مجاہد اردو بیرسٹر کوکب اقبال کے نام کھلا خط


arif mustafaمحترم …. اسلام علیکم

جیسا کہ توقع تھی کہ حکومت نے 8 ستمبر کو دیا گیا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جواد خواجہ کا نفاز اردو کا تاریخی فیصلہ جوتے کی نوک پہ رکھ لیا اور نہ ہی کسی ادارے کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ اپنی اس آئینی ذمہ داری کو سمجھ کر اپنے اندر اردو کو نافذ کرڈالے حالانکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سبھی اداروں پہ واجب التعمیل ہے کیونکہ اسکے دائرہ اثر میں پورا پاکستان شامل ہے ستم ظریفی تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد بھی کے پی کے میں اسکولوں سے اردو کو جو شرمناک دیس نکالا دیا گیا ہے وہ بھی ابھی تک واپس لینے کے لئے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے مردہ ضمیر میں مطلق کوئی جنبش پیدا نہیں ہوئی۔ واضح طور پہ محسوس ہورہا ہے کہ سراج الحق کی قیادت میں جماعت اسلامی اپنے عظیم بانی اور محسن اردو سید ابوالاعلیٰ مودودی کے افکار سے بھٹک کر ایک کاروان حق کے بجائے گلے کی منتشر بھیڑوں کی صورت اختیار کر چکی ہے اور ہر قیمت پہ ادنیٰ سیاسی مفادات کے حصول کو اپنا نصب العین بنا چکی ہے- تحریک انصاف تو اشرافیہ اور برگر گروپ کے مفادات کے تحفظ پہ کمر باندھے ہوئے ہے اس لئے وہ تو قطعی اردو دشمنی پہ اتری ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی گلے گلے تک تعصب اور کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے جبکہ جمیعت علمائے اسلام عملاً سیاست برائے فروخت کا اشتہار بن چکی ہے اور مسلم لیگ ق تو اب کسی قطار شمار ہی میں نہیں اور خود مسلم لیگ نون تو اس عدم تعمیل کی سب سے بڑی مجرم ہے۔
محترم اس معاملے میں دیگرارکان پارلیمنٹ قومی و سیاسی رہنماو¿ں اور علما کی اس سے زیادہ بے حسی اور کیا ہوگی کہ اس حوالے سے مرکزی و صوبائی حکومتوں کی اس ڈھٹائی پہ ان کی جانب سے نہ تو کوئی احتجاج کیا گیا ہے اور نہ ہی تاحال کوئی بیان دیا گیا ہے – سپریم کورٹ کے فیصلے سے کھلی روگردانی اور اسی حکومتی بے حسی کا نتیجہ ہے کہ بالآخر یہ نوبت آچکی ہے کہ اب بات توہین عدالت کے مقدمے تک جا پہنچی ہے اور آپ نے حسب سابق اپنا تاریخی و مجاہدانہ کردار نبھاتے ہوئے اردو کے نفاذ پہ مجرمانہ غفلت دکھانے پہ حکومت کو ایک بار پھر عدالتی کٹہرے میں کھینچ لیا ہے اور بڑی مسرت کی بات یہ ہے کہ اس بار اس مقدمے میں سول سوسائیٹی سے چند اور نیک نام لوگ بھی آپکے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں لیکن بلاشبہ نفاز اردو کی قانونی جدوجہد کے قافلے کے سرخیل آپ ہی ہیں – میں اس مقدمے کے حوالے سے نہایت پرامید ہوں کہ اس بار بھی کامیابی آپ کے قدم چومے گی لیکن یہاں آپ سے اپنی درج بالا معروضات کی روشنی میں دو
واضح مطالبات کرنا چاہتا ہوں کہ
1- نفاذ اردو کے حوالے سے توہین عدالت کا مقدمہ مرکزی ہی نہیں چاروں صوبائی حکومتوں پہ بھی دائر کیا جائے اور تمام اہم قومی اداروں کو اس میں فریق بنایا جائے کیونکہ سپریم کورٹ کے نفاز اردو والے فیصلے کی تعمیل نہ کرنے کی ذمہ داری ان سب پہ بھی عائد ہوتی ہے
2- تحریک انصاف کے چیئیرمین عمران خان اور اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کو بھی اس مقدمے میں شریک ملزم بناکر عدالتی کٹہرے میں کھڑا کیا جائے کیونکہ انہوں نے کے پی کے میں اپنی مخلوط صوبائی حکومت کی پالیسی کے تحت اسکولوں میں اردو کی جگہ انگریزی تعلیم نافذ کردی ہے اور عدالتی فیصلے کے باوجود اس فیصلے کو واپس لینے کا قدم نہیں اٹھایا ہے اور یوں قومی امنگوں سے غداری کرتے ہوئے قومی زبان اور عدالتی فیصلے کی شدید توہین کا ارتکاب کیا ہے
مجھے کامل یقین ہے کہ گر نفاز اردو کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگیا تو پھر اس ملک میں طبقاتی نظام کو از خود زمین بوس ہونے سے کوئی نہ روک سکے گا اور یوں ایک نیا اور خود مختار پاکستان تشکیل پائے گا کہ جس کو حقیقی طور پہ فکر و عمل کی آزادی میسر آسکے گی اور جو اقوام عالم میں ایک باوقار منصب و مرتبے کا حامل ہوگا- یہ منزل ابھی دور سہی لیکن انشا اللہ آپ کی قیادت میں یہ قافلہءجنوں بالضرور سرخروئی کا شاندار مقام پالے گا۔ محترم آپ یونہی ڈٹے رہیئے ۔ اس محاذ پہ ہم سب اور پوری قوم آپ کے ساتھ ہے
خدا آپکا حامی و ناصر ہو،،
خیر اندیش و دعاگو
سید عارف مصطفیٰ
صدر قومی زبان تحریک سندھ


Comments

FB Login Required - comments