مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط


ماں جی

میری عمر نو دس برس کی تھی جب ابا نے مجھے زمین پر گھسیٹتے ہوئے گھر سے بے گھرکر دیا تھا۔ میں چیخ چیخ کر تمہیں پکارتا رہا مگر تم بےحس وحرکت سہمی ہوئی مجھے تکتی رہیں۔ واحد روانی تمہارے آنسوؤں کی تھی جو ابا کے غیض و غضب کے آگے بھی تھمنے کو تیار نہ تھے۔ تمہارا ہر آنسو اس بات کا ثبوت تھا کہ تم ابا کے اس فعل سے بہت نالاں تھی مگر ابا کی ہر بات پر سر تسلیم خم کرنے پر مجبور بھی۔

محلے والوں کے طعنے، رشتے داروں کے طنز اور لوگوں کی چبھتی ہوئی نگاہوں سے جب ابا بے قابو ہو جاتے تو پھر اپنی کالے چمڑے کی چپل سے میری چمڑی ادھیڑتے۔ اپنے جسم پر چپل سے بنائے گئے نقش لیے میں اس کال کوٹھڑی کی جانب بھاگتا جو پورے گھر میں میری واحد پناہ گاہ بن گئی تھی۔ پٹائی کا دن جب رات میں ڈھلتا تو تم ابا سے چھپ کر دبے پاؤں آتیں۔ مجھے سینے سے لگاتی، اپنے دوپٹے سے میرے زخموں کی ٹکور کرتی۔ میرا سر اپنی گود میں لیے گھنٹوں میرے پاس بیٹھی رہتی۔ مجھے چپ کراتے کراتے تمہاری اپنی سسکیاں بندھ جاتیں۔ آہوں اور سسکیوں کی گونج کے علاوہ اس کال کوٹھڑی میں کچھ سنائی نہ دیتا۔ ہم دونوں آنسوؤں کی زبان میں بات کرتے۔ میرے آنسوؤں میں ان گنت سوال ہوتے۔ کہ آخر کیوں ابا کی نفرت کی خاص عنایت مجھ پر ہی ہے؟ آخر کیوں گھر میں مہمانوں کے آتے ہی اسٹور کے تنگ وتاریک کمرے میں گھر کے ہر فالتو سامان کے ساتھ مجھے بند کردیا جاتا ہے اور جب تک اللہ کی رحمت ہمارے گھر سے چلی نہیں جاتی مجھے رہائی کا پروانہ کیوں نہیں دیا جاتا۔ یہ رحمت ہر بار میرے لیے زحمت کیوں بن جاتی ہے؟ مگر اماں میرے ہر سوال کے جواب میں تم خاموشی سے میرے اوپر محبت بھری نگاہ ڈالتی اور کچھ نہ بولتیں۔ بس کبھی تم میرے ماتھے کا بوسہ لیتی اور کبھی میرے ہاتھوں کو چوم کر اس بات کی گواہی دیتی کہ میں تو اپنے راجہ بیٹے سے بہت پیار کرتی ہوں۔ ایک سوال کرتے کرتے میں تھک جاتا اور نیند کی آغوش میں چلا جاتا کہ آخر میرے سے ایسی کیا خطا ہوئی جو میں اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی طرح ابا کے پیار کا حقدار نہیں۔

ہاں تمہاری گود میں سو جانے سے پہلے میں یہ دعا بھی کرتا کہ یہ رات کبھی ختم نہ ہو مگر صبح ہوتی اور تم پھر اس عورت کا لبادہ اوڑھ لیتی جو ابا اور معاشرے کے خوف سے مجھے پیار کرتے ڈرتی تھی۔

جس دن ابا نے مجھے گھر سے نکالا اس دن میرا قصور بس اتنا تھا کہ میں نے تمہاری سنگھار میز پر رکھی ہوئی لالی سے اپنے ہونٹ رنگ لیے تھے، تمہارا سرخ دوپٹہ سر پر رکھے، تمہارے ہاتھوں کے کنگن اپنی کلائی میں ڈالے تمہاری ٹک ٹک کرنے والی جوتی پہن کرخوش ہو رہا تھا، بس یہ دیکھنے کی دیر تھی کہ ابا نے مجھ پر پھر جوتوں کی برسات شروع کر دی۔ میں معافی کا طلب گار رہا مگر میری شنوائی نہ ہوئی اور پھرگالی گلوچ کرتے ہوئے زمین پر گھسیٹتے ہوئے زنخا زنخا کہتے ہوئے مجھے ہمیشہ کے لیے سب گھر والوں سے دور کر دیا۔

میرے لیے آبا کے آخری الفاظ یہ تھے کہ آج سے تو ہمارے لیے مر گیا۔ یہ جملہ سنتے ہی میری ہاتھوں کی گرفت جس نے ابا کے پیروں کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کمزور پڑ گی۔ میری گڑگڑاتی ہوئی زبان خاموش ہوگی، میرے آنسو تھم گئے کیونکہ میں جانتا تھا کہ ابا اپنی کہی ہوئی بات سے کبھی نہیں پھرتے۔ اور تم ماں، ابا کے کسی بھی فیصلے کے خلاف جانے کی ہمت نہیں رکھتی

اس کے بعد ابا مجھے ہمیشہ کے لیے یہاں چھوڑ گے جہاں ایک گرو رہتا تھا۔ امجد کی جگہ میرا نام علیشاہ رکھ دیا گیا۔ مجھے ناچ گانےکی تربیت دی جاتی۔ مجھ پر نظر رکھی جاتی لیکن میں جب کبھی موقع ملتا تمہاری محبت میں گرفتار اپنے گھر کی طرف دیوانہ وار بھاگتا مگر ابا کا آخری جملہ مجھے دہلیز پار کرنے سے روک دیتا۔ دروازے کی اوٹ سے جب تمہیں گرما گرم روٹی اتارتے دیکھتا تو میری بھوک بھی چمک جاتی اور پھر تم اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا بنا کر میرے بہن بھائیوں کے منہ میں ڈالتی تو ہر نوالے پر میرا بھی منہ کھلتا مگر وہ نوالے کی حسرت میں کھلا ہی رہتا۔ اس حسرت کو پورا کرنے کے لیے میں اکثر گھر کے باہر رکھی ہوئی سوکھی روٹی کو اپنے آنسوؤں میں بھگو بھگو کر کھاتا۔

بعد کی عیدیں تو تنہا ہی تھیں پر جب گھر بدر نہ ہوا تھا تب بھی عید پر جب ابا ہر ایک کے ہاتھ پر عیدی رکھتے تو میرا ہاتھ پھیلا ہی رہ جاتا۔ جب ہر بچے کی جھولی پیار اور محبت سے بھر دی جاتی تو میری جھولی خالی ہی رہ جاتی۔ جب ابا اپنا دست شفقت سب کے سروں پر پھیرتے تو میرا سر جھکا ہی رہتا۔

صحن میں کھڑی ابا کی سائیکل جس کو اکثر میں محلے سے گزرتے دیکھتا تو ہر بار دل میں یہ خواہش ہوتی کہ کاش ابا سائیکل روک کر مجھے ایک بار، صرف ایک بار سینے سے لگا لیں مگر میری یہ خواہش، خواہش ہی رہ گی۔ گھر چھوڑنے کے عذاب کے بعد میرے اوپر ایک اور عذاب نازل ہوا جس کے کرب نے میری روح تک کو زخمی کر دیا۔ چند \’شرفا\’ گرو کے پاس آئے اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ مجھے زبردستی بے لباس کیا اور اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھا ڈالا۔ ماں، میں اتنا چھوٹا اور کمزور تھا کہ میں تکلیف کی وجہ سے اپنے ہوش ہی کھو بیٹھا تھا۔ پھر اس ہی بے ہوشی کے عالم میں مجھے گرو کے حوالے کر دیا گیا۔ پھر یہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ میں روز ہی اپنی ہی نظروں میں گرتا رہا مرتا رہا۔ کرتا بھی کیا کہ اب میرے پاس کوئی اور دوسری پناہ گاہ نہ تھی۔

پھر اسی کام کو میرے گرو نے میرے پیشے کا نام دے دیا۔ میں گرو کے پاس سے کئی بار بھاگا، در در نوکری کی تلاش میں پھرتا رہا مگر مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ ہر بار گرو کے در پر ہی پناہ ملی۔

ہمارا وجود معاشرے میں گالی سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں تو کسی کو بددعا بھی دینی ہو تو ہم کہتے ہیں کہ جا تیرے گھر بھی مجھ جیسا پیدا ہو۔ حالانکہ ہماری رگوں میں بھی سرخ رنگ کا خون دوڑتا ہے۔ ہمیں بنانے والا بھی تو وہی ہے جس نے ان کو پیدا کیا۔ ان کے سینے میں بھی دل ہماری طرح ہی دھڑکتا ہے۔ تو پھر ہمیں کس بات کی سزا دی جاتی ہے ؟ہمارا جرم کیا ہوتا ہے؟ شاید ہمارا جرم یہ ہوتا ہے کہ ہمارا خون سرخ ہے اور معاشرے کا سفید۔

ماں میں ساری زندگی جینے کی چاہ میں مرتا چلا گیا۔ سفید خون رکھنے والے لوگ کبھی مذہب کی آڑ لے کر تو کبھی جسم فروشی سے انکار پر ہمارے جسموں میں گولیاں اتار دیتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، مجھے بھی گولیاں ماری گئیں۔ جب مجھے ہوش آیا تو ڈاکٹر مجھے امید کی کرن دکھانے کی کوشش میں آہستہ آہستہ میرے کان میں سرگوشی کر رہا تھا کہ اگر تم ہمت کرو تو زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہو۔ میں نے بہت مشکل سے اپنے ہونٹوں کو جنبش دی اور ڈاکٹر سے کہا کہ اگر میں ہمت کر کے لوٹ بھی آیا تو کیا مجھے جینے دیا جائے گا؟ جب ملک الموت میرے پاس آیا تو میں نے اس سے جینے کے لیے چند لمحوں کی درخواست کی۔ نجانے کیوں اس بار مجھے امید تھی کہ تم دوڑی چلی آؤ گی، میرا بچہ کہتے ہوئے مجھے اپنے سینے سے لگاو گی۔ میرے سر کو اپنی گود میں رکھ کر میرے زخموں کی ٹکور کر کے مجھے اس دنیا سےرخصت کرو گی۔ لیکن موت کے فرشتے نے چند لمحوں کی مہلت بھی نہ دی۔

سنا ہے قیامت کے روز بچوں کو ماں کےحوالے سے پکارا جائے گا۔ بس ماں تم سے اتنی سی التجا ہے کہ اس دن تم مجھ سے منہ نہ پھیرنا۔

تمہاری محبت کا طلبگار

تمہارا بیٹا


اسی بارے میں

کیا خواجہ سرا ایک باعزت زندگی گزار سکتے ہیں؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

17 thoughts on “مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط

  • 18-09-2016 at 4:10 pm
    Permalink

    کمال کی تحریر لکھی ہے آپ نے۔۔۔۔۔۔۔ یہ بہت حوصلے کی بات ہے کہ ایسا موضوع چنا جس سے عام لکھاری دور رہتے ہیں۔
    اللہ تعالی مزید زور قلم عطا کرے۔
    محمد نورالامین

  • 18-09-2016 at 7:40 pm
    Permalink

    پتہ نہیں لوگ اس طرح کی باتیں پڑھ یا سن کر اتنے ایموشنل کیوں ہو جاتے ہیں جیسے سٹار پلس کے ایکٹر…. میں تو مردہ بچے کی لاش کتا اٹھا کر لے جا رہا ہو تب بھی ایموشنل نہیں ہوتا… مجھے درد نہیں ہوتا ایسی کسی بھی چیز کا…. شاید وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے لیے یہ پل بھر کی باتیں ہیں جبکہ میں اس طرح کے ہزاروں دکھ ہر وقت دل میں رکھتا ہوں لوگ کہتے ہیں تم تلخ ہو…. لیکن تلخ میں نہیں ہوں یارو میں تو وہ آئینہ ہوں جس میں تم خود کو دیکھتے ہو ہاں تلخ تم سب ہو جو اس طرح کی تحریر پڑھ کر خبر سن کر ویڈیو یا مووی دیکھ کر کمنٹس یا سینی پلیکس میں چار آنسو بہا کر باہر نکل کر پھر سے بھیڑیے بن جاتے ہو…. تم سب مل کر یہ گھناؤنا معاشرہ بناتے ہو…. زیادہ ڈرامے نہ کرو ☺

  • 18-09-2016 at 11:42 pm
    Permalink

    Acchi tahreer baray arsay baad pari inspire …

  • 19-09-2016 at 10:24 am
    Permalink

    ?????????????????????????/????????????? I cnt stop tears in my eyes.why we are like this

  • Pingback: کیا خواجہ سرا ایک باعزت زندگی گزار سکتے ہیں؟ - ہم سب

  • 19-09-2016 at 11:45 pm
    Permalink

    دل زخمی کرنےوالی سٹوری ھے

  • 20-09-2016 at 9:25 am
    Permalink

    یہ ہر خواجه سرا كی کہانی نہین ایسے واقعات چند ہو سکتے ہین 99 فیصد خواجه سرا شوقیہ بنے ہوئے ہین جو معاشرے کے ناسور ہین معاشرے کو بے حيائى جنسى بے راہ روی کے علاوہ اور کچھ نہین دے رہے اور اب تو انہون نے خود کو مورت کہنا شروع کر دیا ہے اور یہی کہلوانا پسند کرتے ہین اچھی فیملی کے بچے اس ذلالت مين غوطه زن هين اور ان کے گھر والے بھی خوش هین کہ اولاد کما کر دے رہی ہے انہین یہ پرواہ نہین کہ کہان سے اور کیسے کما رہے ہین بازارون مین چوراہون پر گلیون مین خوشيون کے ہر فنکشنز مین یہ گند پھیلاتے نظرآئين گے

  • 20-09-2016 at 1:04 pm
    Permalink

    عمدہ ….بہت عمدہ تحریر اور اچھوتا خیال

  • Pingback: لینہ حاشر کہتی ہیں: ذرا سوچ کے آنا امتحان حشر میں - ہم سب

  • 20-09-2016 at 9:53 pm
    Permalink

    سب نے طرح طرح کے comments کےء لیکن کسی نے بھی اس جیسے ابا پر لعنت کا ایک لفظ نہیں کہا- میں خود ایک ایسے case سے واقف ہوں- اللہ رحم کرے-

  • 20-09-2016 at 11:38 pm
    Permalink

    سکرین بار بار دھندلاتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔کپڑے سے بار بار صاف کرنے کے باوجود دھندلی ہی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر جو دیکھا تو تو پتہ چلا :
    آنکھ دھندلائی گئی تھی، شہر دھندلایا نہ تھا
    کاش کوئی ایسا ادارہ ہو جہاں ان لوگوں کے ساتھ برابری کا سلوک برتنے کا سلیقہ سکھایا جائے

  • 21-09-2016 at 2:05 pm
    Permalink

    Nice thought
    Against people who have ever either compeled such kinds of humans to do evil or hate them

  • Pingback: ”ہم سب“ کے بارے میں دنیا اخبار کی تصحیح - ہم سب

  • Pingback: ابوالاعلی کو ”تحقیق“ پسند ہے ۔۔۔۔ - ہم سب

  • 23-09-2016 at 6:12 am
    Permalink

    ممیرا لکھاری سے ایک سوال ہے کہ کیا یہ سب کچھ کیا صرف خواجہ سراؤں کے ساتھ ہی ہوتا ہے؟

  • 27-09-2016 at 10:34 pm
    Permalink

    خواجہ سراؤں کے حوالے سے پروگراموں دستاویزی فلموں اور ٹاک شوز پر مبنی دیسی وڈیوز سے یوٹیوب بھرا پڑا ہے ۔ بہت کچھ لکھا بھی گیا ہے ۔ نہایت ہی اعلا پیرائے میں قلمبند کی گئی بےحد دلپذیر و دلگداز تحریریں سب رنگ ڈائجسٹ میں شائع ہو چکی ہیں ۔ مگر جو شہرت اور مقبولیت لینہ حاشر کی قلمی کاوش کو ملی اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ اس میں ان کی قسمت کے ساتھ ساتھ اس کا سو فیصد کریڈٹ “ہم سب” کو جاتا ہے ۔ جو کہ اس وقت صرف مضامین کی سب سے بڑی ویب سائٹ ہے ۔ یہی تحریر کہیں اور شائع ہوتی تو چند سو یا ہزار سے زیادہ ویوز اسے نہ ملتے ۔ مگر اس کے موضوع کے ساتھ ساتھ عنوان میں بے پناہ کشش اور جاذبیت ہونے کے سبب پڑھنے والے جوق در جوق اس طرف آئے ۔ اور ویوز کے حساب سے اسے ایک تاریخی حیثیت عطا کردی ۔ یہ ایک بہت دلچسپ اور خوش کن صورتحال ہے اگرچہ تحریر کا موضوع اور انداز و اسلوب بڑا ہی دلخراش اور ایک المئے کی بھرپور کیفیت لئے ہوئے ہے ۔ اور اس پر بھی کہیں تنقید و نکتہ چینی کی گنجائش نکال ہی لی گئی ۔ کسی کا اس تحریر کے رد میں اپنے الفاظ اور وقت کا خرچ بجائے خود اس کی کامیابی اور اثرپذیری کی دلیل ہے ۔ لینہ حاشر بلاشبہ قابل فخر و قابل رشک ہیں ۔ اللہ ان کے علم اور قلم کی طاقت میں اور اضافہ فرمائے ۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آ سکی کہ ساڑھے چار سو کے قریب فیس بک کمنٹس دو دن تک آف لائن کیوں رکھے گئے؟

  • Pingback: خواجہ سرا کا خط – تلافی کا پہلا قدم - ہم سب

Comments are closed.