ہم سب کو ’ہم سب‘ مبارک ہو


mujahid aliوجاہت مسعود دیوانوں کا ایک قافلہ لے کر ایک ایسے سفر پر روانہ ہوا ہے جو ہم سب کے وقار ہی نہیں بلکہ حیات کے لئے بھی ضروری ہے۔ اسی لئے اسے ’ہم سب‘ کا نام دیا گیا اور اسی لئے یہ ہم سب کی ذمہ داری بھی ہے کہ اس تحریک کو قوت بخشنے کے لئے اپنی تمام کوششیں اور صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔
ہم سب کے نام سے پاکستان کے چند دوستوں نے وجاہت مسعود کی سرکردگی میں جس سفر کا عزم کیا ہے، وہ گھپ اندھیرے میں تیز ہواﺅں کے سامنے چراغ جلانے کے حوصلہ کی مانند ہے۔ یہ ہوائیں بار بار اس تھرتھراتی لو کی طرف لپکیں گی جو اندھیروں کو اجالوں میں بدلنے کا قصد کئے ہوئے ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ظلمت کی یہ ہوائیں کہاں سے قوت پاتی اور کس طرح اپنے حجم اور پھیلاﺅ سے خوفزدہ کرنے ، دبانے ، بہکانے ، بھڑکانے ، غلطی پر اکسانے اور گمراہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے بہت سے چراغوں کا خون کیا ہے۔ یہ اندھیروں کی متوالی ہیں۔ لیکن ’ہم سب‘ کے دل و دماغ میں جو سودا سمایا ہے، وہ تیز ہواﺅں کے عین سامنے تھرتھراتی روشنی کو علم بنانے اور تحریک میں بدلنے کا جذبہ و حوصلہ رکھتا ہے۔
یوں تو یہ ساری باتیں کتابی اور نعرے بازی لگیں گی لیکن آواز کو حلق میں دبانے ، حرف کو بے آبرو کرنے اور ظلمت کو ضیا قرار دینے کے جس طویل دور سے اہل پاکستان اور دنیا کے مسلمان گزرے ہیں اور جس کا اب بھی سامنا کر رہے ہیں، اس کے بعد بعض کتابی کرداروں کو حقیقت کا روپ دھار کر وہ مہم سر کرنی ہے جو شرف آدمیت کے لئے بے حد ضروری ہے۔ وگرنہ ہم لوگوں کا ضمیر مطمئن ہو گا اور نہ آنے والی نسلیں ان سب لوگوں کو معاف کریں گی جو کچھ کرنے کی صلاحیت اور ہمت رکھتے تھے لیکن انہوں نے گریز اور درگزر ہی میں عافیت سمجھی۔
’ہم سب‘ عافیت کے کونے کھدروں میں دیواروں سے سر پٹکتی بے چین روحوں کے لئے ایک متبادل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ سوال لے کر کہ اپنی حیثیت، سہولت، کامیابی اور ترقی کے باوجود اگر سکون اور راحت نصیب نہیں تو اس احساس کو دبانے کی نہیں، اس کے اظہار کی ضرورت ہے۔ کیوں اور کیسے؟ اس کا جواب ’ہم سب‘ ہے جو ہر اس آواز کو خود میں سمونے کا اعلان کرتا ہے جو حجت، دلیل، علم، آگہی اور احترام و محبت کو آگے بڑھنے اور سرخرو ہونے کا اصول مانتی ہے۔
راقم الحروف اس تکلیف سے بھی آگاہ ہے جس سے اسٹیٹس کو کے بندھن میں بندھ کر خاموش رہنے کی صورت میں گزرنا پڑتا ہے اور اس راحت کو بھی پہچانتا ہے جو تعصب ، نفرت اور خود انایت کے بت توڑنے سے حاصل ہوتی ہے۔ ناروے کے پاکستانیوں نے یہ تجربہ 35 برس قبل کیا تھا۔ 1981ءمیں کاروان کے نام سے ایک ماہنامہ نکالتے ہوئے ادارئیے میں ان الفاظ میں اس احساس کو اظہار کی صورت دی گئی تھی:
’ میں کون ہوں ‘
میں مستقل سفر ہوں اور سراپا عزم ہوں، میں جہد ہوں اور جہاد ہوں، میں مسلسل چلتے رہنے، کھوجتے رہنے، جستجو کرنے اور کبھی نہ تھکنے کا نام ہوں، میں کارواں ہوں۔
میرا وجود ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ آج میں ان صفحات کی صورت آپ کے ہاتھوں میں ہوں ایک کہانی اور ایک واقعہ کی صورت خود کو آپ کے سامنے لایا ہوں تا کہ آپ کی روح میں اتر جاﺅں اور آپ کو اس سفر کا شریک بناﺅں جو منزل پر پہنچنے کا سفر ہو، گمراہی کا سفر نہ ہو۔
میں نے بہت سنا کہ میں مجرم ہوں اور میں چور ہوں ، میں نے سنا کہ میں کم تر ہوں اور ناقص ہوں، مجھ سے کہا گیا کہ میں پتھر ہوں اور بے حیثیت ہوں اور میں جانتا ہوں کہ میں مجبور ہوں اور مجھ پر ہنسا گیا…. اور اب میں اس ہنسی کی گونج ہوں، اس قہقہے کی تضحیک ہوں اور اس جھوٹ کا اصل ہوں جو مجھ پر مسلط کیا گیا۔
میں اپنے سچ کا اشتہار ہوں، اپنی صلاحیت کا ثبوت ہوں ، اپنی دانش کا پرتو ہوں، میں جھوٹ کے اندھیرے میں لمحہ لمحہ بڑھتی ہوئی سچائی کی لو ہوں۔ روشنی کی یہ لو کئی اطراف میں بڑھتی ہے۔ یہ اس جہالت کے خلاف آگہی کا نور پھیلانے کا عزم کرتی ہے جس نے مجھے پہچاننے سے انکار کیا ہے اور نفرت کے اظہار کو عدم پہچان کا نام دیا ہے۔ میں اپنی شناخت عام کرنے کا اعلان ہوں۔
آگہی کے نور کی یہ لپک ان شعلوں کی طرف بھی بڑھتی ہے جنہیں اب تک پوشیدہ رکھا گیا اور جن سے شناسائی اس معاشرے میں میرے باوقار احیا کے لئے بہت ضروری ہے۔ ان گوشوں پر لسانی مشکلات اور تکنیکی گورکھ دھندوں کے پردے ڈالے گئے اور نوکر شاہی کے سرخ فیتے نے انہیں پیچیدہ و پراسرار بنا دیا، میں سب کے لئے سب کچھ جاننے کے نعرے کا آغاز ہوں۔
میرا حدود اربعہ آپ کے سامنے ہے۔ میری تفصیلی شناخت باقی صفحات کرا دیں گے، مجھے مرتب کرنے والے ، مجھے سنوارنے بنانے اور نکھارنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے وقت اور وسائل کی ضرورت ہے۔ آج میں ایک رنگ میں کسی زیبائش و آرائش کے بغیر آپ کے سامنے ہوں۔ آج میرا سب سے بڑا سنگار میرا وجود ہے۔ میرا طریقہ اظہار اور نقطہ نظر ہے۔ کل میرے سنگار کو چار چاند لگیں گے۔ بہت سے چاہنے والوں نے اس کے لئے اپنے تعاون کا اظہار کیا ہے۔ مزید تعاون کا انتظار ہے۔ جوں جوں یہ تعاون بڑھے گا میرا روپ نکھرے گا۔ میرے اظہار کا طریقہ بہتر ہو گا اور میں اپنی پہچان زیادہ موثر طریقے سے کروا سکوں گا۔‘
تب یہ آواز پاکستان سے بہت دور ایک برفیلے خطے میں آباد پاکستانیوں نے بلند کی تھی۔ آج پاکستان کے چہار اطراف اس اندھیرے نے ڈیرے ڈال دئیے ہیں جن کے سامنے چراغ جلائے بغیر نہ ہم سانس لے سکیں گے، نہ مر سکیں گے۔ اور ہمیں مرنا نہیں ہے، لڑنا ہے۔
ہمیں یہ بتانا ہے کہ اپنی اپنی جگہ تنہائی میں آنسو بہاتے ہم کمزور ، بے بس اور بے آواز ہیں۔ لیکن ہاتھ میں ہاتھ دئیے آگے بڑھنے کا عزم لئے ’ہم سب ‘ وہ قوت ہیں جو ظلمت کے ایوانوں پر قہر خدا بن کر نازل ہوا چاہتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali