غدار کے پاگل پن کی بیس نشانیاں


ہماری قومی پیداوار میں پچھلے کچھ دنوں سے تنوع دیکھنے کو ملا ہے۔ قوم صرف کافر بنا بنا کر بیزار ہو گئی تھی اور آخری خبریں آنے تک کافروں کی گنتی ملکی آبادی سے تجاوز کر گئی تھی۔ اس حسابی الٹ پھیر سے بلاوجہ کی سبکی کا امکان پیدا ہو گیا تھا اگرچہ یہ کہنا ممکن تھا کہ یوں تو سارے کافر برابر ہیں لیکن کچھ کافر زیادہ برابر ہونے کی وجہ سے دو دفعہ بھی گنے گئے ہیں۔ پر یہ باریکیاں نکتہ چینوں کی موٹی عقل میں گھسانا خواہ مخواہ کی محنت تھی۔ شاید اس پر مزید سر کھپایا جاتا لیکن اسی دوران ”ففتھ جنریشن وار“ شروع ہو گئی۔

ففتھ جنریشن وار یا ہائیبرڈ یعنی جنگ خچر کے باعث قومی اجتماعی پیداوار میں غدار نامی جنس کی رسد میں زبردست تیزی دیکھنے کو ملی ہے۔ آجکل ہر طرح کے میڈیا پر تھوک کے بھاو غدار بنائے جا رہے ہیں۔ قوم غداروں کو صرف بنانے پر اکتفا نہیں کر رہی بلکہ انہیں ہمسایہ ملک برآمد کرنے پر تلی نظر آرہی ہے تاکہ کثیر غیرت مبادلہ کمائی جا سکے۔ یوں تو پہلے بھی کھلی منڈی میں ہر نسل کے غدار دستیاب تھے جن میں کشمیری خود مختاری مارکہ غدار، جی ایم سید مارکہ غدار، باچا خانی غدار، بگٹیانہ غدار ، الطافی غدار، نظریاتی غدار، غیر نظریاتی غدار, انصافی غدار اور جیو غدار وغیرہ قابل ذکر تھے پر خرید وفروخت میں مندی کا رجحان تھا ۔ زیادہ تر خریدار غدار منڈی سے زیادہ کافر بازار کے رسیا تھے پر جب سے غدار کا امن ورژن لانچ ہوا ہے، منڈی کے حالات یکسر بدل گئے ہیں۔ اکثر آڑھتی پورے کے پورے کڑاہی میں اترے ہوئے ہیں۔

بازار میں اچھی جنس کا سودا ماہر کے مشورے سے ہو تو بہتر ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ارزانی جنس کے اس دور میں آپ کے ساتھ دھوکا ہو جائے۔ چیز ٹھوک بجا کر لینی چاہیے اور اس کے تمام محاسن سے ایک اچھے خریدار کو آگاہ ہونا چاہیے تاکہ غلطی کا امکان نہ رہے ۔ یہ تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ پاکستان میں پیٹنٹ کے قوانین کی کمزوری کی وجہ سے غدار 2018 امن ورژن پر کسی ایک کمپنی کی اجارہ داری قائم نہیں ہو سکی ہے اور کئی کمپنیاں اس وقت مقابلے کی جنگ میں جٹی ہوئی ہیں ۔ ہر ایک کی کوشش ہے کہ وہ نت نئے اور اچھوتے فیچرز متعارف کرا کے دوسروں پر سبقت لے جائے۔ یوں تو ہر گلی محلے میں چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں لیکن ہمارا مشورہ ہو گا کہ آپ بڑی، قابل بھروسہ ، برانڈڈ اور سرٹیفائیڈ کمپنی کا مال ہی زیر غور لائیں۔ ان کی منطقی اور نظریاتی کھڈیوں پر بنے مال کی بات ہی اور ہے ۔ ہم خاص طور پر حکیم لقمان، خلافت عباسیہ اسلام آبادی، ملوکت عباسیہ کراچوی، اوریان خراسان، قیامت مسعود، شان لاہور، دنیائے رشید، آری بادام، مواد پیر، خاک آمر، میر کاروان اور گارفیلڈ براہمووچ جیسی کمپنیوں کو ہی تجویز کرتے ہیں ۔ یوں تو ان سب کا مال اے کیٹیگری میں شمار ہوتا ہے لیکن اصل سے ملتے جلتے نقالوں سے بازار بھرا پڑا ہے اس لیے سودے سے پہلے تسلی کر لیں کہ آپ صحیح فیچرز والا ماڈل ہی لے رہے ہیں۔ ہم آپ کی آسانی کے لیے غدار 2018 کی نشانیوں کی ایک فہرست مرتب کیے دیتے ہیں ۔ ضروری نہیں کہ ہر ماڈل میں یہ ساری نشانیاں ہوں۔ سستے ماڈلز میں ایک آدھی نشانی بھی کافی ہے تاہم قیمتی غداروں کی پہچان یہ ہے کہ ان میں اکثر علامات موجود ہوں گی۔ فہرست درج ذیل ہے

1۔ غدار پاکستان کا شہری ہوتے ہوئے دو قومی نظریے کی عصری افادیت پر سوال اٹھاتا ہے

2۔ غدار قرارداد مقاصد کو صحیفہ آسمانی نہیں سمجھتا اور اس کے ذکر پر سجدے میں گرنے کا روادار نہیں

3۔ غدار نریندر مودی کو برا سمجھتا ہے لیکن حافظ سعید، مسعود اظہر اور کمانڈر صلاح الدین کو محسن انسانیت اور امن کا پیغمبر ماننے سے منکر ہے

4۔ غدار آر ایس ایس اور لشکر طیبہ میں حق و باطل کا فرق روا نہیں رکھتا ۔ اسے لگتا ہے کہ باز سرحد پار کر کے فاختہ نہیں بن سکتا۔

5- غدار کو بوٹ پالش کرنے نہیں آتے ۔

6۔ غدار فن کو سرحدوں کا قیدی نہیں سمجھتا

7۔ غدار کو سمجھ نہیں آتی کہ اگر عید کے موقع پر مقامی فلموں کو فروغ دینے کے لئے ہندوستانی فلموں پر پابندی ہے تو پاکستانی سینماؤں میں ہالی ووڈ فلمیں کیوں کر چل سکتی ہیں

8۔ غدار کو یہ بھی پلے نہیں پڑتا کہ ہندوستانی کشمیر میں صحافی شجاعت بخاری کی شہادت پر غم و غصے کا مظاہرہ کرنے والے گل بخاری کو اغوا کرنے والوں کو کیوں تلاش نہیں کر رہے۔

9۔ غدار بارڈر پر پرچم کشائی کی تقریبات کی بجائے زندگی کھو دینے والے بہادر سپاہیوں کا غم منانے کو زیادہ اہم سمجھتا ہے

10۔ غدار سپاہی کی عزت کرتا ہے خواہ وہ لکیر کے اس پار ہو یا اس پار، اس لیے اسے گالی نہیں دیتا۔ وہ کہتا ہے کہ سپاہیوں کی بھی یہی روایت ہے کہ دشمن بھی بہادر ہو تو اسے عزت مرتبہ دیتے ہیں

11۔ غدار زندگی کی حرمت کو قومیت اور مذہب کی عینک لگا کر نہیں دیکھتا

12۔ غدار کو ہر انسان کا خون سرخ رنگ کا دکھائی دیتا ہے

13۔ غدار کو یہ غلط فہمی ہے کہ دشمن سپاہی کے گھر میں بھی بوڑھی ماں ہے، برہا کی ماری سہاگن ہے، گڑیا جیسی بیٹی ہے اور ان کے سینے میں دل بھی ہے اور آنکھوں میں کہیں چھپے آنسو بھی

14۔ غدار کو لگتا ہے کہ گولی پاکستانی کو لگے یا ہندوستانی کو ، درد دونوں کو ایک سا ہوتا ہے ۔

15۔ غدار ایٹم بم کو دھاگے والا لٹو نہیں سمجھتا کہ جب چاہے چلا دیا جائے ۔

16۔ غدار ڈرپوک ہے اور زندگی گنوانے کو معراج زندگی نہیں سمجھتا بے شک اس پر شہادت کا ٹھپہ لگا ہوا ہو یا قربانی کا اسٹیکر

17۔ غدار جنگ سے ڈرتا ہے۔ اسے چھپن چھپائی کھیلتے ہوئے بچے، چوپالوں میں گپ مارتے بڈھے اور جھولا جھولتی سکھیاں اچھی لگتی ہیں۔ پر اسے نیپام بموں سے جھلسے ہوئے جسم، خون اور خاک میں لتھڑی لاشیں اور کھنڈر بنے گھر برے لگتے ہیں۔

18۔ غدار ہنسنا چاہتا ہے۔ مسکرانا چاہتا ہے۔ لتا اور نور جہاں کے مدھر گیت سننا چاہتا ہے۔ غدار عید منانا چاہتا ہے ۔ غدار ہولی کے رنگوں میں رنگنا چاہتا ہے۔ غدار شب برات اور دیوالی پر پھلجھڑیاں بکھیرنا چاہتا ہے ۔ غدار سرسوں پھولنے پر پتنگیں اڑانا چاہتا ہے۔ پر غدار بارود نہیں چاہتا، گولی نہیں چاہتا، بم نہیں چاہتا

19۔ غدار ظلم کا خاتمہ چاہتا ہے، غدار کشمیریوں کو زندگی کا حق دینا چاہتا ہے ، غدار برہان وانی جسے جوانوں کو طبعی عمر جیتے دیکھنا چاہتا ہے۔ پر غدار یہ مقدمہ جنگ کے میدان میں نہیں لڑنا چاہتا کیونکہ وہ چار جنگیں دیکھ چکا ہےاور ان کے نتیجے بھی بھگت چکا ہے۔ اسے جنگ کی تباہی، بدصورتی، ہولناکی اور حماقت سے خوف آتا ہے۔ وہ صرف غربت، بھوک، بیروزگاری اور جہالت سے جنگ لڑنا چاہتا ہے

20- غدار اپنے سپاہی سے بیٹوں اور بھائیوں جیسی محبت کرتا ہے۔ وہ اسے سیاست کی قربان گاہ پر بھینٹ نہیں چڑھانا چاہتا ۔ وہ اسے جیتا دیکھنا چاہتا ہے ۔ وہ اسے رجزیہ نغموں کا کردار نہیں، محبت اور امن کا سفیر بنانا چاہتا ہے۔ غدار بندوق کی نال میں پھول اگانا چاہتا ہے۔ غدار پاگل ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 127 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

One thought on “غدار کے پاگل پن کی بیس نشانیاں

  • 02/10/2016 at 10:57 pm
    Permalink

    when you criticise us and spare our enemy , you are aproving him thus in this way thou art no least a traitor.

Comments are closed.