انور سعید صاحب کے بیٹے! عزیز از جان گدھے


سکول میں جماعت ہشتم کے بورڈ کے امتحان کا نتیجہ آیا تو توقعات سے شاید بدتر تھا یا بہتر، یہ تو مجھے آج تک نہیں پتہ لیکن انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ سکول میں اب نہم کے پانچ سیکشنز سے لائق فائق بچوں کو چھانٹ کر الگ کرنا ہے اور ان کا ایک الگ سیکشن بنانا ہے۔ ہر سیکشن میں کوئی اسی نوے بچے تھے۔ ان چار ساڑھے چار سو بچوں میں سے چالیس بچے الگ کیے گئے اور ایک خصوصی جماعت بنا دی گئ۔ یہ سیکشن ایف کہلایا۔

سیکشن ایف کے بچے ایک ہی دن میں سکول کے اسٹار بن گئے۔ سکول کے چنیدہ اساتذہ ان کی تربیت کے لیے منتخب کیے گئے تاکہ دو سال کی تیاری کے بعد یہ بچے جماعت دہم کے بورڈ کے امتحان میں بہترین نتائج لا سکیں۔ ان اساتذہ میں سے ایک کو سیکشن انچارج بنا کر اس ٹیم کی سربراہی سونپ دی گئی۔ یہ تھے انور سعید صاحب۔

انور سعید صاحب ایک پرانی ہنڈا ففٹی پر روز سکول آتے۔ اساتذہ اور طلبا میں ایک حفظ مراتب تھا۔ بے تکلفی کی نہ کوئی روایت تھی اور نہ ہمت اس لیے ان کے بارے میں کوئی زیادہ جانتا نہیں تھا۔ ایک بردبار اور شفیق چہرہ تھا جو روز وقت پر کلاس لینے آتا تھا۔ کنپٹیوں اور مونچھوں میں سفیدی سیاہی پر غالب آ رہی تھی۔ عینک کے شیشوں کے پیچھے سے ذہین آنکھیں جھانکتی تھیں۔ کم قیمت مگر اجلا لباس، ٹھہرا ٹھہرا لہجہ، شلوار قمیض کے نیچے پرانی مگر چمکتی ہوئی پشاوری چپل یا کبھی سیاہ بوٹ جو کثرت استعمال سے نوکوں سے کسی قدر گھس چکے تھے۔ پڑھاتے تو مضمون میں کھو سے جاتے۔ سوالوں کے جواب دیتے تو ایک شفیق سی مسکراہٹ ہونٹوں پر کھیلتی رہتی۔ انداز دل نشین تھے۔ اسلوب حسین تر تھا۔ ان کے پیریڈ کا انتظار رہتا تھا اور ختم ہونے پر جہاں ذہن سیر ہوتے وہاں دل میں ایک تشنگی سی ہوتی کہ کاش یہ آدھ گھنٹا کچھ اور طویل ہو پاتا۔ کبھی کبھی کسی بات پر کھلکھلا کر ہنس دیتے تو کمرہ جماعت روشن ہو جاتا۔

دسویں جماعت کے بورڈ کے امتحان میں کچھ ماہ رہ گئے تھے مگر ایف سیکشن کے طلباء کچھ شہزادے سے تھے۔ ان شہزادگان میں سے پھر ایک اور گروپ تھا کوئی دس بارہ لڑکوں کا جن سے پورے سکول نے امیدیں باندھ رکھی تھیں مگر اس گروپ کے رنگ نرالے ہوئے جاتے تھے۔ ہر دوسرے دن یہ گروپ سکول سے “یا مظہرالعجائب، گھنٹہ غائب” کے وزن پر اڑنچھو ہو جاتا۔ اکثر کرکٹ کھیلی جاتی یا شطرنج کی بازی بچھ جاتی۔ جب یہ دونوں کام نہ ہو رہے ہوتے تو میدان کے کنارے بیٹھ کر گپیں مارنا ہی مقصد حیات ٹھہرتا۔ لیکن اس بیچ بھی کسی میں یہ ہمت نہ تھی کہ انور سعید صاحب کا پیریڈ چھوڑا جاتا۔ ان سے ادب، محبت اور کہیں بھیتر چھپے ڈر کا رشتہ تھا۔ انور سعید صاحب کو لیکن سب خبر تھی کہ ہمارے لچھن کیا ہوتے جا رہے تھے۔ ایک دن پیریڈ ختم ہوا تو ہمیں روک لیا گیا- انور سعید صاحب نے ایک قطعیت کے ساتھ اعلان کیا کہ آج سے وہ سکول ختم ہونے کے بعد سے پورے سیکشن کو ٹیوشن پڑھائیں گے جس میں حاضری لازمی ہو گی۔ حکم حاکم کے آگے چوں چرا کی تو مجال نہیں تھی پر دل میں دو بال آ گئے۔ پہلا تو یوں کہ آزاد پنچھیوں کے پر کترے گئے تھے اور دوسرا یوں کہ انور سعید صاحب سے یہ توقع نہ تھی۔ سرکاری سکول کے اساتذہ کی تنخواہیں اونٹ کے منہ میں زیرے سے بھی کم تھی۔ اس لیے اکثر اساتذہ ٹیوشن پڑھا کر کچھ اضافی آمدنی کی سبیل کرتے تھے کہ جسم وجان کا رشتہ بنا رہے اور سفید پوشی کا بھرم قائم رہے۔ یہاں تک تو تعرض کی کوئی وجہ تھی نہ کوئی دلیل پر کچھ اساتذہ اس ضمن میں زور زبردستی سے کام لیتے تھے اور ان کی گڈ بکس میں رہنے کے لیے وہ بچے جنہیں کسی اضافی رہنمائی کی ضرورت نہ تھی انہیں بھی ٹیوشن پڑھنا پڑتی۔ انور سعید صاحب کی ٹیوشن بھی اسی جبری بھرتی کا ضمیمہ معلوم ہوئی۔ ہم سارے ایک تو بزعم خود بہت ذہین تھے پھر منتخب روزگار کے نہ سہی پر سکول کے جہان میں مثل آفتاب سمجھے جاتے تھے۔ اس وقت پتہ نہ تھا کہ سکول کی دنیا کنویں کی دیواروں سے بھی مختصر ہے پر ابھی آتش بہت نوجوان تھا۔ تو یقین تھا کہ ٹیوشن کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اب اس زبردستی کی ٹیوشن جو کہ دسیوں بچوں پر تھوپ دی گئی تھی کی یہی ایک تفہیم نظر آئی کہ اس سے انور صاحب کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہونے والا تھا اور بہانہ اضافی تیاری کا اور خصوصی توجہ کی ضرورت کا تھا۔ اس زمانے میں اور آج بھی سرکاری مدارس میں یہ چلن عام ہے کہ زبردستی کی ٹیوشن پڑھائی جاتی ہے پر جناب انور سعید سے یہ توقع نہ تھی کہ من ہی من میں ہم نے ان کا ایک بہت آدرشی بت تراش لیا تھا۔

خیر اسی دن سے سکول کے بعد دو تین گھنٹے کی نئی بیگار شروع ہو گئی۔ باوجود اس کے کہ شہزادگان میں سے کوئی اس ٹیوشن پر خوشی سے نہیں آتا تھا پر اس میں کلام نہیں تھا کہ انور سعید صاحب پتھر پانی کرنے پر تلے تھے۔ ایک ایک سبق کئی زاویوں سے کھودا جاتا۔ نت نئے پہلو کریدے جاتے۔ پیریڈ کے آدھ گھنٹے کی قید نہیں تھی اس لیے جب تک استاد گرامی کو طمانیت قلب نصیب نہ ہوتی، ہماری جان پھنسی رہتی۔ انور سعید صاحب کی طبعیت میں ایک خاص قسم کی شفقت تھی۔ یوں لگتا تھا کہ بدھا نروان کی منزل سے پڑھا رہا ہے۔ پر کبھی کبھی ہم میں سے کوئی اپنی اعلی النسل بے وقوفی کے باعث انہیں زچ کر کے غصہ دلانے میں کامیاب ہو جاتا تو عینک کے پیچھے سے نگاہیں جما دانت بھینچ سر دائیں بائیں ہلاتے اور پھر آہستہ سے کہتے ” او بیٹے، او عزیز از جان گدھے”۔ بس یہ ان کے غصے کی انتہا تھی۔

ٹیوشن کا پہلا ماہ ختم ہوا تو یاد آیا کہ فیس بھی دینی ہے۔ اساتذہ باہر والوں سے یوں تو پیشگی فیس لیا کرتے تھے لیکن ایک ان لکھا اصول یہ تھا کہ اپنے ہی سکول کا بچہ مہینے کے اختتام پر فیس دے گا کیونکہ ظاہر ہے بھاگ کر اس نے کہاں جانا تھا۔ اب فیس کتنی دینی تھی یہ کسی کو پتہ نہیں تھا اور پوچھنے کی ہمت کسی میں تھی نہیں۔ دوستوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ اس زمانے میں عام طور پر دو سو روپے فیس ہوا کرتی تھی پر کوئی تین تین گھنٹے سر نہیں کھپاتا تھا اس لیے فیصلہ ہوا کہ تین سو روپے مناسب رہیں گے۔ اگلے دن گھر سے پیسے لیے اور حسب معمول ٹیوشن پر پہنچے۔ وقت ختم ہوا۔ اب مناسب تھا کہ فیس دی جائے۔ سب سے قریب میں بیٹھا تھا اس لیے کہنی میری پسلیوں میں ماری گئی۔ میں نے جیب سے پیسے نکالے۔ انور سعید صاحب کتاب کھولے کسی نکتے میں مستغرق تھے۔ میں ان کے پاس سرکا، تھوڑا کھنکھارا اور کہا \” سر ، یہ۔۔۔۔۔۔” اور سو سو کے تین نوٹ آگے کر دیے۔

“یہ کیا ہے؟” انور سعید صاحب تھوڑے سے حیران نظر آئے

“سر، وہ فیس۔۔۔۔۔” میں نے ڈرتے ڈرتے کہا۔

انور سعید کے چہرے سے حیرانی کا تاثر اچانک غائب ہو گیا اور اس کی جگہ ایک اور نقش بننے لگا جو ہم سب کے لیے نیا تھا۔ انہوں نے ایک اور نظر بڑھے ہوئے نوٹوں پر ڈالی اور ان کا چہرہ سرخ ہونا شروع ہو گیا۔ نتھنے پھولنے پچکنے لگے اور مہربان آنکھیں دہکنے لگیں۔

مجھے اندازہ ہو گیا کہ گڑبڑ ہو گئی ہے۔ یقینا پیسے کم ہیں۔ مجھے خود ہی عقل کرنی چاہیے تھی۔ اتنی محنت کے تین سو روپے تھوڑی بنتے ہیں۔ کم از کم چار سو روپے فیس ہونی تھی اور کم پیسے دے کر میں نے ان کی بلاوجہ توہین کی ہے۔ ابھی معافی مانگنے کے لیے سر اٹھایا ہی تھا کہ انور سعید صاحب خود بول پڑے۔

“او بیٹے۔ او میرے عزیز از جان گدھے”

میں نے ان کی طرف ڈرتے ڈرتے دیکھا۔ اب آنکھوں میں انگارے نہیں تھے۔ سرخی بھی معدوم ہو گئی تھی پر سارے چہرے پر لکیریں سی کھنچ گئی تھیں۔ دکھ، شکست ، ہار اور تکلیف کی لکیریں۔

“بیٹے ، آپ نے کیا سمجھا” ایک زخمی سی آواز گویا ہوئی “میں آپ کو فیس کے لیے پڑھاتا ہوں۔ چلو بھاگو یہاں سے”

میں کچھ کہنا چاہتا تھا۔ اپنی ساری بدگمانیوں پر معافی مانگنا چاہتا تھا۔ ایک دیوتا کو عام آدمی کے پیمانے سے ناپنے کی کوتاہی تسلیم کرنا چاہتا تھا۔ ایک باپ کو دکاندار سمجھ بیٹھنے کی نادانی کا کفارہ جاننا چاہتا تھا پر حلق میں کچھ پھنس سا گیا تھا۔ کچھ نمکین پانی کہیں گلے میں گرتا تھا۔ کچھ بول نہیں پایا۔ بس الٹے قدموں اپنی جگہ جا کر بیٹھ گیا۔ باقیوں نے اپنی اپنی عبرت کا سامان کیا اور فیس کے پیسے جیبوں کے اندر ہی رہے۔ انور سعید صاحب خاموشی سے اٹھے۔ جھاڑ کر انہوں نے وہ بوسیدہ جوتے پہنے جن کی نوکیں گھس چکی تھیں۔ اپنی پرانی ہنڈا ففٹی اسٹارٹ کی اور ہم پر دوسری نظر ڈالے بغیر چلے گئے۔

اگلے دن سکول اور پھر ٹیوشن اور وہی پرانے انور سعید صاحب۔ کل کی بات کہیں دفن ہو گئی تھی۔ ان کے قدموں میں بیٹھ کر ہم اور دو ماہ علم کشید کرتے رہے۔ پھر امتحان آن پہنچے۔ امتحان دیا۔ ایف سیکشن کے شہزادگان نے سکول کی تاریخ کا بہترین نتیجہ دکھایا۔ واہ واہ کے شور میں ایک شفیق چہرہ کہیں ہجوم میں مسکراتا نظر آتا پھر اوجھل ہو جاتا۔ ہماری اکثریت گورنمنٹ کالج لاہور میں جا براجمان ہوئی۔ راوین بننے کا نشہ سر چڑھ بولنے لگا۔ سکول کہیں پیچھے رہ گیا تھا اور کالج کی نئی زندگی میں پرانے مہربان چہروں کی جگہ نہیں تھی۔ اسی میں دو سال گزر گئے۔ ایف ایس سی کے امتحان سر پر تھے۔ تیاری کرتے کرتے اچانک خیال میٹرک کی تیاری کی طرف چلا گیا۔ سوچا چلو کسی وقت سکول کا چکر لگائیں۔ کچھ استادوں کو سلام کر آئیں۔ فزکس کی کلاس ختم ہوئی تو دوست سے پوچھا، چلو گے۔ انور سعید صاحب سے مل کر آتے ہیں۔

دوست نے میری طرف ایسے دیکھا جیسے میرا دماغ چل گیا ہو۔

“انور سعید صاحب کو مرے ایک سال ہو گیا، تمہیں پتہ نہیں” اس نے حیرانی سے کہا

اچانک دنیا کی گردش جیسے رک گئی۔ سورج تاریک ہو گیا۔ تارے دھڑام دھڑام زمین پر گر پڑے۔ سمندر کی لہریں ساکن ہو گئیں۔ کائنات میں کہرام مچ گیا اور پھر سب خاموش۔۔۔ بس ایک جملہ سنائی دیا “ایک سال ہو گیا۔ تمہیں پتہ نہیں”

تیس سال ہوئے جب میں نے اس شخص کو آخری دفعہ دیکھا تھا جس کے بوسیدہ جوتوں سے جھڑنے والی خاک میری ساری عمر کی کمائی سے زیادہ قیمتی تھی۔ میری مٹھی بند ہے۔ اس میں سے پشیمانی اور پچھتاوے کا پسینہ پھوٹتا ہے جس میں آج بھی تین سو سو کے نوٹ بھیگتے ہیں اور میرے پاس آج بھی کچھ کہنے کو نہیں ہے۔ میں کبھی اس کی قبر پر نہیں گیا اسی طرح جیسے میں کبھی اپنے باپ اور اپنی ماں کی قبر پر نہیں گیا۔ میں کیسے مٹی کے ایک ڈھیر کو حیات ابدی کا استعارہ مانوں۔ آج بھی اس کا نام آئے تو حلق میں کچھ پھنستا ہے۔ بولنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ہاتھ جوڑتا ہوں۔ پھر ایک چہرہ کہیں افق پر ابھرتا ہے۔ اس چہرے پر صرف محبت ہے ، صرف معافی ہے۔ وہ ایک دل جو چہرہ ہے۔ ایک دلکش چہرہ ہے۔ وہ ایک استاد کا چہرہ ہے۔ اس کی آنکھیں ویسی ہی مہربان ہیں۔ میں اسے تکتا ہوں اور اس سے پہلے کہ رو پڑوں، کہیں سے آواز آتی ہے “بس بیٹے۔  بس او میرے عزیز از جان گدھے”

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 129 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

3 thoughts on “انور سعید صاحب کے بیٹے! عزیز از جان گدھے

  • 06/10/2016 at 4:38 am
    Permalink

    بہت اعلی بہت خوب جناب۔
    “اچانک دنیا کی گردش جیسے رک گئی۔ سورج تاریک ہو گیا۔ تارے دھڑام دھڑام زمین پر گر پڑے۔ سمندر کی لہریں ساکن ہو گئیں۔ کائنات میں کہرام مچ گیا اور سب خاموش۔۔۔۔”
    سدا سلامت رہیں حاشر صاحب

  • 06/10/2016 at 11:47 am
    Permalink

    Keep writing.Rola diya ap nay

  • 06/10/2016 at 10:08 pm
    Permalink

    بہت خوب؛ انتہائی متاثرکن۔ یہ آپکی خوش قسمتی تھی کہ آپکی زندگی میں ایک ایسی شخصیت بھی داخل ہوئی۔ ان سے جو سیکھا اب آپ سے کبھی جدا نہ ہوگا۔

Comments are closed.