ایک مقبول صحافی کی جعلی سیلفی


muhammad Shahzadدیکھئے میں ایک انتہائی سنجیدہ اور ذمہ دار صحافی ہوں۔ نمود و نمائش سے جان جاتی ہے میری۔ چونکہ میں ایک کامیاب انسان بھی ہوں۔ اب تو سیلی بریٹی بھی بن چکا ہوں۔ فیس بک پر میرے مداح دو لاکھ سے زیادہ ہیں۔ اس لئے لوگ مجھ سے حسد کرتے ہیں۔ لوگ ہر اس انسان سے خواہ مخواہ حسد کرتے ہیں کامیابی جس کے پیروں میں ڈیرہ بسائے رہتی ہے۔ مجھے شہرت کا ہر گز شوق نہیں۔ میں ایک انتہائی عاجز انسان ہوں۔ اپنے تعارف میں کبھی بھی ’سینئرصحافی‘ کا اضافہ نہیں کیا۔ میں گمنام ہی رہنا چاہتا ہوں مگر کیا کروں زمانہ مجھے گوشہِ گمنامی میں سکون سے رہنے دیتا ہی نہیں۔

میں ایسا چھچھورا نہیں کہ سعودی عرب کے شاہی محل میں ایسے انداز سے سیلفیاں بناﺅں جسکے بیک گراﺅنڈ میں میاں صاحب، چیف صاحب اور شہنشاہِ معظم کا پرنور چہرہِ مبارک نظر آئے۔ آپ جانتے ہیں کہ موبائل فون کا لینز وائڈ اینگل نہیں ہوتا۔ لہذا اگر کوئی بیک گراﺅنڈ کو کیپچر کرنے کی کوشش اس انداز میں کریگا کہ اس کا اپنا چہرہ کلوز نظر آئے تو تصویر کا وہی حشر ہوتا ہے جو کہ فش آئی لینز استعمال کرنے کے بعد ہوتا ہے۔ یعنی وہ چہرہ جو کلوز اپ میں آجائے بالکل …. کی طرح یا بہت ہوا تو گھوڑے کی طرح لگتا ہے۔ پر یہ جاہل حاسدین فوٹو گرافی کے ان تیکنیکی مسائل کو کیسے سمجھ سکتے ہیں۔

ذرا سوچئے دماغ لڑائیے۔ اتنا اہم دورہ تھا اور کیا ہم دو ٹکے کا پروفیشنل فوٹو گرافر نہیں لے جا سکتے تھے کیا؟ کیا ضرورت موبائل فون کا کیمرہ استعمال کرنے کی؟ دراصل یہ ایک گہری چال تھی۔ جی ہاں، دشمن کی گہری چال۔مجھے بدنام کرنے کی۔ مجھے چھچھورا ثابت کرنے کی کہ میں سیلفیاں اس انداز سے بنا رہا تھا کہ میرا چہرہ بہت ہی ہونق انداز میں فرنٹ پر نمایا ں نظر آئے اور بیک گراﺅنڈ میں امتِ مسلمہ کی عظیم ہستییاںٹائنی ڈاٹس کی طرح نظر آئیں۔ میں ایسی گستاخی کیسے کر سکتا ہوں؟ اور مزید یہ کہ یہ میرے فیس بک پیج پر اپ لوڈ ہوں تا کہ میں یہ پھڑیں مار سکوں کی جی دیکھو میں کتنا بڑا پاٹے خان صحافی ہوں۔ شہنشاہ کے دربار تک میری رسائی ہے۔ آرمی چیف اور وزیرِ اعظم میرے ذاتی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اور شہنشاہِ معظم تو مجھے اپنی اولاد ہی کی طرح عزیز رکھتے ہیں تب ہی تو میرے ایسے بچپنے اور چھچھور پن پر بجائے ناراض ہونے کے مسکرا رہے ہیںایسے جیسے کہ ایک قبر میں پیر لٹکائے ایک بڈھا بادشاہ چند منٹ پہلے جوان ہوئی لڑکی سے شادی کرے وارث کے لئے اور وہ الہڑ حسینہ اسے ایک عدد بیٹا دے بھی دے اور یہ بیٹا نا ہنجاروں کی طرح بادشاہ کی داڑھی نوچے مگر بادشاہ بجائے سیخ پاہونے کے تالیاں بجائے۔

javedتو دوستوں میں اتنا کمینہ اور گیا گزرا نہیں کہ ایسی اوچھی حرکتیں کروں اپنے آپ کو لائم لائٹ میں لانے کے لئے۔ آپ کوپتہ ہونا چاہیے کہ میں آل ریڈی شہرت کی بلندیوں پر پہنچ چکا ہوں۔میرا نشیمن قصرِ سلطانی کا گنبد نہیں۔ مگر جن کا ہے وہ میری ٹانگیں گھسیٹ گھسیٹ کر مجھے گراﺅنڈ کر نے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔ میں کبھی بھی منہ نہ کھولتا مگر ہر انسان کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ مجھے اب کہنے دیں کہ یہ تمام سیلفیاں جعلی ہیں۔اتنی ہی جعلی جتنی میرا اور کیپٹن نوید کی فلم۔ میرا اکاﺅنٹ ہیک بھی کیا گیا۔

بچا بچا جانتا ہے کہ فوٹو شاپ سے گدھے کو گھوڑا اور گیدڑ کو شیر بنایا جا سکتا ہے۔ بس یہی باتھ میرے ساتھ ہوا۔ اصل میں جو صحافی اس دورے میں شامل ہونا چاہتے تھے اور بالکل اس قسم کا چھچھورا پن کرنا چاہتے تھے جو کہ مجھ سے منسوب کیا گیا انہیں منسٹری آف انفارمیشن نے گھاس نہیں ڈالی۔ یہ ’عزت‘ صرف مجھے ہی ملنی تھی۔ اسلئے انہوں نے مجھے نیچا دکھانے کیلئے ایسی جعلی سیلفیاں بنا ڈالی۔ چونکہ امتِ مسلمہ نازک مرحلہ سے گذر رہی تھی۔ میں تو بس خانہ کعبہ میں کنڈلی ڈال کر بیٹھ گیا اور یہ دعا کرتا رہا کہ اے مالک امتِ مسلمہ پر رحم کر۔ میں تو محل میں گیا ہی نہیں۔ میری دعائیں رنگ لائیں۔ دیکھیں فوراً تلور کے شکار سے پابندی ہٹ گئی ۔ امتِ مسلمہ کے دو بھائی دست وگریباں ہونے سے بچ گئے۔ جنرل راحیل شریف کی قائدانہ صلاحیت، میاں صاحب کی منکسر المزاجی اور اس ناچیز کی دعاﺅں سے سعودی شہزادے اب دوبارہ ہماری پاک سر زمین پر تلور تلور کھیلیں گے۔ دورہ کامیاب رہا۔ اصل مقصد امتِ مسلمہ میں اتحاد برقرار رکھنا تھا۔ اس عظیم کامیابی کی قیمت اگر یہ ہے کہ میرا فیس بک اکاﺅنٹ ہیک کرکے اسے چھچوری سیلفیوں سے بھر دیا جائے اور پھر مجھے کم ظرف ثابت کرنے کے لئے کالم پہ کالم لکھے جائیں تو حاسدین کان کھول کر سن لیں ’جیدا پہلوان ‘ ایسی قربانیاں دیتا رہے گا۔

(محمد شہزاد سے Yamankalyan@gmail.comپر رابطہ کیا جا سکتا ہے )


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “ایک مقبول صحافی کی جعلی سیلفی

  • 27-01-2016 at 8:25 am
    Permalink

    شھزاد صاحب یہ اچھا کیا ہے آپ نے کہ ہم سب کی طرف سے اس سیلفی یعنی خودنمائی پہ لکھ ہی دیا۔ کیا کہا جائے آپ سے کہ۔۔۔۔شکریہ شھزاد شریف۔ کہ اب راحیل شریف تو جا رہے ہیں اور قوم کو شکرئے کی لت پڑ گئی ہے!

  • 29-01-2016 at 4:59 pm
    Permalink

    کیچر اچھالنے کا نیا طریقہ ۔۔۔ مگر بات میں دم نہں تھا ۔ کہ صرف اس بات کے لئے کسی کو زلیل کیا جائے ۔ افسوس ہے

Comments are closed.