خلافت و جمہوریت اور مذہب و سیکولرازم


 

farnood01

عزیزم فیض اللہ خان کو کوئی تو بتائے کہ یہ شخص مجھے کتنا عزیز ہے۔ عزیز از جان کہوں تو کیا غلط کہوں گا؟ مجھے نہیں لگتا کہ یہ حقیقت کسی ثبوت کا تقاضا بھی کر سکتی ہے۔ گواہی درکار ہوگی تو آپ کا دل خود دے گا۔ ہم نے یونہی دل پشوری کی اور کچھ نہیں۔ آپ سے نہ کریں تو کس سے کریں؟ ہمارے نوشتے کے رد میں بیسیوں تحریریں آچکی ہیں اور اب خیر سے دائرہ وسیع ہوتا ہوا موقر روزناموں کی طرف جا رہا ہے۔ اچھی بات ہے کہ بات کہی جارہی ہے اور بات سنی جارہی ہے۔ جناب سے جو مجھے نیاز مندی ہے اسی کے سبب میں نے اشارات و کنایات کے سبب پردے گرا کر بات کی۔ ورنہ تو صاحب یوں ہے کہ اشاروں اور کنایوں پہ ہی ہمارا ہاتھ ٹھیک بیٹھتا ہے۔ وہ دن نہ آئے کہ ہمیں سفارتی لب و لہجے میں یا پھر ساس بہو کی بتوڑیوں میں بات کرنی پڑے۔ ہم کھل کر بات کر سکتے ہیں۔ مکالمے میں آپ مجھ پرمیری غلطی واضح کردیں تو اس سے بڑھ کر دوستی کا خراج کیا ہوسکتا ہے۔ آپ کے پاؤں دھو کر اشنان نہ کرلوں؟

لوہا گرم ہے تو ہم اپنے حصے کی چوٹ لگاتے ہوئے نکلتے ہیں۔ بات پھیلنی نہیں چاہیئے، مگر اپنا مدعا واضح کرنے کیلئے اب اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔ پہلے ہم پڑھنے والوں کی خاطر یہ طے کر لیں کہ جمہوریت کہتے کسے ہیں؟ مختصر ترین الفاظ میں یوں کہہ لیتے ہیں کہ ”اقتدار میں عوام کی براہ راست شراکت داری کا نام جمہوریت ہے”۔

اس بات پہ ہمارے بیچ کسی کا اختلاف ہے؟ نہیں۔؟ ہو بھی نہیں سکتا۔ کم ازکم آپکو تو قطعا نہیں ہوسکتا۔ یعنی ہمارے بیچ مکالمے کی سمت کا تعین ہوگیا۔ اب ہم پہلا انترہ اٹھاتے ہیں اور ریاستی بیانیے پہ لے جا کر تان توڑتے ہیں۔ اس پہلے انترے کا البتہ آپ کے اظہاریے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چلیے دیکھیں رسالت مآبؐ نے فرمایا تھا ”میرے بعد تمہارا جو بھی حاکم ہوگا وہ قریش سے ہوگا”۔

اس کا سبب جب جاننے کی کوشش کی گئی تو مسلسل ایک ہی جواب آیا کہ ”لوگ قریش کے ہی اقتدار کو تسلیم کرتے ہیں”۔

پڑھتی آنکھ کی دلچسپی کے لئے رسالت مآبؐ کا ایک اور جملہ سامنے رکھتا ہوں جو اسی سے نتھی ہے۔ فرمایا کہ ”جزیرہ نمائے عرب میں لوگ قریش کے اقتدار کے سوا کوئی دوسری چیز جانتے ہی نہیں۔ زمانہ اسلام سے پہلے بھی یہ قریش کا اقتدار مانتے تھے اور آج جب اسلام پھیل چکا ہے تو بھی اسی کا اقتدار تسلیم کرتے ہیں”۔

اس جملے میں آپ تکرار کے ساتھ آنے والے لفظ ”لوگ” پہ آپ غور کر رہے ہیں؟ یعنی کہ رسالت مآبؐ اقتدار میں بغیر کسی امتیاز کے عوام کی شراکت داری کی بات کر رہے ہیں۔ اور یہ کہ عوام کی اس اکثریتی رائے کا احترام تعلیمی اسناد دیکھ کر نہیں کر رہے۔ رسالت مآبؐ نے قبل از وفات یہ بات کہنے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟ اہم سوال ہے

دیکھیں!

برے وقتوں میں جب مسلمانوں نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تو فطری طور پہ دو پارٹیوں کی بنیاد پڑ گئی۔ ایک انصار پارٹی اور دوسری مہاجر پارٹی۔ انصار نے مہاجرین کو پناہ دی کاروبار میں شریک کیا اراضی میں حصہ دیا رشتے قائم کئے اور جنگوں کے دوران مسلمانوں کی دست گیری کی۔ یوں کہہ لیں کہ گردشِ حالات نے مہاجرین کو انصار کے احسا نات تلے دبا دیا۔ بیسیوں واقعات اس بات پر شاہد ہیں کہ حاصل ہونے والی اخلاقی و نفسیاتی برتری کی وجہ سے انصار نے بہت سارے مواقع پہ بہت سارے معاملات میں قیادت کا حق جتلایا۔ رسالت مآبؐ نے کئی بار ازراہ مروت انصار پارٹی کا حق تسلیم بھی کیا اور بہت سے اہم فیصلے ان کے مرکزی راہنماؤں کے سپرد کئے۔ ان معاملات میں انصار و مہاجر کبھی باہم دست وگریبان بھی ہوجاتے مگر ان واقعات کو ہم جانے دیتے ہیں۔کیونکہ مطالعے کا الہامی مزاج رکھنے والے دانشور اس طرح کے تاریخی واقعات کو بیان کرنا بھی اسلام کی توہین سے تعبیر کرتے ہیں۔ اتنا جان لینا ضروری ہے کہ رسالت مآبؐ اس بات کا بجا طور پہ احساس رکھتے تھے کہ میرے بعد حکمرانی کے لئے انصار خود کو قیادت کا حقدار سمجھیں گے، جس کے نتیجے میں انتشار پیدا ہوگا۔ اب اقتدار کی پالکی صرف اس بنیاد پر تو کسی گروہ کو نہیں سونپی جا سکتی کہ وہ زیادہ جانثار زیادہ وفادار اور برے وقتوں کا اچھا ساتھی ہے۔ اقتدار کا انتقال تو صرف اس بنیاد پہ ہی ممکن ہے کہ اکثریتی رائے کا احترام کیا جائے۔ اب آپ دیکھیں کہ رسالت مآبؐ کا یہ خدشہ کس قدر درست ثابت ہوا۔ یہاں رسالت مآبؐ کی آنکھیں بند ہوئیں اور وہاں انصار پارٹی کے راہنما بغیر کسی تاخیر کے کرسی پہ ہاتھ رکھ کر کھڑے ہوگئے۔ انصار کے سب سے بڑے لیڈر سعد ابن عبادہؓ نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنی پارٹی کیلئے اقتدار کی زمام مانگ لی۔ صورت حال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے سماجیات کے ماہر حضرت عمرؓ نے اہم راہنماؤں کو اعتماد میں لیتے ہوئے ثقیفہ بنی ساعدہ میں آل پارٹیز کانفرنس طلب کرلی۔ انصار پارٹی کے تمام راہنما اپنے کچھ ووٹرز سپورٹرز کے ساتھ پہنچے۔ ہنگامی طور پہ بلائے گئے اس اجلاس میں گفتگو سے پہلے ہی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں۔ اندر ہنگامہ خیز اجلاس جاری ہے اور باہر لوگوں کی ایک بڑی تعداد دیوار سے کان لگائے کھڑی ہے۔ شور اتنا بڑھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔

حضرت عمرؓ نے مداخلت کرتے ہوئے سب کو خاموش کروایا۔ پھر ایک بات کہی ”کیا تم لوگ رسالت مآبؐ کا وہ فرمان بھول گئے کہ حاکم قریش سے چنا جائے گا؟”۔

حضرت عمرؓ نے اتنی ہی بات کہی تھی کہ مہاجر پارٹی کے ہر دلعزیز رہنما حضرت ابو بکر صدیقؓ نے انصار پارٹی کے قائد سعد ابن عبادہؓ کو نام لیکر مخاطب کیا، اور کہا ”جب رسالت مآبؐ یہ ارشاد فرمارہے تھے تو کیا تم وہاں موجود نہیں تھے؟”۔

سعد ابن عبادہؓ نے بلاتوقف جواب دیا ”جی میں موجود تھا اور آپ بالکل درست فرما رہے ہیں”۔

انصار پارٹی نے کچھ دیر کے اس مذاکرات میں تسلیم کر لیا کہ ہاں ہم اکثریت کی رائے کو عددی برتری کے سوا کسی بھی برتری کی بنیاد پر مسترد نہیں کر سکتے۔ حضرت عمرؓ نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوراً کہا ”جب اتنا معاملہ طے ہو ہی گیا ہے تو لگے ہاتھوں حاکم کا معاملہ بھی کیوں نہ طے کر لیا جائے”۔

سب نے اتفاق کر لیا تو حضرت عمرؓ نے قریش سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کا نام پیش کردیا۔ بنی ساعدہ کے اندر اور باہر کھڑے انصاری کارکن اپنے راہنماوں کے کندھے پھلانگتے ہوئے آگے بڑھے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پہ بیعت کرلی۔ اب اس لفظ ”بیعت” کو اگر ”ووٹ” کہہ لیا جائے تو کیا کوئی فکری بحران پیدا ہوجائے گا؟ آپ غور کیجیئے کہ ایک طرف تو قریش کو اقتدار اس بنیاد پر دیا جا رہا ہے کہ عوام کی اکثریت ان کے ساتھ ہے اور دوسری طرف چناؤ کے مسئلے پہ پیدا ہونے والے تنازعے پر اقلیت کو باقاعدہ اعتماد میں لیا جارہا ہے۔ اس بات پر بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ اقلیت کو ایک درست نکتے پہ لانے کیلئے بندوق کا استعمال نہیں کیا جارہا بلکہ افہام و تفہیم سے معاملہ حل کیا جارہا ہے۔ یہ بالکل وہی صورت حال ہے جو ہم اپنی پارلیمنٹ میں حاکم وقت کے چناؤ کے وقت دیکھتے ہیں۔ سب سے اہم بات جو دیکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ کندھے پھلانگ کر اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کو جو جھپٹ رہے تھے وہ ”لوگ” تھے۔

بھاری مینڈیٹ کے ساتھ قائدِ ایوان منتخب ہونے کے بعد بھی حضرت ابوبکر کے انتخاب کو چند لوگوں نے چیلنج کئے رکھا، مگر چند ہی تو لوگ تھے۔ اب کا کیا، وہ تو ہر زمانے میں ہمیں برکت کیلئے دستیاب ہی رہتے ہیں۔

چلئے۔!!

اب سیدھا اگلے انتخاب پہ چلتے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے ہی عہد میں اپنے بعد آنے والے سربراہ کا معاملہ حل کرلیا تھا۔ دونوں پارٹیوں کا اجلاس طلب کرکے حضرت ابوبکرؓ نے کہا ”میں چاہتا ہوں کہ میرے بعد آنے والے سربراہ مملکت کا انتخاب میری موجود گی میں ہی اتفاق رائے سے کر لیا جائے”۔

جواب میں کچھ راہنماؤں نے پورے احترام سے کہا ”جو فیصلہ آپ کریں گے وہ بہتر ہوگا”۔

آپؓ نے پلٹ کر کہا ”ارے وہ تو ٹھیک ہے، مگر میری بات چھوڑیئے آپ لوگ اپنی رائے دیجیئے کہ کس کو منتخب کیا جائے”۔

جب لوگ کسی فیصلے پہ نہیں پہنچ پائے تو حضرت ابوبکرؓ نے تجویز دیتے ہوئے کہا ”میں ایک شخص کا نام سامنے رکھ دیتا ہوں اس پر آپ اپنی رائے دے دیجیے۔ جو اکثریت کی رائے ہوگی ہمیں تسلیم کرلینا چاہیئے”۔

یہ کہہ کر آپ نے حضرت عمرؓ کا نام پیش کر دیا۔ اس نام پر کسی اور نے نہیں بلکہ خود مخالف پارٹی یعنی انصارپارٹی کی نمائندہ آوازوں نے کہا کہ ”ارے یہ تو بہت مناسب انتخاب ہے۔ یہ عمر تو وہ شخص ہے جس کے اندر کی دنیا باہر کی دنیا سے بھی زیادہ شفاف ہے۔ سو بسم اللہ”۔

لیکن چند آوازوں نے حضرت عمرؓ کے انتخاب سے نیم دلانہ اختلاف کیا۔ اس اختلاف کی بنیاد صرف ایک بات بنی کہ حضرت عمرؓ اپنے مزاج میں بہت کرخت واقع ہوئے تھے۔ بات کو تیزی سے آگے بڑھاتے ہیں، مگر آپ نے یہاں کچھ غور کیا؟ غور کریں کہ سماج کا اجتماعی شعور کرختگیوں کا کتنا برا مناتا ہے۔ نظم اجتماعی ہمیشہ کسی بہت بڑے معیار پہ قائم نہیں ہوتا بلکہ ان ریوں پہ قائم ہوتا ہے جو پورے سماج کیلئے یکساں طور پہ قابل ہضم ہوں۔ اندازہ کیجیئے کہ حضرت عمر ؓ جیسے انٹیلی جنٹ اور جینئیس شخص تک کا نام سن کر لوگ کیسے سہم گئے۔ اب ان سہمے ہوئے لوگوں کو ہم فاسق کہہ سکتے ہیں کیا۔ چلیں خیر۔

لوگوں کے خدشے سے ایک گونہ اتفاق کرتے ہوئے حضرت ابو ابکرؓ نے کہا ”جی آپ لوگ درست کہہ رہے ہیں، مگر میرا احساس یہ ہے کہ اقتدار کا بار عمر کے مزاج کو بدل کے رکھ دے گا”۔

اس جملے کے بعد نیم دلانہ اتفاق تھا اور لوگ مطمئن ہو گئے۔ حضرت عمرؓ کو عوام کے نمائندہ ایوان نے کامل اتفاق رائے کے ساتھ منتخب کرلیا۔ ایک بھی ووٹ مخالفت میں نہیں آیا۔ دیکھیئے کہ حضرت ابوبکر کی وہ رائے کس قدر درست ثابت ہوئی جو حضرت عمرؓ کےمزاج کےحوالے سےکہی تھی۔ انسانیت پہ یقین رکھنے والے حضرت عمرؓ کا عہد اٹھا کر دیکھ لیجیئے کہ جمہوری روایات کی کیسی کیسی مثالیں قائم کرتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ایک موقع پر بطور ملزم عدالت میں پیش ہوکر ثابت کیا تھا کہ سربراہ مملکت کو کوئی صدارتی اسثنی حاصل نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس حضرت زید جب حضرت عمرؓ کی پیشی پہ اپنی مسند سے احتراما اٹھے تو آپ کو ناگوار گزرا۔ اس ناگواری نے ہمیں تعلیم کیا کہ قانون کی نظر میں حاکم اور شہری ایک برابر ہوتے ہیں۔ بھری بزم میں جب ایک عام شہری نے حضرت عمرؓ سے صرف ایک گز کپڑے کا حساب مانگا تو آپؓ نے مسند سے اتر کر اپنے حق میں صفائی دلوائی۔ یہ تربیت تھی اس بات کی کہ حکمران عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں۔ اور یہ کہ جواب طلب کرنے والے شہری کا گریجویٹ ہونا ضروری نہیں ہے۔

حضرت عمر کو اقتدار ملا تو آپ نے قوم سے ایک تفصیلی خطاب کیا۔ یہ صدارتی خطبہ تاریخ کے پاس محفوظ ہے جب آپ مانگیں گے ہم پیش کر دیں گے۔ یہ خطبہ اٹھاکر پڑھیئے، ابتدا میں ہی آپ نے عوام کو مخاطب کر کے کہا ”یہ اقتدار میرے پاس آپ لوگوں کی امانت ہے۔ جب آپ لوگ چاہیں مجھ سے یہ اقتدار واپس لے لیں”۔

حضرت عمر کے سامنے کھڑے مجمع کو ذرا غور سے دیکھیئے۔ یہاں قبائل کے سردار نہیں کھڑے بلکہ عام شہری کھڑے ہیں۔ پھر اس جملے میں لفظ ”لوگوں” پہ غور فرما یا آپ نے؟ سوال یہ ہے کہ اقتدار سونپتے وقت تو یہ لوگ نہیں تھے، تو آپ کیوں کہہ رہے ہیں کہ یہ اقتدار آپ لوگوں نے سونپا۔ جی یہ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ حضرت عمر کا انتخاب ان لوگوں نے کیا جن کے بیچ عوامی تائیدیں بٹی ہوئی تھیں۔ حضرت علیؓ، سعد ابن عبادہ،ؓ مغیرہ ابن شعبہؓ اور سعد ابن وقاص جیسے نابغوں کی ذہانت صداقت اور دیانت کی گواہی کسی آسمانی صحیفے نے نہیں دی تھی بلکہ عام شہریوں نے دی تھی۔ گواہی سے قبل ان عام شہریوں سے تعلیمی کوائف طلب نہیں کئے گئے تھے۔ یوں کہیئے کہ عوامی تائید کو تولا نہیں گیا تھا بلکہ گنا ہی گیا تھا۔ اب چونکہ قبائلی تمدن میں انتخاب کی راہیں تلاش کی جارہی تھیں اور فکری تنوع بھی اتنا نہیں تھا تو باقاعدہ بیلٹ بکس نہیں رکھوائے گئے۔ یہ دو اور دو چار کی طرح واضح تھا کہ اکثریت میں کون ہیں اور اقلیت میں کون۔ پھر یہ بھی واضح تھا کہ اس اکثریت و اقلیت کا معیار شہریوں کی رائے ہے یا کوئی آسمانی تائید۔ ہم بھی اپنے نمائندے منتخب کر کے ایوان میں بھیجتے ہیں جہاں طویل مشاورت کے بعد قائد ایوان منتخب کر لیا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ میں ہم براہ راست موجود نہیں ہوتے مگر قائد ایوان کا انتخاب در اصل ہماری ہی رائے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس بات کو یہیں چھوڑتے ہوئے میں آپ کو حضرت عمرؓ کے ایک جملے کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ وہ کیا؟

بتائے دیتے ہیں۔!!

حضرت عمرؓ اپنی عمر کے آخری حصے میں داخل ہوچکے تھے۔ حج کا موسم تھا اور مکہ کا علاقہ تھا۔ انصار کے کچھ لوگوں نے یونہی کہیں بیٹھے گپ شپ میں کہا ”جب عمرؓ اس دنیا میں نہیں ہوں گے تو ہم بھی اسی طرح اقتدار پہ قابض ہوجائیں گے جیسا کہ یہ ہوئے تھے”۔

یہ بات کانوں کان حضرت عمرؓ تک پہنچ گئی۔ حضرت عمر نے تبصرہ کرنے والے عام افراد کو بلوایا۔ جانتے ہیں بلواکر کیا کہا؟ فرمایا ”تمہیں لگتا ہے میں نے ابو بکرؓ کا نام جبرا اپنی خواہش سے مسلط کیا تھا؟ یاد رکھنا میں نے ان کا نام اس لئے پیش کیا تھا کہ ہم میں وہی ایک ایسی شخصیت تھی کہ جس کے سامنے اپنوں کی تو کیا غیروں کی گردنیں بھی احترام سے جھک جایا کرتی تھیں۔ ہمیں ایک ایسے شخص کی ضروت تھی جس پر اس انتشار کے ماحول میں اتفاق ممکن ہو سکے ۔ میری نظر میں حضرت ابوبکر سے بہتر دوسرا کوئی نام ایسا نہیں تھا جو تمام طبقوں کو مطمئن کر سکے”۔

حضرت عمرؓ نے مزید کوئی بات نہیں کی مگر میری رائے میں یوں بھی کہہ دینا چاہیئے تھا کہ ”اگر ایسا ہی تھا تو پھر میں خود ہی اقتدار پہ قابض کیوں نہ ہوگیا۔ ابوبکر ہی کیوں؟”۔

ان لوگوں نے جواب میں انصار کی قربانیوں اور جان نثاریوں کی تاریخ سنا دی۔ یہ خالصتا جذباتی وار تھا جو ہمارے ہاں اہل مذہب بات بے بات کرتے ہیں۔ ضابطے مگر جذبات سے بہت بالا ہوتے ہیں۔ اجتماعی معاملات میں قاعدوں کے مقابلے میں آنے والے جذبات کا صرف احترام کیا جا سکتا ہے ۔ ممتاز قادری اگر جنتی ہے تو معاملہ خدا کے سپرد ہے، مگر زمین پر تو معاملہ یہ ہے کہ اس نے ایک ناحق قتل کیا ہے۔ انصار کی بات بھی درست ہی ہوگی مگر حضرت عمر نے تاریخی جواب دیا ”پیارے! یاد رکھنا کہ اکثریت کی رائے کے بغیر کبھی کوئی حکومت قائم نہیں ہو سکتی”۔

پھر مزید کہا جو اکثریت کی رائے سے ہٹ کر اپنی بیعت قائم کریں (یعنی کہ متوازی ریاست قائم کرنے کی کوشش کریں) وہ فساد کے مرتکب ہیں۔ جو نظم اجتماعی میں خلل ڈالیں ایسے لوگوں کا علاج قتل کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا”۔

بخدا! دل پہ ہاتھ رکھ کر بتلایئے کہ جمہوریت اس خلافت کے سوا بھی کوئی بھلا ہے؟ اور خلافت اس جمہوریت کے سوا بھی کسی چیز کا نام ہے؟ خلافت کا وہ تصور جو پاسبانِ حرم ہمیں دیتے ہیں اس کا تو دونوں سے ہی کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایں چہ بوالعجبی ست؟ اک ذرا توقف فرما یئے، ابھی بات ختم نہیں ہوئی۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “خلافت و جمہوریت اور مذہب و سیکولرازم

  • 28-01-2016 at 12:09 pm
    Permalink

    بے حد عمدہ تہریر ۔ اس کو پڑھنے کے بعد بہت سے سوالوں کے جواب مل گئے ۔ شکریہ

  • 29-01-2016 at 1:09 pm
    Permalink

    بہت خوب

  • 29-01-2016 at 1:23 pm
    Permalink

    اگرمحترم فرنود صاحب کی سلف سے ایسے سچے جمہوری رویوں “لوگ” ، ”حاکم وقت کا چناو” ، ” ووٹ”، “اکثریت و اقلیت کا معیار شہریوں کی رائے” کی کشید بالکل درست ہے تو پھر آج سب سے بڑے جمہوری ملک یقینا سعودی عرب، عرب امارات ، و غیرہ ہیں !
    سب کہو سبحان اللہ

  • 29-01-2016 at 3:15 pm
    Permalink

    تمہارا حاکم قریش سے ہوگا یہ جملہ خود جمہوریت کی روح کی منافی ہے…..پتہ انسان کیوں خود کو دھوکہ میں رکھتا ہے

Comments are closed.