اعتزاز حسین: بہادری کی پہچان


_72179562_aitzazعامر راہداری

اتوار کا سارا دن میں دوستوں میں کھیلتا رہا اور سکول کا ہوم ورک بھی نہ کیا۔ سارا دن کھیلنے کی وجہ سے میں بہت تھک گیا۔ لیکن تھکن کے باوجود اس رات مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔ پتا نہیں کیوں مجھے بار بار کچھ یاد آ رہا تھا. بار بار میر ے ذہن میں کچھ صورتیں ابھر رہی تھیں کچھ شکلیں سی بن رہی تھیں لیکن میں ان شکلوں کو پہچان نہیں پا رہا تھا۔
اس رات میں پریشان بھی تھا اور خوش بھی، میری ایسی حالت پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی، مجھے بار بار میرے دوست یاد آرہے تھے، پھر میرے ذہن میں ایک پرانا قصہ تازہ ہوگیا جب ہم دوست نالے پہ کھیلنے جاتے اور پانی میں خوب ہلچل مچاتے تھے، پانی کے اندر ایک دوسرے سے لڑائی کرتے، میں تھوڑا طاقتور ہونے کی وجہ سے ہمیشہ جیت جاتا تھا، میں ہر مقابلے میں جیت جاتا تھا اور میرے دوست مجھ پر رشک کرتے تھے.میں سوچتا تھا کہ زندگی میں کوئی ایسی لڑائی لڑوں جو جیت کر میں ساری دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کروں.
میری عمر چودہ سال ہے اور نویں کلاس کا طالب علم ہوں میری دو بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ بہن بھائیوں میں میرا دوسرا نمبر ہے. میرے ابو یو اے ای میں نوکری کرتے ہیں اور عید، بقر عید پہ ملنے آتے ہیں۔ ہمیں ابو کی بہت یاد ستاتی ہے لیکن پاکستان ایک غریب ملک ہے اس لیے یہاں اتنی نوکریاں نہیں ہوتیں. سو مجبوری تھی کہ وہ ہم سے دور رہتے تھے. لیکن وہ جب بھی آتے تھے ہم بہن بھائیوں کے لیے بہت کچھ لاتے تھے۔
رات بہت گزر گئی تھی اور مجھے صبح سکول بھی جاناتھا. صبح سوموار کا دن تھا. حالانکہ میں نے ہوم ورک بھی نہیں کیا تھا لیکن پھر بھی میرا دل کر رہا تھا کہ اڑ کر سکول پہنچ جاو¿ں. مجھے ابو بہت یاد آرہے تھے، امی اور بہن بھائیوں کی شکلیں ذہن میں ابھرنے لگیں دوست بھی یاد آنے لگے اپنے خاندان اور دوستوں کو یاد کرتے کرتے کب میری آنکھ لگ گئی مجھے پتا بھی نہ چلا اور میں خوابوں کی دنیا میں پہنچ گیا۔
6ef43f19کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک بڑی سی کرسی پربیٹھا ہوں اور میرے ساتھ میرے بھائی بہن اور ماں باپ بیٹھے ہیں۔ میرے جسم پر سفید لباس ہے اور اس پر خون لگا ہوا ہے. عجیب بات یہ تھی کہ میرے ماں، باپ، اور بہن بھائی خوش بھی تھے اور رو بھی رہے تھے میں حیران تھا کہ ایسا کیوں ہے۔
پھر مجھے یاد آیا کہ انسان کے خوشی کے آنسو بھی ہوتے ہیں.لیکن میں حیران تھا کہ ان سب کو ایسی کیا خوشی ملی ہے کہ روئے جارہے ہیں.میں بھی خوش تھالیکن میری آنکھ میں کوئی آنسو نہیں تھا مجھے لگ رہا تھا میں نے کوئی بہت بڑا ایوارڈ جیتا ہے مجھے عجیب سی خوشی ہو رہی تھی۔میں حیران بھی تھا کہ ہمارے سامنے میرے سکول کے تمام بچے ہاتھ باندھے کھڑے تھے اور رشک سے مجھے دیکھ رہے تھے.
اچانک دو افراد جوکہ سفید لباس میں تھے. بڑی تمکنت سے چلتے ہوئے ہماری جانب آئے اور مجھے کرسی سے اٹھنے کا اشارہ کیا،
میں کسی طاقت کے زیراثر وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا تو میرے ماں باپ نے مجھے پیچھے سے پکڑ لیا لیکن میں نے خود کو چھڑا لیا اور ان افراد کی طرف بڑھنے لگا۔ میرے دوست اور تمام لوگ مجھے چیخ چیخ کر کہنے لگے ”وہاں مت جاو¿“.لیکن میں چلتا گیا.
مجھے بہنوں، بھائی اور ماں باپ کی چیخنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں لیکن میں نہیں رکا.مجھ پر کوئی جنون سوار تھا. پیچھے سے لوگ مجھے آوزیں دے رہے تھے،
”مت جاﺅ، رک، جاﺅ“
article-2536545-1A87153000000578-575_634x416لیکن میں نہ رکا. مجھے لگ رہا تھا کہ اگر میں واپس مڑ گیا تو یہ افراد، میرے والدین اور دوستوں کو لے جائیں گے، میں چلتا گیا اور ان افراد کے قریب آ گیا۔
ان میں سے ایک شخص نے مجھے کہا،
” آو¿ بیٹا تمہیں جنت میں لے جاتے ہیں“
میں حیران رہ گیا.ان میں سے ایک شخص نے مجھے اپنی چھاتی سے لگانے کے لئے اپنے بازو کھولے میں سوچے سمجھے بغیر، بے اختیار اس کے سینے سے جا لگا۔
اچانک مجھے امی کی آوازآئی،
“بیٹا اٹھ جاو¿”
یکدم میں خواب سے بیدار ہو گیا میں ڈر گیا تھا پتا نہیں کس چیز کی آواز تھی۔
امی نے مجھے جھنجھوڑا اور کہا،
“رات کو تم کیا کر تے رہے ہو اتنی دیر سے کیوں سوئے تھے. اٹھو سکول سے دیر ہو رہی ہے.”
تو میں نے جوب دیا
“امی مجھے نیند نہیں آ رہی تھی اس لیے دیر سے سویا تھا”
میرے ذہن میں رات کا خواب گھوم گیا، اور میرے چہرے پر عجیب سی ہنسی آگئی. امی نے مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھا. مجھے امی کی نظروں میں ڈر خوف اور خوشی کی ملی جلی کیفیات نظر آئیں. میں حیران تھا کہ رات کے خواب میں بھی امی بالکل ایسی ہی نظر آرہی تھیں.میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ امی نے میرے سامنے ناشتہ رکھا اور کہا
“جلدی کھا لو سکول سے دیر ہو رہی ہے.”
مجھے بھوک نہیں تھی اس لیے میں نے تھوڑابہت ناشتہ کیا اور سکول کی وردی پہننے لگا. میرا سکول میرے گھر سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھا اس لیے میں پیدل ہی سکول جاتا تھا.
تھوڑی دیر بعد میں تیاری کرکے سکول کے راستے پر تھا
میں سکول پہنچا تو سکول کا گیٹ بند تھا اور میرے دو دوست بھی گیٹ کے باہر کھڑے تھے.سکول کے اندر صبح کی اسمبلی ہو رہی تھی.میں بھی ان دوستوں کے پاس جا کے کھڑا ہو گیا. اور باتیں کرنے لگا. تھوڑی دیر بعد ہم نے ایک لڑکے کو سکول کی جانب آتے ہوئے دیکھا. وہ تیرہ چودہ سال کا گورا چٹا لڑکا تھا اور اس نے اپنا چہرا شال میں چھپا رکھا تھا. سردیوں کی وجہ سے اس نے سویٹر کے اوپر چادر بھی ڈالی ہوئی تھی. وہ ہم سے تھوڑی دور کھڑا ہوگیا، اور پوچھا.
“بھائی گیٹ کب کھلے گا”
میں نے کہا
“اسمبلی کے بعد کھل جائے گا. لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں..؟”
اس نے جواب دیا
“میں سکول میں داخلہ لینا چاہتا ہوں”
میں نے پوچھا
“کون سی جماعت میں..؟”
اس نے کوئی جواب نہ دیامیں نے سوال دوبارہ دہرایا.وہ پھر بھی چپ رہا۔مجھے اور میرے دوستوں کو اس پر شک ہوا.
میں نے کہا،
“بھاگ جاو¿ ورنہ مار کھاو¿ گے”
وہ اپنی جگہ سے نہ ہلا.
اس کی آنکھیں بہت خطرناک تھیں.
میں نے ایک پتھر اٹھایا اور اسے مارا لیکن وہ پتھر کھانے کے باوجود کھڑا رہا.
میرے دونوں دوست ڈر کر بھاگ گئے. اور انہوں نے مجھے بھی بھاگ جانے کو کہا. لیکن میں نہیں بھاگا اور اس لڑکے کو پکڑنے کے لیے چل پڑا. میرے دوستوں نے مجھے آواز دی،
“مت جاو¿، رک جاو¿،.”
اچانک مجھے رات کا خواب یاد آگیا. مجھے اسمبلی میں موجود ایک ہزار لڑکے یاد آنے لگے، امی ابو کی آوازیں آنے لگیں. مجھے بہنوں اور اپنے بھائی کی آواز سنائی دی.
“بھائی، مت جاو¿ رک جاو¿”
عجیب سی آوازیں تھیں جو مجھے سنائی دے رہی تھیں.
کوئی کہ رہا تھا،
“مت جاو¿”
پھر آواز آئی،
“بیٹا ناشتہ کر لو”
پھر سنائی دیا،
” زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری”
پھر آواز آئی
” رک جاو¿، مت جاو¿،”
لیکن مجھ پر جنوں سوار تھا، اور میں اس لڑکے کے قریب پہنچ گیا. اور اسے پکڑ لیا…
اس لڑکے کے جسم پر بارود سے بھری ہوئی جیکٹ تھی. جس سے وہ ہمارے سکول میں دھماکہ کر کےایک ہزار بچوں کی جان لینا چاہتا تھا. اس کے ایک ہاتھ میں ایک ریموٹ بم بھی تھا. اس وقت مجھے لگ رہا تھا کہ میری دیرینہ خواہش پوری ہو رہی ہے، میرا مقابلہ دنیا کے سب سے طاقتور انسان سے تھا اور مجھے اس کو ہرانا تھا، میرے چہرے پہ پھیلتی مسکراہٹ اس کی ہار بنتی جارہی تھی. اور پھر اس نے ریموٹ کا بٹن دبا دیا. زوردار دھماکہ ہوا اور ہمارے جسموں کے چیتھڑے ہوا میں اڑنے لگے .
میں جیت گیا، اور میں نے ایک ایسے دشمن کو شکست دی جو اس وقت ایک ہزار جانوں کو شکست دینے آیا تھا. لیکن مجھ اکیلے ہی نے اس کی جھوٹی بہادری کے پرخچے اڑا دیے۔
پھر مجھے ہوش نہیں رہا اور جب ہوش آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک بڑی سی کرسی پربیٹھا ہوں اور میرے ساتھ میرے بھائی بہن اور ماں باپ بیٹھے ہیں۔ میرے جسم پر سفید لباس ہے اور اس پر خون لگا ہوا ہے. عجیب بات یہ تھی کہ میرے ماں باپ ،بھائی بہن خوش بھی تھے اور رو بھی رہے تھے۔
پھر مجھے یاد آیا کہ انسان کے خوشی کے آنسو بھی ہوتے ہیں. لیکن میں بھی خوش تھااور میری آنکھ میں کوئی آنسو نہیں تھا مجھے لگ رہا تھا میں نے کوئی بہت بڑا ایوارڈ جیتا ہے مجھے عجیب سی خوشی ہو رہی تھی۔ میں حیران بھی تھا کہ ہمارے سامنے میرے سکول کے تمام بچے ہاتھ باندھے کھڑے تھے اور رشک سے مجھے دیکھ رہے تھے. اچانک میں نے دو افراد دیکھے وہی دو افرادسفید کپڑے پہنے ہوئے جو رات کو میرے خواب میں آئے تھے. انہوں نے مجھے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا میں کسی طاقت کے زیراثر وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا تو میرے ماں باپ نے مجھے نہ روکا اور میں آرام سے ان افراد کی طرف بڑھتا گیا حیران کن بات یہ تھی کہ نہ تو کوئی مجھے روک رہا تھا اور نہ مجھے کوئی پکار رہا تھا لیکن میں اپنے سامنے بیٹھے ہوئے ایک ہزار طالب علموں، اپنے والدین، اپنے بھائی بہنوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو دیکھ رہا تھا. میں چلتا گیا اور ان افراد کے قریب آ گیا۔
ان میں سے ایک شخص نے مجھے کہا،
” آو¿ بیٹا تمہیں جنت میں لے جاتے ہیں.”
اور اس کے یہ الفاظ سن کر میں ذرا بھی حیران نہ ہوا. ان میں سے ایک شخص نے مجھے اپنی چھاتی سے لگانے کے لئے اپنے بازو کھولے میں بےاختیار ان کے سینے جا لگا۔
آج پہلی بار کسی جیت کا مجھے انعام ملا ہے اور ایسا انعام جو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
اعتزاز کے باپ کے الفاظ تھے ، ’میرے بیٹے نے اپنی ماں کو آنسو دے دیے مگر سینکڑوں ماﺅں کے بیٹے بچا لئے۔‘

…. یہ تھی کہانی ہنگو کے چودہ سالہ اعتزاز حسین کی جو اپنی جان کی قربانی دے کر صرف ایک دہشت گرد نہیں بلکہ پوری دہشت گردی کا خاتمہ کر گیا۔


Comments

FB Login Required - comments