ایک بوسے کا مول


فاسٹس اپنی لائبریری میں بیٹھا اپنے علم کا محاسبہ کررہا ہے۔ وہ اپنے دور کے ہر علم میں یکتا سہی مگر کوئی خلا ہے جو اُس کا علم بھی پُر نہیں کرپایا۔ یہ خلا ایک انوکھا مکالمہ جنم دیتا ہے۔ فاسٹس اکیلا ہے۔ وہ بیک وقت صادق بھی ہے اور سامع بھی۔ وہ علم کی سیڑھی لگا کر آسمان پر بیٹھنا چاہتا تھا مگر اب اُسے اعتراف ہوچلا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرسکا۔ وہ خود سے ہم کلام ہوتا ہے۔

کیا تم زندگی بھر ارسطو کے افکار میں ڈوبے رہوگے؟ تجزیات نے تمہیں جیتے جی ماردیا ہے! مگر تم منطقی ہوں۔ لیکن منطق کا پھل کیا ہے؟ دلائل و براہین کی جنگ میں فتح؟ کیا تم استدلال کے بادشاہ نہیں ہو؟ کیا الفاظ کی جنگ میں جیت کوئی اتنا بڑا معجزہ ہے کہ اس کی مستی میں جیون گذار دیا جائے؟ نہیں۔ اس لئے اب منطق کو خُدا حافظ کہہ دو۔ ہاں تم طب کے ماہر ہو۔ مریضوں کو شفا دو اور سونے چاندی کے ڈھیر لگا دو۔ کوئی نیا علاج دریافت کرو اور امر ہوجاؤ۔ لیکن ٹھہرو۔ طب کا انت جسمانی صحت ہے، کیا یہ مقصد اُس وقت پورا نہیں ہوا تھا جب تم نے طاعون زدہ شہرِ مدفون کو پھر سے زندہ کردیا؟ مگر پھر بھی تم وہی فاسٹس رہے۔ ایک انسان، ایک فانی انسان۔ کیا تم لافانی ہوسکتے ہو؟ تم نیم خُدائی طاقت حاصل کرنا چاہتے تھے اور وہ طاقت تمہیں علم نہیں، ابلیس دے سکتا ہے۔

وہ شمع کی لو پر اپنا خون جلا کر ابلیس کو طلب کرلیتا ہے۔ ابلیس شیطانی روپ میں ظاہر ہوتا ہے ، فاسٹس ڈر جاتا ہے اور اُسے مبلغ کے روپ میں ظاہر ہونا پڑتا ہے۔ فاسٹس کہتا ہے کہ تم پر یہ روپ خوب جچتا ہے۔ وہ ابلیس کو بتاتا ہے کہ وہ چو بیس برس کے لئے قادرِ کُل بننا چاہتا ہے۔ اس دوران وہ چاہے تو چاند کو آسمان کی چھاتی سے نوچ کر زمین پر پٹخ دے یا پھر سمندروں کے پیالوں کو زمین پر اچھال دے۔ رُوحوں کو طلب کرے ، اُڑتا ہوا ہندوستان پہنچے اور سارا سونا لے اڑے۔ سمندروں کی کوکھ مشرقی موتیوں سے خالی کردے۔

فاسٹس اور ابلیس کے درمیان معاہدہ طے پاجاتا ہے اور اب وہ ہواؤں میں اڑ سکتا ہے اور عالم ارواح سے رُوحیں طلب کرسکتا ہے۔ ایک بادشاہ سکندرِ اعظم سے ملنے کا خواہش مند ہے اور فاسٹس سکندر کو اُس کے دربار میں طلب کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ بادشاہ سکندر کے چرن چھو کر اُس کی فتوحات کے قصے سناتا ہے تو سکندر کہہ اٹھتا ہے ، ’’یہ سب تمہیں کس نے بتایا ہے؟ میں نے تو ایسا کبھی نہیں کیا تھا ‘‘۔

چوبیس سال اسی طرح گذر جاتے ہیں اور اب فاسٹس کی ابدی سزا کا وقت شروع ہوا چاہتا ہے۔ یہ سوچ کر پہلے وہ خوفزدہ ہوتا ہے اور پھر ابلیس کو حکم دیتا ہے کہ یونان کی حسین ترین عورت ہیلن پیش کی جائے۔ حکم کی تعمیل ہوتی ہے اور شیطان کا ایک چیلہ ہیلن کے روپ میں اس کے سامنے آتا ہے۔ فاسٹس اُسے دیکھتے ہی کہہ اٹھتا ہے۔

تو یہ ہے وہ چہرہ جس کے لئے ہزاروں جہاز کا بیڑہ جنگی مہم پر نکلا اور ایلیوم کے فلک بوس مینار بھسم کردیے گئے؟

ہیلن مجھے ایک بوسے سے امر کردو!

وہ ازل سے ابد تک ان ہونٹوں کی جنت کا رس لینے کی خواہش میں رو پڑتا ہے۔ اُسے پہلی بار پتہ چلتا ہے کہ صرف محبت کی مستی میں جیون گذارا جاسکتا ہے۔

سترھویں صدی میں چرواہوں کا ایک غریب یہودی خاندان پرتگال میں ظلم و ستم سے تنگ آکر ایمسٹرڈیم آباد ہوا۔ اس خاندان میں ایک نوعمر لڑکا بھی تھا جسے مذہبی تعلیم کے لئے ایک رائبائی کے پاس بھیجا گیا جو عبرانی زُبان و ادب، فلسفہ و منطق ، عہد نامہ عتیق اور تالمود کے ماہر تھے۔

یہ کوئی ذہین لڑکا نہیں تھا لیکن رائبائی کے ہاں تعلیم کے دوران وہ اس کی بیٹی کے عشق میں گرفتار ہوگیا تو اس کی فکری صلاحیتیں اچانک بیدار ہوئیں۔ لڑکی حسین و جمیل بھی تھی اور سریع العقل بھی۔ لڑکا اس کا دل جیتنے کے لئے ریاضت کرنے لگا۔ وقت گذرتا گیا اور دونوں بچوں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ دیا۔ لڑکا انتہائی شرمیلا تھا۔ وہ سارا دن اُس لڑکی کے ساتھ گذارتا اور راتیں مطالعے کی نذ ر ہوجاتیں۔ یہی وہ دور تھا جب اُسے زندگی کے کیف اور مستی کا تجربہ ہوا۔ لیکن اس کی خوشیوں کے دن گنے جا چکے تھے۔ ایک روز اسے خبر ملی کہ رائبائی کی بیٹی کی شادی کسی امیر مرد سے طے پائی ہے اور لڑکی بہت خوش ہے۔

یہ سننے کے بعد وہ استاد کے گھر سے ایسا نکلا کہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا۔ اُس کا بے پناہ غم اُسے دیوانگی کے عالم میں صحراؤں میں لے گیا۔ یہ صحرا ریت کے سمندر نہیں علم و حکمت کے ان گنت بحیرے تھے۔ درد کا چابک پڑا تو وہ بہت دُور نکل آیا اور جب لوٹا تو دھتکارہ ہوا غریب عاشق نہیں عظیم مفکر تھا جسے دنیا آج سپینوزا (Spinoza) کے نام سے مانتی ہے۔ یہ ٹھکرایا ہوا عاشق اپنی زندگی میں ہی اپنے وقت کا سب سے بڑا مفکر کہلایا۔

اس نے اپنی فکر سے الہٰیات اور مابعد الطبیعات کا رُخ موڑ دیا لیکن جب اُس کی موت قریب تھی تو وہ زارو قطار رو رہا تھا۔ بسترمرگ پر ساتھ بیٹھے ایک دوست کے دل میں آئی کہ شاید موت کے خو ف سے رو رہا ہے۔ دوست نے کہا کہ آپ تو خوش ہونا چاہیے کہ آپ چند برسوں میں دنیا کے ہر صائب فکر کے محبوب ہیں۔ جب جب علم و فکر کی بات ہوگی آپ کے نام کے بنا ادھوری ہوگی۔ آپ اپنے علمی کارناموں پر غور کریں تو سکون ملے گا۔

سپینوزا نے جواب دیا۔

میں نے حکمت کے صحراؤں کی خاک محض اس لئے چھانی کہ ان سے باہر کسی کی یادوں کے الاؤ جل رہے تھے۔ اگر مجھے کسی کے قرب کا نخلستان مل جاتا تو کون پاگل ان صحراؤں کا رُخ کرتا؟

کوئی خریدار ہو تو میں اپنے سارے کارنامے اُس ایک لمحے کے مول بیچ سکتا ہوں۔ جب کسی نے پہلی بار میرے کاندھے پر سر رکھ کرایک بوسے کی اجازت دی تھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں