طلوع سحر ہے شام قلندر


\"akhterکبھی کبھار دل ان گلی کوچوں میں بھٹکنے اور آوارگی کرنے کو کرتا ہے جہاں کے نقش اب تاریخ نے یا تو مٹا دیے ہیں یا پھر انہیں اتنا تبدیل کر دیا ہے کہ انہیں پہچاننے کے لیے آنکھوں کو کچھ زیادہ ہی تکلیف دینے کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔ مگر جن پیروں کو سفر کی عادت پڑ جائے تو شاہ سائیں کے شعر کی مانند کہ “جنہیں سفر کا آسرا ہو وہ کبھی بھی اپنے کھڑاؤں اتار کر چین سے نہیں سوتے ہیں”۔ اس بار میرے سفر کی منزل سہون شہر کی وہ گلیاں تھیں، جہاں لعل شہباز قلندر کی مزار پر ہزاروں زائرین آج بھی حاضری بھرنے آتے ہیں۔ یہ شہر حیدرآباد سے ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہے۔ جیسے جیسے آپ اس شہر کے قریب ہونے لگتے ہیں، سنگلاخ پہاڑوں کا دامن اور بھی وسیع ہوجاتا ہے۔ یہاں سے کھیر تھر کا پہاڑی سلسلہ ہے، جو صدیوں سے قائم ہے۔ “لعل میری پد رکھیو بھلا جھولے لالن” جیسا گیت بھی اس درگاہ سے ہی منسوب ہے۔ جسے دنیا کے بہت بڑے فنکاروں نے گایا ہے۔

سہون شہر اپنی ایک نرالی تاریخ رکھتا ہے۔ یہ شہر نہ صرف قدیم ترین ہے بلکہ اس کا ذکر ہمیں تاریخ کی قدیم ترین کتب میں بھی ملتا ہے۔ اس شہر کے نام کے حوالے سے بھی بہت ساری باتیں کہی جاتی ہیں کہ اس پر یہ نام کیسے پڑا۔ کئی مورخیں ہیں جو اس کے نام کے بارے میں مختلف آرا پیش کرتے ہیں۔

سندھ کے مشہور تاریخ دان بھرومل مہرچند ایڈوانی اپنی کتاب “سندھی ہندن جی تاریخ” میں لکھتے ہیں کہ “یہ شہر راجا اشنیر کے بیٹے شبی نے آباد کیا تھا، جس کی وجہ سے اس کا نام شبستان یا سیوستان پڑ گیا”۔ راجا اشنیر رامائن کے زمانے جتنا قدیم ہے۔ جبکہ ایک خیال یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ اس شہر کا حقیقی نام “شو استان” ہے۔ یعنی “شو کا آستھان”۔ مگر پھر یہ نام سیوستان پڑ گیا۔ جوکہ بعد میں سہون بن گیا، \"img_7434\"اور آج تک اسے اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔

قلندر کی درگاہ کے دامن میں ہی سہون کا قلعہ ہے۔ جو اب مٹی کا ڈھیر بن چکا ہے۔ یہ اپنے زمانے میں ایک دفاعی قلعہ مانا جاتا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق یہ قلعہ رائے سہاسی دوئم کے زمانے میں تعمیر کیا گیا تھا۔ رائے سہاسی نے 603 ع میں وفات پائی تھی۔ اس کے بعد اس قلعے کو 713 میں محمد بن قاسم نے فتح کیا تھا۔ جب راجا ڈاھر کو شکست ہوئی تھی۔ تاریخ کے اوراق آج بھی سہون کی تاریخ کے شواہد دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 326 ق م میں سہون کا حکمران راجا سامبس تھا۔ جنہوں نے سکندر کے خلاف بغاوت کی تھی۔ سامبس کا تعلق بدھ مت سے تھا۔ اس زمانے میں اس شہر کا نام سنڈیمن تھا۔ جبکہ 1520 کے زمانے میں شاہ بیگ ارغون نے سمہ حکمرانوں سے سہون خالی کروایا تھا۔ مگر وقت کا پرندہ کبھی گھونسلہ نہیں بناتا وہ ہمیشہ آگے بڑھتا رہتا ہے اس لیے وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اس طرح اس قلعے کا زوال بھی شروع ہوا۔ آج اس قلعے کی خستہ حال بچی کچھی دیواریں شکست کی کہانی بیان کرتی ہیں۔

مگر پھر بھی وہاں ایک ایسی دنیا آباد ہے جہاں لوگ آج بھی بار بار یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ قلندر جس کی کرامتوں کے عام لوگ دیوانے ہیں، \"img_7406\"انہیں یہاں آئے بنا کہیں اور سکون نہیں ملتا ہے۔ ہر سال لگنے والے قلندر کے میلے میں ملک بھر سے ہزاروں زائرین آتے ہیں گو کہ حیدرآباد سے سہون جانے والی سڑک پر حادثات ایک معمول کی بات ہے اور میلے کی بھیڑ میں زائرین کا جان گنوانا ہر سال ہوتا رہتا ہے مگر یہ ایک ایسی عقیدت کا سفر ہے جو دہائیوں سے چلا آرہا ہے۔

میں قلندر کی درگاہ کی گلیوں میں داخل ہوتا ہوں تو وہاں اک عجب سا ماحول میرے سامنے ہوتا ہے۔ وہ تنگ گلیاں جہاں چھوٹی چھوٹی دکانیں، جن میں کہیں رنگ برنگے دھاگے ہیں، کہیں ٹلے ٹنگے ہوئے ہیں، کہیں چادریں ہیں، تو کہیں مٹھایاں ہیں۔ مگر یہ سب اس درگاہ کی روایت کا حصہ ہے کیونکہ آپ اگر وہاں جاتے ہیں تو وہ صرف قلندر کی ہی نگری نہیں ہے بلکہ دیگر فقیر بھی وہاں مدفون ہیں۔ جن کے مقبروں کا دیدار کرنا اور ان پر عقیدت کے پھول چڑھانا یہاں کی بہت پرانی روایت ہے۔ میں انہی گلیوں میں سے گزر کر جیسے ہی درگاہ کے احاطے میں داخل ہوتا ہوں تو مجھے شاہ مردان سخی سکندر بودلہ بہار کا مزار نظر آتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بودلہ بہار قلندر کے بہت قریبی ساتھی اور خدمت گزار تھے۔ وہ ملتان کے رہنے والے تھے۔ اپنی جوانی کے دنوں میں وہ سہون شریف آئے اور دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی، وہ ہمیشہ روحانی رہبر کی تلاش میں \"img_7404\"رہتے تھے۔ آخرکار انہیں قلندر شہباز کی صحبت نصیب ہوئی۔ ایک روایت کے مطابق انہیں ہنود قصاب نے ذبح کر دیا تھا۔ ان کے نام سے “بودلی کی کافی” بھی ہے۔ ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر ان کے فقیر اور مرید لال لباس پہنتے ہیں اور روز پیروں میں گھنگھرو باندھ کر دھمال ڈالتے ہیں۔ بودلہ بہار کی موت ہی سہون کے قلعے کا زوال بنی۔ یہ ایک لوک داستان ہے کہ ان کے قتل کیے جانے کے بعد لعل شہباز نے ہی اس قعلے کو الٹا کر دیا تھا۔

سید عثمان مروندی جو کہ قلندر لعل شہباز کے نام سے مشہور ہیں، ان کی اپنی زندگی زیادہ تر سیر و سفر میں گزری ہے۔ ان کا جنم مروند میں ہوا۔ وہ عراق، عربستان، بخارا، قندھار سے ہو کر پھر سندھ اور ہندوستان آئے تھے۔ ہندوؤں کی بھی ان سے ایک خاص عقیدت ہے اس لیے انہیں “جھولے لعل” بھی کہتے ہیں۔ آج جہاں سہون کا شہر آباد ہے وہاں پر ہی انہوں نے اسے اپنا مسکن بنایا تھا۔

جب انہوں نے سہون میں قیام کیا تھا، اس وقت سندھ کے دو بڑے شہر اروڑ اور نیرون کوٹ تھے، جو اس وقت اپنی حیثیت گنوا رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ قلندر جیسی شخصیت کو ظلم و جبر مٹانے کے لیے چنا گیا تھا۔ آج ان کے ہزاروں عقیدت مند ہیں جو بنا مذہبی فرق کے یہاں آتے ہیں۔ سندھ میں درگاہوں کا ایک ایسا کلچر صدیوں سے پروان چڑھ رہا ہے جہاں لوگ اپنے دکھوں کا علاج کرنے آتے ہیں، وہ درگاہوں کی چوکھٹ پہ دیئے جلاتے ہیں، مزاروں پہ چادریں چڑھاتے ہیں، پھول نچھاور کرتے ہیں اور شاید خود کو ٹٹلونے کے لیے بھی وہاں آتے ہیں۔ اس\"img_7554\" روز بھی میں نے ایسے ہی مناظر دیکھے۔ درگاہ میں داخل ہوتے ہی کئی آوازیں آپ کے کانوں سے ٹکراتی ہیں کہ اس طرف آئیں یہاں پر حاضری ضروری ہے۔ قلندر کے مزار پہ ہی ایک بہت بڑا سا تعویز بھی معلق ہے جس میں ایک پتھر نصب کیا گیا ہے۔ جس پر دن کے وقت پانی کا چھڑکاؤ ہوتا رہتا ہے اور وہی پانی عقیدت مند اپنے اوپر اس امید پہ چھڑکتے ہیں کہ انہیں شفا ملے گی اور ان کے دکھ درد دور ہو جائیں گے۔

جا بجا لوگوں کے ہجوم جن میں عورتیں بھی پیش پیش تھیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہمارے ہاں عورتیں خود کو انہی درگاہوں پہ آزاد محسوس کرتی ہیں۔ اس درگاہ کے کئی رنگ ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے آنکھوں سے زیادہ اس دل کی ضرورت ہے جو ان رنگوں کو محسوس کر سکے۔ مجھے لعل قلندر کے باغ کی جانب جانا تھا۔ اس لیے میرے قدم اس باغ کی جانب بڑھنے لگے، جہاں قلندر لعل شہباز اپنے عقیدت مندوں کے ساتھ تشریف فرما ہوتے تھے۔ آج اس باغ کی حالت بگاڑ کا شکار ہے۔ جبکہ ان کے ہی ایک چاہنے والے کا آستانہ بھی وہیں تھا جو اب تباہ حالی کا شکار ہے۔ یہ باغ اس زمانے سے لے کر اب تک قائم ہے مگر اب یہ ایک ایسا اڈا بن چکا ہے جہاں صرف جوا ہوتا ہے۔

غلام نبی جروار پیشے سے وکیل ہیں مگر وہ تاریخی عمارات اور سیر و سیاحت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے جب مجھے بتایا کہ لکی \"img_7534\"شاہ صدر کے دامن میں سنگ لاخ پہاڑوں کے سینے میں چشمے ہیں، اگر انہیں آپ نے فراموش کر دیا تو سہون آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ بات کرتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ غلام نبی جروار کی آنکھوں میں وہ چشمے پھوٹ آئے ہوں، وہ مجھے ان چشموں کی جانب لے گئے۔

یہ ایک سحر انگیز جگہ ہے۔ سہون جانے والے سڑک کے بائیں جانب تھوڑے سے فاصلے پر ہی وہ چشمے آنکھوں کو موہ لیتے ہیں۔ یہاں پر جلد کی بیماریوں میں مبتلا لوگ نہانے آتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اس پانی سے انہیں شفا ملتی ہے۔ یہ سب چشمے نمکیات والے پانی سے بھرپور ہیں، اس لیے ان کا پانی کھارا ہے۔ بہتے پانی کی سرگرم کانوں کو بھا رہی تھی۔ کہیں پر ٹھہرا ہوا پانی تھا جس میں سورج چمک رہا تھا۔ اور کہیں کائی جم گئی تھی جس کی وجہ سے پانی کا رنگ سبز تھا۔ کھیر تھر کی ان تنہا پہاڑوں میں سے پھوٹتے ہوئے ان چشموں کا سنگیت میں کافی دیر تک سنتا رہا۔ اور سورج ان پہاڑوں کے پیچھے سرکتا ہوا غروب ہوگیا۔ میرے کانوں میں سنگر علی سلیم کا کلام “اٹھو رندو طلوع سحر ہے شام قلندر” گونجنے لگا۔ آج نہ قلندر ہے اور نہ ہی بودلہ بہار رہا ہے مگر یہ نگری آج بھی ان لوگوں نے آباد کی ہوئی ہے جنہیں یہ امید ہوتی ہے کہ ان کے من کی مرادیں یہاں سے ہی پوری ہوں گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

اختر حفیظ

اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر رہے ہیں۔

akhter-hafeez has 18 posts and counting.See all posts by akhter-hafeez