مذہبی بیانیہ اور عمل


zubair torwaliجب کوئی بحث معاشرے کے مجموعی تصورات کو اپنے گرفت میں لے لے اور اس کا اثر ہر خاص و عام کی زندگی پرپڑجائے تو اسے بیانیہ کہا جاتا ہے۔ بیانیہ خود بخود جنم نہیں لیتا۔ معاشرتی سطح پر اسے کسی خاص مقصد کے لئے پروان چڑھایا جاتاہے۔ اس کو آگے بڑھانے کے لئے مختلف ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں جن میں تعلیم، ذرائع ابلاغ و اطلاعات اور منبر و محراب شامل ہیں۔
بیانیہ کا استعمال کئی سطح پر کیا جاتا ہے۔ یہ استعمال انفرادی، سماجی، ریاستی، عسکری سارے مقاصد کے لیے ہوتا ہے۔
ریاستیں اکثر اس کو غیرعلانیہ طورپر کرتی ہیں اور یہاں سے یہ فرد، سماج اور معاشرے میں سرایت کر جاتا ہے۔ ان تینوں سطحوں پر بیانیے کا بنیادی مقصد فرد، افراد، معاشرے یا قوموں کو زیر کرنا ہوتا ہے۔
قومی یا عالمی مقتدر قوتیں کسی بھی بیانیے کو شہریوں یا قوموں پر ٹھونس دیتی ہیں۔ اس کا مقصد ہرگز کوئی آفاقی اصول نہیں ہوتا بلکہ اس کا منشا انفرادی، قومی یا عالمی مفاد ہی ہوتا ہے۔
جب کوئی بھی بیانیہ کسی ریاست میں معاشرے کا خبط بن جائے تو اس سے کئی برائیاں جنم لیتی ہیں۔ ہٹلر نے اس وقت کے جرمن قوم کو قومی نرگسیت کا بیانیہ پڑھا کر یہودیوں کی نسل کشی کروائی اور دنیا کو جنگوں میں دھکیل دیا۔ اسی طرح نوابادیاتی قوتوں نے تہذیب کے بیانیہ کو لے کر قوموں کو مفتوح کیا۔ امریکہ اس سلسلے میں زیادہ چالاک ہے۔ وہ اپنے مفاد کے حساب سے مختلف خطوں کے لیے مختلف بیانیے وضع کرتا ہے۔ اسی طرح امریکہ کا کٹر اتحادی سعودی عرب بھی اپنے مفاد کی خاطر ایک خاص مذہبی بیانیے کو مسلم دنیا میں رائج کروا رہا ہے۔
پاکستان کو شروع دن سے اپنے الگ وجود اور شناخت کا مسئلہ رہا۔ متحدہ ہندوستان سے علیحدگی کے جواز کی خاطر یہاں مذہب کو بنیادی بیانیہ بنادیا گیا۔ ایک ’پاکستانی قوم ‘ بنانے کے لیے معاشرے میں موجود دوسرے سارے بیانیوں کی نفی کی گئی۔ پاکستانی معاشرے کی لسانی، مذہبی اور جغرافیائی تنوع سے انکار کرکے سب کو ایک ’اسلامی ‘ لاٹھی سے ہانکا گیا۔ پھر ایک وقت آیا کہ ملک کے ایک حصّے میں لسانی بیانیے نے زور پکڑ لیا اور وہ مذہبی بیانیے پر حاوی ہوکر ملک کے دولخت ہونے کا سبب بنا۔
سقوط ڈھاکہ سے پاکستانیوں کے بیانیہ سازوں نے الٹا سبق لیا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ وہ پاکستانی قوم کی لسانی اور مذہبی تنوع کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھتے۔ اس کی بجائے انہوں نے مذہبی بیانیے پر مزید شدّت کے ساتھ کام کیا جس کا خمیازہ ہم انفرادی، معاشرتی، اداراجاتی اور قومی سطح پر گزشتہ تین چار دہائیوں سے بھگت رہے ہیں۔ مذہب اب صرف بیانیہ رہ گیا۔ اس کے زرین اصولوں پر عمل مفقود ہوچکا ہے۔ کئی طرح کے اتار چڑھاﺅ سے گزر کر یہ بیانیہ اب پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سبب بن چکا ہے۔
آپ چاہے کسی بازار میں ہوں، گلی یا ریسٹورینٹ میں ہو ںیا پھر سکول، دفتر یا گھر میں ہوں، ہر کوئی آپ کو مذہبی درس دینے پر تلا نظر آتا ہے۔ مذہب کا تعلق چونکہ تقدیس سے ہے اس لئے کوئی اس میں اعتراض بھی نہیں کرسکتا۔ آپ آسانی سے اپنے مخالف کو لادین، لبرل، ایجنٹ اور مرتد قرار دے کر اس کا جینا حرام کرسکتے ہیں۔ کوئی اگر انسانی معاشرے کی بھلائی کے لیے اپنے طور پر سعی کرے تو اس کو جلد شیطان قراردے کر اس کے لئے زندگی اجیرن کرنے کے ساتھ ساتھ اسے دہشت گردوں کے لئے ایک آسان نشانہ بناسکتے ہیں۔ آپ کے بیانیے پر لوگ جلد یقین بھی کریں گے کیوں کہ عقیدہ کسی تحقیق کا محتاج نہیں ہوتا۔
ستم ظریفی تو یہ کہ یہ مذہبی درس وہی لوگ دیتے ہیں جن کو کبھی اپنا محاسبہ کرنے کی جرات نہیں ہوتی۔ اس طرف کبھی ان کی سوچ بھی نہیں جاتی کیوں کہ ان کے پاس تو ان کا مذہبی ہونا ہی ان کا بڑا لائسنس ہے۔
اس مذہبی بیانیے نے لوگوں کو نرگسیت میں مبتلا کردیا ہے۔ ایک طرف اگر اس سطحی مذہبیت نے ان کو انفرادی و قومی سطح پر جہالت پر مبنی نرگسیت میں مبتلا کردیا ہے تو دوسری طرف ’جدیدت ‘ کے عفریت نے معاشرے میں مادیت پرستی کو پروان چڑھایا ہے جس نے ایک گہری معاشرتی لالچ کو جنم دیا ہے۔
پانچ وقت کا نمازی تاجر کبھی زیادہ منافع کمانے سے نہیں گھبرائے گا نہ ہی مذہبی بنیادوں پردوسروں کی پگڑیاں اچھالنے والا استاد اپنی ڈیوٹی دینے میں مخلص ہوگا۔ اسی طرح اس شخص کو رشوت لینے یا دینے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوگی جو آپ کے پیچھے اس لئے ہاتھ دھو کر پڑا ہے کہ ٓاپ ان کی طرح نہیں سوچتے۔ نماز پڑھنے کی دعوت عام ہے کہ اس میں کسی کا مالی یا دنیاوی نقصان نہیں جبکہ اسلام کے اہم رکن زکوٰة دینے پر بہت کم بات ہوتی ہے۔ رمضان کے مہینے جب بینک اکاو¿نٹس سے زکوٰة کاٹتے ہیں تو شہری اپنے اکاو¿نٹ چند دنوں کے لئے خالی کردیتے ہیں اور اس ’کار خیر ‘ کے لئے بینک کا عملہ ہی ہمیں مطلع کرتا ہے۔ اسلام اب محض سیاسی و معاشرتی طاقت کے حصول کا ایک ذریعہ رہ چکا ہے۔ اصل مذہبی روح فوت ہوچکی ہے۔ عمل کوئی نہیں رہا، صرف بیانیہ رہ چکاہے۔
سکول، کالجوں اور جامعات میں تعلیم و تحقیق ختم ہوچکا ہے۔ سارا زور ’اچھا مسلمان ‘ بننے پر ہے اور ان کے نزدیک اچھا مسلمان وہ ہوتا جو ایک خاص وضع قطع کو اپنائے۔ ظاہر نکھر رہا ہے جبکہ باطن لالچ و مفاد کے اندھیروں میں مزید تاریک ہورہا ہے۔
ہمارے تعلیمی و تحقیقی درسگاہوں میں تحقیق مٹ رہی ہے۔ جو کچھ تحقیق ہورہی ہے اس کا بھی زیادہ تر حصّہ اس بیانیے کے نتائج انتہاپسندی و دہشت گردی کی نذر ہوجاتا ہے۔ ہمارے اخبارات کے ادارتی صفحات اٹھا کرپڑھیں تو سارے مضامین اسی بیانیے کے گرد گھومتے ہیں۔ کوئی ڈھنگ کی تحقیق نہیں ہورہی ہاں ایک دوسرے کو کافر یا نیچا دکھانے کا بازار گرم ہے۔ ایسا کرنے کے لئے سیکڑوں کتابیں، رسالے اور پرچے ہر مہینے مارکیٹ میں آجاتے ہیں۔ ہمارے ادارے اس بیانیہ کو نہیں چھیڑ رہے البتہ اس کے نتائج کا مقابلہ حربی ترانوں سے ضرور کرتے ہیں۔ ہم بحیثیت قوم بھٹکے ہوئے ہیں۔
ہماری ریاست اور اس کے طاقتور اداروں کو یہ بیانیہ بڑا بھاتا ہے کہ اس کے ذریعے ہی وہ شہریوں کو بے وقوف بناکر خود کو مضبوط تر کرتے ہیں۔ اور جب ایسا بیانیہ معاشرے میں اس قدر راسخ ہوجائے کہ لوگوں کو اپنے انسانی و شہری حقوق کا پرواہ ہی نہ رہے تو اس سے فائدہ ہمیشہ غاصب قوتوں کو ہی ہوتا ہے۔
دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ہمیں اس کی جڑوں پر وار کرنا ہے۔ ان جڑوں کی نمو ہرسو موجود اسی بیانیے سے مضبوط ہوتی ہیں۔
مذہب کے نام پر جو نجی عسکریت ہوتی ہے اس کی وجہ ریاستی سطح پر مذہب کا عسکری و سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہے۔ ہمیں مذہب کو اس کی اصل شخصی سطح پر لانا ہے جہاں فرد مذہب کی پیروی اپنے رب کی خوشنودی کے لئے کرے ناکہ دوسروں پر طاقت جمانے کے لئے۔
ہمیں باور کرایا جاتا ہے کہ پوری مغربی اقوام لادین ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں۔ وہاں انفرادی سطح پرمذہب کی پیروی بہت خشوع و خضوع سے ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں مذہبی اصول مرچکے ہیں صرف مذہبی بیانیہ انفرادی، معاشرتی، عسکری و ریاستی سطحوں پر سیاسی طاقت کے حصول کے لئے بڑی شدّت سے جاری و ساری ہے۔ ایسے میں امن، تکثیریت اور انسان دوستی کی امید کرنا احمقوں کی جنت میں رہنا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “مذہبی بیانیہ اور عمل

  • 25-03-2016 at 3:57 pm
    Permalink

    بھت عمدہ مضمون ھے

Comments are closed.