قسمت اور نصیب


\"omair

ننھا شاپنگ مال کے فرش پر لیٹ کر روتا تھا اور میں اپنی آگہی پر ہنستا جاتا تھا۔۔۔ دراصل میں قسمت اور نصیب کے بارے میں بحثیں سمجھ نہیں پاتا۔ جس کی خواہش ہو، وہ چیز نہ ملے تو شاکی ہو جاتا ہوں۔ روٹھ جاتا ہوں۔ اللہ جی سے گلہ کرنے لگتا ہوں۔ کوئی کہے، “ہو سکتا ہے یہی تمہارے لیے اچھا ہو، یا اسی میں تمہارا بھلا ہو،” تو اس سے بھی بھڑ جاتا ہوں۔ مجھے فلاں اسباب کی ضرورت تھی۔۔۔ اگر میرا بھلا ہی مقصود تھا تو اسی کو میرے لیے فائدہ مند بنا دیا جاتا۔ یہ کیا بات ہوئی، اتنی دعائیں بھی کرو، کوشش بھی کرو، پھر بھی دھڑکا رہے کہ منزل ملے گی یا نہیں۔

خیر، وقت نے اکثر یہی ثابت کیا کہ مجھے خواہش کے برعکس اگر کچھ ملا بھی تو بعد میں وہی بہتر ثابت ہوا۔ لیکن ہر بار نیا ارمان پالتے ہوئے گزرا سبق بھول جاتا ہوں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بیچلرز کر رہا تھا اور نشر و اشاعت سے متعلق علم حاصل کرنے کی خواہش تھی۔ والدین مان کے نہ دیتے اور میں حالات کے ساتھ ساتھ اللہ جی سے بھی لڑتا رہتا۔ دو سال بعد جب والدین راضی ہوئے، انہی دنوں پنجاب یونیورسٹی شعبہ ابلاغیات نے بیچلرز کی سطح پر کورس متعارف کرا دیا (پہلے ابلاغیات کی تعلیم ایم اے کی سطح پر دی جاتی تھی)۔ تعلیم شروع کی تو انہی دنوں میڈیا انڈسٹری پر بہار آ گئی۔ دو انگریزی اخبار (دی پوسٹ اور ڈیلی ٹائمز) شروع ہوئے۔ نئے لانچ ہونے والے ٹی وی چینلز کو پروگرامز کی ضرورت پڑی تو پروڈکشن ہاؤسز میں بھی نوکریاں پیدا ہوئیں۔ مصنوعات کی فروخت بڑھی تو اشتہاری کمپنیوں میں بھی کام کی افراط ہوئی۔ ہوں ابلاغیات سے متعلق تمام شعبوں میں افرادی قوت کی طلب بڑھ گئی۔ مجھ سمیت تقریباً سبھی ہم جماعتوں کو دوران تعلیم ہی اچھی ملازمتیں بھی مل گئیں۔ تعلیم مکمل کی تو ایک بڑے گروپ نے پہلی بار لاہور میں ٹی وی چینل کا ہیڈ آفس قائم کیا اور مجھے وہاں بھرتی کر لیا گیا۔ (اس سے پہلے نجی ٹی وی چینل اپنی نشریات دبئی سے چلاتے تھے، یا کراچی میں دفاتر قائم کر رکھے تھے)

اسی بارے میں: ۔  عمران خان: سیاست کا ناپختہ کھلاڑی

گویا تمام چیزیں خود بخود درست ہوتی چلی گئیں۔ تب معلوم ہوا کہ میرا کام کوشش کرتے رہنا تھا، اللہ جی نے ایک ٹائم ٹیبل پہلے ہی میرے لیے بنا رکھا تھا۔

اور یہی چیز تمام معاملات میں دیکھی کہ جب من چاہا نہ ملا، وقت نے مرہم رکھا اور بعد میں جو ملا وہ پہلے سے کہیں بڑھ کر تھا۔ پھر بھی میرا رونا ختم نہیں ہوتا۔ ایک بار جو خواہش دل میں پال لوں اسے پانے کے لیے اتاولا ہو جاتا ہوں۔

حال ہی میں اللہ جی نے اپنی ترتیب ایک اور زاویے سے مجھ پر آشکار کی۔ ننھے کو شاپنگ مال لے کر گیا تو انہیں برقی سیڑھیاں بہت پسند آئیں۔ ایک زینہ طے ہو جاتا تو ننھے میاں سیڑھیوں پر ہی رہنے کی زد لگا لیتے۔ بہتیرا سمجھاتے کہ یہ تو ایک منزل تھی، طے ہو گئی، اب چاہیں بھی تو اوپر آنے والی سیڑھیوں سے واپس نہیں ہوا جا سکتا۔ اور پھر ہم انہیں تیسری منزل پر واقع پلے لینڈ لے چلے ہیں، وہاں قسم قسم کے جھولے اور کھلونے ہوں گے۔۔۔ انہیں برتنے میں جو مزا ہو گا، یہ برقی سیڑھیاں تو ان کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ خیر ننھے میاں یہ بات نہ سمجھتے، وہیں سیڑھیوں کے پاس دھرنا دے دیتے۔ میں زبردستی اٹھاتا تو ناراض ہوتے، دھاڑیں مار مار کر روتے، پیر پٹختے۔ میں کھینچ کھانچ اگلی سیڑھیوں کی جانب لے چلتا تو پھر خوش ہو جاتے۔ شوق سے قدم جماتے، تن کے کھڑے ہوتے اور یہ زینہ بھی ختم ہو جاتا۔ اب پھر یہی کہانی دہرائی جاتی۔ ایک آدھ منزل پر تو ایسے چیخے چلائے کہ گارڈ صاحب آن دھمکے اور دریافت کیا آیا یہ بچہ ہمارا ہی ہے یا کسی اور کا لے کر سٹک چلے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  23 مارچ یوم پاکستان نہیں

تب یہ خیال منکشف ہوا۔۔۔ اور ابھی تک اس آگہی کے خمار میں ہوں۔۔۔ کہ اللہ جی بھی بندے کو نئی اور بہتر منزل کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں، لیکن وہ اپنی محدود سوچ کی وجہ سے زینے کو ہی اپنی منزل سمجھ لیتا ہے۔ وہیں رہنے اور رکنے کی ضد کرتا ہے۔ بندے کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ تیسری منزل پر کیسے کیسے جھولے ہیں، اور انہیں برتنے میں کیسا لطف ہے۔ وہ برقی سیڑھیوں پر لٹو ہو جاتا ہے اور اسے خبر بھی نہیں ہوتی کہ تیسری منزل پر کیسے کیسے ہنڈولے اس کا انتظار کر رہے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عمیر محمود

عمیر محمود ایک خبری ٹیلی وژن چینل سے وابستہ ہیں، اور جو کچھ کرتے ہیں اسے صحافت کہنے پر مصر ہیں۔ ایک جید صحافی کی طرح اپنی رائے کو ہی حرف آخر سمجھتے ہیں۔ اپنی سنانے میں زیادہ اور دوسروں کی سننے میں کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ عمیر محمود نوک جوک کے عنوان سے ایک بلاگ سائٹ بھی چلا رہے ہیں

omair-mahmood has 35 posts and counting.See all posts by omair-mahmood