ہم لبرل ہیں۔۔۔۔ آپ کون ہیں؟


دو تبصرے آئے اور کیا ہی شاندار تبصرے آئے، پہلا یہ کہ آپ کو خواتین کے علاوہ کسی موضوع میں دلچسپی نہیں ہے؟ مسلسل ایک ہی موضوع پہ لکھتی ہیں اور ایسا لکھتی ہیں کہ مرد ہونا گالی بنا دیا۔ رکیں۔ دوسرا کچھ یوں تھا کہ خواجہ سراؤں میں اتنی دلچسپی کیوں ہے آپ کے دوستوں کو؟ اب ایسے تبصروں کی بھرمار ہو گئی ہے تو پوچھنا یہ تھا کہ مرد ہونے کو گالی کس نے بنایا؟ یا خواجہ سراؤں میں دلچسپی کا ثبوت کس نے دیا ہے؟

ہم تو مرد ہونے کو نہ گالی تصور کرتے ہیں نہ ہی مرد ہونے کی وجہ سے کسی کو برتر جانتے ہیں ، ہمارا تو بنیادی مقدمہ تھا ہی انسان اور انسانیت کے احترام کا، اب آپ بتائیں اگر اس میں سے آپ نے اپنے لیئے گالی ڈھونڈ لی اور میرے لیئے مظلومیت کا رونا دھونا ڈھونڈا تو یہ آپ کی سمجھ ہے نا؟ اور ظاہر ہے میں اپنے لکھے کی جوابدہ ہو سکتی ہوں پر آپ کی سمجھ کے لئے تو نہیں۔ میرے نزدیک تو مرد ہونا نہ گالی ہے نہ ہی کوئی فخریہ پیشکش۔ ہاں انسان ہونا اہم ہے، کسی انسان کا رویہ اہم ہے، بدلتے حالات و واقعات کے بیچ باہمی احترام کو ملحوظِ خاطر رکھنا اہم ہے۔ شاید آپ کے نزدیک ایسا نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ میں آئینہ رکھتی ہوں تو آپ کو اپنا چہرہ نظر آنے لگتا ہے۔۔سو باتوں کی ایک بات بس اتنی گزارش ہے کہ ہم سب انسان پہلے ہیں عورت اور مرد بعد میں ہیں۔ انسانوں کی خواہشات بھی ہوتی ہیں، خواب بھی ہوتے ہیں، اپنی مرضی سے جینے کی خواہش بھی ہوتی ہے، فیصلہ کرنے کی آزادی بھی درکار ہے اور سب سے بڑھ کر احترام بھی۔ مرد اور عورت کا رشتہ صرف شادی یا اپنے شریک حیات پہ رکھ کے مت سوچیں تو بہتر ہو گا۔ آخر دنیا میں سب مرد اور عورتیں میاں بیوی تو نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ بھی سو جگہیں ہیں جہاں ہمیں ایک دوسرے سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس بیچ ایسا کیوں ہے کہ اپ کو اپنا آپ گالی لگا؟ وہ اس لئے کہ آپ کو میرا وجود کمتر لگتا ہے۔ آپ عورت کو ایک انسان سمجھیں، جس کی خواہش ہے کہ اس کا احترام کیا جائے، اسے فیصلہ کرنے کی آزادی دی جائے، یہ تسلیم کیا جائے کہ خواب و خواہشات، جنسی جبلت، لباس، تعلیم ، عقل سب پہ آپ کی اجارہ داری نہیں ہے یہ تمام بنیادی حقوق عورت کو بھی حاصل ہیں۔ایسے سوچ کر دیکھیں آپ کو اپنا وجود گالی نہیں لگے گا۔

اگلی بات یہ کہ خواجہ سراؤں میں دلچسپی کا الزام تو اس لیئے بھی عجیب ہے کہ مقدمہ تو پھر وہی انسان اور احترامِ آدمیت کا تھا، دلچسپی تو انسانوں میں ہی برقرار رہی ہے لیکن بہرحال جو دلچسپی چوک چوراہے میں دکھائی جاتی ہے ویسی دلچسپی ہم سب کو نہیں ہے۔ اگر یہاں انسان اور انسانیت کا احترام ہوتا تو کسی خواجہ سرا کی خاطر گھنٹوں اس فیصلے میں نہ گزرتے کہ بھائی وارڈ زنانہ ہو یا مردانہ؟ مریض کو مریض سمجھا جاتا اور انسان کو انسان سمجھا جاتا ۔ تحقیر کا نشانہ بنانا تو ویسے بھی ہمارا قومی مشغلہ ہے، تربیت کا راگ بھی آپ لوگ الاپتے ہیں۔ نچانے کیلئے نوٹ بھی آپ لوگ ہی دکھاتے ہیں ، ان کو دیکھ کر گھٹیا کلمات بھی آپ لوگ ادا کرتے ہیں۔ ناگواری سے گاڑی کا شیشہ چڑھاتے ہیں۔ پانچ دس روپے ان کی جانب ترس کھا کر پھینک دیتے ہیں تو فیصلہ بھی آپ ہی کریں کہ آپ کے بچے کیا سیکھیں گے۔ لیکن آخر اس میں کیا برائی ہے کہ کسی کو انسان سمجھ لیا جائے؟ بنیادی انسانی حقوق پہ اس کا حق تسلیم کر لیا جائے؟ یہ تو مان لیں کہ جیسے شوق فرمائے جاتے ہیں اس کے بعد کس قسم کے امراض کا سامنا کرنا ہوتا ہے جن کا نام لینا بھی آپ گوارا نہیں کرتے اور اگر وہ ہسپتال پہنچ جائیں تو وہاں بیٹھے لوگ بھی اکثر اسی معاشرے کا ایک پڑھا لکھا جاہل فرد ثابت ہوتے ہیں۔ ارے دفع کریں جو بات ہے وہ یہ کہ یاد رکھیں روایات انسان سے بڑھ کر عظیم ہیں اور انسانیت کی بات کرنے والے دیسی لبرل لوگ ہوتے ہیں ۔

ویسے کبھی سوچا ہے یہ دیسی لبرل کا کیا مطلب ہے؟ مجھے تو پچھلی بارش میں یہی سمجھ آیا کہ گھر میں پانی جمع ہونے کے ڈر سے دیسی طریقے استعمال کرتے ہوئے بانس سے نالی کھولنے کا کام کوئی لبرل سوچ کا انسان کرے تو وہ دیسی لبرل ہوا۔ لیکن کرم فرماؤں کی ایک لمبی چوڑی موٹی سی فہرست دیسی لبرل کو گالی سمجھتی ہے اور اکثر اس خطاب نما گالی سے نوازتے بھی رہتے ہیں۔ تو آج آپ کو مزید دکھ پہنچانے کی خاطر اتنا بتانا تھا کہ دیسی لبرل کا مطلب یہ ہوا کہ ہم پاکستان میں رہتے ہیں اور لبرل خیالات کے مالک ہیں، ہم اس دیس کو اپنا مانتے ہیں تو یہاں رہ رہے ہیں ہاں فرق یہ ہے کہ ہمارے لئے اس وطن سے محبت کسی دوسرے ملک کے لئے نفرت سے مشروط نہیں ہے اور شاید یہی نقطہ ہمارے دیسی لبرل ہونے کو کافی ہے۔ سو آئندہ اسے گالی مت سمجھیں، گالیاں بکنی ہوں تو اور بہت ہیں۔ یہ تو ہمارے لیے اعزاز ہے کہ معترضین وہ سب فرما رہے ہیں جو ہم خود بھی مانتے ہیں کہ ہم لبرل ہیں۔ ہاں مزہ تب ہے جب ہم بھی کہیں کہ آپ کیا ہیں؟ آپ کون ہیبں؟ آپ بھی فراخ دلی سے تسلیم کریں کہ ہاں بھائی ہم تو فلاں ہیں، کہتے رہو۔۔۔ کچھ بتائیے نا بھیا ۔۔۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

4 thoughts on “ہم لبرل ہیں۔۔۔۔ آپ کون ہیں؟

  • 04/10/2016 at 12:52 am
    Permalink

    آپ لوگوں کی باتوں پرنہ جائیں آپکے نذریات انسان دوستی ہیں جوکہ آپکے ہرآرٹیکل سے ظاہرہے یہی انسانیت کی خد مت ہے اپنے مشن کوجاری رکھیں

  • 04/10/2016 at 2:56 am
    Permalink

    ٹھیک ہو گیا قریشی صاحب۔۔۔

  • 04/10/2016 at 10:17 am
    Permalink

    The fact that you are getting these negative comments is proof enough that you are hitting a nerve. Please keep writing. Don’t ever be distracted by the so-called critics and women-haters because you’re doing a great job

  • 04/10/2016 at 5:22 pm
    Permalink

    Thanks

Comments are closed.