دلیل کی تذلیل اور اصطلاحات کا شور


aasemزمانہ جدید میں لسانیاتی فلسفے سے برآمد ہونے والے ایک اہم نتیجے کے مطابق سماجی حقیقت کے خدوخال خارج میں کسی ساکت نظرئیے کے مرہونِ منت نہیں ہوتے بلکہ ہمارے ارد گرد موجود واقعات و حقائق اس لئے سماجی طور پر تسلیم کئے جاتے ہیں کیوں کہ ہم سب کسی بھی وجہ سے ان پر باہمی اتفاق کرنے پر رضامند ہو جاتے ہیں۔ یہ رضامندی کسی جبر کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے اور کسی مشترکہ تفہیم پر اتفاقِ رائے کا بھی۔ مثال کے طور پر سو روپے کا نوٹ صرف اس لئے سو روپے کا نوٹ نہیں ہوتا کہ اس کا اجرا حکومت کی جانب سے کیا جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ لازم و ملزوم وجہ یہ بھی ہے کہ ہم سب اس کو متفقہ طور پر لین دین کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور متفقہ طور پر حکومت کا جبر تسلیم کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر آج آپ اپنے محلے میں رائے عامہ ہموار کریں اور اس معاملے پر اتفاقِ رائے کر لیں کہ دودھ والا آپ کو دودھ فراہم کرے گا اور اس کے بدلے میں آپ اس کے بچے کو ریاضی، اردو اور انگریزی پڑھائیں گے تو نظری طور پر یہ عین ممکن ہے کہ آپ ایک تحریک برپا کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور یوں یہ تحریک ایک کے بعد دوسرے محلے میں پھیلتی چلی جائے۔یہ نظریہ اس مفروضے پر منحصر ہے کہ الفاظ اور ان کے باہمی تعلق سے جو پیچیدہ معنویاتی گروہ وجود میں آتے ہیں وہ ماورائے زمان و مکاں نہیں ہوتے بلکہ ایک مخصوص سماجی حقیقت کے خدوخال پر منحصر ہوتے ہیں۔
اس نظرئیے کو پس منظر میں رکھتے ہوئے اس بات کا امکان ظاہر کرنا معقول ہے کہ ایک ہی سماجی حقیقت سے تفاعل پذیر اذہان اپنی ماہیت میں اس قابل ہوتے ہیں کہ کسی اجتماعی تفہیم پر اتفاقِ رائے کر سکیں۔ لیکن اس امکان کی راہ میں حائل رکاوٹوں میں سے ایک بڑی رکاوٹ مشترکہ زبان اور مشترکہ تفہیمی تناظر کا موجود نہ ہونا ہے۔ اگر ذرا فلسفیانہ موشگافی کی اجازت دی جائے تو یوں کہنا پسند کروں گا کہ معروضیت اور موضوعیت کے پیمانوں پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کے باعث ہم سب ہی مکالمے میں خودکلامی کے درجے سے آگے نہیں بڑھ پا رہے۔ اسلوب نہایت مضحکہ خیز ہے۔ ایک صاحب فرماتے ہیں کہ سیکولر ازم چونکہ مغرب سے درآمد شدہ نظریہ ہے لہٰذا اسلام کے خلاف ہے۔ ایک اور صاحب جو تنقیدی نتیجے میں تو ان کے ہمنوا ہیں لیکن اپنے تئیں’مذہبی نما سیکولر‘ نام کی کسی سماجی اکائی کو بڑے بڑے زور زور سے جھنجھوڑتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تمہار ا مغرب کے سیکولر ازم سے کیا تعلق، تمہارے گھر کے سامنے سے برقعہ پوش خاتون یا باریش شخص کو گزارا جائے تو تم اپنے امتیازی رویوں اور نفرت سے مجبور ہو کر اول الذکر کا برقعہ اور آخرالذکر کی داڑھی نوچ لو گے۔ ایک اور محترم فلک شگاف آواز میں دہائیاں دیتے ہیں کہ اوئے دیسی لبرلز ! اوئے تہذیب ِ جدید کے متوالو !ہمیں خوب معلوم ہے کہ تم چاہتے ہو کہ حسن بے حجاب پھرا کرے ، لوگ مادر پدر آزاد ہو ں اور ہر طرف توہینِ خدا اور توہین ِ احکامِ رسول عام ہو۔

ہم اس کے جواب میں اتنا ہی کہتے ہیں کہ خدارا دلیل کی یوں تذلیل نہ کیجئے۔ دل کھول کر لبرل ازم، سیکولر ازم ، تہذیبِ جدید پر تنقید کیجئے، اگر جدید تنقیدی مباحث سے واقف نہیں تو بے شک تہذیبِ جدید کے کسی مغربی معلم کی کتاب سے اڑائے گئے مضمون کا ترجمہ ہی پیش کر دیجئے تاکہ مکالمے کی روایت تو جنم لے، مباحثے میں دلچسپی تو پیدا ہو، چراغوں کو تیل دیا جائے اور کتابیں کھولنے کے لئے کمر باندھی جائے۔ اور اگر اس کی ہمت و قابلیت نہیں تو پھر ہمیں ہی حکم دیجئے کہ یہ فریضہ بھی ہم ہی ادا کر دیں۔

ہماری عاجزانہ رائے یہی ہے کہ کم ازکم پہلے قدم پر وطنِ عزیز میں پچھلی تین دہائیوں سے جاری مباحثے کے اصول و ضوابط تو طے کر لئے جائیں۔ الفاظ کے معنویاتی گروہوں پر تو اتفاق ہو۔دلیل کی تعریف تو سانجھی ہو۔ پھر جب مشرق و مغرب، لبرل ازم، سیکولرازم ، انسانی آزادی، اور حقوقِ انسانی جیسی اصطلاحات کی من مانی تفہیم کی بجائے کسی درجے اتفاق پیدا ہو تو اسلام، مسلمان، مذہب و دین وغیرہ کی اصطلاحات اور سماج میں ان سے منسلک معنویات کے اطلاقی مسائل کو ازسرِ نو اٹھایا جائے۔ اگر آپ کو اپنے اوپر اعتماد ہے تو پھر ڈرنا کیسا؟ میدان میں اس طرح آئیے کہ اونچی آواز کی بجائے قوتِ استدلال سے کام لیجئے۔ کون جانے ہم اسی جدلیاتی تجربے کے نتیجے میں وہ تصوراتی ’اسلام ‘ دریافت کرنے میں کامیاب ہو جائیں جس کی ماہیت کا ایک اہم جزو ارتقا ہے۔ کون جانے ہم اس جدلیاتی مکالمے سے حادثاتی طورپر یہ دریافت کرنے میں کامیاب ہو جائیں کہ جسے ہم مذہبی اربابِ اختیار کی خارج سے وارد ہوتی استبدادی تعبیر سمجھتے تھے وہ اصل ِ مذہب نہیں بلکہ ان کے ذہن کی ا±پچ تھی، اور مذہب تو ہندآریائی مشرقی سماج کی رگوں میں دوڑتا خون ہے جس میں اول وآخر کی دوئی پیدا کرنے سے لاینحل مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کون جانے ہم پر یہ نتیجہ آشکار ہو کہ سو سال قبل استعمار کے خلاف جدوجہد کی بجائے ہم نے ہندآریائی تہذیب سے بغاوت کو ترجیح دی اور ثقافتی طور پر یتیم ٹھہرے۔ ایک خلا پیدا ہوا جس کو تراشیدہ کھوکھلے ثقافتی نظریوں سے پر کرنے کی کوشش کی گئی۔ چونکہ مذہب اپنے سطحی مظاہر میں باقی تھا لہٰذا اس فکر کا پرچار کیا گیا کہ اسلام کو اپنا لیا جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن اسلام کوئی چادر تو نہیں کہ ذرا سا ہاتھ بڑھایا اور اوڑھ لی۔ مذہب اپنی مکمل معنویت میں تو ایک نامیاتی وحدت ہے جو سماجی تہوں میں ایک نادیدہ بہاو¿ سے گردش کرتی ہے۔

لبرل ہوں یا مذہب پسند، راقم کی رائے میں اب ہم سب کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر آوازیں نیچی کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلا ناگزیر قدم یہی ہے کہ دلیل کو مزید تذلیل سے بچایا جائے، سارے اصطلاحاتی منظرنامے پر بحث کی جائے، مکالمے کے ذریعے اس کی نوک پلک سنواری جائے۔ لیکن یہ بحث اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آزادانہ سوال نہ اٹھائے جائیں ، نیتوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا جائے، اور اپنی اپنی بلند وبالااخلاقی منبروں سے نیچے اتر ا جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ مذہب پسند وں کا ایک بڑا طبقہ یہ سب کرنے سے اس لئے گھبراتا ہے کہ اس سے تعبیری قلعوں کے انہدام کا خدشہ ہے، اپنی صفوں میں فکری بغاوت کا خطرہ ہے ، نئی علمی روایتوں کے چیلنج کا خوف ہے۔ خطرہ ہے کہ اگر بنیادی مذہبی تصورِات زیرِ بحث آئے تو دفاع کیسے ہو گا، افراد کا تصوراتی ریوڑ تتر بتر ہو جائے گا اور کون طاقتورچرواہا اس کو دوبارہ گھیرگھار کر باڑے میں بند کرے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ خطرے بے بنیاد نہیں اور یقیناً یہ سب کچھ ممکن ہے لیکن اگر تاریخ کا دھارا واقعی دست ِ یزداں میں ہے تو ایک ایسی روشن خیال مشرقی تہذیب کی بنیاد رکھی جائے گی جو بے خدا نہیں ہو گی۔ انسان اپنے پورے ہوش وحواس میں یا تو خدا کو اپنے اندر بولتا محسوس کرے گا اور یا پوری خود اعتمادی سے اس کا انکار کر دے گا۔ آئیے عینیت پسندی اورحقیقت پسندی کے درمیان نئے پلوں کی تعمیر کے لئے مال مسالا جمع کریں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ انسان آپ کی اونچی آواز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تعبیر کو روندتا ہوا اس آوازوں کے جنگل سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 46 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

4 thoughts on “دلیل کی تذلیل اور اصطلاحات کا شور

  • 28-01-2016 at 1:11 pm
    Permalink

    اصطلاحات اور الفاظ کے تہہ در تہہ معانی سمجھے بغیر دلیل کو سمجھا نہیں جا سکتا۔

  • 29-01-2016 at 1:01 pm
    Permalink

    شدت پسندی کے خاتمے کےلئے شائد ہی اس سے بہتراور مفید تجویز سامنے آسکے۔ لیکن سوال پھر وہی کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کو باندھے گا۔

  • 29-01-2016 at 5:39 pm
    Permalink

    Pakistani Islamists are not truth seekers, they “believe” that they know truth and they have truth. The others are just “pretenders”, hidden enemies using different isms as ploy to attack and degrade Islam. Islam desperately needs their protective aggression, without which it may fizzle out. I have faith in Islam and have faith in its own strength. It can protect itself and it can protect me. I have faith it can survive all criticism. One need not be offensive to others to defend it. Dear Islamists, Islam was there before you and will last after you. Islam needs protection from your “holier than thou” approach.

  • 29-01-2016 at 8:11 pm
    Permalink

    Great. But when we talk about ‘terminology’ and ‘istilaha’ of a certain word then we should know that said word / terminology is evolved during a certain passage of time and it has its own history, paradigm and epistemology. Therefore, before conveying “our understanding” of that word / terminology to others, one should bother to know that what its ‘meaning / understanding’ as well as usage is, in the same area/place where that word / terminology’ evolved during decades or centuries and where a large majority of people are actually practicing them as their way of life.

Comments are closed.