ایک زناٹے دار تھپڑ خوشامدیوں کے گال پر!


muhammad Shahzadہم پاکستانی لوگ بھی عجیب ہیں۔ (غریب تو ہیں ہی شعور، عقل ، دانش ، فہم و فراست کے معاملات میں)۔ ہر وہ چیز جو مقامِ شرم یا لمحہِ فکریہ ہونا چاہیئے اس پر ہم فخر کرتے ہیں۔ چند روز قبل آرمی چیف کا بیان آیا جس کے مطابق وہ مقررہ وقت پر ریٹائرڈ ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ملازمت میں توسیع نہیں چاہیئے انہیں۔ اس اعلان میں کوئی خامی نہیں۔ کوئی برائی نہیں۔ افواہیں جنم لے رہی تھیں۔ خوشامدی انہیں تا حیات اسی مقام پر برقرار رکھنے پر بضد تھے۔ لہذا انہوں نے اعلان کر دیا۔ ان کے اعلان نے ہمیں یہ کالم لکھنے پر مجبور نہیں کیا۔ مجبور کیا تو اس ردِ عمل نے جو اس اعلان کے بعد آیا اور تا وقت آ رہا ہے اور غالباً انکی ریٹائرمنٹ تک آتا ہی رہے گا۔

جس قسم کا ردِ عمل سیاستدانوں، اسلام کے پرچون فروشوں ، یا نام نہاد سول سوسائٹی سے آیا وہ حیران کن نہیں تھا۔ حیرت اس بات کی تھی کہ اکیسویںصدی ہے انفارمیشن کا زمانہ ہے مگر ہم ابھی تک ابو جہل کی میراث کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ہر سو صفِ ماتم بچھ گئی کہ آرمی چیف ملازمت میں توسیع نہیں لے رہے۔ ایک سابق صدر جن کی شہرت بطور صدر کم ’مسٹر ٹین پرسنٹ‘ اور بعد میںمسٹرٹین ہنڈرڈ پرسنٹ‘ زیادہ ہے انتہائی شکر گزار ہوئے آرمی چیف کے۔ ہم ایک جمہوری ملک ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ کیا کسی اور جمہوری ملک میں ایسا ہی ہوتا ہے جیسے ہمارے یہاں ہو رہا ہے۔ اپنا مقابلہ امریکہ یا برطانیہ یا فرانس سے کرنے کی ضرورت نہیں جن کے بطن سے جمہوریت وجود میں آئی۔ صرف اسی ملک سے کر لیتے ہیں جس کی نقل ہم بندر کی طرح اتارے ہیں۔ فلمیں اسی کی طرز کی بناتے ہیں۔ ڈرامے اسی کے کاپی کرتے ہیں۔ جب وہ اسلحے کی دوڑ میں شامل ہوتا ہے تو ہم بھی اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ جب وہ اپنا دفاعی بجٹ بڑھاتا ہے تو ہم بھی بڑھا دیتے ہیں۔ جی ہاں ہندوستان۔ کبھی سنا کسی بھارتی آرمی چیف کو اس قسم کا بیان دیتے ہوئے کہ وہ وقت پر ریٹائرڈ ہو گا اور ملازمت میں توسیع نہیں لے گا۔ بھارت اور ہم ایک ہی حالات سے دوچار تھے اور ایک ہی وقت میں آزاد ہوئے۔ بھارت اس مقام پر پہنچ گیا کہ برطانوی وزیرِ اعظم دھلی آتا ہے اور بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ یہ اس کے ملک کی خوش نصیبی ہے کہ وہ بھارت سے سول جوہری معاہدہ کر رہا ہے۔ اس کے بر عکس ہم ہیں کہ بھکاریوں کی طرح مغرب کو کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بھی کرو ایسا ہی معاہدہ۔

کل ہی اسلام کے آڑھتیوں نے مشترکہ طور پر یہ بیان دیا کہ پوری قوم کی خواہش یہ ہے کہ آرمی چیف ملازمت میں توسیع لیں۔ معلوم نہیں یہ کب سے پوری قوم کے مامے بن گئے؟ اس قسم کا ردِ عمل صرف یہ ہی ثابت کرتا ہے کہ بنیادی طور پر ہم ایک غلام قوم ہیں۔ خوشامدی ہیں۔ چاپلوس ہیں۔ ہماری واحد قابلیت یہی غلامی، جی حضوری، درباری پن، بھانڈ پن، خوشامد ہے۔ اسی کی بدولت ہم زندگی میں کچھ حاصل کر پاتے ہیں۔ ہم نے صرف ایک ہی کام سیکھا ہے اور وہ ہے چڑھتے سورج کی پوجا۔ ہمارے جمہوریت کے علمبردار سیاستدان تو ایک فوجی جنرل کو وردی ہی میں سو بار صدر منتخب کرنے کا نعرہ بھی لگا چکے تھے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک طرف تو یہ سیاستدان فوجیوں کے تلوے چاٹنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور دوسری طرف فوجی آمریت کا رونا بھی روتے رہتے ہیں۔

سرکار کے کسی بھی اہل کار کو چاہے وہ آرمی چیف ہو یا چپراسی ملازمت میں توسیع دینے کا صرف ایک ہی مطلب ہے۔ آپ کا نظام ٹھیک نہیں۔ اور ایک فردِ واحد کا مرہونِ منت ہے۔ قدرت کا یہ دستور ہے کے کسی کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بہت سے بچے یتیم پیدا ہوتے ہیں۔ دورانِ پیدائش ماں بھی گذر جاتی ہے لیکن وہ بڑے ہو جاتے ہیں۔ اپنے پیروں پر بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آرمی چیف کا اعلان دراصل سیاستدانوں، خوشامدیوں، چاپلوسوں، درباریوں، بھانڈوں اور اسلام کے دلالوں کے منہ پرایک زناٹے دار تھپڑ ہے۔ سمجھدار انسان کے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے۔ اس اعلان نے یہ پیغام دیا ہے کہ تم جتنا گر سکتے ہو، گر جاﺅ۔ جتنے تلوے چاٹنے ہیں چاٹ لو۔ میں تمہاری چاپلوسی میں آنے کا نہیں۔ میں ایک ایسے ادارے کا نمائندہ ہو جو تمہاری چاپلوسی کا محتاج نہیں۔ میں چلا جاﺅں گا میرے جیسا (ہو سکتا ہے مجھ سے بہتر بھی) کوئی اور آ جائے گا۔ تم میری چاپلوسی کر کے مجھے اپنے مقام پر لانا چاہتے ہو۔ اگر ہو سکے تو میرے برابر آ کر مجھ سے بات کرو۔ جہاں میں ہوں وہا ں آکر کندھے سے کندھا ملاﺅ۔ مجھے نیچے مت گراﺅ میری خوشامد کر کے۔ میں تمہاری اوقات خوب جانتا ہوں۔

(محمد شہزاد سے Yamankalyan@gmail.comپر رابطہ کیا جا سکتا ہے)


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “ایک زناٹے دار تھپڑ خوشامدیوں کے گال پر!

  • 27-01-2016 at 10:09 pm
    Permalink

    بہت خوب لکھا جناب۔ میں ابھی سے پیشنگوئی کر سکتا ہوں کہ اگر اعلان کے مطابق جنرل صاحب اپنے وقت پہ ریٹائر ہو گئے تو ریٹائرمنٹ کے ایک ماہ کے اندر اندر آپ انہی درباریوں، خوشامدیوں اور بوٹ پالشیئوں کی زبان ملاحظہ کیجئے گا جنرل صاحب کے بارے میں۔
    ایک مثال کے طور پہ آپ ایک مشہور بوٹ پالشیئے شاہین صہبائی کی کل کی تحریر میں کیانی صاحب کے متعلق الفاظ ملاحظہ کریں اور پھر کیانی صاحب کے ‘‘دورِ حکومت‘‘ میں ان کی تحاریر سے تقابل کریں۔
    علی

Comments are closed.