مذہبی نما سیکولرز کا تماشا


fazal_hadi_hassan

اس وقت ہم تضادات کا شکا رقوم ہیں۔ایک طرف سے آواز اٹھے گی کہ ’ہم اسلام چاہتے ہیں۔ صرف وہ اسلام جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں۔ جو الیوم اکملت لکم دینکم کے ساتھ مکمل ہوا ہےاور بس اس کے آگے کچھ قبول نہیں‘۔ ابھی اس آواز کی گونج ختم نہیں ہوئی ہوگی کہ دوسری آواز اُٹھے گی کہ ’اسلام بہت آسان ہے اور میں لوگوں کے سامنے آسان اسلام پیش کررہا ہوں جو مولویوں نے مشکل بنا دیا ہے اور اسے لوگوں کی پہنچ سے دور رکھا ہوا ہے۔‘ بات یہیں نہیں رکتی بلکہ کچھ ایسے بھی جذبات کے دریا میں بہہ جاتے ہیں کہ حدیث کو ہی بڑا اور بنیادی سبب قرار دیتے ہیں ہوئے اس ’افتراق و انتشار‘ اور دین اسلام کو آسان تر بنانے کے لیے اسے چھوڑنے پر مصر رہتے ہیں۔

کچھ پیارے تو مذہب کو تہذیب و تمدن کے اصولوں پر پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ثقافت ومعاشرت کو مذہب سے آزاد سمجھتے ہوئے نت نئے اصولوں اور بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کو عروج و طاقت اور کامیابی کا زینہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ وہ غالیت سے متاثر اور ’مین اسٹریم‘ میں شمولیت کے لیے خدا کے اصولوں کے بجائے انسانوں کے بنائے ہوئے اصولوں کو ’دنیا‘ کی اصل ضرورت اور ترقی کا راز سمجھتے ہیں۔ یہ انسانی مزاج بھی کتنا بہکاوے والا ہے کہ اپنی آسائش و سہولت کے لیے من پسند اصولوں و قواعد اور ان کی پاسداری کو باقاعدہ قانونی شکل دیتے ہوئے ’نافرمانی‘ پر سزا کو اصول اور قانون کا نام دیتے وقت تو فخر محسوس کرتےہیں، لیکن اللہ کی طرف سے ’ تلك حدود الله فلا تعتدوها ‘ ”یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو“ کو دقیانوسی اور پرانی بات قرار دیتے ہیں۔

اپنے ملک کے سیکولرز اور لبرلز تو ایک طرف، ہمارے یہ ’مذہبی نما سیکولر‘ بھی بڑے عجیب نکلے۔ ریاست کو ’بغیر مذہب‘ چلانے کےلیے پوری کوشش میں لگے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کبھی مذہبی طبقہ کو قصوروار ٹھہرائیں گے تو کبھی رسول خداؑ سے منسوب باتوں کو من گھڑت قراردینے کےلیے لفاظی اور مصنوعی زبان اختیار کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ مغرب کی کامیابی کے رازوں پر تو لیکچر دیتے نظر آئیں گے لیکن وہاں کے سیکولرازم یا لبرل ازم کی تفصیلات اور پاکستان سے اس کا موازنہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ مغرب اور بالخصوص یورپ کے بیشتر ممالک کے قومی نشانوں سمیت جھنڈوں تک ’صلیب‘ اور دیگر مذہبی نشانات ملیں گے۔ مذہب کو بالواسطہ ’ریاستی مذھب‘ کاد رجہ دیا گیا ہوگا لیکن اس کے باوجود یہ رخ دکھانے پر بات کرنے کو بھی شاید تیار نہ ہوجائیں۔ جو سیکولرزم مجھے پاکستانی ’دیسی ولایتیوں‘ سے ان کی عملی تعبیر سے سمجھ آئی تھی وہ یورپ آکریکسر مختلف پائی۔

کیا میرے ملک میں سیکولرازم یا لبرل ازم کے علمبرداروں اور ان کے رویوں سے جنم لینے والی سیکولرازم کا مغرب کی ’سیکولرازم‘ سے کوئی تعلق ہے؟ کیا پاکستان میں سیکولرازم اسلام اور بالخصوص سنیوں کو نچلا دکھلانے اور بدنام کرنے کا نام بن گیا؟ کہنے کو کیا رہ جاتا ہے کہ جب سیکولرازم کے علمبردار خود جھوٹ، حسد، تنگ نظری اور امتیازی رویہ اور سلوک discrimination کا شکار ہوگئے ہیں۔ اگر یقین نہیں آرہا تو ان کے گھر، آفسز یا گاڑی کے سامنے سے ایک برقعہ پوش خاتون یا باریش آدمی گزارا جائے تو اندازہ ہوجائے گا یا کسی ریڑھی پر سامان بیچنے والے سے ان کا معاملہ دیکھ لیجیے گا ورنہ انسانی حقوق اور سیکولرازم لیے دن رات ’شمع جلانے‘ والوں کے گھر کے ڈرائیورز، خانساماں سے لے کر چوکیدار اور دیگر خدام تک دیکھ لیجیے گا کہ انسانی حقوق کے نام پر discrimination کے خلاف اعلان جنگ کرنے والے خود کتنے ’تنگ نظر‘ Discrimination کے عملی تعبیر اور بہت چھوٹی ذہنیت کے مالک نظر آئیں گے۔

ارے بھائی! ایک دومنٹ کے لیے آپ کی بات بھی مان لیتے ہیں کہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور اسے اپنی جیب میں بھی رکھ لیں گے لیکن آپ کو پھر یہ حق کس نے دیا ہے کہ آپ مجھ پر اپنی سوچ و فکر کو ٹھونسنے کی کوشش کریں۔ کیوں مذہب کو ہی نشانہ بنانے پر اپنی ’ریٹنگ ‘ بڑھانے کی کوشش کرتے ہوئے ایک بڑے طبقے کو نظر انداز کرنے کی مہم چلاتے ہو؟

المیہ یہ ہے کہ یہ حقیقی انتہا پسند طبقہ ہر اس بندے کو مولوی کا ٹائٹل دے سکتا ہے، مفتی و اسکالرز کا قراردے سکتاہے جو کسی بھی حد تک مذہب کو ’اپنا تابع‘ بنانے کا طریقہ بتا اور سکھا سکتا ہو۔ کچھ کم اور کچھ چھوڑ کی رو سے اپنے ہاتھ کا مکا بناکر کہنے لگ جاتے ہیں کہ دین بہت آسان ہے، لیکن مولویوں نے مشکل بنادیا ہے ۔ کرلو جتنا عمل اور دین کی پابندی جو تمہیں پسند ہے اسی کو ہی قبول کرو، لیکن کیونکر اپنے لیے آزادی، آسانی اور کچھ نرمی relaxation کے نام پر اور اس کے حصول کے لیے ضرور کسی مولوی کی سرٹیفیکشن کو لازمی قرار دیتے ہو، چاہے وہ مفتی تقی عثمانی و مفتی منیب ہو یا جاوید غامدی و ڈاکٹر مسعود و خورشید ندیم۔ عجیب منطق ہے کہ ایک گر وہ ان کے غیض وعضب کا مستحق قرار پاتا ہے جو ان کی مرضی اور من پسند تعبیر کے لیے راہ نکالنے سے انکاری جبکہ دوسرا گروہ ان کے لیے حقیقی اسلام کی تعبیر قرار پاتا ہے۔

حالانکہ یہاں بھی یہی فکر، ایک سایہ ایک سہارے کی جستجو میں ضرور ہے چاہے وہ سایہ اور سہارا جس کا بھی ہو۔ میں اگر قابل احترام غامدی صاحب کی مثال دوں تو بے جا نہ ہوگا کہ یہی لوگ ان کی طرف جاتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں تو میرے سادہ مزاج غامدی صاحب اسے لوگوں کی دین اسلام سے محبت سمجھ بیٹھے ہیں، لیکن بخدا یہ لوگ ‘مذہب پسند’ نہیں بلکہ دین بیزار اور ایک ایسے آنگن کے متلاشی ہیں جہاں انہیں حج کعبہ اور گنگا کا آشنان بھی ملے۔ اگر یقین نہیں آرہا دنیا کے مختلف ممالک میں سے دس پندرہ پروگراموں کو نکال کر دیکھ لیجیے گا اور موازنہ کیجیے گا۔

غامدی صاحب کا اخلاص اپنی جگہ لیکن ان کی ’تعبیر کی وسعت‘ نے ان کے سننے والوں کو مزید دوسری سمت لے جانے کاراستہ دکھادیا۔ جس غامدی کو میں نے پڑھا اور کسی حد تک سمجھا ہے، انہیں میں نے ’حدیث کا انکاری‘ نہیں پایا ہےلیکن ان کے سننے والے اور بالخصوص ان کی طرف نسبت رکھنے والوں کا حدیث سے ’انکار واثبات‘ ایک طرف بلکہ حدیث کو متنازع بنانے کے لیے مذاق اڑانے والوں میں سے ضرورپائے ہیں۔ میں غامدی کو ایک بہترین محقق اور دانشور توکہہ سکتا ہوں لیکن داعی نہیں۔ لیکن بدقسمی سے اس وقت حالات اور ردعمل کےہاتھوں مجبور غامدی صاحب ایک داعی بھی بن بیٹھے اورپھر داعی سے بڑھ کر قاضی کے منصب پر بھی فائزہو گئے جس کا نقصان بہت گہرا اور خطرناک ہوگا۔

جس طرح حدیث کے بارے میں ان کے نقطہ نظر نے پڑھنے اور سننے والوں کو ’انکاری یا مزاقی‘ بنادیا، اسی طرح ’بیانیوں‘ کے شوق میں ان کے چاہنے والے شاید دین کے بڑے ’بیوپاری‘ بن جائیں۔ اب ان کے بارے میں وہی تبصرہ ہی کرسکتا ہوں جو غامدی صاحب جماعت اسلامی کے بارے کرتے ہیں ’جماعت اسلامی دعوتی وتربیتی تحریک تھی لیکن سیاسی بن گئی‘۔ یہی وجہ ہے کہ خالص ’دیسی سیکولرز‘ کے علاوہ اب ’مذہبی نما سیکولرز‘ بھی دینی طبقے اور فکروں کو متازع بنانے کے لیے ’بیانیہ‘ کی زبان استعمال کرنے کے شوق اور عادت بنانے کے راستہ پر گامزن ہوئے ہیں۔ ان کے اور ان کے پیشروں کی وجہ سے دینی طبقہ اور علماء کے بارے میں لوگوں کی یہ رائے (بلکہ دانستہ طور پر بنائی گی) بنی کہ یہ اختلافات و افتراق کا شکار روایت پسند دینی طبقہ ’اسلام‘ کو بدنام کرنے کا ذریعہ ہے، لیکن یہ خود بھول جاتےہیں کہ اس وقت ’مذہبی نما سیکولر طبقہ‘ خود تضادات کا شاہکار ہے۔ میرے خیال میں اس قدر تو مولویوں کے ’فتوے‘ تبدیل نہیں ہوتے ہوں گے، جس قدر ان کے ’بیانیے‘ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ اس منتشر ملت اور اُمت میں مزید انتشار اور افتراق کے سوا کیا نکلے گا؟


Comments

FB Login Required - comments