عوام قیمتوں کے ثمرات سے محروم کیوں


 

Aijaz_Hussain

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا سلسلہ جاری ہے، خام تیل کی قیمت 30 ڈالر فی بیرل کی سطح سے بھی نیچے آ چکی ہے جو کہ گزشتہ 12 سال کے دوران خام تیل کی کم ترین قیمت ہے، اور سال 2003ء کی قیمت کے برابر ہے۔ بڑے پیمانے پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی نہیں آسکی ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 2003ء کی سطح پر ہوتیں ۔ 2003ء میں خام تیل کی عالمی قیمتیں 28 ڈالر فی بیرل تھیں، جس کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کا سلسلہ شروع ہوا اور 2007ء کے آغاز تک خام تیل 76 ڈالر فی بیرل تک جاپہنچا، 2008ء کے آغاز میں خام تیل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 140 ڈالر فی بیرل تک جاپہنچیں، جس کے بعد وقتی کمی سے 54 ڈالر فی بیرل تک آنے کے بعد 2013ء کے آغاز میں 96 ڈالر فی بیرل پرآگئیں، جو 2013ء کے وسط تک معمولی اتار چڑھاؤ کے ساتھ برقرار رہیں ۔ 2014 میں جب خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی اورخام تیل کی فی بیرل قیمت 56 ڈالر تک گرگئی تو موجودہ حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں 30 فیصد تک کمی کی ، اس کمی کی وجہ بھی یہ تھی کہ اس وقت حکومت تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی جانب سے اسلام آباد دھرنوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار تھی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی میں عافیت جانی اور پٹرول کی قیمتیں کم کرکے 70 روپے فی لیٹر پر لے آئی۔ اور اس کمی کا فائدہ عوام پاکستان کو منتقل کرنے کے لیے بہت کوششیں کیں۔

ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں کمی بین الاقوامی مارکیٹ پر غلبے کے لیے جاری سرد جنگ کا نتیجہ ہے۔ ایک طرف اوپیک ممالک ہیں یعنی تیل پیدا کرنے والے وہ ممالک جو اس تنظیم کا حصہ ہیں، دوسری جانب وہ ممالک ہیں جو تیل تو پیدا کرتے ہیں مگر اس تنظیم (اوپیک) کے رکن نہیں ہیں۔ نان اوپیک ممالک کو مارکیٹ سے باہر کرنے کے لیے اوپیک ممالک کسی طور بھی تیل کی پیداوار میں کمی کو تیار نہیں، جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی رسد میں اضافہ ہورہا ہے، اور رسد میں اضافے کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا عمل جاری ہے۔ اوپیک اور نان اوپیک ممالک کی کشمکش کے باعث خام تیل کی حالیہ قیمتیں 2003 ء کی قیمتوں کی سطح پرآچکی ہیں۔ مذید یہ کہ حالیہ دنوں میں ایران پر عائد عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران نے خام تیل کی پانچ لاکھ بیرل یومیہ پیداوار کے ساتھ بین الاقوامی مارکیٹ میں دوبارہ داخل ہونے کا اعلان کیا ہے، جس سے رسد میں مذید اضافہ ہوگا۔ اس طرح خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

خام تیل کی موجودہ عالمی قیمت کے لحاظ سے ملک میں پٹرول 44 روپے فی لیٹر زائد قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ پٹرول پر حکومتی منافع خوری عوام پر ماہانہ 28 ارب روپے کے اضافی بوجھ کا سبب بن رہی ہے جس میں 21 ارب روپے کے محصولات بھی شامل ہیں۔ قابل افسوس امر ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی دعوے دار وفاقی حکومت خود ہی عوام اور ریلیف کے درمیان رکاوٹ بن رہی ہے۔پٹرولیم مصنوعات پر عائد غیر معمولی ٹیکسوں کی وجہ سے پاکستانی صارفین عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات سے محروم ہیں۔ اس طرح امراء سے ٹیکس وصول کرنے کے بجائے عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے، عوام ماچس کی ڈبیا سے لے کر پٹرول کے ہر قطرے پر ٹیکس دے رہے ہیں،اس کے باوجود حکومت پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات میں عالمی مارکیٹ کے مطابق کمی نہ کرکے عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا ہوا ہے۔ جبکہ اشیائے صرف تیار اور فروخت کرنے والے تاجر پٹرول کی قیمت کو جواز بنا کر اپنی مصنوعات مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں جس سے عوام کے لیے گزربسر دشوار سے دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ہمارا انٹرنیشنل مارکیٹ سے واسطہ محض اعداد و شمار تک محدود ہے، کیونکہ پاکستان خام تیل کی خریداری عرب ممالک سے کرتا ہے۔ اور عرب تیل کی قیمتیں انٹرنیشنل مارکیٹ سے کم ہوتی ہیں، جو اس وقت 23 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے ہیں۔ پاکستان سعودی عرب سے خام تیل خریدتا ہے، اور سعودی عرب دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے پاکستان کو خام تیل رعایتی نرخوں پر فراہم کرتا ہے، یوں پاکستان کو خام تیل 23 ڈالر فی بیرل سے بھی کم پڑتا ہے، بلکہ ترسیلی اخراجات کے ساتھ بھی بمشکل ہی 23 ڈالر فی بیرل تک پہنچ پاتا ہے۔

یاد رہے ایک بیرل خام تیل 42 گیلن یا 159 لیٹر کے برابر ہوتا ہے، جب کہ حجم 5.6 مربع فٹ اور وزن 140 کلو کے قریب ہوتا ہے۔ خام تیل صرف ایندھن ہی کے طور پر استعمال نہیں ہوتا بلکہ خام تیل کو صفائی کے مراحل سے گزار کر درجنوں مصنوعات تیار اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کو چھ ہزار کے قریب مختلف اشیا کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ خام تیل سے پٹرول، ڈیزل، ایل پی جی، مٹی کا تیل، اسپرٹ، الکوحل، تھنر، موبل آئل، بریک آئل، گریس و دیگر لبریکنٹس، ریفریجریٹر گیس (امونیا وغیرہ)، پٹرولیم جیل، موم، پلاسٹک، کیڑے مار ادویات، کھاد، گلیسرین، اسپرین، سڑکیں بنانے کے لیے تارکول وغیرہ حاصل کیے جاتے ہیں‘ جب کہ گلیو، پینٹ، کاربیٹری، صابن، ہیئرکلر، ناخن پالش، لپ اسٹک، کولڈ کریم، موم بتی، پائپ، سیفٹی شیشے، مصنوعی اعضا وغیرہ جیسی ہزاروں مصنوعات بھی خام تیل سے حاصل کردہ مصنوعات سے تیار کی جاتی ہیں۔ آئل ریفائنریز خام تیل صاف کرنے کا کام انجام دیتی ہیں۔

حکومت پاکستان کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی نہ کرکے ناجائز نفع خوری کی جا رہی ہے ۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمت کے لحاظ سے پاکستان میں پٹرول 44 روپے فی لیٹر زائد قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس طرح حکومتی منافع خوری عوام پر ماہانہ 28 ارب روپے کے بوجھ کا سبب بن رہی ہے جس میں 21 ارب روپے کے محصولات بھی شامل ہیں۔ قابل افسوس امر ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی بجائے خود حکومت ہی عوام اور ریلیف کے درمیان رکاوٹ بن گئی ہے۔ عوامی ردعمل پر حکومت کی جانب سے یکم فروری سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں محض 10 سے 12 روپے لیٹر کمی کا عندیہ دیا جارہا ہے جو کہ نا کافی ہے ۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 2003 ء کی سطح تک کم ہوئی ہیں ، لہٰذا حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرکے کم ترین سطح تک لانا چاہیے تاکہ عوام پاکستان پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ثمرات سے محروم نہ رہیں اور ان کی حق تلفی نہ ہو۔


Comments

FB Login Required - comments