گولی تیس کی، ہمت گھوڑا دبانے کی


husnain jamal (2)ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاﺅں میں ایک ایسا بچہ رہتا تھا جسے ڈھول بجانے کا بہت شوق تھا۔ وہ ہر وقت ڈھول پیٹتا رہتا۔ کوئی اسے پیار سے منع کرتا یا ڈانٹ کر روکنے کی کوشش کرتا وہ اپنے ڈھول کو پیٹنے میں مگن رہتا۔

گاﺅں کے لوگوں نے صلاح کر کے بہت سے عاقل اور گیانی لوگ بلائے کہ وہ بچے کو ڈھول پیٹنے سے باز رکھ سکیں۔ پہلے گیانی نے لڑکے کو دھمکی دی کہ اگر وہ باز نہ آیا تو وہ اس کا ڈھول پھاڑ دے گا۔ یہ سن کر لڑکا اور زور سے ڈھول پیٹنے لگا۔ دوسرے نے بچے کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ڈھول بجانا ایک مقدس کام ہے اور اسے خاص خاص موقعوں پر ہی بجانا چائیے۔ تیسرے نے گاﺅں والوں کو روئی کے گولے بنا کر دئیے کہ وہ انہیں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں تاکہ ڈھول کی آواز سے بچ سکیں۔ چوتھے نے بچے کو کتاب دی کہ شاید اس کا من ڈھول سے ہٹ کر کتاب میں لگ جائے۔ پانچویں نے گاﺅں والوں میں وہ کتاب بانٹی جس کو پڑھ کر وہ خود کو قناعت اور صبر کرنا سکھا سکتے تھے۔ چھٹے نے لڑکے کو شانت کرنے کے لئے گیان کی تراکیب سکھانے کی کوشش کی اور یہ سمجھانا چاہا کہ سب مایا ہے۔

لیکن یہ سب حربے وقتی ثابت ہوئے اور بچے نے ڈھول بجانا بند نہ کیا۔

بالآخر ایک دن ایک سچا گیانی اور صوفی بزرگ آیا۔ اس نے ساری صورت حال کا جائزہ لیا ، گاﺅں کے لوہار سے ایک ہتھوڑا اور ایک چھینی لانے کو کہا۔ جب یہ آ گئے تو اس بزرگ نے انہیں بچے کو تھماتے ہوئے ہوئے کہا؛
” تم یہ جاننا نہیں چاہو گے کہ ڈھول میں سے آواز آتی کہاں سے ہے؟ “

(یہ حکایت قیصر نذیر خاور صاحب کی زیر طبع کتاب سے لی گئی ہے)

عقلی طور پر اس کہانی کے دو انجام بنتے ہیں۔

یا تو بچے نے ہتھوڑا اور چھینی پکڑے اور آواز کا سراغ لگانے کو ڈھول پھاڑ دیا۔

یا بچہ عقل مند نکلا اور اس نے یہ تخریبی آلات پرے پھنیک دئیے اور لگا ڈھول بجانے دوبارہ سے۔

لیکن دوسرا انجام اگر اس کہانی کو دیا جائے تو اتنی طویل کتھا سنانے کا فائدہ کیا ہو۔

تو یوں کرتے ہیں کہ پہلے انجام کو سامنے رکھتے ہیں۔

اب بچے نے ڈھول کو چھینی اور ہتھوڑے سے پھاڑ دیا، اور کوشش کرنے لگا کہ جان سکے اس آواز کا راز۔ سارا گاﺅں آ گیا سکون میں، راوی لکھنے لگ گیا چین ہی چین اور ان بابا جی کے پوبارہ ہو گئے۔ لوگوں نے اپنے ضدی بچوں کے لیے ان سے تعویز لکھوانے شروع کر دئیے۔ چاروں وقت کے کھانے ان کے تکیے پر پاس پڑوس کے لوگ بھیج دیتے تھے۔ لوگوں کو ثواب ملنے لگا اور بابا جی اللہ اللہ کر کے اپنا وقت کاٹنے لگے۔ جو نذر نذرانہ ملتا وہ مریدوں میں تقسیم کر دیتے۔ رفتہ رفتہ پورا گاﺅں ان کا مرید ہو گیا۔ شہر سے لوگ ان کے پاس آنے لگے، ان کی کرامات کا شہرہ اور بڑھا تو آس پاس کے جنگلوں میں چھپے چور ڈاکو بھی کبھی کبھی رات کے اندھیرے میں آ کر ان سے دعا کروا جاتے، نذرانے میں لوٹے ہوئے زیور وغیرہ دے جاتے۔ بابا جی ٹہرے نیک آدمی، وہ کیا جانیں کون چور ہے اور کون شریف انسان، تو یوں ان کی سرکار مرجع خاص و عام بن گئی اور ان کی دنیا اور عاقبت دونوں سنور گئے۔ عاقبت ایسے کہ ان کا وصال ہونے کے بعد ان کا مزار بنا۔ ان کی اولاد نے گدی نشین ہونے پر آپس میں جھگڑے کیے اور آخر میں سب سے چھوٹا بھائی جو سب سے زیادہ چرسی اور موالی تھا وہ گدی نشین ہوا اور باپ کے مزار پر ’بابا ڈھول والی سرکار‘ کا بورڈ لگا کر بیٹھ گیا۔ سال کے سال عرس ہوتے رہے، اتنی کمائی ہوئی کہ نسلیں سنور گئیں۔

لیکن ہمارے اس بچے کے ساتھ کیا ہوا۔ اس کا ڈھول تو پھٹ گیا، وہ رویا بھی بہت، یہ بھی سوچا کہ بابا جی نے میرے ساتھ صحیح چال چلی۔ لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا تو چپ چاپ اپنے باپ کے ساتھ کھیتوں میں لگا رہا۔ ہر کٹائی پر اس نے کچھ پیسے الگ رکھنے شروع کر دئیے۔ باپ نے پوچھا تو کہا کہ بابا موٹر سائیکل خریدوں گا شہر آنے جانے میں آسانی رہے گی۔ باپ مان گیا کہ چلو بچے کا شوق ہے پورا ہو جائے گا۔ تو جب پیسے جمع ہو گئے اور بچہ بھی کچھ مزید بڑا ہو گیا تو اس نے ان پیسوں کا ایک اچھا سا پستول خریدا اور لگا ڈاکے ڈالنے۔ آخر ایک دن ایسا آیا کہ گاوں والے اس کے باپ کے پاس ایک نیا ڈھول لے کر آئے اور ہا تھ جوڑ کر درخواست کی کہ اپنے بیٹے سے کہو ہمیں پریشان کرنا بند کرے، بے شک ڈھول بجا لیا کرے۔ بچہ لیکن اب سیانا ہو چکا تھا۔ اس نے پستول سے فائر کر کے ڈھول پھاڑ دیا اور جنگلوں کو نکل گیا۔

ابھی دو تین دن پہلے ہماری ہی صفوں سے آواز اٹھی کہ حکومت شہریوں کو پستول اور دیگر ہتھیار رکھنے کی اجازت دے۔ جب یہ مطالبہ پڑھا تو خواہ مخواہ اوپر لکھی گئی کہانی یاد آ گئی۔ دیکھیے جیسے کہانی میں پہلی غلطی بابا جی نے کی اسی طرح سے آج آپ کرنے جا رہے ہیں۔

انہوں نے چھینی اور ہتھوڑا دے کر بچے سے کہا آواز کا سراغ لگاﺅ، اس نے ڈھول تو پھاڑنا ہی تھا، لیکن پھر وہ اپنی توانائی کہاں لگائے گا یہ انہوں نے بہرحال نہیں سوچا تھا۔

آپ جب ہمارے لوگوں کو پستول دیں گے تو انہوں نے پھر فیصلہ بھی اپنے دماغ سے کرنا ہے اور باقاعدہ سراغ بھی لگانا ہے کہ دہشت گرد کون ہے اور کون نہیں۔ اور ہمارے عوام کا دماغ جتنا جلدی گرم ہوتا ہے، اس سے بھی آپ واقف ہیں۔ تو اب ہو گا یہ کہ “ٹوپک زما قانون” والا معاملہ پورے ملک میں چل جائے گا۔

مانا کہ یہ مطالبہ پوری نیک نیتی سے کیا گیا ہے لیکن صاحب یہ بھی تو دیکھیے کہ جس ملک کے لوگ بات بات پر ایک دوسرے کا سر پھاڑ دیتے ہوں آپ اب ان کے ہاتھوں میں پستول تھما دیں گے؟

پہلے اگر غیرت پر دس قتل ہوتے تھے پھر چالیس ہوں گے، پہلے سکولوں کالجوں میں لڑائی جھگڑے کرسیوں اور ڈنڈوں سے نمٹ جاتے تھے اب پستول سے نمٹیں گے۔ ہندو، احمدی، مسیحی اور شیعہ بھائیوں سے موقعے پر ہی انصاف ہو جایا کرے گا، لمبے مناظروں میں پڑنے کا یارا کسے ہے صاحب۔ بیویاں بھی چولہاپھٹے بغیر ہی مر جائیں گی۔ تو مجموعی طور پر ہتھیار عام ہونے سے کاو بوائے کلچر تو شاید یہاں در آئے لیکن رہے سہے امن سے بھی ہم ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

پھر ہمیں لوگ دوبارہ ڈھول لے کر جائیں گے، حکومت سے کالم میں التجا کریں گے کہ براہ مہربانی یہ گھر گھر میں موجود اسلحہ گودام خالی کروائیے اور کچھ امن قائم کیجیے۔ ہمارے بچے پہلے اپنے مشاغل میں درست تھے، انہیں دوبارہ وہیں مشغول کر دیجیے۔

دیکھیے، موجودہ صورت حال میں اصلاح قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی کریں گے۔ ان میں بہتری کے لیے کوئی رائے دیجیے۔ کسی اور پہلو سے بات کر لیجیے، کوئی نئی ٹاسک فورس بنوا لیجیے لیکن عام آدمی کو ہتھیار پکڑا دینا اور گمان کرنا کہ وہ اپنی حفاظت کر لے گا، یہ بہرحال ایک خطرناک بات ہے۔

یہ درست ہے کہ اس وقت بھی ملک میں انارکی موجود ہے، جتنے قتل اور ڈکیتیاں ہوتی ہیں غیر لائسنس یافتہ اسلحے سے ہوتی ہیں لیکن پھر بھی اسلحے کا حصول، اسے لے کر سر عام پھرنا یا فائرنگ کرنا چونکہ ابھی ممنوعات میں ہے تو کچھ غنیمت ہے۔ یقین جانیے جتنا غصہ اس وقت ہمارے لوگوں میں ہے انہوں نے پوچھنا بعد میں ہے اور شک ہونے پر سامنے والے کو بھون پہلے دینا ہے۔

امریکہ کی چند ریاستوں میں اسلحے کی آزادی ہے، لیکن آئے دن وہاں سکولوں میں فائرنگ کے واقعات بھی آپ دیکھتے رہتے ہیں۔ مدعا یہ کہ فوری انصاف اتنا آسان نہیں کہ ایک عام ذہن کر سکے۔

ہم یہاں اہنسا کا درس نہیں دیتے، جو مناسب سمجھیے صلاح دیجیے، لیکن آپ بہتر سمجھتے ہیں کہ یہ معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہے جتنا نظر آتا ہے۔ ہتھیاروں سے ظلم کا جواب دینا عام آدمی کے بس کی بات نہیں وہ تو اپنا ہی سر پھوڑیں گے۔

آخر میں ایک ذاتی خیال، ضروری نہیں کہ یہ درست ہو لیکن موجودہ حالات میں ہمارے نوجوان چونکہ مایوسی کا شکار بھی ہیں، فرسٹریشن بھی ہے، بے چینی بھی ہے، تو یہی آسانی سے حاصل شدہ لائسنس والا ہتھیار خود کشی کے رجحان میں اضافے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ گولی تیس روپے کی اور ہمت گھوڑا دبانے کی، رہے نام سائیں کا!


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 146 posts and counting.See all posts by husnain

2 thoughts on “گولی تیس کی، ہمت گھوڑا دبانے کی

Comments are closed.