’ہم سب ‘ کی ویب سائٹ حاضر ہے !


mazaheer-598x400ایم اے ظہیر

تمام میڈیا میں نعشیں پانی کے بہاو کے ساتھ تیرتی ہیں اور ’ہم سب ‘میں زندہ انسان مخالف سمت تیرنے چلے ہیں ۔
بزعم خویش بڑے بڑے موقراخبارات اور مستند جریدوں میں ایسی تحریریں نمایاں مقام پر چھپا کرتی ہیں کہ جن کے پروف پڑھنے سے بھی صالح و سعید طبیعتیں اور شریف و لطیف روحیں ابا کرتی آئی ہیں ۔مژدہ جانفزا یارو! آپ سب ’ہم سب‘ کی دنیا میں آئے ہیں کہ جہاں بعض تحریروں سے دماغ روشنی اور خیالات پاکیزگی پاتے ہیں….یہاں بعض تحریروں سے الفاظ کو رنگینی ملتی اور لہجے رعنائی پاتے ہیں…. گاہ گاہ کوئی تحریرنظر نواز ہونے سے دل وسعت اور دماغ قوت پانے لگتے ہیں ۔’ہم سب ‘حرف و لفظ کے رواں دواں سفینے اور اظہار بیاں کے خوبصورت قرینے کا دوسرا نام ہے ۔یہاں کسی جنس اور جغرافیہ کی پابندی نہیں…. یہاں کسی تحقیق ، کسی اکتشاف اور کسی انکشاف پرکوئی بندش نہیں …. جو من میں آئے، وہ زبان پرآئے اور پھر ہو دل ناتواں کی یہ حالت کہ ڈوب ڈوب جائے یا پھر اچھل کرحلق تک آئے۔
’ہم سب ‘میں سچ سرعام مصلوب ہو گا نہ جھوٹ برملا مسند نشین ہو گا…. یہاں حقیقت کے کھوے سے کھوے چلتے ہوں کہ نہ چلتے ہوںپر خرافات کے۔ ’ہم سب ‘کے کنعان میں کوئی یوسف سوت کی انٹی کے عوض نہ بکے گا…. یہاں کے یروشلم میں پیغمبروں پر پتھر نہ پھینکے جائیں گے اور یہاں کے ایتھنز میں سقراط کو زہر کا جام نہ دیا جائے گا۔
’ہم سب ‘کا قافلہ اورقبیلہ اپنے سالار کاررواں کے کرب سے نا آشنا ہے…. جن آبلہ پاوں اور ہجرنوازوں نے ان کے ساتھ آغازسفر کیا تھا ….وہ سب کے سب راستے کی گرد ہوئے یا پھر اپنے اپنے محاذ پراپنی اپنی خندقیں کھودنے چلے ہیں۔ صبحیں اگرسہمی ہوئی ہوں،دوپہریں گونگی اور شامیں بہری ہوں تو راتیں تو اند ھی ہوں گی ناں! ناچار کیا کریں کہ اب تو آتے جاتے موسموں کا سبھاو محض سوچوں کے بہاو¿ پر منحصر ہے۔ فکری راست کے نقیب وجاہت کے صحافتی سفرمیںکیا کیا لوگ تھے جو اپنا اپنا روگ دل میں لیے آئے…. گام دو گام ساتھ چلے، دم بھر کو دم لیا اور پھر دھول اڑاتے سناٹے کا رزق ہوئے۔ کیسی کیسی رنگ رچاتی محفلیں تھیں کہ ویران ہو گئیں…. کیسے کیسے خضر صورت اور ملیح چہرے تھے کہ انہوں نے منہ موڑ لیا….ہائے ہائے کیسے کیسے کندن بدن تھے کہ بس اب ان سے ماضی ہی کا رشتہ باقی اور برقرار رہا۔
صحا فت کے مقتل میں حیات کی مسافت تمام ہو جاتی ہے لیکن صحافی کے درد کا دھواں سلگتا اور اٹھتا رہتا ہے۔ ایسے لوگوں کے پاوں میں عمر بھر امن، انسانیت اور دانش کے آبلے بندھے رہتے ہیں…. سینے ستم سہتے سہتے چھلنی اور جسم سنگ ملامت سے داغ داغ ہو جاتے مگر ان کے ہونٹ مسلسل محو گفتگو رہتے ہیں۔ جب اپنوں کی بے رخی کبھی کبھی دل والوں کی بستی پرشب خون مارتی ہے تو سب کچھ نگل جاتی ہے…. حتیٰ کہ کچے سپنے بھی اورہاں پھر رشتے بھی کچے دھاگے کی طرح ٹوٹتے جاتے ہیں۔ایسے وحشت زدہ خرابے اور اجاڑ سفر میںکون دور تک کسی کے ساتھ چلے اور کتنے دکھ درد بانٹے ؟ دہر کے عجائب خانے میں تو بادِشمال بھی کبھی دل کا ملال نہیں لے گئی بھائی!پھر یہاں کون مقتول جذبوںاور مجروح دلوں پردلاسوں کے پھا ہے رکھے؟
جون ایلیا نے اپنے ایک انشائیے میں کہیں لکھا تھا….”تاریخ کے حساس ترین انسانوں نے زیادہ وقت اداس رہ کر گزارا ہے“۔ چلئے چھوڑیئے کہ یہ کہانیاں یونہی سرسری اور بے ربط کہی جاتی ہیں اور بس ۔ رہے نام اللہ کا!
مشرقی باشندوں کا یہ مقدر ومقسوم نہیں کہ وہ ہر سات دن بعد مشائخانہ روایت میں مبلغ و مفتی کا وعظ سنتے رہیں جہاں مولوی منبر پر کھڑے ہو کر بلند بامی سے مخاطب ہوتا ہے ۔ پھر نیچے بیٹھنے والے سامعین کے لیے بھی آمناًو صدقناً کہنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہتا۔یا پھر حیات اسی کا نام نہیں کہ صبح سویرے اردواخبارات پر ناگاہ نگاہ ڈال لی جائے اور جی چاہے تو کسی تحریرسے دو چار لفظ اچک لیے جائیں۔
زندگی کی ہماہمی اور چہل پہل میں کھانے پینے ،سونے جاگنے،دوستیاں لگانے اور رشتہ داریاں نبھانے یا پھر دولت کمانے کے علاوہ روح کی بالیدگی کے لیے بھی کوئی سر گرمی یا مشغلہ ہونا چایئے۔ تکلف برطرف! زندگی میں انفرادیت اوراضطراب کے لیے بھی کوئی لگاو ،کوئی اٹکاو،کوئی بندھن یا بہانہ ہونا چاہئے۔انسانی شب وروز میں کچھ لمحات ایسے بھی تو آتے ہیں جب روایتی یا مذہبی تحریروں کا مطالعہ نہیں کیا جاتا …. دل و دماغ ٹھوس حقایق مانگنے لگتے ہیں ۔تو پھر؟تو پھر آیئے ”ہم سب “ کی ویب سائٹ حاضر ہے !


Comments

FB Login Required - comments