یار من فرنود عالم کی جناب میں


faizullah khan

اب یہ خطوط غالب ٹائپ کی کوئی خاصے کی چیز تو ہے نہیں کہ لوگ اسکی اگلی قسط کا دلچسپی سے انتظار کریں ۔ اور نا ہی میں فرنود عالم جیسا قلم کار ہوں کہ لفظ ان کے دربار میں ہاتھ باندہے کھڑے ہوں کہ جب جسے جہاں چاہیں انھیں نگینوں کی طرح جوڑ دیں اور تحریر کو باکمال بنا ڈالیں ۔ لگے ہاتھوں ان دوستوں کے لئِے بھی نصیحت کرتا چلوں کہ جو کمنٹس میں یہ لکھنے والے ہیں جناب کیا جواب دیا واہ واہ مزہ آگیا ۔ ایسے کمنٹس سے گریز لازم ہے کیونکہ یہ قطعاً مزے لینے کے لیے نہیں لکھا جارہا ۔ مزے سے ایک واقعہ یاد آرہا ہے جس کا اختتام ٹرک کے نیچے آنے میں تھا خیر ۔

فرنود نے دوستانہ شکوہ کیا کہ بیانیے سیریز کے دوران لکھتے ہونے انکا نام کیوں نہیں لیا ۔ ارے جانی اسلوب و شہرت کا مرکب فرنود عالم ہے اور رہی بھائی کی تحریر تو ان کی پیٹھ پیچھے تک تعریفیں کرتا ہوں میرا خیال ہے یہ سب سے بہتر پیمانہ ہے کسی کی تحریرسے متاثر ہونے کا۔ ویسے بھِی شہرت تو آپ برادران کے گھر کی لونڈی ہے خود بخود چلی آتی ہے کوئی کیا مشہور کرائے گا ۔ یہ بھِی درست ہے ہم دونوں بیشتر نکات پہ یکساں متفق، کچھ پہ جزوی اور بہت کم پہ کلی اختلاف رکھتے ہیں، جس میں سر فہرست ریاست کا باب ہے۔ فرنود سیکولر جب کہ میں دینی ریاست کا علمبردار ہوں۔ یہ اختلاف فطری ہے، جس میں کبھی کبھار جذبات و طنز کا سنگم بھی ہو جاتا ہے اور اس میں بھِی کوئی قباحت نہیں اگر یہ سب مستقل نہ ہو بلکہ مخصوص معاملات تک محدود رہے۔ ایک متنوع معاشرے کا یہی حسن ہوتا ہے ۔

چار سدہ حملے کے تناظر میں فرنود عالم نے باچا خان کے فلسفے کی مدحت میں کالم لکھا ۔ اچھا کیا ۔ جسے انہوں نے درست جانا وہی بلا کم و کاست تحریر کردیا ۔ اسی میں انہوں نے شائستہ انداز میں سید مودودی کی فکر پہ تنقید کی۔ یہ بھِی ٹھیک کیا کیونکہ سید مودودی نہ تو پیغمبر ہیں اور نا ہی اکابرین میں سے۔ سو کم از کم میں تو ان پہ علمی تنقید کو بالکل درست سمجھتا ہوں اور یہی سید کا مسلک بھِی رہا ہے ۔ میرا خیال ہے (جو کہ غلط بھِی ہوسکتا ہے) کہ ہمیں آزاد و مودودی مدنی و باچا خان و غامدی کی شخصیات میں الجھنے کے بجائے نظریات یا نظام پہ بات کرنی چاہیے، شاید یہی مناسب ہو ۔ ہمارا المیہ یہ رہا کہ وطن عزیز میں ہمیں سیکولر ازم اور لبرل نظریات کے نام پہ انتہا پسندوں سے واسطہ پڑا، جو اپنے ردعمل اور بغض کو سیکولر ازم یا لبرل ازم کا نام دیتے ہیں ( وجاھت مسعود صیب جیسے چند اساتذہ کو استثنی ہے جو اسکے فلسفے کو جانتے ہیں)۔ ان احباب نے شاید ہی کبھی باوقار لہجہ اختیار کیا ہوگا۔ ہر آن طنز و زھر میں بجھی تحریریں نظروں سے گزرتی ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے ان میں سے بیشتر کا لبرل ازم گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد شروع ہوا جب ریاست نے اپنا بیانیہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا، تب فرقہ پرست انتہا پسند، سیکولر ازم کی آغوش میں آگئے اور ایک عجیب بدتمیزی کی فضا نے جنم لیا۔

بدقستمی سے جن لبرلز کا ہمیں سامنا رہا ان کا فلسفہ ” مار دو، تباہ کردو، جڑ سے ختم کردو، رقص و سرور کی محفل عام کردو، پردہ دقیانوسیت کی علامت ہے، اور دارو کی بوتل کے حصول تک ہی محدود رہا ۔ ان میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جن کی بروقت شادی نہ ہوسکی، تو انہوں نے پہلے مذہب اور بعد میں مرد کو آڑے ہاتھوں لیا، اور ایسے مرد بھی جنہوں نے سیکولر ازم کو پڑھ کے نہیں بلکہ محض دینی طبقے سے بغض و عناد کی بمیاد پر قبول کیا۔ اب ایسوں کا کیا کیجئے ۔ ہم اپنے والوں کو سنبھالتے ہیں، آپ ادھر کی فکر کیجئے ۔اب خود ہی بتائِے ایسے انتہا پسند لبرل سے کونسا مکالمہ کیسا مکالمہ ؟

آپ نے گلہ کیا کہ جمعہ خان صوفی کا تو نام لیا لیکن جنرل شاہد عزیز کو بھول گئے۔ ارے دوست، دونوں ہی گھر کے بھیدی ہیں۔ دونوں نے جو کہا سچ ہی کہا ہوگا، سانوں کی؟ اصل بات یہ تھی کہ جمعہ خان نے انہی الزامات کی توثیق کی جو کہ قوم پرستوں پہ لگتے رہے ہیں ۔ اہم یہ نہیں کہ خاکی سرکار نے کتاب میں معاونت کی اصل یہ ہے کہ کیا لکھا گیا سچ ہے یا نہیں ؟ رہے جنرل شاہد عزیز تو ان کی اکثر باتوں سے اتفاق ہے اور کم سے اختلاف ۔ لیکن دونوں نے جو لکھا اپنے اپنے نظریات و اداروں کی بابت لکھا ۔

ویسے آپ کی ہوشیاری کی داد دینی پڑے گی کہ باچا خان کے پکارنے کے دوران نہایت نفاست سے مدرسے کو کلین چٹ دیتے ہوئے کم از کم وہاں سے آنے والے توپ کے گولے تو روک ہی دیے میرے بھائی نے۔ ویسے بھی اہل دیوبند کا معاملہ بریلوی حضرات کے اس فلسفے سے ملتا جلتا ہے کہ اللہ کو کچھ کہہ دیا تو خیر ہے ، ہاں بات نبی پہ کی تو سالا اپنا ہاتھ بھی کاٹے گا اور تاثیر کو بھی اگلے جہاں بھیجنے سے گریز نہیں کرے گا (ہاں قادری کی معافی درخواستیں الگ موضوع ہے)۔ سو مدرسے والے حاکمیت کی بات میں نہ زیادہ کشش محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی اس کی کوئی خاص پروا۔ ہاں اگر مدرسے کو آپ نے کچھ کہا ہوتا تو پھر آپ مجھ سے زیادہ بہت سمجھ سکتے ہیں کہ کیا ہوتا ۔ یہاں کچھ سوالات سنجیدگی کے متقاضی ہیں ۔ مثلا کیا سیکولر ازم پہ یقین رکھنے والا مسلمان ہے یا نہیں؟ خود آپ نے حوالہ دیا کہ پیغمبر اسلام پہ آپ کی ایک تحریر پہ ایک صاحب نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکولر ازم پہ یقین رکھنے کے باوجود یہ کیسے لکھ ڈال ؟ ظاہر سی بات ہے اس بندے کا قصور نہیں ۔ خود میں نے جب بھی حسن نثار صاحب کی زبانی انکی مشہور زمانہ نعت سنی تو قلب کی کیفیت ہی تبدیل ہوگئی ۔ یعنی اسکا سیدھا سا مطلب ہے کہ سیکولر ازم پہ یقین رکھنے والا بالکل مسلمان ہے۔ ویسے بھی اللہ رسول ختم نبوت آخرت پہ ایمان رکھنے والا کیسے مسلمان نہیں ہوسکتا ؟ ہاں عمل میں کمی بیشی کس میں نہیں؟

سو تسلی رکھئِے “ہم سب” مسلمان ہی ہیں تا آنکہ تبدیلی مذہب کے عمل سے گزر نہ جائیں۔ پھر مسئلہ کیا ہے اور اختلاف کہاں پیدا ہوتا ہے ؟ جناب والا معاملہ ہے ریاست کے مسلمان ہونے کا۔ یہی وہ تبدیلی کا نقطہ ہے جہاں سے ہمارے آپکے راستے جدا ہوتے ہیں اور اس بابت سیرت سے سبق لیا جاتا ہے کہ کس طرح مکے میں دعوت سے شروع ہونے والا مذہب مدینے میں دین کی صورت میں ریاستی انداز میں نافذ ہوتا ہے اور نیک نیتی کیساتھ اسکی دعوت کی وسعت کے بارے میں منصوبہ بندی ہوتی ہے ۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پہ قیصر و کسریٰ کو پہلے دعوت دیجاتی ہے وفود بھیجے جاتے ہیں اور اسلام کے آفاقی پیغام کو ٹھکرانے کے بعد جنگ کے میدان میں فتح حاصل ہوتی ہے ( اب یہ مت کہئیے گا کہ اسلام تلوار سے ہی پھیلا بلکہ سری لنکا ملائشیا انڈو نشیا سمیت کئی خطے فقط دعوت سے زیر ہوئے)۔ اہل مذہب کو طعنے دینے سے قبل ریاست اپنے گریبان کا جائزہ لیں۔ کلمے کی بنیاد پہ وطن کے حصول کے بعد 73 کے آئین میں وعدہ کیا گیا کہ بتدریج اسلامی نظام کی طرف پیش رفت ہوگی۔ سب جانتے ہیں، مگر ایسا نہیں ہوا لیکن یہ داد تو آپ مفتی محمود ، نورانی و مودودی کو دیں کہ انہوں نے اس کے باوجود پارلیمانی و جمہوری سیاست کو ترجیح دی۔ البتہ کچھ لوگوں نے عسکریت کا راستہ ضرور اختیار کیا لیکن اتنا تو چلتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریاست نے قیام کے بعد اسلامی نظام کے نفاذ کے بجائے ہر ایک کو کھلی چھوٹ دیدی کہ مسلکی جلوس نکالیں، مناظرے کریں، فتوے بازی ہو، پیر بن کر مریدوں کو لوٹیں لاہور بیٹھ کر “مدینے اڑنے” کی فنکاری کریں یا کچھ اور ہو۔ ریاست نے کسی سے کچھ نہیں پوچھا۔ فطری امر ہے اسکا نتیجہ فساد ہی نکلنا تھا ۔ آپ نے کہا جہاد ، تو جناب مسلمان کی زندگی کا مقصد جہاد نہیں بلکہ کسی مقصد کے واسطے جہاد ہے۔ پھر ریاست نے جہاد کا استعمال ویسا ہی کیا جیسا کہ سید مودودی کی تحاریر کے ساتھ یار لوگوں نے کیا، یعنی کانٹ چھانٹ کر سیاق سباق سے ھٹا کر اپنے مقاصد کے لئیے استعمال کرنا۔ جیسا کہ آجکل ریاست کے ہاتھوں سیکولرز استعمال ہورہے ہیں ، سو ریاست نے بھی ایسا ہی کیا اور اس کے نتائج بھی سب ہی بھگت رہے ہیں ۔ نجی جہاد کے تصور کو پہلے ریاست نے ابھارا، اس کے بعد من چاہی تشریح اور غیر ذمہ دارانہ انداز میں نمٹنے سے اس نے بھیانک شکل اختیار کرلی۔

آخر میں دوبارہ وہ سیکولرز یاد آگئے جو کسی زمانے میں کمیونسٹ تھے۔ چی گویرا انکا ہیرو تھا۔ روس و چین کے کیمونسٹ مسالک میں تقسیم ہمارے “سرخے” سویت یونین کے آنجہانی ہونے کے بعد سرمایہ دار امریکہ کی پناہ میں آگئے اور دہشتگروی کے خلاف جنگ کے دوران اس نے جو جو ادارے بنائے، ماضی کے سرخے ان میں نوکریاں حاصل کرتے چلے گئے۔ یہی ان میں سے اکثر کی حقیقت ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “یار من فرنود عالم کی جناب میں

  • 26-01-2016 at 5:12 pm
    Permalink

    بہت عمدہ۔

  • 27-01-2016 at 12:55 am
    Permalink

    آپ کے اس کالم سے جزوی اتفاق اور جزوی اتفاق کے باوجود ایک فقرے کے بارے مسلسل سوچ میں گم ہوں،کنفیوز ہوں کیا کہوں:
    “البتہ کچھ لوگوں نے عسکریت کا راستہ ضرور اختیار کیا لیکن اتنا تو چلتا ہے۔”
    ہزاروں لوگ دہشت گردی کی نذر ہوچکے ہیں،لیکن اتنا تو چلتا ہے
    پشاور میں معصوم بچے بیدردی سے قتل کردیے گئے،لیکن اتنا تو چلتا ہے
    چارسدہ میں تعلیم حاصل کرنے جانے والے موت کی راہ پر بھیج دیے گیے،لیکن اتنا تو چلتا ہے
    مجھے نہیں معلوم اتنا ظلم،اتنی دہشت،اتنا خون کیسے چلتا ہے اور اس کا کیا جواز ہے؟

  • 04-03-2016 at 1:23 pm
    Permalink

    مزید تنقیح کا متقاضی ہے یہ موضو؛مجمل کالم

Comments are closed.