مقصود احمد کے ننانوے رنز اور لاہور جم خانہ کی دھوپ


لاہور میں کرکٹ سے متعلق بہت سے یادگار واقعات ہوئے، جن میں سے بہت سوں نے شائقین کرکٹ کو خوشی سے نہال کر دیا، تو چند ایک ایسے تھے، جو انھیں اداس کر گئے۔ لاہوریوں کو کرکٹ کے ضمن میں سب سے پہلے 1955ء میں مقصود احمد کے انڈیا کے خلاف 99 پرآؤٹ ہونے نے سوگوار کیا اور اہل لاہور پر کیا موقوف، پورے پاکستان میں اس کا غم منایا گیا۔ اس بات کا چرچا اس زمانے کے اخبارات میں خوب ہوا۔ ہونا بھی چاہیے تھا۔ لیکن سالہا سال گزرجانے کے باوجود اس نسل کے لوگوں کے ذہنوں میں اس واقعہ کی یاد باقی ہے۔ عام لوگ تو یاروں دوستوں ہی میں کسی واقعہ کی یاد تازہ کرسکتے ہیں،  البتہ اہل قلم کو یہ سہولت میسر رہتی ہے کہ وہ لکھ کرعہد رفتہ کو آواز دے سکتے ہیں، ایسا ہی کچھ مقصود احمد سے متعلق واقعے کے ضمن میں ہوا۔ مقصود احمد کے ایک رنزکی کمی کے باعث سنچری سے محرومی پر ممتاز ادیب مستنصرحسین تارڑ نے لکھا ہے ۔ معروف تاریخ دان اشتیاق احمد نے مقصود احمد کے آؤٹ ہونے پر ماحول کی سوگواری کا ذکر ایک مضمون میں کیا۔ نامور کرکٹ مبصر عمر قریشی جو اس سمے کمنٹری کر رہے تھے،  انھوں نے اپنے تاثرات “Home to Pakistan” میں عمدگی سے قلمبند کئے۔ مستنصرحسین تارڑ، اشتیاق احمد اورعمرقریشی کا بیان موقع کے گواہوں کی حیثیت سے ہے، جسے ہم ابن انشاء کے لفظوں میں’ ہم بھی وہیں موجود تھے‘، کے زمرے میں ڈال سکتے ہیں۔ نامی گرامی صحافی اورادیب چراغ حسن حسرت نے مقصوداحمد کے آؤٹ ہونے کی خبر ریڈیو پر جگر تھام کر سنی۔ ایک پنجابی ناول میں بھی اس واقعہ کا ذکر ہے۔ سب سے پہلے ہم مستنصرحسین تارڑ کے وہ تاثرات بیان کرتے ہیں جو ’’تارڑنامہ‘‘ کے ذریعے ہمارے سامنے آئے۔

’’انڈیا پاکستان کے لاہورٹیسٹ کے دوران ایک ایسا سانحہ ہوا جو اب بھی لاہوریوں کونہیں بھولتا…مقصود احمد اپنے شہزادوں ایسے اسٹائل سے بے خطر کھیلتے، ہندوستانی بولروں کی پٹائی کرتے ننانوے کے اسکورتک جا پہنچے۔ ان دنوں ہندوستان کے خلاف سنچری کرنا ایک معجزے سے کم نہ تھا۔ لارنس گارڈن کی جم خانہ گراؤنڈ میں جمع لوگوں میں ایک ہیجان آمیزکرنٹ دوڑنے لگا کہ مقصود سنچری کرنے والے ہیں۔ پھر وہ  ہوا جس کے گھاؤ آج تک تازہ ہیں۔ ادھر سے سلو باؤلر گپتے نے گیند کی۔ مقصود ایک شانداراسٹروک کھیلنے اورسنچری مکمل کرنے کے لیے کریزسے تین چارقدم آگے گئے، بیٹ گمایا، بال گھومتا ہوا ان کے قابومیں نہ آیا اور وکٹ کیپرتمہانے نے انھیں 99 پراسٹمپ آؤٹ کر دیا۔ پورے لاہورمیں ایک سناٹا چھا گیا،  حیدرآباد میں ایک شخص ریڈیو پر کمنٹری سنتاہوا مقصود کے  99 پر آؤٹ ہوجانے کی تاب نہ لا کر دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا۔ متعدد لوگ بے ہوش ہو گئے۔ بعد میں بیان آئے کہ یہ ہندوستانی بڑے کمینے ہیں، ایک پاکستانی کو سنچری کرتا دیکھ کربرداشت نہ کر سکے۔ وکٹ کیپر تمہانے اسے نہ کرتا اسٹمپ، سنچری ہوجاتی تو بے شک کر لیتا… بھلا یہ کوئی اسپورٹس مین اسپرٹ ہے، بلکہ یہ مطالبہ بھی ہوا کہ اگر کوئی بیٹسمین 99 تک پہنچ جائے تواسے ایک اضافی رن عطا کر دینا چاہیے یعنی صرف پاکستانی بیٹسمین کو۔ اہل لاہور نے آج  تک باؤلر گپتے اوروکٹ کیپر تمہانے کو معاف نہیں کیا،  اسی لیے تو مجھے آج بھی ان غیرمعروف ہندوستانی کھلاڑیوں کے نام یاد ہیں۔ ‘‘

Maqsood Ahmed (Left) with Imtiaz Ahmad

معروف فکشن نگارمستنصرحسین تارڑکا بیان آپ نے پڑھ لیا،  اب ایک بیان معروف تاریخ دان اشتیاق احمد کا بھی پڑھ لیں، جنھوں نے اس میچ کی گہماگہمی کو بچپن میں دیکھا۔ محسوس کیا۔ اور پھر اس کی یاد ہمیشہ کے لیے ان کے ذہن میں جم کر رہ گئی۔ پچاس برس بعد انھوں نے اس یاد کو اپنے ایک انگریزی کالم میں تازہ کیا،  جس کا کچھ حصہ ہم اردومیں ترجمہ کر کے پیش کرتے ہیں ’’ 50برس قبل لارنس گارڈن میں جم خانہ گراؤنڈ میں پاکستان اوربھارت کے درمیان ٹیسٹ میچ کھیلا گیا۔ اس میچ کی یاد آج بھی مضبوطی سے میرے ذہن میں نقش ہے۔ میں اس زمانے میں چھوٹا سا لڑکا تھا، جو ابھی آٹھ برس سے بھی کم عمرکا تھا۔ مجھے اپنا باؤنڈری لائن کے قریب بیٹھنا اور پاس ہی اس انڈین پلیئر کا فیلڈنگ کے لیے کھڑے ہونا یاد ہے، جس کا نام پنجابی تھا۔ ہم سب پنجابی تھے،  اس لیے کوئی اپنا نام پنجابی کیسے رکھ سکتا ہے۔ میں بہت حیران ہوا۔ کچھ لوگ اس سے بات چیت کر رہے تھے، اورماحول خاصا خوشگوار،  جس میں تناؤبھی موجود تھا،  ہمارا میری میکس مقصود 99 پرکھیل رہا تھا۔ اچانک شوربپا ہوا ہاو از دیٹ؟ قبل اس کے کہ کسی کو پتا چلتا کہ ہوا کیا،  مقصود اپنی کریز سے چلتا دکھائی دیا۔ لاہوری کراؤڈ ورطۂ حیرت میں ڈوب گیا اوراچانک ماحول سوگوار ہو گیا۔ گھر واپس جاتے ہوئے ہم نے خود کو بکھرا ہوا محسوس کیا۔ میرا خیال ہے کہ میں ٹیسٹ میں ایک رن کی کمی سے سنچری نہ کرنے کی ٹریجڈی کی سنگینی کا اندازہ تو نہ کر سکا البتہ اس بات کا اندازہ مجھے ہوگیا کہ کچھ بہت خوفناک ضرور ہو گیا ہے۔ اگلے روز اخبارمیں آیا کہ جب ریڈیو پرکمنٹیٹرنے مقصود کے 99 پر آؤٹ ہونے کا اعلان کیا توایک آدمی جان سے گزر گیا۔ ‘‘ اشتیاق احمد نے پنجابی نام کے جس ہندوستانی کھلاڑی کا ذکر کیا ہے وہ پنامل پنجابی تھے،  جواس سیریزکے پانچوں ٹیسٹ میچوں میں کھیلے لیکن کچھ خاص کارکردگی نہ دکھا سکے اورپھردوبارہ کبھی وہ بھارتی ٹیم کا حصہ نہ بن سکے ۔ پنامل پنجابی 1921ء میں کراچی میں پیدا ہوئے اورتقسیم سے قبل انھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں سندھ کی نمائندگی کی تھی۔ تقسیم کے بعد وہ ہندوستان چلے گئے اورگجرات کی طرف سے کھیلے۔ 2011ء میں ممبئی میں نوے برس کی عمرمیں ان کا انتقال ہوا۔ دلچسپ بات ہے کہ حنیف محمد نے ٹیسٹ میں جس واحد بیٹسمین کوآؤٹ کیا،  وہ پنامل پنجابی ہیں، جو پشاور ٹیسٹ میں حنیف محمد کا شکاربنے۔

اس میچ میں عمرقریشی اورجمشید مارکرنے کمنٹری کے فرائض انجام دیے۔ مقصود احمد کے 99رنزپرآؤٹ ہونے کی منحوس خبر سامعین تک عمر قریشی کی آوازکے ذریعے پہنچی جنھوں نے برسوں بعد اس میچ اور خاص طورسے مقصود احمد کی اننگزکا ذکرکیااورلکھا کہ اس کی یاد ذہن میں یوں تازہ بہ تازہ ہے، جیسے کل کی بات ہو، اوراسے کسی بھی کمنٹیٹرکی ڈریم اننگزقرار دیا۔ مقصود جب کریز پرآئے توپاکستان کے 55 پر دو کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے، سات اسکور کے اضافے پر تیسرا کھلاڑی پویلین لوٹا توکپتان کاردار ساتھ دینے آئے۔ دونوں نے مل کر 136 رنز جوڑ لیے ۔ مقصود کا حصہ اس میں 99 رنز تھا، جس سے اننگزکے موڈ کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ ونومنکنڈ پر اب دباؤ بڑھانے اورسنگل رنز سے روکنے کے لیے فیلڈر وکٹ سے قریب لے آئے۔ ماحول میں بڑی تناتنی تھی۔ ہرآنکھ مقصود پرلگی تھی کہ وہ کیسے ٹیسٹ میں اپنی پہلی سنچری کرتے ہیں۔ لیگ بریک بولر گپتے کا ان کوسامنا تھا۔ گپتے نے گیند پھینکا تومقصود نے چند قدم آگے بڑھائے اورشاٹ کھیلنے کی کوشش کی مگروہ گیند مس کر گئے اوروکٹوں کے پیچھے کھڑے تمانے نے بیلزاڑا کر اسٹمپ کر دیا۔ اسٹیڈیم میں سناٹا چھا گیا۔ عمرقریشی کے بقول،  ’گراؤنڈ میں ایسی خاموشی تھی جیسے کسی خاندان میں کسی کی ناگہانی موت کے سمے ہوتی ہے۔ ‘لوگوں کو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ ہو گیا ہے۔ سب غصے اورغم کے ملے جلے جذبات سے لبریز تھے۔ مقصود احمد نے گیند مس ہونے کے بعد پیچھے مڑ کر دیکھا لیکن اب ان کے پاس صرف پچھتاوا رہ گیا تھا۔ تھوڑی دیربعد وہ مایوسی کے عالم میں بوجھل قدموں کے ساتھ چلتے ہوئے پویلین لوٹے۔

چراغ حسن حسرت کے بیٹے ظہیرجاوید نے اپنے والد پر مضمون میں لکھا ہے ’’ وہ کرکٹ کمنٹری بھی بہت شوق سے سنتے تھے اور بھائی مقصود جب 99 پر آؤٹ ہوئے توان کا ملال دیکھنے سے ہی معلوم ہوسکتا تھا، بیان سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ‘‘ حال ہی میں شائع ہونے والے، پنجابی کے معروف ادیب نین سکھ کے ناول ’’مادھولال حسین: لہور دی ویل‘ ‘میں ایک کردار استاد فیقا بھی کرکٹ کا شیدائی ہے اوراسے بھی مقصود احمد کے آؤٹ ہونے کا غم بہت ہوااوربقول مصنف یہ سن کر’’اوہدا دل بند ہوندا ہوندا رہ گیا (اس کا دل بند ہوتے ہوتے رہ گیا) ‘‘

26 مارچ 1925ء کو امرتسر میں آنکھ کھولنے والے مقصود احمد نے1944-45ء کے سیزن میں سدرن پنجاب کی طرف سے اپنے پہلے فرسٹ کلاس میچ میں نادرن انڈیا کے خلاف رانجی ٹرافی میں سنچری بناکراپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ 1951-52ء میں ایم سی سی کے خلاف 137 رنزکی ناقابل شکست اننگز سے، ان کے پاکستان کی پہلی ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بننے کا دروازہ کھلا۔ 1952 ء میں دہلی میں پاکستان ٹیم پہلا ٹیسٹ کھیلنے میدان میں اتری تووہ اس تاریخی اسکواڈ کا حصہ تھے۔ لکھنؤ میں پاکستان ٹیم نے انڈیا کو اننگزسے شکست دے کر پہلی ٹیسٹ کامیابی حاصل کی۔ اس میچ میں مقصود احمد نے اہم موقع پر 41 رنزکی کارآمد اننگز کھیلی۔ وہ 1954ء کے دورۂ انگلینڈ میں بھی ٹیم کا حصہ تھے۔ ادھر وورسٹر شائرسے اولین فرسٹ کلاس میچ میں انھوں نے سنچری بنا ڈالی۔ اس اننگزمیں شانداربیٹنگ کی داد، انھیں کرکٹ پربہترین کتاب لکھنے والے سی۔ ایل۔ آر۔ جیمز سے بھی ملی۔ مقصود احمد کو پاکستان کا پہلا من موجی بیٹسمین کہا جا سکتا ہے، جو کسی بولر کو خاطر میں لاتے نہ ہی میچ کی صورتحال ان کے کھیل پر اثر انداز ہوتی۔ اسی خو کے باعث، انھیں میری میکس کہا جانے لگا جو اصل نام کا لازمی جزو ٹھہرا۔ انگلینڈ کے دورے میں ناٹنگھم ٹیسٹ کی دوسری اننگزمیں انھوں نے آٹھ چوکوں اوردو چھکوں کی مدد سے جلد ہی 69 رنز بنا ڈالے۔ ’’وزڈن‘‘ نے ان کی اننگز کو پاکستان کی طرف سے بیٹنگ کا بہترین نمونہ گردانا۔ مقصود احمد کے کیریئر کا نقطۂ عروج 1955ء میں ہندوستان کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں 99 رنز بنانا تھا، سنچری سے محرومی پران کے نام کا جتنا ڈنکا بجا وہ سنچری بنا لینے پر بھی ممکن نہ ہوتا۔ اس یادگارٹیسٹ کے بعد ان کا کیریئر زیادہ عرصہ جاری نہ رہا اور 26 اکتوبر1955ء کووہ لاہورمیں نیوزی لینڈ کے خلاف سولہواں اورآخری ٹیسٹ کھیلے۔ معروف تجزیہ نگار نعمان نیازکے بقول، 1958ء میں ویسٹ انڈیزکی دورے سے قبل قومی ٹیم کے کیمپ میں کاردار سے کسی بات پر الجھنے کے باعث، مقصود احمد کے لیے پاکستان ٹیم کے دروازے بند ہو گئے اورفرسٹ کلاس کرکٹ میں عمدہ پرفارمنس کے باوجود وہ دوبارہ پاکستان ٹیم کا حصہ نہ بن سکے۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد مقصود احمد نے ریڈیوٹی وی پر کمنٹری کی۔ اخبارات میں مضمون لکھے۔ قومی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ رہے۔ 4 جنوری 1999ء کو راولپنڈی میں ان کا انتقال ہوا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں