دیانت دار عمران خان کی ایک تصویر


ْغلطی کس سے نہیں ہوتی۔ اصل بات اسے تسلیم کرنا اور اس سے سبق سیکھنا ہوتا ہے۔ ایسا اسی صورت ممکن ہے، جب آپ اپنی غلطی مان لیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپرراشد لطیف اپنی ہٹ کے پکے ہیں۔ 13 برس پہلے ان سے ایک غلطی ہوئی،جس سے پاکستان اوران کی بدنامی ہوئی۔ اس وقت انھوں نے اپنے کئے کی سزا کاٹ لی تھی لیکن اپنے عمل پرشرمساری انھیں تب تھی نہ اب۔ 2003 بنگلہ دیش کے خلاف ملتان ٹیسٹ میں راشد لطیف نے یہ جانتے بوجھتے کہ گیند زمین سے مس ہوگئی ہے، الوک کیپالی کے کیچ کا کلیم کیا، جس پر امپائر نے انگلی کھڑی کردی۔ ٹی وی ری پلے سے اصل حقیقت سامنے آنے پر آئی سی سی نے راشد لطیف پر پانچ ون ڈے میچوں کی پابندی لگادی۔ قدرت نے بھی اپنا فیصلہ سنایا اور اس واقعہ کے بعد راشد لطیف کے ہاتھ سے کپتانی بھی گئی اور ان کا ٹیسٹ کیرئیر بھی انجام کو پہنچا اور ان کی جگہ اس ٹیسٹ میں یادگار اننگز کھیل کر پاکستان کو ایک وکٹ سے کامیابی دلانے والے انضمام الحق کپتان بنے۔

راشد لطیف نے جب بے ایمانی کی تو وہ عام کھلاڑی نہیں تھے، ٹیم کی قیادت ان کے سپرد تھی، اس اعتبار سے ان پر صاف ستھرے کھیل کی ذمہ داری سب سے بڑھ کر تھی۔ عمران خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کرکٹ میں ہماری قیادت جس اخلاقی بحران کا شکار ہوئی، راشد لطیف بھی اسی کا مظہر تھے۔ مصباح الحق کے کپتان بننے سے ٹیم کی اخلاقی ساکھ دوبارہ عمران خان کے دور کی سطح پر بحال ہوئی ۔ مصباح الحق کو عمران خان سے زیادہ بڑے چیلنج کا سامنا تھا کیونکہ انھیں کپتانی سپاٹ فکسنگ میں ملوث کپتان سلمان بٹ سے منتقل ہوئی تھی۔

عمران خان کی کپتانی میں1987ء میں لیڈزٹیسٹ میں وکٹ کیپر نے زمین پر گیند لگ جانے کے باوجود بوتھم کے کیچ کا کلیم کیا تھا، جس پر بیٹسمین نے وکٹ کیپر کی جو کی سو کی لیکن عمران خان نے بھی سلیم یوسف کو خوب جھاڑا۔ ان کی تادیب کن الفاظ میں تھی وہ ہم تک نہیں پہنچے مگرسلیم یوسف کو ڈانتے ہوئے عمران خان کی ایک تصویرموجود ہے جو ہزار لفظوں پر بھاری ہے۔

عمران خان نے اپنے دور کپتانی میں تین دفعہ امپائر کے فیصلے سے غیر مطمین بیٹسمینوں کو بیٹنگ جاری رکھنے کو کہا۔ اس کی ایک مثال تو ہندوستان کے خلاف 1989ء میں لاہورمیں ون ڈے میچ کی ہے، جس میں ایل بی ڈبلیو ہونے پر پر سری کانت کی بڑبڑ سن کر عمران خان نے انھیں دوبارہ بیٹنگ کی دعوت دی جسے قبول کرنا ان کے حق میں نہ گیا اور وہ وقار یونس کی اگلی ہی گیند پر سلیم یوسف کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔

کرکٹ کی معروف ویب سائٹ کرک انفو نے کچھ عرصہ پہلے مذکورہ ملتان ٹیسٹ کے بارے میں ایک فیچر تیار کیا، جس میں اس میچ میں شریک چند کھلاڑیوں کے تاثرات شامل کئے۔ راشد لطیف کے بیان سے ہمیں یہ سب لکھنے کی تحریک ہوئی۔ موصوف نے فرمایا کہ انھیں اپنے عمل پر کوئی افسوس نہیں۔ بھلے سے کوئی اسے بے ایمانی کہتا پھرے انھیں بہرحال کوئی پشیمانی نہیں۔ ان کے بقول، یند کے زمین پر لگنے کا انھیں فوری اندازہ ہو گیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی احساس جرم انھیں ملک کا نام بیچ میں لا کر اپنے فعل کی تاویل کرنے پر اکساتا ہے، پر بات بنتی نہیں اور ان کا یہ کہنا کہ بندہ ملک کے واسطے سب کچھ کرتا ہے، بے معنی بات بن جاتی ہے۔ یہ کہہ کر وہ معاملہ اور بھی الجھا دیتے ہیں کہ انھوں نے بے ایمانی کرنے کے بعد سنیئر کھلاڑیوں کو اعتماد میں لے کربیٹسمین کو واپس بلانے کا آپشن دیا تھا لیکن طے یہی ہوا کہ اسے پویلین لوٹ جانے دیا جائے۔ اسے کہتے ہیں:عذر گناہ بدتر از گناہ ۔ سیدھی سی بات ہے کہ کیچ کے صحیح ہونے نہ ہونے سے متعلق بتانا تو موصوف نے خود تھا۔ جب آپ نے اپیل کردی توانصاف کا خون وہیں ہو گیا۔ امپائر کے آؤٹ دینے کے بعد مشاورت کیسے ہو سکتی ہے؟ اس گناہ میں سنیئر کھلاڑیوں کو شریک اس لیے نہیں کرسکتے کہ راشد لطیف کپتان تھے لہٰذا حتمی فیصلہ انھی نے کرنا تھا۔ راشد لطیف ملکی مفاد کی بات کرتے ہیں ،انہیں بتانا چاہیے کہ پاکستان کی بدنامی ان کی بے ایمانی سے ہوئی، وہ دیانت داری کا مظاہرہ کرتے، تو اس سے ان کا اور قوم کا شملہ اونچا ہوتا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں