یورپ میں اسلام اور مسلمانوں سے خوف


mujahid aliدنیا بھر سے پناہ گزینوں کے لئے قواعد سخت کرنے پر ڈنمارک کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ منگل کو ڈینش پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت پناہ کے لئے ملک میں آنے والے لوگوں سے دس ہزار کرونر سے زائد کے اثاثے اور نقد رقوم ضبط کر لی جائیں گی تا کہ حکومت پناہ گزینوں پر اٹھنے والے اخراجات پورے کر سکے۔ اس کے ساتھ ہی یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ کوئی پناہ گزین تین سال سے قبل اپنے اہل خانہ کو ڈنمارک نہیں بلوا سکے گا۔ یہ پابندی اس کے علاوہ ہے کہ اگر کسی پناہ گزین نے اپنے وطن کا سفر کیا تو اس کا اقامت نامہ منسوخ کر دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان پابندیوں کو مختلف عالمی اور یورپی کنونشز اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہیں۔ یورپین کونسل کے سیکرٹری جنرل تھور بیورن یاگلاند نے کہا ہے کہ اس قانون کے بعد اس بات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ کیا ڈنمارک نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس نکتہ چینی اور ہنگامہ آرائی کے باوجود ڈنمارک کے سیاستدانوں کی طرف سے ظاہر کیا جانے والا رویہ دیگر یورپی یا امریکی حکومتوں سے مختلف نہیں ہے۔ امریکہ اور یورپ کے متعدد ملکوں میں ایسے قوانین بنائے جا رہے ہیں جو پناہ گزینوں یا مسلمان ملکوں کے شہریوں کا ان ملکوں میں داخلہ مشکل بنا دیں گے۔

امریکہ نے دسمبر میں برنارڈینو کیلی فورنیا میں دہشت گرد حملہ کے بعد ویزا قوانین سخت کر دئیے ہیں۔ اب دوہری شہریت کے حامل ایسے یورپی شہری باقاعدہ ویزا لئے بغیر امریکہ نہیں جا سکتے جو نسلی اعتبار سے کسی مسلمان ملک سے تعلق رکھتے ہوں۔ فرانس نے دہشت گردی میں ملوث ایسے فرانسیسی شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کے پاس فرانس کے علاوہ کسی دوسرے ملک کی شہریت بھی ہو۔ اس سوال پر اختلاف کی وجہ سے فرانس کی وزیر انصاف کرسٹیانو ڈیبرا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں کہ ڈنمارک میں املاک ضبط کرنے کا قانون منظور ہونے کے بعد سوئزر لینڈ میں بھی اس قسم کا قانون سامنے لایا گیا ہے۔ جرمنی کی بعض ریاستیں بھی اپنے طور پر پناہ گزینوں پر ڈینش ماڈل کی طرح کی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ برطانیہ میں وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون انگریزی سکھانے کے نام پر تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو مسلسل دھمکاتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس ملک میں آباد تمام تارکین وطن انگریزی پر عبور حاصل کر کے متعلقہ امتحان میں کامیاب نہیں ہوتے تو انہیں ملک میں رہنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے بارے میں یہ طرز عمل دراصل اس اندیشے کی بنا پر سامنے آیا ہے جو ترکی اور یونان کے راستے لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزینوں کی یورپ پر یلغار کی صورت میں درپیش ہے۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ اگرچہ یورپین یونین ترک حکومت کو ترغیب و تحریص کے ذریعے اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ اپنے ملک میں مقیم شامی پناہ گزینوں کو یورپ کی طرف جانے سے روکے۔ اسی طرح یونان پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ کشتیوں کے ذریعے وہاں پہنچنے والے پناہ گزینوں کو ملک میں داخل نہ ہونے دے۔ بصورت دیگر یونان کو یورپ میں بلا روک ٹوک سفر کے معاہدے شینگن SCHENGEN سے علیحدہ کر دیا جائے گا۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے یونانی حکومت کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ربر کی کشتیوں کے ذریعے دشوار گزار سفر کر کے سمندر کے راستے یونان پہنچنے والے تارکین وطن کو روکنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ ان لوگوں کی کشتیاں ڈبو دی جائیں اور انہیں سمندر میں غرق ہونے کے لئے چھوڑ دیا جائے۔ یونانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ یہ انتہائی اقدام نہیں کر سکتی۔ اگرچہ ملک میں بیروزگاری کی شرح 25 فیصد ہے اور ملک گزشتہ 6 برس سے مالی کساد مندی کا شکار ہے لیکن اگر یورپ اکائی کے طور پر اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تو ہم ان لوگوں کو سمندر کے حوالے نہیں کر سکتے۔ یورپین یونین کے لئے یونان کے وزیر خارجہ نکوس زیڈاکس نے یورپ کے رویہ پر مایوسی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ یکجہتی نہیں ہے۔ یہ انتشار ہے۔ اس طرح رکاوٹیں دور کرنے کی بجائے دیواریں اونچی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حقیقت احوال یہی ہے کہ ڈنمارک کی طرح یورپ کے اکثر ملک پناہ گزینوں کی آمد کو روکنے کے لئے قوانین سخت کرنے اور زیادہ سے زیادہ درخواست دہندگان کو جلد از جلد واپس بھیجنے کے لئے پالیسیاں بنا رہے ہیں اور اقدامات کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس کے آخر میں انسانی اسمگلروں نے شمالی ناروے میں روس کے ساتھ ملنے والی سرحد پر ستوراسکوگ STORSKOG کے علاقے سے سائیکلوں پر روس سے پناہ گزینوں کو ناروے بھیجنا شروع کر دیا تھا۔ ناروے انہیں قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان لوگوں کو واپس قبول کرے گا جن کے پاس روس کا جائز ویزہ ہو گا جو درست معلومات کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہو۔ یہ خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ انسانی اسمگلروں نے دور دراز علاقے میں اس روٹ کو استعمال کرنے کے لئے روس کے مقامی بدعنوان اہلکاروں کو ساتھ ملایا تھا اور پناہ گزینوں سے لاکھوں روپے لے کر انہیں جعلی ویزے پر روس لایا جاتا اور پھر سائیکلوں پر سخت سردی میں ناروے روانہ کیا جاتا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس علاقے میں روس اور ناروے کو ملانے والی سڑک پر پیدل سفر کی اجازت نہیں ہے اور کسی بس یا گاڑی میں سفر کی صورت میں سرحدی کنٹرول پر روکے جانے کا امکان تھا۔ اس لئے پناہ گزینوں کو سائیکلوں پر ناروے میں داخل کروایا جاتا تھا۔ ناروے کے سخت احتجاج پر یہ سلسلہ تو بند ہو گیا لیکن ساڑھے پانچ ہزار کے لگ بھگ پناہ گزین اب مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ روس انہیں واپس نہیں لینا چاہتا اور ناروے انہیں قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

یہ صورتحال یورپ کے متعدد ملکوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مختلف ملکوں میں ہزاروں پناہ گزین شمالی یا وسطی یورپ جانے کی خواہش لئے ہوئے بے یارومددگار سرحدی علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں اکثریت اگرچہ 20 اور 30 سال کی عمر کے مردوں کی ہے لیکن بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد بھی ان میں شامل ہے۔ ان میں سے اکثر شام کی خانہ جنگی سے فرار ہونے والے شہری ہیں لیکن پاکستان ، افغانستان اور دیگر ملکوں سے بہتر مستقبل کی تلاش میں آنے والے بھی کافی تعداد میں ان لوگوں میں شامل ہیں۔ یہ سب لوگ کثیر رقوم دے کر انسانی اسمگلروں کے ذریعے مختلف راستوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس طرح یورپ کو ایک ایسے بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو دوسری جنگ کے بعد دیکھنے میں نہیں آیا۔

ان لوگوں میں اکثر خواہ ان کا تعلق شام سے ہو یا افغانستان ، صومالیہ اور افریقہ کے دوسرے ملکوں سے، جنگ اور بدامنی کے حالات سے مجبور ہو کر بے گھر ہوئے ہیں اور اب ایک پرسکون جگہ تلاش کرنا چاہتے ہیں جہاں وہ امن اور سکون سے رہ سکیں۔ یورپ کی حکومتیں شروع سے ہی ان لوگوں کی آمد روکنے کی تگ و دو کر رہی تھیں۔ لیکن 13 نومبر 2015 کو پیرس میں دہشت گرد حملوں کے بعد پناہ گزینوں کے لئے عام یورپی شہریوں میں پائی جانے والی ہمدردی کے جذبات بھی ختم ہو چکے ہیں۔ اس لئے ڈنمارک ہو یا ناروے، فرانس ہو یا سوئزر لینڈ، امیگریشن قوانین کو سخت کر کے پناہ گزینوں کو ملک سے باہر رکھنے اور پہلے سے آباد تارکین وطن کے لئے حالات کار کو مشکل بنانے کے لئے سرگرمی سے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اقلیتی سیاسی جماعتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں نئی پالیسی پر ردعمل ظاہر کر رہی ہیں لیکن یہ عناصر اکثریت اور برسر اقتدار پارٹیوں کے مقابلے میں بے اثر اور قلیل ہیں۔ اس لئے وہ بیان دینے یا شور مچانے سے زیادہ کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ حیرت کی بات ہے کہ یورپ جیسا بڑا طاقتور اور باوسیلہ براعظم پیرس کے ایک سانحہ کے بعد پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے بارے میں اپنی رائے اور پالیسی تبدیل کر رہا ہے۔ پیرس حملے دولت اسلامیہ نامی دہشت گرد گروہ نے کئے تھے اس لئے اس بحث میں مسلمانوں کو خاص طور سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یورپ کے اکثر ملک صرف سرحدوں کو کنٹرول کرنے کے بارے میں ہی پریشان نہیں ہیں بلکہ وہ انجذاب کے نام پر پہلے سے آباد تارکین وطن کے لئے بھی حالات کار مشکل بنا رہے ہیں۔ زبان سیکھنے ، مقامی ثقافت اپنانے اور معاشرے کا حصہ بننے کا مطالبہ کسی حد تک درست بھی ہے۔ گزشتہ چار پانچ دہائیوں کے دوران آنے والے متعدد تارکین وطن نے اس حوالے سے سستی اور غفلت سے بھی کام لیا ہے۔ خاص طور سے ان کی مذہبی تنظیموں نے میزبان معاشروں کے ساتھ مکالمے اور مواصلت کو مستحکم کرنے کے لئے کام نہیں کیا۔ اس کے باوجود اب جس شدت سے سماجی انضمام کی بات کی جا رہی ہے وہ یورپ کی کثیر الثقافتی پالیسیوں کے بالکل برعکس ہے اور ان اندیشوں کو جنم دے رہی ہے کہ اس طرح مقامی معاشرے نئے آنے والوں کو اپنی ثقافت ، زبان اور عقیدہ ترک کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ یورپ کے اکثر ملکوں میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تنقید کرتے ہوئے لب و لہجہ تند اور تلخ ہوتا جا رہا ہے۔ اکثر یہ آوازیں بلند ہوتی ہیں کہ شریعت کی تشریح اور توجیہہ مقامی ثقافتی روایت اور سیاسی ضرورتوں کے مطابق ہونی چاہئے۔ ان تقاضوں کے درپردہ یہ خوف حاوی ہے کہ اسلام کی سخت گیر شکل پر عمل کرنے والے ہزاروں نوجوان یورپ کے مختلف ملکوں سے دہشت گردوں کا ساتھ دینے کے لئے شام جا چکے ہیں۔ ان کے علاوہ لاتعداد نوجوان ان کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو رہے ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ کسی وقت کسی بھی غیر قانونی حرکت یا دہشت گردی میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

ایک سانحہ پر پالیسیاں بدلنے والے یورپ کے لیڈر البتہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جن لوگوں کا حوالہ دے کر وہ براعظم کے ساڑھے چار کروڑ مسلمان تارکین وطن کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ انتہا پسند پروپیگنڈے کا شکار بننے سے پہلے ان معاشروں سے مایوسی کا شکار ہو چکے تھے جہاں وہ پیدا ہوئے اور جنہیں وہ اپنا وطن مانتے تھے۔ سیاسی ، سماجی ، ثقافتی اور اقتصادی محرومیوں کا شکار ہونے والے یہ لوگ خود یورپی معاشروں کی غلط پالیسیوں ، امتیازی رویوں ، نسلی نفرت اور سماجی تنہائی کی صورتحال کا شکار ہو کر بعض صورتوں میں انتہائی اقدام اختیار کر رہے ہیں۔ یہ حالات معاشروں کے لئے پریشانی کا سبب ہیں تو مسلمان آبادیاں اور وہ خاندان بھی تکلیف اور مشکل کا شکار ہیں جن کے بچے اس تباہ کن راستے کو اختیار کر لیتے ہیں۔ اب یورپ کے لیڈر ان عوامل کا جائزہ لینے اور اپنے معاشروں کو زیادہ کشادہ اور فراخدل بنانے کے لئے کام کرنے کی بجائے اگر قانون سازی اور بیان بازی کے ذریعے تعصبات اور امتیازی رویوں کو ہوا دیں گے تو مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ کا امکان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض کوتاہیوں اور کمزوریوں کے باوجود یورپ کے مسلمانوں کی اکثریت امن پسند اور مقامی معاشروں کی وفادار ہے۔ یہی مقامی سیاسی جماعتوں کی سب سے بڑی قوت بھی ہے۔ اس قوت کو ساتھ ملا کر ہی موجودہ چیلنج کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس وقت ان گروہوں کو تنہا کرنے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔

ہیجان کی بنیاد پر ابھرنے والی مقبول عام رائے کو خوش کرنے کے لئے کالے قوانین بنانے اور مسلمان آبادیوں کو دھتکارنے کا سلسلہ جاری رہا تو سرحدیں بند کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اس وقت ڈائیلاگ اور بہتر طریقے سے معاشرے کے مختلف گروہوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ صرف ترقی پذیر ملک ہی نہیں، باوسیلہ یورپی ملک بھی بابصیرت اور قائدانہ صلاحیتوں کے حامل لیڈروں سے محروم ہو رہے ہیں۔ یہ لوگ جس قدر جلد اپنی غلط حکمت عملی کا ادراک کر کے سیاسی فیصلوں کا آغاز کریں گے، یورپ ، دنیا اور بین العقیدہ ہم آہنگی کے لئے اتنا ہی بہتر ہو گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 417 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

7 thoughts on “یورپ میں اسلام اور مسلمانوں سے خوف

  • 28-01-2016 at 10:19 am
    Permalink

    دلچسہپ بات ہے کہ اس موضوع پر پباہ گزینوں کے نقطہ نظر سے لکھے جانے والے تمام تجزیوں میں مسلمان ملکوں اور معاشروں کو اس بنا پر ذمےداری سے آزاد کر دیا جاتا ہے کہ ترک وطن کرنے یا جہادی بننے والے (یا دونوں قسم کے) مسلمان نوجوان اپنے معاشروں سے مایوس ہو چکے ہیں۔ جواباً یہ سوال کیا جا سکتا ہے (اور اب کیا بھی جانے لگا ہے) کہ کیا اس بنا پر ذمےداری مغربی معاشروں کی جانب منتقل ہو جاتی ہے؟ دوسری اہم بات یہ ہے کہ تمام مغربی ملک انتہائی دریادلی کی پالیسی اپنا کر بھی مسلمان ملکوں کی ایک فیصد آبادی کو اپنے دامن میں پناہ نہیں دے سکتے۔ تو پھر اس موضوع پر اتنا واویلا کیوں؟ اور اس طرف توجہ کیوں نہیں کہ وسائل کی بہتر تقسیم، جمہوری سیاسی نظام اور انسانی ترقی کے ذریعے مسلمان ملکوں کے معاشروں کو انسانوں کے رہنے کے قابل بنایا جائے تاکہ نوجوان مایوس ہو کر ترک وطن کی خاطر اپنے آپ کو خطروں میں نہ ڈالیں۔ اگر مسلمانوں نے بھک منگوں کی طرح دوسروں کی ہمدردی کو اپنا ذریعہ معاش بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے تو پھر کم سے کم اپنا احمقانہ تفاخر تو ترک کر دیں۔

  • 28-01-2016 at 3:37 pm
    Permalink

    اجمل کمال صاحب سے صرف اتنی استدعا ہی کہ وہ مضمون دوبارہ پڑھ لیں۔ اس میں مسلمان حکومتوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ نہ ہی یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مسلمان ملکوں کے پناہ گزینوں کو لازمی یورپ آنا چاہئے اگرچہ یہ علیحدہ بحث ہے جس پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ یہ مضمون موجودہ حالات کے تناظر میں اس موضوع پر ہے کہ یورپ کی حکومتیں قوانین سخت کرکے اپنے ہاں مسلمان آبادیوں میں مزید بے چینی پیدا کرنے کا سبب بنیں گی۔ اس طرح انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کا مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا۔ میرے خیال میں یہ مقصد اقلیتی گروہوں کو تنہا کرنے سے نہیں بلکہ ساتھ ملانے سے حاصل ہوسکتا ہے۔ یہی مضمون کا خلاصہ بھی ہے۔ واضح رہے یورپ میں مسلمان ایک صدی سے بھی زائد عرصے سے آباد ہیں۔ خود مجھے یورپ میں چالیس برس ہوگئے ہیں۔ میرے بچے پاکستانی نہیں یورپئین ہیں اور اپنی حکومت سے برابری کا سلوک چاہتے ہیں۔

  • 29-01-2016 at 11:13 pm
    Permalink

    میں نے آپ کے مشورے پر اس مضمون کو دوبارہ غور سے پڑھا، اور ساتھ ہی آپ کے وضاحتی کمنٹ کو بھی۔ جو لوگ آپ کی طرح کئی دہائیوں سے یوروپ میں رہ رہے ہیں، مثلاً جرمنی میں (جہاں کولون شہر میں نئے سال کی رات جرمن لڑکیوں اور عورتوں پر جنسی حملوں اور لوٹ مار کے کم از کم پانچ سو واقعات رپورٹ کیے گئے)، کیا وہ خود مغربی اقدار اور ان اقدار کی حفاظت کرنے والے قوانین پر اتنا یقین رکھتے ہیں کہ ان حملہ آوروں کو شناخت کر کے پولیس کے حوالے کرنے پر راضی ہوں؟ یا وہ اپنی ذمےداری قبول کیے بغیر ہی اپنے میزبان ملکوں کو حکومتوں سے برابری کے سلوک کا مطالبہ کرتے رہیں گے؟ برسبیل تذکرہ، آپ کا یہ مضمون اردو میں پاکستان کی ایک ویب سائٹ پر شائع ہوا ہے جو نہ تو مغربی حکومتوں کو مخاطب کرنے کا موزوں فورم ہے اور نہ تارکین وطن کی اس نئی نسل کو مخاطب کرنے کا جو مغربی ملکوں میں پیدا ہوئی ہے۔ یہاں کے پڑھنے والے اگر یہ سوچیں تو کیا تعجب کی بات ہو گی کہ ان میں سے ننانوے فیصد کو تو یہاں جینا اور مرنا ہے، تو پھر یہاں کے معاشرے پر توجہ دینے کے بجاے ان کی توجہ مغرب میں بسنے والوں کے مسائل کی طرف کیوں مرکوز کرائی جا رہی ہے جبکہ وہ اس سلسلے میں کسی جانب سے کچھ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے؟

  • 29-01-2016 at 11:38 pm
    Permalink

    ہماری جد و جہد ایک ہی لاٹھی سے سب کو ہانکنے کے رویے کے خلاف ہے۔ آپ کے اٹھائے سوالوں کا جواب یہی ہے۔ یورپ کے تارکین وطن میں ہر طرح کے لوگ ہیں۔ جس طرح پاکستان میں مختلف الرائے لوگ ہیں۔ یہاں اپنے حقوق کی لڑائی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی پاکستان میں انتہا پسندی کے خلاف جنگ۔ آپ نے کولون کے واقعہ کا ذکر کیا، میں اس سانحہ پر بھی لکھ چکا ہوں اور اسی سائٹ پر شائع بھی ہو چکا ہوں۔
    باقی رہا زبان کا معاملہ اور اس کا کہاں تک اثر ہوتا ہے۔ تو یہی عرض کرسکتا ہوں کہ میرے خیال میں زبان فی زمانہ اپنی رائے پہچانے کے معاملے میں رکاوٹ نہیں ہے۔ جب موقع ملتا ہے تو مقامی زبانوں میں بھی بات کی جاتی ہے۔

  • 30-01-2016 at 6:30 pm
    Permalink

    شکریہ۔ مغرب میں مقیم جو مسلمان خود کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکے جانے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، کیا ان پر کسی قسم کی ذمےداری عائد ہوتی ہے کہ وہ مجرموں کو شناخت کرنے اور سزا دلوانے میں مغربی حکومتوں کی مدد کریں؟ یا ان کا سارا زور مراعات سے بلا روک ٹوک فائدہ اٹھانے اور مجرموں کو تحفظ دینے پر ہی رہے گا؟

  • 01-02-2016 at 9:17 pm
    Permalink

    اس کا جواب صرف یہ ہے کہ آپ یورپ آئیے ، لوگوں سے ملئے اور رائے قائم کیجئے۔ مراعات سے فائدہ اٹھانے کا طعنہ یورپ میں دائیں بازو کے نسل پرست دیتے ہیں۔ اب آپ جیسے روشن خیال سے بھی سن لیا۔ خوش رہئے۔

  • 27-04-2016 at 9:58 pm
    Permalink

    آپ نے بہت اچھا پیپر لکھا۔ نقطہ صحیح اٹھایا ہے کہ یورپ کو ان مسلمان مہاجرین کے ساتھ انسانی ہمدردی سے پیش آنا ہوگا تاکہ وہ یوروپین سوسائٹی کے مفید شہری بنیں اور دہشت گردی کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔
    دوسری طرف میں‌یہ کہنا چاہتی ہوں‌کہ تالی دو ہاتھوں‌سے بجتی ہے۔ کچھ ان مہاجرین کو بھی سمجھنا ہوگا۔ سوچئیے پلیز کہ جس لائف اسٹائل اور سوچ کی وجہ سے آپ کے اپنے ملک برباد ہوگئے وہی اگر آپ یورپ میں‌ آکر جاری رکھیں گے تو دنیا تو پوری تباہ ہوجائے گی۔ آپ چائنا سے آکر چائنا ٹاؤن میں‌ بس جائیں‌تو آپ نے ہجرت تو نہیں‌کی۔ کیا جو چائنا پیچھے چھوڑ آئے وہ اتنا اچھا تھا کہ یہاں‌پر وہ آپ دوبارہ بنائیں؟

Comments are closed.