٹو، کنہیا لال کپور اور بے شمار دوسرے ادیبوں کی روایتوں کا امین یہ شہر اردو ادب کو ایسے مزید نابغے دیتا رہا ہے اور اردو ادیبوں کی نئی جنریشن کا مرکز یہی شہر ہے۔ دوسری طرف فلم نگری میں بمبئی کی ٹکر کا اگر کوئی شہر ہندوستان میں ہے تو وہ لاہور ہی ہے۔ یہاں کے نگار خانوں سے بننے والی فلمیں بمبئی کو چیلنج کرتی ہیں۔ سنتوش کمار، وحید مراد، منور ظریف جیسے بے مثال ہیرو دینے کے بعد بھی یہ روایت قائم رہی ہے۔ شمال مغربی ہندوستان سے دلیپ کمار، دیو آنند، راجیش کھنہ جیسے اداکار اٹھتے تھے، اور لاہور سے سپر سٹار بن کر پورے ہندوستان پر چھا جاتے تھے اور اب تک یہی روایت برقرار ہے۔ لاہور کو ہندوستان کا دل کہا جاتا ہے اور یہ اس ملک کا تہذیبی دارالحکومت تسلیم کیا جاتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے یہاں بھی مسلمان سفید پوش طبقے میں ہی شمار ہوتے ہیں اور باقی ماندہ ہندوستان کی طرح وہ بھی غیر مسلم آجر کے لیے کام کرتے ہیں۔

ہندوستان میں آہستہ آہستہ اردو کا چلن کم ہو رہا ہے اور اس کی بجائے دیوناگری رسم الخط میں ہندی لکھی جاتی ہے، مگر مغربی ہندوستان میں اردو اپنی پوری آب و تاب سے موجود ہے۔ جاگیرداریوں اور ریاستوں کے خاتمے کے بعد مسلمان کمزور ضرور پڑے تھے مگر آزادی کے وقت کل آبادی کا پچیس فیصد مسلمان اس وقت ہندوستان کی کل آبادی کا تیس فیصد بن چکے ہیں۔ ایک ارب چونسٹھ کروڑ افراد کے ساتھ ہندوستان اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے جس میں پچاس کروڑ مسلمان بستے ہیں۔

لیکن مسلمانوں کا تجارت، معیشت اور سرکاری ملازمتوں میں حصہ بہت کم ہے اور وہ اچھوتوں کے بعد ملک کا پسماندہ ترین طبقہ ہیں۔ مغربی صوبوں میں ان کی حالت کچھ بہتر ہے۔ ملک میں گاہے بگاہے مذہبی فسادات ہوتے رہتے ہیں لیکن مسلمانوں میں فرقہ وارانہ فسادات بہت کم ہیں۔ ہندو اکثریت کا مقابلہ کرنے کے لیے شیعہ، دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث ایک امت بن کر ان کا سامنا کرتے ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ تقسیم ان کو مزید کمزور کرے گی۔ مسلمان علما کی جماعتیں جمعیت علمائے ہند اور سواد اہلسنت سیکولرازم کے داعی ہیں۔ جماعت اسلامی سیاست سے دور تھی۔ اس نے پچاس کی دہائی میں سیاست میں آنے کی کوشش کی تھی مگر شدید ناکامی سے دوچار ہو کر واپس اپنے ابتدائی مشن کی طرف لوٹ گئی ہے اور اس نے اپنے پرانے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ہندوستان کے تمام نام نہاد کاغذی پیدائشی مسلمانوں کو وہ صالح مسلمان بنا دے گی اور اس طرح خود بخود ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہو جائے گی۔ خدا کا شکر ہے کہ مشرق وسطی میں پھوٹنے والی انتہاپسندی کی لہر سے ہندوستان کے مسلمان محفوظ ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہندوستان کی سرکار نے مشرق وسطی سے چندے وصول کر کے انتہاپسند مدرسے بنانے والے افراد کو پنپنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ مولانا حضرات کا معاشرے میں وہی مقام ہے جو کہ آزادی سے پہلے تھا اور ان کے پاس کوئی خاص سیاسی، معاشی یا حربی طاقت نہیں ہے۔ مسلمانوں میں مذہبی انتہاپسندی نہیں ہے، ہاں ہندو انتہاپسند جماعتیں مسلمانوں کو تنگ کرتی ضرور پائی جاتی ہیں اور سرکار ان کی حرکتوں پر آنکھیں بند کر لیتی ہے۔

اور راقم الحروف، کہ مسلمانوں کے ایک پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھتا ہے، اس وقت ضلع روہتک کے قصبے گڑھی اجالے خان کے پرائمری سکول میں تدریس کے فرائض سرانجام دے رہا ہے اور آدھی چھٹی ختم ہوتے ہی دوبارہ جماعت کو پڑھانے پر لگ جائے گا۔ گو کہ اس وقت کچھ تنگی ہے مگر ایک ہفتے بعد سرکار سے تنخواہ ملے گی تو محلے کے بنیے اور مہاجن کا حساب کچھ چکتا کر دے گا اور گھر میں اگلے ماہ کا سودا ڈلوا لے گا۔ بنیا تو بہت ہی بے دید ہوا جا رہا ہے اور کہتا ہے کہ پرانا حساب چکتا نہ کیا تو مزید سودا نہیں دے گا۔ جوتا گو کہ تین سال پرانا ہو گیا ہے مگر موچی سے مرمت کروانے کے بعد چھے مہینے سال مزید نکال لے گا۔ ویسے بھی نیا جوتا تو انسان کو کاٹتا ہے، پرانے جوتے جیسا آرام اس میں کہاں نصیب ہوتا ہے۔

Aug 25, 2016


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 754 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

3 thoughts on “اگر پاکستان نہ بنتا تو۔۔۔

  • 25-08-2016 at 6:50 pm
    Permalink

    آپ نے بالکل ٹھیک تجزیہ کیا ہے اگرایسا ہوتا توشاید ھم کسی سڑک کے کنارے ایک عدد چھابڑی لگارہے ہوتے پاکستان کی بدولت ہمارے پاس عالیشان گھر کاریں بڑا کاروبارپرآسایش زندگی اور بہت کچھ ہے فمگرپھربھی ہم پاکستان کی جڑیں کاٹتے رہتے ہیں کیا کریں ہمارا پیٹ نہیں بھرتا
    http://www.humsub.com.pk/24217/adnan-khan-kakar-195/#masthead

  • 26-08-2016 at 4:48 pm
    Permalink

    What a brilliant piece of writing. Well Done. Keep Writing.

  • 28-08-2016 at 10:11 am
    Permalink

    اگر پاکستان نہ بنتا تو ان ملاؤں کا کیا بنتا جو اس کے قیام کے کٹر مخالف تھے ۔ پاکستان کو ناپاکستان اور قائداعظم کو کافراعظم کہتے تھے مگر آج انہی کی آل اولادیں پاکستان اور اسلام کی ٹھیکیدار بنی بیٹھی ہیں جو پاکستان بنانے کے ” گناہ ” میں شریک نہیں تھے ۔

Comments are closed.