پاکستانی لبرلز کی اپنے ناقدین سے درخواست


 

zeeshan hashimکہتے ہیں سقراط سے جب کوئی بحث مباحثہ کرنے جاتا تھا تو حریت فکر کا یہ دیوتا اسے کہتا تھا آئیے ہم پہلے اصطلاحات کو سمجھ لیں۔ اصطلاحات کو سمجھے بغیر مکالمہ بے مقصد ہے۔ میرے لئے ضروری ہے کہ مجھے معلوم ہو، جو لفظ میں بول رہا ہوں اس سے مراد کیا ہے۔

گزرے دنوں ہمارے بعض دوست دو اصطلاحات میں سارے کام نمٹا دیا کرتے تھے ، میں مسلمان تو کافر ….

پھر دور بدلا اور کہا جانے لگا کہ میں مسلمان تو کمیونسٹ ، یہ اس دور کی بات ہے جب کافر امریکہ سے روزی روٹی کے جملہ مسائل حل کئے جاتے تھے۔

اور اب اصطلاحات کی دنیا میں نئی فتنہ انگیزی : میں مسلمان، تو لبرل …خدا معلوم اس تفریق و تقسیم کا مطلب کیا ہے ؟ مذہب اسلام کو جس طبقہ نے ٹھیکے پر لے رکھا ہے اور تقدس کے محراب پیشانیوں سے ظاہر کرتا پھرتا ہے ، ایک جھٹکے میں امت کے ایک بڑے طبقہ کو اسلام سے باہر نکال پھینکتا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ جو مذہبی پیشوائیت کو ریاستی انتظام میں رہنما نہیں مانتا وہ لبرل و کافر ہے۔ یوں مودودی صاحب اور سید قطب سے پہلے وہ تمام مسلمان جو ان تصورات سے واقف نہ تھے سب کافر تھے ؟ یا اس کا یہ مطلب ہے کہ ملوکیت میں جینا افضل ہے اور ایک آزادی پسند سماج میں جینا کفر ؟ میں عالم اسلام کی ان گنت ایسی شخصیت اور تحریکوں کے نام گنوا سکتا ہوں جو خود کو لبرل سیکولر کہلواتی ہیں تو کیا پاکستانی مذہب فروش ملا کے نزدیک وہ سب کافر ہیں ؟

میں جب کمیونسٹ تھا تو ان علمائے کرام سے ایک سوال ضرور کرتا تھا جو کہتے تھے کہ کمیونزم الحاد ہے۔ میں کہتا تھا کہ کیا مولانا عبیداللہ سندھی ملحد تھے ؟ ایک دم سے مذہبی پیشوائیت کا خون جوش مارنے لگتا تھا اور کہا جاتا کہ ان کے بارے میں غلط پروپیگنڈا کیا گیا ہے ، اور ان کے بارے میں پروفیسر سرور نے بکواس لکھا ہے۔ اور جب جید اہل دیوبند سے حوالے دیئے جاتے تو مجلس سے دفع دور کر دیا جاتا تھا۔ شجاع آباد میں تو ایک سلفی مولانا الٰہی بخش سوشلزم کو صحیح طرح سے پڑھنا تک نہیں جانتے تھے ، پڑھتے تھے کمیون زم (زم پر ایسا زور پڑتا تھا کہ بے چارے سپیکر کی بھی تراہ نکل جاتی تھی ) مگر مولانا جمعہ کے ہر خطبہ میں سوشلسٹوں کو ملحد و کافر قرار دینا نہیں بھولتے تھے۔

دو دن پہلے تاجکستان سے خبر آئی ہے کہ وہاں لوگوں کی داڑھیاں شیو کر دی گئی ہیں اور عورتوں کو بے پردہ کیا گیا ہے۔ جب تک یہ خبر اردو دان طبقہ تک پہنچتی اسے مغربی میڈیا رپورٹ کر چکا تھا۔ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کا سربراہ اپنے ٹویٹر پیغام میں اسے انسانی آزادیوں پر حملہ قرار دے چکا تھا۔ مگر یہاں کی ملائیت اسے لبرلز کے کھاتے میں ڈال رہی ہے۔ یار خدا کا خوف کرو۔ جھوٹ بہتان کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ کس کھاتے سے تاجک حکومت لبرل ہے اور کس بنیاد پر اسے لبرل عمل قرار دے رہے ہو؟ ٓپ کا اپنا یہ عالم ہے کہ داعش اور طالبان کا دن رات دفاع کرتے ہو مگر جب ان کے افعال سامنے لائیں جائیں تو کہتے ہو یہ اسلام نہیں۔ سعودی عرب کے لئے مرنے کو تیار ہو مگر جب وہاں کی ملوکیت اور جبر کو بے نقاب کیا جاتا ہے تو کہتے ہو کہ یہ اسلام نہیں۔ مگر جب اور جس وقت دل کرے جسے چاہو لبرل قرار دے دو ، اور اس کے کسی بھی اچھے برے عمل کو لبرل ازم قرار دے دو ؟

ہمارے پاکستان کے بعض دانشوروں کی ذہنی سطح کا ایک اور بیان سنئے۔ ان کے خیال میں اہل مغرب میں ہر فرد لبرل ہے۔ اگر اہل مغرب کی تاریخ اور عصر حاضر میں وہاں کے فکری و عملی رجحانات کو پڑھا جاتا تو آسانی سے اہل مغرب میں بھی علمی و فکری تقسیم انہیں نظر آتی۔ یورپ و امریکہ میں چرچ یعنی کلیسا کا آج بھی اثر و رسوخ ہے ، ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو مذہبی طور پر کیتھولک اور بہت زیادہ رجعت پسند ہے۔ یورپ میں اور خاص طور پر مشرقی و جنوبی یورپ میں رجعت پسند لبرلز کے مقابلہ میں طاقتور ہیں۔ سوشلسٹ نو آزاد سوویت ریاستوں میں آج بھی ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ درست ہے کہ اقوام مغرب کا علمی و فکری بیانیہ اور سیاسی و معاشی بندوبست لبرل ازم سے بہت زیادہ متاثر ہے ، مگر ایسا بھی ہر گز نہیں کہ وہاں دوسرے مکاتب فکر اثر و رسوخ نہیں رکھتے۔ آج کل یورپ میں نسل پرست تارکین وطن کے خلاف جذبات ابھارنے اور اس کی بنیاد پر ووٹ لینے کی کوشش میں مصروف ہیں ،مگر وہاں کے شامی مہاجرین اور باقی ممالک کے تارکین وطن کا ہر سطح پر دفاع لبرلز کر رہے ہیں۔

کچھ دن پہلے ایک صاحب جنہیں اپنی فلسفہ بینی پر بڑا ناز ہے چارلی ہیبڈو رسالہ کے منتظمین اور رسالہ کے بیانیہ کو لبرل ازم کے کھاتے میں ڈال رہے تھے ، جب ان سے پوچھا گیا کہ جناب اس رسالہ پر حملہ کرنے والے کون تھے تو جواب ملا وہ مسلمان ہر گز نہیں تھے۔ یعنی کڑوا کڑوا تھو تھو میٹھا میٹھا ہپ ہپ۔ چارلی ہیبڈو کے منتظمین نسل پرست متعصب اور روایت پرست تھے ان کا کسی طرح سے بھی لبرل آزم سے کوئی تعلق نہ تھا ، نہ ان کا بیانیہ لبرل تھا اور نہ اس کا انہوں نے کبھی اظہار کیا۔ لبرلز نے ان پر حملوں کے بعد ان کی حمایت اس بنیاد پر کی کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اختلاف رائے کا بدلہ گولی نہیں ، قتل نہیں۔

میری تمام لبرل ازم کے ناقدین سے گزارش ہے کہ آپ کھل کر ہمارے خلاف تنقید لکھیں۔ تنقید و تخلیق کی آزادی بھی دراصل لبرل اقدار ہیں۔ ہم اس تنقید پر نہ تمہیں گولی ماریں گے ، نہ ہمارے پاس خود کش حملہ آور ہیں اور نہ مشتعل ہجوم جو مظلوم و بے کس انسانوں کی بستی پر چڑھ دوڑے۔ مگر آپ سے صرف اتنی درخواست ہے کہ ایک بار لبرل ازم کو سمجھ تو لیں ، اور جب کسی بھی اچھے عمل کی تحسین یا مذمت کرنا چاہیں تو ایک بار غور فرما لیں کہ کیا واقعی یہ لبرلز سے سرانجام ہوا ہے ؟ پاکستانی لبرلز آپ سے صرف اتنی درخواست کرتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan