”ایگزیکٹ لی، بول نہیں بولے گا“


imad zafarایگزیکٹ سکینڈل کیس ملکی تاریخ کا ایک بہت بڑا بدعنوانی کا واقعہ ہے۔ اس انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ کے میڈیا کی صنعت میں آنے اور ’بول‘ کے نام سے ٹی وی چینل لانچ کرنے کی کوشش کی وجہ سے اس کیس کو بین الاقوامی دنیا میں بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ ایگزیکٹ نامی کمپنی پاکستان کی صف اول کی آئی ٹی کمپنیوں میں شمار ہوتی تھی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت سے حاصل ہونے والا تقریبا 60 فیصد سے زیادہ زر مبادلہ اسی کمپنی کی بدولت تھا۔ یہ کمپنی فحش ویب سائٹس کو ویب سرور اور کسٹمر سپورٹ دینے کے علاوہ جعلی ڈگریاں بھی بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کرتی تھی۔ کمپنی کا چہرہ شعیب شیخ نامی شخص تھا جو انتہائی کامیابی کے ساتھ اس کمپنی کے کالے دھن اور دو نمبر دھندے کو سفید کرتا تھا۔ پولیس ایف آئی اے سیاستدان غرض ہر طاقتور شخص کو یہ روپیہ یا پلاٹ دے کر خاموش کروا دیتا۔ ایسا نہیں تھا کہ ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایگزیکٹ اور شعیب شیخ کے کالے دھندوں کا پتہ نہیں تھا عرصہ دراز سے اس کمپنی کی مبینہ سرگرمیاں خاموشی سے مانیٹر کی جا رہی تھیں۔ ایگزیکٹ نے پوری دنیا بشمول پاکستان میں انتہائی اہم اور بڑی بڑی شخصیات کو جعلی ڈگریاں بیچی تھیں اور پیسہ کمانے کے علاوہ شعیب شیخ بہت سے خفیہ ہاتھوں کو بین الاقوامی دنیا میں اپنے مقاصد کے حصول کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہا تھا کیونکہ اس کی جعلی ڈگریوں کے گاہک اکثر و بیشتر دیگر ممالک میں اہم اور حساس عہدوں پر تعینات تھے۔ اور انہیں بلیک میل کر کے رقم بٹورنے کے علاوہ بہت سی اہم اور خفیہ معلومات بھی شعیب شیخ کے ذریعے کچھ ہاتھوں تک پہنچ جاتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایگزیکٹ یا شعیب شیخ پر کبھی بھی ہاتھ نہ ڈالا گیا اور اسے قانون کی ناک کے نیچے یہ سارا کھیل کھیلنے دیا گیا۔

لیکن پھر اس کہانی میں ایک اہم موڑ آیا، شعیب شیخ اور اس کی پشت پر موجود کچھ سپانسرز نے ’بول‘ کے نام سے ایک نیوز چینل لانچ کرنے کی کوشش کی۔ ملکی صحافت کے تمام بڑے ناموں کو اتنا پیسہ آفر کیا گیا کہ اس کی چکا چوند میں وہ یہ بھول گئے کہ ایگزیکٹ کا دھندہ کیا ہے۔ زور و شور سے پاکستان کا سب سے بڑا چینل لانچ کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ پاکستان کی صحافت کے تقریبا تمام نامور صحافیوں اور اینکرز نے اس ٹی وی چینل کو جائن کر لیا۔ جن دنوں بول ٹی وی اپنی لانچ کی تیاریوں میں مصروف تھا ان دنوں میری جب بھی کچھ اہم حکومتی شخصیات سے ملاقات ہوتیں اور بول ٹی وی کے حوالے سے بحث ہوتی تو وہ سب بول کا نام سن کر مسکرا دیتے ان میں سے ایک شخصیت جو حکمران جماعت کے اہم ترین عہدے پر فائز ہیں وہ اکثر مسکرا کر بول چینل کے حوالے سے مجھے اکثر یہ جواب دیتے کہ ’بول نہیں بولے گا‘۔

ایگزیکٹ کے انٹرنیٹ پر عریاں ویب سایٹس اور فحاشی کے دھندوں کی معلومات تو کانوں تک اکثر پہنچتی رہتی تھیں لیکن جعلی آن لائن کالجز اور یونیورسٹیوں کے کالے کرتوت کے بارے میں آگہی نہیں تھی۔ خیر اس چینل کی لانچ سے کچھ عرصہ قبل ہی ڈیکلن والش نامی صحافی نے جب یہ سکینڈل ایک بین الاقوامی اخبار میں بریک کیا تو ان تمام حکومتی شخصیات کے دعوے درست ثابت ہو گئے۔ اور یہ چیز بھی ثابت ہوئی کہ حکومتی سطح پر بہت پہلے سے بول ٹی وی کے بارے میں کارروائی کرنے کا فیصلہ طے ہو چکا تھا اور اس کے لئے مناسب وقت کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ شعیب شیخ صرف ایک کٹھ پتلی تھا جس کی ڈور ان خفیہ ہاتھوں میں تھی جو حکومت کو اور چند میڈیا ہاﺅسز کو ’سبق‘ سکھانا چاہ رہے تھے اور طاقت کا توازن تبدیل کرنے کیلئے ایک نیا میڈیا گروپ کٹھ پتلی کے ذریعے لا کر ملک میں میڈیا پر اجارہ داری قائم کرنا چاہ رہے تھے۔ لیکن یہ چال الٹی ثابت ہوئی اور ایگزیکٹ کو حکومت نے بڑے میڈیا گروپوں کے ساتھ مل کر قابو کر لیا۔ بین الاقوامی پریس کے ذریعے اس خبر کو چلا کر ایک عالمی ہائپ کو جنم دیا گیا اور اس کی آڑ میں حکومت نے سیاسی فائدہ اٹھاتے ہوئے پس پشت قوتوں کے اس ہرکارے شعیب شیخ پر ہاتھ ڈال دیا۔ ملک کے دو بڑے اور مضبوط ترین میڈیا ہاﺅسز ایگزیکٹ کی آمد سے خائف اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ کو بچاتے ہوئے یکجا ہوئے اور اپنے ٹی و چینلز کی سکرین سے صرف ایگزیکٹ بول اور کٹھ پتلی شعیب شیخ کے خلاف زہر افشانی کرتے رہے۔ شعیب شیخ گرفتار ہو گیا ، بول ٹی وی اور ایگزیکٹ کو سیل کر دیا گیا۔ رفتہ رفتہ پھر اس کیس کو بھی دیگر سکینڈلز کی طرح منوں مٹی تلے دفن کر دیا گیا۔

حکومت نے سیاسی بحران سے نمٹنے اور دفاعی اسٹیبلیشمنٹ کے ایک حصے سے صلح کے بعد اس کیس کو دبانے ہی میں عافیت جانی۔ شعیب شیخ کی پشت پر موجود قوتوں نے اس چینل کو پھر سے لانچ کرنے کی کوششیں کی اور ایک مشہور ٹی وی چینل کے مالک اور سونے کے کاروبار سے منسلک شخصیت نے اس کے شیئرز بھی خریدے لیکن اس ٹی وی چینل کو تاحال لانچ نہ کیا جا سکا۔ شعیب شیخ ایف آئی اے کی تحویل میں آج بھی فائیو سٹار ہوٹلوں کے ناشتوں سے لطف اندوز ہوتا ہوا اب رہائی کے قریب ہے جس کا واضح اشارہ ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر زاہد جمیل کا اس کیس سے علیحدگی اختیار کرنا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب یہ کیس فیصلے کے بالکل قریب ہے زاہد جمیل کا اس سے علیحدگی اختیار کرنا انتہائی معنی خیز ہے۔ ذرائع کے مطابق موقع اور وقت دیکھ کر شعیب شیخ کو پہلے ضمانت اور پھر بعد میں کلین چٹ دے دی جائے گی لیکن شعیب شیخ کو ٹی وی چینل چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس کے ضامن یہ گارنٹی پہلے ہی حکومتی سطح پر دے چکے ہیں۔

شعیب شیخ جیسے پیادے اکثر طاقت کی بساط پر استعمال کئے جاتے ہیں اس لئے اس کی قید یا رہائی کوئی خاص معنی نہیں رکھتی۔ لیکن اس کو استعمال کرنے والے ہاتھ آج بھی صحافیوں اور قانون کی پہنچ سے بہت دور ہیں۔ ہمارے کسی بھی بڑے صحافتی نام یا ٹی وی چینل کو توفیق نہیں ہوئی کہ شعیب شیخ کی پشت پر موجود قوتوں کے بارے میں تحقیقات کی ہمت کرتے۔ بول کو جائن کرنے والے بڑے بڑے اینکرز اور صحافی تو خود شعیب شیخ سے تنخواہیں بٹورنے کے بعد چلتے بنے لیکن ہزاروں کی تعداد میں گمنام صحافی جن کا روزگار اسی صنعت سے وابستہ ہے انہیں بے یارو مددگار چھوڑ گئے۔ پچھلے دس ماہ سے ان بیچاروں کو تنخواہیں نہیں ملیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ ان صحافیوں کے بقایا جات بول کی انتظامیہ سے انہیں دلوائے۔ شعیب شیخ تو کچھ عرصے بعد سویٹزرلینڈ یا کسی اور یورپی ملک کے پرتعیش محلوں میں آرام سے زندگی کے باقی دن گزار دے گا لیکن اس کے جرائم کی سزا یہ بے چارے صحافی چکا رہے ہیں جو اس چینل کو جائن کر بیٹھے تھے۔ اس قدر شرمناک اور بڑے سکینڈل کے مجرم شعیب شیخ کو کیونکر ایک وی آئی پی ٹریٹمنٹ دیا جا رہا ہے اس کو سمجھنے کے لئے عقلمندوں کے لئے اشارہ ہی کافی ہے۔ یہ بساط سجانے والے ہاتھ کب تک ایسے مہرے اتارتے رہیں گے یہ سوال بھی باقی ہے۔ بول ٹی وی پر ہاتھ ڈالنے کیلئے ڈیکلن والش نامی صحافی کو کس نے استعمال کیا یہ بھی ایک بہت بڑا سوال ہے۔ متعدد بار شعیب شیخ کو مہرہ بنانے والے ہاتھوں کو کونسی عالمی طاقتوں نے اس بساط کو سجانے سے منع کیا تھا۔ اس سوال کا جواب بھی باقی ہے۔ ان سوالات کے جوابات سیدھا سیدھا اس کہانی کے اصل لکھنے والے مقامی اور بین الاقوامی ہاتھوں کو بے نقاب کر سکتے ہیں۔ دیگر کئی سکینڈلز کی طرح شاید اس بدترین طاقت کے حصول اور پیسے کی اندھا دھند لالچ ملک کی بدنامی جیسے لاتعداد جرائم کا سچ بھی آج سے کچھ دہائیوں بعد منظر عام پر آ ہی جائے گا، فی الحال تو مجھے اس اہم حکومتی شخصیت کا جملہ بار بار یاد آ رہا ہے کہ ’ایگزیکٹ لی، بول نہیں بولے گا‘۔


Comments

FB Login Required - comments