سوچ کا اجتماعی بحران


jamil khanافلاطون کا خیال تھا کہ معاشرے کے چنیدہ افراد کو ہی سوچنے یا غوروفکر کرنے کا حق ہے، باقی لوگوں کو ان کی اطاعت کرنی چاہیے، اور ایک عرصے تک دنیا بھر میں یہی اصول کارفرما رہا۔ مذاہب کے اجارہ دار ہوں یا مطلق العنان حکمران دونوں نے ہی اپنے وضع کردہ فقہی نظام یا ریاستی نظام کو الوہی قرار دے کر یہی باور کروانے کی کوشش کی۔ چنانچہ ان اصولوں پر عقل و شعور اور دلیل و منطق کو منطبق کرنا ممکن ہی نہیں رہا بلکہ گستاخی کے زمرے میں داخل ہوگیا۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ آزادی فکر اور علم کی خلوت و جلوت تک رسائی کے باوجود لوگوں کی اکثریت دائروں میں قید محسوس ہوتی ہے۔ بظاہر تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ماضی کے برعکس عام لوگوں کو غور و فکر کی آزادی مل گئی ہے،تاہم اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں لوگوں کی بڑی تعداد آج بھی مختلف عقائد، نظریات، تواہمات اور نسلی و لسانی روایات سے آگے بڑھ جکر سوچنا شاید کفر کے مترادف سمجھتی ہے۔

اس طرزفکر کی بنیاد کیونکر پڑی، یہ ایسا کوئی معمہ نہیں ہے۔ اگر کوئی آپ سے آکر کہے کہ آپ کا پڑوسی آپ کو قتل کرنے کے درپے ہے، تو امید ہے کہ آپ اسے فاترالعقل قرار دے دیں گے، لیکن اکیسویں صدی کے دوران بھی بہت سی ریاستیں اپنے بچوں کے ذہنوں میں، ان درجات سے جب کہ وہ حروف کی پہچان سیکھنے کے مرحلے میں ہوتے ہیں، حب الوطنی اور مذہبی روایات کے نام پر اسی قسم کی خرافات نقش کردیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ بچے بالغ ہوتے ہیں تو ان کے اندر اس سیارے پر بسنے والے دیگر انسانوں کے لیے کسی نہ کسی سطح پر نفرت کا جذبہ موجزن ہوتا ہے، یا کم از کم وہ اپنی قوم و ملت کو باقی تمام انسانوں سے افضل و برتر خیال کرتے ہیں،اور ہمارے خیال میں یہ بھی تعصب کی ابتدائی صورت ہی ہوتی ہے۔

یہ نوجوان جب معاشرے اور ریاست کی باگ ڈور سنبھالنے کے قابل ہوتے ہیں تو اس وقت تک ان کا ذہن ایک ایسے نفسیاتی مریض کا ذہن بن جاتا ہے، جو اپنے گرد و نواح کے لوگوں سے گزند پہنچنے کے وہم میں مبتلا ہو۔

ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے افراد جن کا شعور بچپن سے اسی طرز کے خطوط پر استوار کیا گیا تھا، اب وہ ہر سانحے کے پس پردہ دشمنوں کی سازش کی بو سونگھتے پھرتے ہیں۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ دوست و دشمن کی حقیقی پہچان سے محروم نفسیاتی کجی کے شکار افراد کی بہت بڑی تعداد ہے، جو ملک کے سرکاری و نجی اداروں میں اہم عہدوں پر براجمان ہیں، قوم کی فکری راہوں کے تعین کی حساس ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں، اور یہاں تک کہ تعلیمی اداروں میں درس و تدریس جیسا اہم فریضہ انجام دے رہے ہیں، چنانچہ ہمارے ہاں اساتذہ کی ایک بہت بڑی کھیپ ہے، جو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ایسے ہی طالبعلموں میں ہسٹیریائی کیفیت پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔

واضح رہے کہ اس کیفیت کے اہم اسباب میں مختلف اقسام کے مفروضہ فخر بھی شامل ہیں، ایک فخر تو یہ ہے کہ دنیا بھر کے ایسے تمام انسان جو ان کے نظریات، خیالات، روایات اور عقائد کا انکار کرتے ہیں، وہ سب کے سب ان کے مقابلے میں نہایت پست اور ذلیل ہیں۔ چنانچہ یہ ہسٹیریائی کیفیت ہی تو ہے جو اپنے سے مختلف فکر کے حامل لوگوں کے لیے نفرت کا جنون پیدا کرتی ہے، پھر ہر فرد دامے، درمے، سخنے اپنی اپنی سطح پر اس جنون کو پروان چڑھاتا ہے، اور اپنی اپنی حیثیت و استعداد کے مطابق اس کا مظاہرہ کرتا ہے۔

جنہیں وسائل اور ماحول میسر آتا ہے، وہ اس ہسٹیریائی کیفیت کے دباو¿ کے تحت قتل و غارت گری کے منصوبے تیار کرتے اور ان کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔ جبکہ جن کا کچھ بس نہیں چلتا، انہیں اب سوشل میڈیا کی صورت میں ایک نہایت دور رس اور گہرے اثرات کا حامل وسیلہ میسر آگیا ہے، جس کے ذریعے وہ دیگر مذاہب اور اقوام کے لوگوں کو اپنی ایمان افروز للکار سے خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

جس کی ایک مثال یہ ہے کہ پاکستان کرسچین پوسٹ کی ویب سائٹ پر ایک مسیحی لڑکی کرن کے قتل کی خبر شایع ہوئی، جسے جنسی زیادتی کی کوشش میں ناکامی پر نشے میں دھت نوجوانوں نے ہلاک کردیا تھا، کرن کی تین سہیلیاں زخمی ہوگئی تھیں، مذکورہ ویب سائٹ پر شایع ہونے والی خبر کے مطابق ان لڑکیوں نے خود کو ان نوجوانوں کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے بھاگنا شروع کیا تو ان میں سے ایک نے کہا کہ “تم نے ہم سے دور بھاگنے کی ہمت کیسے کی؟ مسیحی لڑکیاں تو مسلمانوں کا دل خوش کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔”

اس خبر پر تبصرے کے آپشن میں ایک نوجوان نے لکھا کہ “جنوبی ایشیا میں کافر مرد مسلم لڑکیوں کا ریپ کررہے ہیں۔”

سبحان اللہ…. یعنی موصوف کا نکتہ نظر کچھ یوں تھا کہ ہم سے یہ نہ کہو کہ تم کیوں گوبر کھا رہے ہو، آخر دوسرے لوگ بھی تو گوبر کھارہے ہیں۔یا پھر یہ کہ پہلے دوسروں کو گوبر کھانے سے روکو، تب ہم سے کہنا کہ گوبر کھانا چھوڑ دو۔

اول تو پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے دیگر ملکوں میں مسلمان لڑکیوں کے ساتھ اس طرح جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کی تعداد ایسی نمایاں نہیں، جیسے کہ سندھ میں ہندو اور پنجاب میں مسیحی برادری کی نوجوان لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ چلیں ہم مذکورہ نوجوان کے موقف کو تسلیم بھی کرلیں تو کیا جنوبی ایشیا کے دیگر ملکوں میں مسلمان لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا بدلہ پاکستان میں غیرمسلم بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی سے لیا جائے گا….؟

المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسے افراد جو سوچ سکتے ہیں اور ان کی پہچان ہی غور و فکر ہے، ان میں سے اکثر دانشمندوں کو اپنے معاشرے سے متعلق لاحق اور بہت سے مخمصوں کے ساتھ ساتھ ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ قوم کی نئی نسل میں یہ ہسٹیریائی جنون پروان چڑھانے میں محض مذہبی مدرسوں کا بنیادی کردار رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ مذہبی مدرسوں اور مذہبی اجارہ داروں نے ملک میں انتہاپسندی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن انہیں چھوٹ دینے والے مقتدر طبقے کے افراد نے مذہبی مدرسوں میں تعلیم نہیں پائی تھی۔ ان میں سے بعض نے تو ترقی یافتہ ملکوں کے تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں حاصل کررکھی ہیں، اور یہی لوگ ہیں جنہوں نے ملک کو وحشت اور دہشت کے پجاریوں کے حوالے کر دیا ہے۔

ہمارے ہاں دانشمندوں کی اکثریت نے معاشرے سے خود کو الگ تھلگ کرلیا ہے، ان میں سے بہت سے یا تو متمول طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، یا پھر اس طبقے کی جبہ سائی سے انہیں فرصت نہیں، ان کا اپنی مٹی سے تعلق شاید ٹوٹ چکا ہے، ان میں سے زیادہ تر کھانستے بھی انگریزی میں ہیں۔ مقامی زبانوں کا تو تذکرہ ہی کیا، ملک بھر میں رابطے اور ابلاغ کا کام کرنے والی زبان اردو کے ساتھ بھی ان کا رویہ نہایت حقارت آمیز ہوتا ہے۔ چنانچہ ہمارے ہاں جو مٹھی بھر سوچنے اور سمجھنے والے افراد ہیں، ان میں سے بھی بیشتر کو شاید اس بات کا ادراک ہی نہیں رہا ہے کہ پیشہ ورانہ تعلیم دینے والے ملکی اداروں میں نوجوانوں کے ذہنوں کو کس طرح مسخ کیا جارہا ہے۔

بظاہر کوٹ پتلون میں ملبوس نوجوان اور ادھیڑ عمر افراد جو انگریزی اس روانی سے بولتے ہیں، جس روانی سے شاید ہم میں سے بیشتر اپنی مادری زبان میں بات نہیں کرپائیں، ان کے اندر بدبودار اور متعفن قسم کا مذہبی تعصب بھرا ہوا ہے۔ عام مولوی شاید معاشرے کے لیے اس قدر ضرررساں نہ ہو، جس قدر ایسے افراد ملک و قوم کی بقا کے لیے خطرناک ثابت ہورہے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “سوچ کا اجتماعی بحران

  • 17-04-2016 at 1:33 am
    Permalink

    بظاہر کوٹ پتلون میں ملبوس نوجوان اور ادھیڑ عمر افراد جو انگریزی اس روانی سے بولتے ہیں، جس روانی سے شاید ہم میں سے بیشتر اپنی مادری زبان میں بات نہیں کرپائیں، ان کے اندر بدبودار اور متعفن قسم کا مذہبی تعصب بھرا ہوا ہے۔ عام مولوی شاید معاشرے کے لیے اس قدر ضرررساں نہ ہو، جس قدر ایسے افراد ملک و قوم کی بقا کے لیے خطرناک ثابت ہورہے ہیں۔

    بہت زبردست تجزیہ کیا ھے
    ایک دم عمران خان صاحب اور ان کے اکثر شہری امیر طبقہ کے پیروکار یاد آگئے

Comments are closed.