سیکولرازم کیا ہے (چوتھا حصہ )


wajahatاس موضوع پر گزشتہ تحریر میں ہم نے سیکولر ازم کے فکری زاویوں پر بات کی تھی۔ زیر نظر قسط میں سیکولرازم کے عملی طریقہ کار کو زیر بحث لاتے ہیں۔ سیکولر ریاست کا عملی منہاج پانچ نکات پر محیط ہے ۔

علم ۔ مساوات ۔ ادارہ ۔ ضابطہ ۔ مشاورت

٭ علم

قدیم تمدن میں ریاست اپنے مقاصد کے حصول کے لیے طاقت اور جبر جیسے ذرائع بروئے کار لاتی تھی۔ سیکولر ریاست اپنے شہریوں کی ضروریات کی آسودگی ، اُن کے تحفظ اوراُن کا معیارِ زندگی بلند کرنے کے لیے علم کو بہترین ذریعہ سمجھتی ہے۔ علم محض خواندگی یا معلومات کا نام نہیں۔ سیکولر ریاست میں علم سے مراد ایسی صلاحیت ہے جس کی مدد سے معلومات کو قابل تصدیق، قابل پیشگوئی اور نتیجہ خیز مفروضات میں ڈھالا جا سکے۔

٭ مساوات 

بنیادی انسانی مساوات کو عملی طور پر ممکن بنانا سیکولر ریاست کے بنیادی فرائض میں سے ایک ہے۔ دنیا میں کوئی معاشرہ ایسا نہیں جہاں مالی حیثیت ، منصب ، علم اور تخلیقی صلاحیت کے اعتبار سے سب انسانوں کو بالکل ایک ہی سطح پر لانا ممکن ہو۔ تاہم انسانی مساوات کی اعلیٰ قدر کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ تکمیل سیکولر ریاست کا مقصد ہے ۔ اس نصب العین کے حصول کے لیے سیکولر ریاست تین عملی ذرائع بروئے کار لاتی ہے۔

(الف) مواقع کی مساوات

(ب) رتبے اور حقوق کے اعتبار سے مساوات

(ج) پچھڑے ہوئے افراد اور طبقات کے لیے اداراتی سطح پر مثبت اقدام

٭ ادارہ 

سیکولر ریاست فرد واحد کی نیک نیتی اورصلاحیت پر بھروسہ کرنے کی بجائے ادارہ جاتی بندوبست کو ترجیح دیتی ہے۔ اداروں کا استحکام قومی ترقی کے تسلسل کی ضمانت دیتاہے۔ سیکولرریاست میںافراد آتے جاتے رہتے ہیں۔ ادارے قائم بالذات ہیں۔ اداروں کے قواعد و ضوابط میں بہتری لائی جاتی ہے۔ سیکولر ریاست اجتماعی زندگی میں تسلسل اور استحکام کے لیے انفرادی صلاحیت ، ذہانت ، دیانت داری اور پہل کاری پر نہیں بلکہ ادارہ جاتی بندوبست پر انحصار کرتی ہے۔ پالیسیوں نیز موثر اور قابل عمل قواعد و ضوابط پر بھروسہ کرتی ہے۔

ادارہ جاتی بندوبست کی یہ فوقیت سیکولر ریاست میں انفرادیت پسندی کے اصول سے متصادم نہیں بلکہ اُسے مضبوط کرتی ہے۔ کیونکہ تمام افراد کی صلاحیت، عقل و خرد اور شعور کو اگر یکساں رتبہ دے کر اُنہیں ادارہ جاتی نظم و ضبط میں لایا جائے تو اِس امرکا امکان کم ہو جاتا ہے کہ فردِ واحد یا کوئی گروہ اپنی بہتر صلاحیت ، ذہانت یاکسی دوسرے جواز کی آڑ میں معاشرے کے دیگر افراد اور گروہوں پر مطلق العنان اختیارحاصل کر لے۔

٭ ضابطہ 

سیکولر ریاست میں قانون کو اور ضابطے کو کسی کی نیت یا غرض کا تابع نہیں بنایا جا سکتا۔ خواہ وہ غرض نیک ہو یا بد۔ قانون کسی صاحب اقتدار کے اختیار کا آلہ کار نہیں، اختیار کا محاسب اورمحافظ ہے۔ ہر صاحب اختیار کا کام قانون اور ضابطے کے طے کردہ دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہے۔ یہ اصول قانون کی بالادستی کے لیے لازم ہے۔

٭ مشاورت 

سیکولر ریاست جملہ اجتماعی فیصلہ سازی کے لیے کسی فرد واحد کی مفروضہ فطانت یا کسی برخود غلط گروہ کی جنبش ابرو کی محتاج نہیں بلکہ ریاست تمام شہریوں کی انفرادی ذہانت، شعور پر بھروسہ رکھتے ہوئے اجتماعی مشاورت کے ضابطے اور ادارے تشکیل دیتی ہیں۔ یہی اجتماعی مشاورت سیاسی شرکت کا وسیلہ بنتی ہے ۔ سیاسی شرکت اور اجتماعی مشاورت کو بامعنی بنانے کے لیے سیکولر ریاست شہریوں کو معلومات تک آزادانہ رسائی کا حق دیتی ہے چنانچہ سیکولر ریاست مطلق العنان نہیں ہو سکتی۔

سیکولر ریاست اپنے شہریوں کے مفادات کی محافظ ہے اور شہریوں کی دانش اورمشاورت کے ذریعے ہی یہ مقصد حاصل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکولر ریاست شہریوں سے وفاداری کی بجائے شرکت کا تقاضا کرتی ہے۔

(جاری ہے) 


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “سیکولرازم کیا ہے (چوتھا حصہ )

  • 28-01-2016 at 12:22 pm
    Permalink

    Every Liberal must be secular but every secular must not be liberal. Secularism Is itself the Seditious of Rituals and Norm but Is that Possible we live With Peace and Prosperity in Secular Estate? Because It Can observe in Secular India. Which Still have Many of Problems

Comments are closed.