لبرل ازم کیا ہے ؟


zeeshan hashimلبرل ازم سیاسی ، سماجی ، اور معاشی تصورات کا ایسا مجموعہ ہے جس کی بنیاد شخصی آزادی ، انصاف ،اور مساوات پر قائم ہے – اس کا دائرہ کار محض سیاست سماج اور معیشت تک ہی محدود ہے –
لبرل ازم میں درج ذیل تصورات کو مرکزی اہمیت حاصل ہے –
-جمہوریت …. اس کے بغیر لبرل ازم قائم ہی نہیں ہوتا اور تاریخ گواہ ہے کہ شہریت کی مساوات کی بنیاد پر جمہوریت کا جنم لبرل نظریات اور تحریک کا نتیجہ ہے -تمام افراد کو بلا تفریق یہ حق حاصل ہے کہ وہ ریاست کے سیاسی انتظام کے لئے اہل قیادت منتخب کر سکیں –
-شہری حقوق … ریاست میں تمام شہری نسل زبان مذہب اور ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہو کر برابر ہیں – حکومت کا فرض ہے کہ وہ شہری انتظام میں سب سے مساوی برتاو¿ کرے –
-آزادی اظہار رائے …. میڈیا آزاد ہونا چاہئے کہ وہ شہریوں کی شخصی آزادی کا احترام کرتے ہوئے سیاست معیشت و سماج میں جو دیکھے اسے آئینہ بنا کر دکھا دے۔ اسی طرح شہریوں کو حق حاصل ہے کہ وہ جس رائے کو بہتر سمجھیں اس کی نشرو اشاعت کر سکیں – صرف نفرت پر مبنی تحریر و تقریر ( speech Hate ) ممنوع ہے-
-حق اجتماع …. تمام شہریوں کو حق حاصل ہے کہ سیاست معیشت سماج یا مذہب سے متعلق کوئی تقریب ،جلسہ ، مجلس ، یا کوئی بھی کمیونٹی پروگرام کروا سکتے ہیں ،اس میں شرکت کر سکتے ہیں اور اپنے دوستوں و عام پبلک کو مدعو کر سکتے ہیں۔
-مذہبی آزادی…. مذہب ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے ، ہر فرد کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جس مذہب یا نظریہ کو اپنی عقل و بصیرت سے بہتر جانے ، اس پر عمل کرے۔ مذہبی آزادی کے بغیر لبرل ازم کی بنیادیں قائم نہیں رہ سکتیں –
– آزاد تجارت و مارکیٹ ….ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ جو چاہے خریدے یا بیچے – جائیداد رکھنے کا ہر فرد کو حق حاصل ہے۔ ریاست انتظامی اخراجات کے لئے لوگوں سے ٹیکس وصول کر سکتی ہے مگر وہ اس کے خرچ میں جوابدہ ہے۔ ٹیکس کا مصرف محض شہریوں کی فلاح و بہبود اور ملکی دفاع ہونا چاہئے۔
مختصر تاریخ …. جان لاک (سترہویں صدی کا فلسفی ) جدید لبرل ازم کا بانی ہے ،اسی نے ہی اسے سیاست ،معیشت ،اور سماجی تصورات میں موضوع بنایا – اس سے پہلے لفظ لبرل صرف لبرل آرٹ یعنی فنون لطیفہ میں استعمال ہوتا تھا – لاک کہتا ہے ”ہر فرد کو اپنی زندگی ،آزادی ،اور جائیداد پر فطری (و پیدائشی) حق حاصل ہے …اور گورنمنٹ ایک انتظامی ادارہ ہے جو لوگوں سے ان کی زندگی آزادی جائیداد اور مذہبی حق نہیں چھین سکتی “- انقلاب برطانیہ (Revolution Glorious )، امریکی انقلاب ،اور انقلاب فرانس کو لبرل ازم نے علمی و فکری تحریک دی – اور تاریخ میں پہلی بار انیسویں صدی میں یورپ اور شمالی و جنوبی امریکہ میں لبرل حکومتیں قائم ہوئیں –
لبرل ازم حکومت کو سیاسی انتظام کے لئے لازمی سمجھتا ہے۔ حکومت کے فرائض میں لازم یہ ہے کہ وہ شہریوں کی آزادی کا تحفظ کرے ، انصاف قائم کرے ،اور شہریت کی مساوات یقینی بنائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ لوگوں کی آزادی کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے ان کی صلاحیتوں اور خوبیوں میں افزائش پیدا کی جائے جس کے لئے ریاست کی سطح پر غربت ، بیماری ،امتیازات ،اور جہالت جیسی رکاوٹوں کے خاتمہ میں عملی اقدامات لازمی ہیں۔
لبرل ازم ہر فرد کو صاحب عقل و فراست سمجھتا ہے ، تمام افراد میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنے تنازعات گفت و شنید اور سمجھوتے سے حل کر سکتے ہیں- لڑائی جھگڑوں کا کوئی جواز نہیں ،بہتر یہ ہے کہ اگر باہمی گفت و شنید سے مسائل حل نہ ہو تو عدالت سے رجوع کیا جائے – اسی طرح عالمی تنازعات میں بھی جنگوں کا کوئی جواز نہیں ، لیگ آف نیشنز ،اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف لبرل قوتوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے –
لبرل ازم زمان و مکان کے بارے میں بہت حساس ہے۔ ہر ملک کا لبرل ازم اپنی تشریحات میں مختلف ہے مگر شخصی آزادی ،انصاف ،اور مساوات کی بنیادیں ہر جگہ مشترک ہیں – اس میں ہر عہد کے اعتبار سے ارتقا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں لبرل قوتیں ویلفیئر اسٹیٹ کی حامی ہیں تو یورپ میں لبرل قوتوں کا مو¿قف یہ ہے کہ حکومت محض ادارہ جاتی انتظام قائم کرے ،ہر شخص اپنی محنت اور ذہانت سے اپنے لئے ویلفیئر کا خود ہی بندوبست کر سکتا ہے – پاکستان میں بھی لبرل ازم یہاں کی تاریخ ثقافت اور شہریوں کی امنگوں کے مطابق ہی عملی و فکری بنیادوں پر قائم ہو سکتا ہے جن کی بنیاد ہر صورت میں شخصی آزادی ،انصاف، اور مساوات پر قائم ہو گی۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

One thought on “لبرل ازم کیا ہے ؟

Comments are closed.