علم کی دوئی اور۔۔۔ پر اعتماد زندگی!


ایک ادارہ تھا وہاں ہمارے ایک دوست ہوا کرتے تھے راؤ صاحب ٗ  سائنس اور ادب دوست تھےٗ  عموما ایک الجھن میں رہتے اور ہر کسی سے پوچھتے پھرتے تھے کہ ‘یہ لوگ اس قدر منافقت کے ساتھ زندہ کیسے ہیں اور شیو کیونکر بنا پاتے ہیں؟’

پوچھا حضور شیو بنانے کا منافقت سے کیا تعلق؟ فرماتے شیو بنانے کے لیے آئینے کے سامنے کھڑا تو ہونا پڑتا ہے۔

اس وقت تو ہمیں جواب نہیں ملتا تھا لیکن آج یقناً  اس حوالے سے سائنسی وضاحتوں کا علم ہے ۔ سائنسی وضاحتوں پر بعد میں بات کرتے ہیں لیکن پہلا معاملہ اس دوئی کے پیدا ہونے کا ہے ۔

مجھے آج تک پاکستان میں اسکولوں کی سمجھ نہیں آئی بالخصوص سرکاری اسکولوں کی ۔ چاردیواری اور اس میں بنے چند کمروں کو علم یا فری انکوائری کا مرکز کیوں کر قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ چار دیواری پر مزین مذہبی عبارات چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ حتمی سچ یہ ہے باقی لکھنے پڑھنے کا ہنر سیکھو اور چلتے بنو۔

درسی کتابیں کبھی سمجھ نہیں آئیں۔ طبعیات کے پہلے باب کو پڑھنے کے بعد باقی ابواب کو نتھی کرنے کا تکلف بے معنی سا لگتا ہے۔ پہلے باب میں حتمی اور قطعی سچ کے اعلان کے بعد ویکٹر سکیلر ٗ  حرکیات و برقیات ٗ  ایٹمی ذرے کا پوسٹمارٹم غیر ضروری ہو جاتا ہے۔

حیاتیات کے پہلے باب کے بعد نظریہ ارتقا کو اگلے ابواب میں ڈالنے کی کیا تک ہے۔ اور پہلے باب کو پڑھنے کے بعد (اور جس انداز سے مؤلفین نے اس کو شامل کیا اور جس انداز سے وہ پڑھایا گیا) کیا کوئی انسان نظریہ ارتقا کے حوالے سے سوال کرنے یا اس کو سچ ماننے کی جرات کر سکتا ہے۔

مجھے یا د ہے کہ سائنسی کتابیں امتحان کے نقطہ نظر سے رٹائی جاتی تھیں نہ کسی شاگرد نے ان کو ‘سنجیدہ ‘ لیا اور نہ ہی استاد نے ۔ استاد کی ذمہ داری فقط یہ تھی کہ اس مغربی بکواس کو رٹانا ہے اور زبانی یاد نہ کر سکنے کی صورت میں بچوں پر تشدد کرنا ہے ۔ (تشدد کے طریقوں میں اختراع اور جدت طرازی پر استادوں کا داد نہ دینا زیادتی ہو گی)

دوسوال ایسے تھے کہ انہوں نے زندگی اجیرن کیے رکھی۔ پہلا سوال ساتویں جماعت میں پیدا ہوا کہ حیاتیات میں لکھا ہوا ہے کہ انسانی جسم کی اکائی خلیہ ہے اور طبیعات میں لکھا ہوا ہے کہ مادے کی اکائی ایٹم ہے۔

 کیا انسانی جسم کی اکائی خلیہ ہے یا ایٹم ٗ  اور کیا انسانی جسم مادہ ہے ؟

کیونکہ انسانی جسم مادے کی تعریف پر تو پورا اترتا ہے تو مادہ ہو گا ٗ لیکن اگر مادہ ہے تو اس کی اکائی ایٹم کیونکر نہیں ہے۔

اب یہ سوال بچگانہ اس لیے لگ رہا ہے کہ ایک بچے کے ذہن میں ہی تو پیدا ہوا تھا اور اس کے لیے یہ سب سے بڑا سوال تھا۔

جماعت میں سوال کرنے کی جرات کوئی کیسے کرے۔ ایک دن میں نے ڈرتے ڈرتے ہاتھ اٹھایا۔استاد نے دیکھا اور کہا ٗ  کیا ہے؟

میں نے ٹوٹے پھوٹے انداز میں سوال کیاٗ  استاد نے ہاتھ میں تھامی کتاب ایک طرف  رکھی اور چھڑی گھماتا میری طرف آیا ۔۔

استاد نے کیا کہاٗ  یہ جاننے سے پہلے یہ جانیے کہ کھیتوں وغیرہ میں بنے گھروں کو ڈھوکیں کہا جاتا ہے ۔ سکول گاؤں میں تھا اور گاؤں دو تین سو گھروں کا ایک مجموعہ تھاجو ڈھوک والوں کی نظر میں ‘شہر’ تھا اور گاؤں کے بجائے ‘شاہر(شہر)’  ہی کہا جاتا تھا۔ شاہر والوں کی نظروں میں ڈھوکوں والے اجڈ گنوار اور جانگلی لوگ تھے۔ تو اب استاد کا جواب پڑھیے

” تکو او تکو جاکتو ٗ    ہلا ٗ تاں وت ڈھوکاں تے سائنس دان پیدا تھی گیا نے”

(دیکھو دیکھو لڑکو۔۔اچھا تو ڈھوکوں میں ایک سائنس دان پیدا ہو گیا ہے)

سائنسدان سر جھکائے کھڑا تھا اور پوری کلاس ڈھوکوں سے تعلق رکھنے والے اس سائنس دان کو غور سے دیکھ رہی تھی ۔ سب کا ہنس ہنس کر برا حال تھا ۔ پیٹ پر ہاتھ رکھے دہرے ہوئے جاتے تھے اور اس کمرہ میں سب سے خوش ذات اس وقت استاد گرامی کی تھی۔

مجھے احساس ہو ا کہ کیسی احمقانہ حرکت کر بیٹھا ہوں ۔ جہنم میں جائے ایٹم اور بھاڑ میں جائے خلیہ ۔ مجھے کس کتے نے کاٹا تھا جو یہ بکواس کر بیٹھا ہوں جبکہ آج تک کسی کی زبان سے ایسی احمقانہ بات یا سوال نہیں سنا۔

دوسرا سوال کیمیائی مساوات کے حوالے سے تھاٗ  جیسے ہی پیدا ہوا، ضمیر نے مجھے جوتے مارے۔ پہلے سوال کا نتیجہ جو سامنے آیا تھا اس کے بعد یوں لگا جیسے دوسرے سوال کا مطلب اجداد کی پگ چوراہے میں رکھنے کے مترادف ہے (بچوں سے بات ان کی ماؤں تک اور پھر پورے گاؤں میں پھیلتے دیر نہیں لگتی اور جلد آپ کی اس’احمقانہ حرکت ‘ کی روداد گھر تک پہنچ سکتی تھی اور پھر۔۔۔دفع کریں میں ایک معزز آدمی ہوں)

یہ نہیں تھا کہ جماعت میں کتابوں کے رٹا معاملات سے ہٹ کر بات نہیں ہوتی تھی ۔ ہوتی تھی مثال کے طور پر ۔۔اگر کوئی بچہ پوچھتا کہ ”استاد جی سنا ہے پینسٹھ کی جنگ میں سفید کپڑوں میں ملبوس فرشتے ہماری مدد کو آئے تھے” بس پھر پورا  پیریڈ اسی ‘دیومالائیت’ کی نذر ہو جاتا۔

الجبرا اور ریاضی کے معاملات بجھارتوں کی مانند تھے۔ استاد کے فرشتوں کو نہیں معلوم تھا کہ وہ کیوں یہ سب بجھارتی مشقیں ومشقتیں پڑھا رہا ہے۔۔ شاگردوں کو کیا خاک معلوم ہونا تھا۔سوال کو صحیح حل کرنے کو ‘سوال کڈھنا’ کہتے تھے اور ہم بس سوال کڈھتے رہتے تھے۔

معاشرے اور گھر میں ہر طرف مذہبیت کی خوف آلود دیومالائیت کا راج تھا۔ یہی خوف ان کے لیے علم کی دوئی کا سبب بنا۔

ایک طرف مغرب سے آنے والا وہ علم تھا جس کی منفعت سامنے تھی ۔ ان تمام منفعتوں کو بلا چوں چرا اختیار کر لیا گیا۔ انسان کے عقلی سوال اس کو بے اطمینان کر دیتے ہیں اس لیے ایسے سوال  کا کہ “کیا مغرب یا مغربی علم و ایجادات ہم سے بہت آگے ہیں”، یہ جواب دے کر اطمینان حاصل کر لیا گیا کہ ہمارے ہی اجداد کا علم ہے وغیرہ وغیرہ۔

خوف کے خول مضبوط ہوتے ہیں آپ جب بھی اس لوگوں کو علم نفسیات کی روشنی میں دیکھیں گے معذور تصور کریں گے۔ یہ اس دوئی اور غضب منافقت کے ساتھ کیونکر زندہ ہیں اور شیو بنا لیتے ہیں اس کا سادہ جواب یہ ہے ۔۔۔

کہ خوف پر مبنی اطلاعات کے غلط ہونے کا ادراک ہو جاتا ہے لیکن ان اطلاعات کے ساتھ خوف جڑا ہوتا ہے ۔ خوف انسانی زندگی کے بقا کے تصور سے پیچیدہ طور پر نتھی ہے ۔ جب بھی عقلی وضاحت آتی ہے اور آپ کا وہ خوف پر مبنی بنیادی آئیڈیا اپنے آپ کو خطرے میں محسوس کرتا ہے وہ ایسے نیوروٹرانسمیٹر دماغ میں چھوڑتا ہے جس سے گماں ہوتا ہے زندگی خطرے میں ہے ۔ ایسے میں خوف پر مبنی آئیڈیا کو ترجیح دے کر انسان بہتر محسوس کرتا ہے یہ بہتری اس لیے بھی محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس آئیڈیا کو چننے کے بعد دماغ میں آپ کے لیے خاص ستائش (ریوارڈ) امڈ آتی ہے۔

آپ  نہ صرف بھرپور انداز میں شیو کرتے ہیں بلکہ چہرے کا باریک بینی سے جائزہ بھی لے لیتے ہیں کہ کہیں کوئی سطح پر کھردرا پن تو ظاہر نہیں ہو رہا!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 146 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik