پانچ بج کر سترہ منٹ …. انتظار کرو!


waqar ahmad malikکڑوے دہشت گرد کی گولی یا چاقو کا شکار ہو کر تکلیف ظلم اور بے بسی کا دورانیہ لگ بھگ ایک منٹ ہوتا ہے۔ عقل کی انسولین کی غیرموجودگی میں میٹھے مولوی کی مٹھاس ، ایسی ’شوگر‘ کو جنم دیتی ہے کہ لگے زخم ٹھیک نہیں ہوتے، ناسور بنتے ہیں اور آپ اپنے سامنے اعضاءکو گلتے سڑتے دیکھتے ہیں۔ اس تکلیف، ظلم اور بے بسی کا دورانیہ طویل ہوتا ہے۔
پہلے ذرا کڑوے دہشت گرد پر بات کر لیں….
22 سالہ ایمل زینون کا تعلق الجیریا سے تھا۔ وہ قانون کی طالبہ تھی۔ الجیریا میں دہشت گردوں نے تعلیم کے خلاف مہم چلا رکھی تھی۔ ایمل اور اسکی دو بہنیں یونیورسٹی میں پڑھتی تھیں۔ شام کے وقت کرفیو لگ جاتا تھا اور تمام شہری گھروں میں بند رہتے ۔ نہ بجلی ، نہ گیس ، نہ ٹیلی فون۔
گھر میں اس موضوع پر گفتگو رہتی ۔ ایمل اپنی ماں کو تسلی دیتی کہ کچھ نہیں ہو گا انشاءاللہ ، اور پھر ہنس کر کہتی ماں اگر کبھی میںیا میری بہنیں قتل ہوئیں تو علم کی خاطر ہوں گی ۔ ماں ایسا ہوا تو ، تم اور ابو اپنا سر فخر سے بلند رکھنا۔
ایمل یونیورسٹی سے گھر آ رہی تھی کہ 17 رمضان تھا اور غزوئہ بدر کے حوالے سے الجیریا میں اس روزے کی خاص اہمیت ہے۔ وہ روزہ ماں باپ کے ساتھ افطار کرنا چاہتی تھی۔
ایک ناکے پر بس کو روکا گیا ۔ بس کا ڈرائیور ایمل کا پڑوسی تھا اور ایمل کا کتابوں والا بیگ ڈرائیور کے پاس دھرا تھا۔ ایمل ڈرائیور کی سیٹ سے پچھلی والی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ جب بس روکی گئی تو کچھ افراد بس میں داخل ہوئے اور ایمل کو پکڑ کر اتارنے لگے۔ ڈرائیور کے بقول پہلے تو اس نے چیختے ہوئے کہا مجھے ہاتھ مت لگاﺅ لیکن اس کے بعد چپ کر گئی ۔
جب بس کے گیٹ سے اس کو اتار رہے تھے تو آخری دفعہ اس نے مدافعت کی اور اپنی جگہ کھڑے ہو کر بس کی تمام سواریوں کی جانب دیکھا۔
کہا کچھ نہیں ظالم نے…. فقط دیکھا۔
12650707_10153992978468578_1803673128_nاس کی آنکھوں نے بس کی تمام سواریوں کی جانب دیکھا۔ ان میں کچھ سوال اور سوالوں کے ساتھ کچھ ملی جلی حیرت تھی ۔
سواریاں انسان تھے۔
وہ انسان تھی۔
اس کو بس سے اتارنے والے انسان تھے۔
لیکن انسانوں کی یہ تینوں قسمیں ایک دوسرے سے یکسر اجنبی بن گئیں۔
انہوں نے بس سے اتارا ۔ ایمل کھڑی تھی ۔ سواریاں دیکھ رہیں تھیں۔
ایک دہشت گرد نے چاقو نکالا اور سڑک کنارے ایک پتھر سے رگڑ کر اس کی دھار تیز کرنے لگا۔
مجھے نہیں معلوم سامنے تیز ہوتے چاقو ، بس میں بیٹھی سواریوں اور رکی بس کی ہلکی گھوں گھوں کے ہوتے اس قلیل وقفے میں ایمل نے کیا سوچا ہوگا۔
قیاس ہی ہے شاید ماں کے بارے سوچا ہو گا۔
چاقو والا دہشت گرد پاس آیا۔ ایمان کی دولت سے چور ہوتے دوسرے دہشت گرد نے ایمل کو دھکا دیا ۔
گرتے ہوئے اس کا بازو سڑک پر لگا اور بازو پر بندھی گھڑی رک گئی ۔
جب گھڑی رکی اس وقت پانچ بج کر سترہ منٹ تھے اور چھوٹی سوئی اپنا چکر مکمل کر کے اٹھارہ منٹ کرنے کی کوشش میں لگی تھی۔
لیکن ٹھیک اس وقت گھڑی زمیں پر لگی ۔۔ٹوٹی اور رک گئی ۔
اس گھڑی کی تصویر آپ اس مضمون میں دیکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے چاقو ایمل کی گردن پر پھیرا اور ذبح کر دیا۔
چاقو کا کیا تھا؟
اس کے سامنے ایک حیاتیاتی تعامل کے نتیجے میں کچھ گوشت تھا ، کچھ ہڈی تھی اور گرم خون تھا۔یہ گرم خون جو تھوڑا اوپر سر سے ہو کر آ رہا تھا۔۔اس سر سے جہاں علم کا فتور تھا، محبت تھی، ماں باپ کی حسین یادیں تھیں اور قانون کے حوالے سے کچھ نظریات تھے۔
دہشت گردوں کا کیا تھا؟
ان کے سامنے ایک لڑکی تھی ۔ جو گندی تھی اور بس۔ اسی چاقو سے کچھ دیر پہلے ہو سکتا ہے انہوں نے اپنے لیے دنبہ ذبح کیا ہو ۔
ذبح کرنے والے دہشت گرد کو تو دونوں واقعات میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوا۔۔ ماسوائے اس کے کہ دنبے نے کچھ زیادہ مزاحمت کی تھی۔
بس کی سواریوں کا کیا تھا؟
عقل کی انسولین…. تعلیم دیتی ہے، ادب اور فلسفہ دیتا ہے۔ عقل کی اس انسولین کی غیرموجودگی میں میٹھے مولوی کی مٹھاس ، ظلم کے خلاف مدافعت کرنے والے جرثوموں کو مار دیتی ہے۔ انسان ہلکا ہو جاتا ہے۔سب کچھ آسمان کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہ سب ہلکے تھے اور دہشت گردوں کے خلاف نفرت رکھتے تھے۔ لیکن ہلکے تھے۔ یہ سب خود دہشت گرد نہیں تھے لیکن میٹھے مولوی نے ان کے ذہنوں میں پہلا ہل چلا رکھا تھا۔
ایسی ہل چلی زمینوں میں دہشت گردوں نے بیج پھینکنا ہوتے ہیں۔
باہر اور اندر والوں میں بس یہی بنیادی فرق تھا۔
12650647_10153992978483578_1331146940_nڈرائیور کے دیے گئے بیان کے مطابق دہشت گرد واپس بس میں آئے اور کہا کہ اس عبرت کو دیکھ لو ، اگر تم یا تمھارے گھر والوں میں سے کوئی سکول کالج یا یونیورسٹی گیا تو اس کا انجام یہ ہو گا۔
ایمل کی ماں خلطی حوریہ گھر پر تھی جب کچھ لوگ اس کے دروازے پر آئے۔ سب لوگ چپ تھے۔ کوئی بولتا نہیں تھا۔ خلطی حوریہ نے دو تین بار پوچھا۔ آخر بس ڈرائیور کی بیوی جو اس کی پڑوسن تھی اس سے پوچھا۔
اس نے ڈرتے ڈرتے کہا…. وہ…. تمھاری بیٹی کو ذبح کر دیاگیا….
یہاں خلطی حوریہ نے ایک اہم سوال کیا…. آپ کو شاید عجیب لگے لیکن اس نے سوال کیا…. کونسی والی؟
ایک ماں کے لیے یہ بڑا اہم سوال ہے ۔ کہ آخر کونسی والی؟
وہ جو بچپن میں بہت شرارتی تھی اور بعد میں سنجیدہ ہو گئی ۔
یا وہ جو بچپن میں بہت سنجیدہ تھی اور بڑی ہو کر شرارتی ہو گئی۔
یا وہ منجھلی والی جو اپنے باپ کی غیر موجودگی میں اس کے غصے کی نقل اتار کر ہنس ہنس کر بے حال ہوتی ہے….
کونسی والی …. بھلا یہ کیسی اطلاع ہے ، تمھاری بیٹی ذبح ہو گئی۔
ڈرائیور نے بتایا…. ایمل
شام کا کرفیو لگ چکا تھا۔ خلطی حوریہ ایسے کرفیو کو کیا سمجھتی ۔ وہ اس مقام کی جانب دوڑی ۔ گلیوں سے ہوتی اس جگہ پہنچی جہاں سفید کپڑے کے نیچے روزے کی حالت میں ایمل زینون تھی۔ اور اس سے کچھ فاصلہ پر خون تھا جس کی اوپری لہر جم چکی تھی۔
حالت روزہ میںخلطی حوریہ چیختی تھی۔۔تم نے ایمل کو قتل کیا۔۔ایمل کو ۔۔ایمل ایمل۔۔ایمل کو ۔۔آﺅ اب مجھے قتل کرو
واپسی کے سفر میں کرفیو پر کھڑے فوجیوں سے الجھتی رہی ۔۔ان کی گنوں کو اپنی جانب کر کے چیختی …. انہوں نے ایمل کو قتل کیا …. تم مجھے قتل کرو ….
آﺅ سب مل کر اسلام نافذ کریں
کریمہ بینون کے بقول خلطی حوریہ نے اس دن گھر کے بیرونی دروازے کی کنڈی نہیں لگائی۔کرفیو کے احکام کی خلاف ورزی کی۔ وہ واحد گھر تھا جس کا بیرونی دروازہ چوپٹ تھا۔اور خلطی حوریہ نے سختی سے کہا کہ دروازہ بند نہیں کرنا۔۔ان کو آنے دو ، میں انہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔
12596246_10153992983278578_1253148933_nسحری کے وقت تک خلطی حوریہ بالکونی میں کھڑی چیختی رہی ۔ اس کے جملے بہت قابل غور ہیں….
”تم نے اس کو اس لیے قتل کیا ہے….
کہ وہ تم سے زیادہ پڑھی لکھی تھی ….“
کہ وہ تم سے زیادہ خوبصورت تھی
کہ وہ تم سے بہتر تھی….
اور پھر ان فقروں کے اختتام پر ایک چیختی تکرار آ جاتی ۔۔۔ایمل ۔۔ایمل ۔۔۔ایمل
یہ کہانی کریمہ بینون نے your fatwa does not apply here میں بیان کی ہے۔ کریمہ بینون وہ ذہین قابل اور خوبصورت خاتون ہیں جو عالمی پلیٹ فارمز پر عام مسلمانوں کا رونا روتی ہے۔ جو TED کے پلیٹ فارم پر اہل مغرب کو کہتی ہے تمھارا گیا کیا ہے؟ نقصان تو ہمارا ہوا ہے ۔۔عام مسلمانوں کا ہوا ہے ۔
ہماری تو نہ جانے کتنی ایمل زینون ماری گئیں ہیں۔
لیکن وہ ساتھ حل بھی بتاتی ہے…. وہ بتاتی ہے کہ کڑوے دہشت گردوں کی جنم بھومی میٹھے مولوی ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں دیکھئے کتنے میٹھے مولوی ہیں جنہوں نے دہشت گردوں کی کھل کر مذمت کی ہو اور اس کے خلاف اپنے پیروکاروں میں آگہی کی مہم چلائی ہو۔ (ایسے علما تعداد میں کم ہیں مگر بہرصورت ہیں۔ اور ان میں سے کچھ نے اپنے موقف کی پاداش میں جان کی قربانی تک دی ہے۔ ہمیں ان کی جرات کو سلام کرنا چاہیے۔ ہمیں کسی کے مولوی ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں۔ مذہبی رجحانات کی آڑ میں دہشت گردی کی کھلی یا درپردہ حمایت سے مسئلہ ہے۔ مدیر)
کیا ہم نہیں جانتے کہ دہشت گردوں کے نزدیک میٹھے مولویوں کی اکثریت ’قابل احترام ‘ ہے۔
ہمارے کئی محترم دوست کہتے ہیں کہ میٹھے مولوی شدت پسند نہیں ہیں۔ کوئی مبلغین کی نمائندگی کرتا ہے تو کوئی ٹی وی چینل کھول کر رونا دھونا کرتا ہے ۔ ان کے اس بے ضرر رونے سے یا حوروں کے حسن کا بہت باریک بینی اور مبالغہ آمیز انداز میں نقشہ کھینچنے سے بھلا معاشرے کا کیا جاتا ہے؟
اس memetic infection سے معاشرے میں کیسی بے عملی پھیلتی ہے۔ کیسے اپنی نالائقیوں اور کوتاہیوں کو خدا کے ذمہ لگا کر بری الذمہ ہوا جاتا ہے ؟ کیسے نیچرل سائینسز کی جانب تحقیقی رجحان کو نقصان پہنچتا ہے ؟ کیسے انسانوں(عورتوں) کے حقوق کو زد پہنچتی ہے؟ آپ نہیں جانتے؟…. یا جاننا نہیں چاہتے؟
میں Gene Mapping اور homosapien تک کے فوسلز ریکارڈ کو مانوں یا اس مولوی کی مانوں جو ہنس کر کہ رہا ہو کہ ہم پہلے بہت قد آور تھے ۔۔آہستہ آہستہ گھس کر ہمارا یہ قد رہ گیا ہے۔۔
مصیبت یہ ہے کہ ان کا کیا جانا ہے؟ کسی زمانے میں یہ سب تصویر کشی کے خلاف تھے۔ آج سڑکوں پہ لگے ان کے پوسٹرز تو دیکھئے ۔۔کیا کیا جلالی مسکراہٹوں کے ساتھ مزین ہوتے ہیں۔ تصویر تو دور کی بات کیا میں آپ کو اس فرقہ کی یاد نہ دلاﺅں جو مسجد میں بیٹھ کر نوجوانوں کو اپنے گھر کے ٹی وی توڑنے کی ترغیب دیتا تھا آج ان کے اپنے ٹی وی چینلز اور ان پر بیش قیمت لگے سیٹ دیکھئے ۔
ان سے پوچھئے تو سہی ۔۔آپ اس وقت غلط تھے یا آج غلط ہیں؟ کوئی تیسری صورت ہے؟
ان کا کیا جانا ہے؟ جب ہوا بنتی ہے یہ اس رخ پر جا کھڑے ہوتے ہیں۔ہوا کے رخ پر دولت کے انبار ہوتے ہیں۔
جو جانا ہے ہمارا جانا ہے۔
ہمیں یا ہمارے بچوں کو اپنے اپنے پانچ بج کر سترہ منٹ کا انتظار کرنا ہے!


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 62 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

9 thoughts on “پانچ بج کر سترہ منٹ …. انتظار کرو!

  • 28-01-2016 at 8:25 am
    Permalink

    یہ کالم پڑھنا اور اس پر کچھ لکھنا اتنا ہی اذیت ناک ہے جتنا سڑک کنارے چاقو کی دھار تیز کرنے کے دوران ایمل اور بس کے، بظاہر خاموش، مسافروں کے لیے رہا ہو گا۔ ایک چیونٹی کو بھی مارنا تکلیف دہ عمل ہے پتا نہیں یہ کیسے انسان ہیں اور کس جنت کے متلاشی ہیں جو جیتے جاگتے انسانوں کا گلا کاٹ سکتے ہیں۔

  • 28-01-2016 at 9:57 am
    Permalink

    i am shocked and speechless.

  • 28-01-2016 at 10:24 am
    Permalink

    how many were slaughtered in Swat during Taliban occupation ………yes yes the sweet molvies are more dangerous than the Knife and the one who is having the knife

  • 28-01-2016 at 4:11 pm
    Permalink

    مولوی کی مٹھاس سے زیادہ لبرلز کی دین بیزاری سوچ دہشتگردی کو خام مال میسر کر رہی ہے. مولوی کی مٹھاس تو امن کی زبان میں بات کرتی یے لیکن لبرلز کی کڑواہٹ صرف گولی کی زبان میں (میں ادهر سے ہٹ کروں گا جدهر سے تمہیں پتی بھی نہیں چلے گا) بات کرتی یے جو سہہ جائے اس کے لیئے طویل آزمائش اور جو ڈٹ جائے وە دہشت گرد بن جاتا یے. آپ کے نزدیک تو حل صرف مولوی نامی مخلوق کو ختم کرنا ہے. لیکن اصل حل ہے انصاف، عدل، اور جہالت سے پاک پاکستان___جاہل داڑھی دار بھی ہو سکتا ہے اور ابو جاہل و عبداللہ بن ابئ کا جانشین بهی

  • 28-01-2016 at 4:34 pm
    Permalink

    Great piece!

  • 29-01-2016 at 6:15 am
    Permalink

    آپ کا کالم پڑھ کر کچھ لکھنا بہت مشکل ہے،قارئین کو ایک سوچ دینے کا شکریہ!

  • 29-01-2016 at 9:20 am
    Permalink

    speachless, we cant even think of putting our kids in their shoes, who got killed and are being killed by these mazhab ke thekedars. But we never know who will get killed by whom. Such a barbaric approach to spread their Islam. hamara Islam tou yeh nai sikhata.

  • 29-01-2016 at 2:57 pm
    Permalink

    کیا کہنے!
    کیا کریں۔ کبھی کبھی دل توڑ کر رکھ دینے والے کو بھی داد دینی پڑتی ہے۔ آپ نے دل خون کر دیا ہے۔ مگر دماغ روشن ہو گیا ہے۔ کسی بھی طرزِ فکر کو ایسا نطق میسر آ جائے تو عین خوش قسمتی ہوتی ہے اس کی۔
    جیتے رہیے۔ جِلاتے رہیے!

  • 01-03-2016 at 1:34 pm
    Permalink

    It brought me to tears

Comments are closed.