قومی شماریات 2016


OLYMPUS DIGITAL CAMERA

قومی اعدا و شمار اکٹھا کرنا مارچ2016میں قرار پایا ہے ۔ لیکن سات سال تاخیر کے باوجود یقین سے یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کام کی انجام دہی کے لئے عوام الناس اور متعلقہ محکمے کماحقہ تیار ہیں ۔ یہ حقیقت بھی واضح نہیں کہ گذشتہ شمار کے اوپر اُٹھے اعتراضات اور کمزوریوں کو دور کرنے کی کوئی کوشش ہوئی یا نہیں ۔
مردم شماری کی اصلاح کو لیجئے جس کی فرسودگی محتاجِ بیان نہیں ۔ 21ویں صدی میں ہم اس مشق کو افراد شماری تو کہہ ہی سکتے ہیں تاکہ آبادی کا وہ حصہ جو خاندان کی عورتوں کے نام ووٹر لسٹ میں اندراج کروانے اور شناختی کارڈ بنوانے کو غیر ضروری سمجھتا ہے ۔اسے یہ علم ہو کہ اس سرگرمی میں بلا تفریق ہر شہری کے کوائف کا اندراج و اشتمال ضروری ہے۔ لیکن لگتا یہ ہے کہ متعلقہ محکموں اور اربابِ اختیار کو شاید اتنا بھی وقت میّسر نہیں کہ اصطلا ح و زبان کے پہلوئوں پر غور کر سکیں۔
سچ تو یہ ہے کہ جتنا اطمینان قومی شمار ہونے کا ہونا چاہیئے اس کے بجائے اب فکر اس بات کی ہوگی کہ یہ کام درست طور پر انجام پائے۔ اس مشق سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار جو ہماری سماجی، معاشی، سیاسی ترجیحات کے تعین اور انتظامی منصوبہ سازی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ یہ اعداد و شمار اغلاط و ابہام کے باعث تنازعات کا سبّب نہ بن جائیں ۔
قومی شماریات وہ آئینہ ہے جس میں کسی سماج کا مکمل تر عکس بنتا ہے اس سے نا صرف اس کے حجم کا پتہ چلتا ہے بلکہ یہ بھی کہ قومی وجود کا کونسا حصہ کہاں اور کس حال میں ہے۔اسی اہمیت کے پیشِ نظرقومیں ڈیٹا کی تیاری میں مناسب وقت اور وسائل بروئے کار لاتی ہیں ۔ لہذ ا دس دس سال تیاری کا کشٹ اور شمار تواتر سے کیا جاتا ہے۔
1981کے شمار کے نتائج میں جب بلوچستان کی آبادی میں دوگنا اضافہ سامنے آیا تو افراد شماری کی شفافیت اور اس کے طریقہ¿ کار اور محکمہ کی صلاحیت پر سوال اٹھے۔ جن کا کوئی معقول جواب نہیں ملا تو یہ بات بلوچ اور پشتون آبادیوں کے درمیان شکوک و شبہات کا سبّب بنی۔ نیز دیگر صوبوں کے مقابلے میں اس قدر اضافہ ظاہرکرتا تھا کہ یا تو   1971کا شمار ٹھیک نہیں تھا یا پھر  1981والا غلط ۔
2014میں جب شمالی وزیرستان میں ملٹری آپریشن کے بعد عارضی طور پر ہجرت کرنے والوں کی رجسٹریشن کی گئی تو ان کی تعداد 1998کے شمار کی بنیاد پر لگائے گئے اندازے سے اڑھائی گنا زیادہ (11لاکھ) نکلی۔
حقیقت یہ ہے کہ جنوری 2016تک ہونے والی تیاری میں پرانے اور نئے کئی سقّم ہیں جنہیں دور کئے بغیر شمار یاتی عمل کو قابلِ اعتماد اور شفاف نہیں بنایا جا سکتا ۔ اس ضمن میں چند نکات بیان کرنا کافی ہوگا:۔
1۔ قومی اور صوبائی سینس کمشنرز کا تقرر دسمبر2015میں ہونا محض تاخیر کی بجائے ایک سنگین کوتاہی ثابت ہو سکتا ہے ۔ محکمہ کے پانچ اعلیٰ ترین افسروں کی قومی اہمیت اور وسعت کی اس سرگرمی سے صرف تین ماہ پہلے تعیناتی ان کی کارکردگی کو جو نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ اس کو نظر انداز کر کے اچھے نتائج برآمد نہیں کئے جا سکتے۔
2۔ افراد شماری کے لئے عملے کی بڑی تعداد محکمہ تعلیم کے سرکاری اساتذہ پر مشتمل ہوتی ہے جو مارچ کے مہینے میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر انتہائی مصروف ہوتے ہیں۔ انہیں اس مہینے میں ایک اضافی ذمہ داری دینا انتظامی طور پر مناسب ہے ؟ اس سے شمار یاتی سرگرمی کے نتائج پر کیا اثر پڑے گا؟ ان سوالوں پر توّجہ ضروری ہے۔
3۔مارچ میں اعداد و شمار اکٹھے کرنے کے لئے سوالنامے کا وہی کاغذ استعمال کیا جائے گا جیسے آٹھ سال پہلے در آمد کیا گیا تھا ۔ یہ خاص کاغذ ہے جس پر معلو ما ت کا ا ندراج تو عملہ کرتا ہے لیکن انہیں پڑھنے اور نتائج بنانے کا کام کمپیوٹر سے لیا جاتا ہے لہذا شماریاتی اغلاط سے بچنے کے لئے ضروری ہوگا کہ اس کاغذ کی کوالٹی کی غیر جانبدار ماہرین سے جانچ کروائی جائے تاکہ شمار کا ڈیٹا ضائع ہونے اور ممکنہ اعتراض سے بچا جا سکے۔
4 ۔ شماریات میں استعمال ہونے والے سوالنامہ بنیادی اہمیت کا حامل ہونا چاہیئے۔ گذشتہ سوالنامے پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے چونکہ پرانے سوالنامے میں کمزوریاں تھیں مثلاً ہم آئین اور دیگر دستاویز میں دعویٰ کرتے ہیں پاکستان میں ذات پات کی تقسیم کو ختم کر دیا گیا ہے جبکہ شمار میں شیڈیولڈ کاسٹ کا علیحدہ شمار کرتے ہیں جو ذات پات جےسے فرسو د ہ تصور کو ترک کرنے اور اس کی حوصلہ شکنی کا ذریعہ ہونا چاہیئے۔
مذہبی شناخت کے حوالہ سے گذشتہ شمار میں سکھ برادری بجا طور پر نالاں تھی کیونکہ انہیں’دیگٗر کے خانے میں شمار کیا گیا ۔ سکھوں، پارسیوں، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے علیحدہ اندراج کے بغیر ان کے بارے واضح اور مکمل معلومات نہیں مل سکتیں، ایسی تمام کوتاہیوں کو دور کرنا ہوگا۔
5۔ یہ اعدا د و شمار چونکہ گاوں سے ضلع ، صوبہ اور ملک کی ہر سطح پر پلاننگ کے لئے ضروری معلومات کا ذریعہ ہیں ان کو ہر ممکن زاویہ سے درست اور قابلِ اعتماد بنانا ضروری ہے ۔ یہ جانتے ہوئے کہ برسوں پھیلی لا تعلقی و بے اعتنائی کی گرد نے متعلقہ محکموں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ مفروضوں پر کام چلا نے کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں ۔
1998کے شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 3فیصد شرحِ معذوری تھی۔ البتہ چند سال پیشتر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سروے میں اس شرح کو10فیصد بتایا گیا ۔ ایک تو 2016 کے قومی شمار میں پتہ چلنا چاہیئے کہ درست شرح اور تعداد کیا ہے ۔ نیز اگر واقعی معذوری گذشتہ 18برس میں تین گنا سے زیادہ تجاوز کر گئی تو ہمیں یہ فکر ہونی چاہیئے کہ ایسا کیوں ہے ۔ سوالنامے میں اگر معذوری کی وجوہات کا درست اندازہ بتانے کی صلاحیت نہ ہو تو ایک اور قومی شمار کی ضرورت پڑے گی۔ وہ کیسے ممکن ہوگا؟ جسمانی و ذہنی معذوری کے متعلق حا لےہ اعداد و شمار کی مثال سامنے رکھیئے تو واضح ہو جاتا ہے کہ گذشتہ شماریاتی کلیئے اور سوالنامے میں ترمیم ضروری ہے۔
مندرجہ بالا حقائق کے پیشِ نظر یہ نتیجہ اخذ کرنے میں دیر نہیں لگتی کہ نا صرف شماریات اور سینس کے محکموں کو شمار کی تیاری میں عوام کو اور خصوصاً مختلف شعبوں کے ماہرین کو شامل کرنا چاہیئے تاکہ شمار کے تمام پہلووں کا جائزہ لیا جائے اور ممکنہ خطرات اور خدشات سے بچاجا سکے تاکہ حاصل ہونے والے اعداد و شمار پر بھروسہ و اعتماد ہو۔
اس وقت جبکہ انتخابی حلقوں میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ہو چکاہے۔ کوٹہ سسٹم آ چکا ۔ اس لئے طاقتور حلقوں کے پیوستہ مفادات قومی شمار کی مشق کے دوران یا بعد ازاںکسی سیاسی بے چینی اورنفاق کا سبّب بن سکتے ہیں ۔
گذشتہ شمار میں فوج کی خدمات کواعداد و شمار کو غیر جانبداری سے اکٹھا کرنے کی غرض سے شامل کیا گیا تھا۔ اس وقت فوج ملک کی سیکیورٹی میں مصروف ہے۔لہٰذا اگر فوج کی خدمات نہ لیں تو عملے کی حفاظت پر سمجھوتہ کر نا ہوگا اگر اتنی وسیع سرگرمی کے لئے فوج کو شامل کریں تو ان کا اپنا کام متاثر ہو سکتا ہے۔صورت حال کا تقاضا یہی ہے کہ عوام کے اعتماد اور شمولیت سے قومی شمار کو یقینی اور درست بنایا جائے۔ تکنیکی اور انتظامی کوتاہیوں سے بچنے کے لئے مناسب وقت دے کر تیاری کیا جائے۔
اس کے لئے اگر قومی شمار کے وقت میں موسمِ گرما تک توسیع کرنی پڑے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ۔ اگر ایمانداری سے عوام کو اعتماد میں لیا جائے تو رائے عامہ چند ماہ کی تاخیر برداشت کر سکتی ہے لیکن اگر قومی شمار پر اعتراضات کی انگلی اٹھی تو اس کا ناقابلِ تلافی سیاسی نقصان ہو سکتا ہے ۔ اب تو یہ کوشش ہونی چاہیئے کہ قومی شمار ایک مرتبہ پھر قومی یکجہتی کی دراڑ بننے کی بجائے قومی ایجنڈے کی قوت بن جائے۔
قوم کو اس بات کے لیے آمادہ کرنا ہو گا کہ وہ اپنے بارے میں کچھ حیران کن اور ناپسندیدہ صداقتوں کو قبول کرنے کے لیے تیارہو جائے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب قومی شمار کے کلیّے اور طریقہ کار اجتماعی شعور کی تصدیق اور اعتماد کا امتحان پاس کر لیں ۔قومی شمار نہ صرف غیر جانبدار ، شفاف اور عوامی شراکت کا حامل ہو بلکہ ایسا نظر بھی آئے۔


Comments

FB Login Required - comments