شکریہ راحیل شریف اور افواہ ساز فیکٹریاں


razi uddin raziہم سب کا عجب مزاج ہے اور یہاں عجب رواج ہے ۔ ہم جو چاہتے ہیں وہ ہوتا نہیں اور جو نہیں چاہتے وہ ہوجاتا ہے۔ اسی ہونے نہ ہونے کی کشمکش میں زندگی گزر رہی ہے۔ وطن عزیز کی تاریخ پر نظرڈالیں تو کچھ ایسی ہی صورت حال ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ وہ جو منیر نیازی نے کہا تھا ’کہ حرکت تیزتر ہے اور سفر آہستہ آہستہ ‘سو اس کی عملی تصویر ہمیں روز دیکھنے کو ملتی ہے (بقول صوفی عبدالقدوس حرکت المجاہدین کی حرکت تیزتر ہے اور ہمارا سفر آہستہ آہستہ)۔ صورت حال کچھ یوں ہے کہ ہم امن قائم کرنے کی کوشش میں بدامنی پیدا کرتے ہیں۔ ملک کو مستحکم کی کوشش میں اسے غیرمستحکم کردیتے ہیں۔ ماضی میں پاکستان کو متحد رکھنے کی کوشش میں ہی توڑا گیا اور آئین کی سربلندی کے لیے آئین کو بار بار پامال کیا گیا۔ اب یہی دیکھیں کہ ہم افواہیں ختم کرنے کی کوشش کریں تواس کے نتیجے میں نئی افواہیں جنم لینے لگتی ہیں۔ ذہن میں بس ایک ہی سوال ابھرتا ہے کہ’ کہیں ایسا نہ ہوجائے ،کہیں ویسا نہ ہوجائے‘۔ اعتماد کا وہ فقدان ہے کہ ہم درست چیزوں کوبھی غلط زاویے سے سوچتے ہیں۔ کوئی نیک نیتی سے بھی بات کرے تو سانپ کے ڈسے ہوئے اسے رسی سمجھ کر بدنیتی جانتے ہیں۔

یہ صورت حال اس لیے ہے کہ ماضی میں جوکچھ بھی کہا گیا ، ہوا اس کے برعکس۔ جب ہمیں یہ بتایا گیا کہ انتخابات شفاف ہیں تو نتیجہ دھاندلی کی صورت میں نکلا۔ جب کسی نے یہ کہا کہ دشمن کو میری لاش پر سے گزرکرہی آگے بڑھنا ہوگا تو معلوم ہوا کہ دشمن کو لاش تک پہنچنے کی ضرورت ہی محسوسً نہ ہوئی۔ جب یہ بتایا گیا کہ ہم عوام کی جان و مال کی حفاظت کر رہے ہیں تو عوام نے جان لیا کہ اب وہ غیرمحفوظ ہیں۔ ایک وزیراعظم نے ایک روز قوم سے خطاب کے دوران اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ڈکٹیشن بھی نہیں لیں گے اور استعفی بھی نہیں دیں گے۔ عوام اسی روز جان گئے کہ موصوف ڈکٹیشن لینے اور استعفی دینے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ اگلے روز نتیجہ بھی یہی نکلا۔ ہرسال مختلف مواقع پرایک ہی جیسے بیانات ، وعدے اوردعوے سننے اورپڑھنے کوملتے ہیں۔ حکمران رمضان المبارک سے پہلے ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آئے کہ رمضان کے دوران کسی کو ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عوام نے دیکھاکہ منافع خوروں نے ہرسال کسی سے اجازت لیے بغیر ان پر زندگی تنگ کیے رکھی۔ محرم الحرام سے پہلے نام نہاد امن کمیٹیاں قیام امن کی کوششیں کرتی ہیں اور نتیجہ اس کے برعکس نکلتا ہے۔ ہم جب یہ بتاتے ہیں کہ دہشت گردوں کی کمر توڑدی گئی ہے تو دہشت گرد جواب میں ہم پر کاری ضرب لگا کر ہمارے دعووں کو جھٹلا دیتے ہیں۔ خیالات کی یہ یلغار کل سے ہمیں پریشان کیے ہوئے ہے۔ ملک اس وقت شکریہ راحیل شریف کے ماحول میں ہے لیکن اس ساری صورت حال میں افواہیں دم نہیں توڑ رہیں۔ یہ صورت حال شاید اس لیے بھی ہے کہ ہم ماضی میں ایسے بہت سے وعدوں کو ٹوٹتا دیکھ چکے ہیں۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ کے وعدے پر ہمیں بہرطوریقین کرنا ہوگا کہ افواہ سازفیکٹریوں نے ماضی میں بھی ہمیں بہت نقصان پہنچایا اور ہم اب مزید کسی نقصان کے متحمل نہیں ہوسکتے۔


Comments

FB Login Required - comments