درد سے ہزارہ کے دل کے ہزار ٹکڑے ہوئے جاتے ہیں


گلزار نے کہا تھا،
دل درد کا ٹکڑا ہے، پتھر کی ڈلی سی ہے،
اک اندھا کنواں ہے یا اک بند گلی سی ہے۔۔
سو اندھا کنواں تو ہے۔

کوئٹہ میں کسی نے بس سے چار ہزارہ خواتین کو اتار کر شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد مار دیا۔

پردیس کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہاں وقت ملتا نہیں ہے مگر ہوتا بہت ہے۔ دھیان بار بار ماضی پہ پڑتا ہے اور دل کو کئی کئی کہانیاں یاد سی آ کر رہ جاتی ہیں۔

پی اے ایف کالج سر گودھا میں والدین کی ملاقات کا دن تھا۔ لائل پور قریب تھا لہٰذا گھر والے تقریبا ہر مہینے آتے اور سارا دن گزار کر شام میں واپس چلے جاتے تھے۔ اس روز، ملاقات ختم ہوئی اور امی جانے لگیں تو اچانک، گاڑی سے واپس مڑ آئیں۔ ملنے ، بچھڑنے کا یہ سلسلہ، بہت بوجھل اور مضمحل کر دینے والا ہوا کرتا تھا سو میں تھوڑا گھبرا گیا۔ مگر اس بار ایک عجیب کام ہوا، وہ مجھ سے ملنے کی بجائے، میرے پیچھے کھڑے یاور عباس کو گلے لگا کر رونا شروع ہو گئیں۔ ممتا کا بھی کوئی ریڈار ہوتا ہو گا ، کیونکہ میں نے بھی یاور کو پہلی بار، تبھی روتے ہوئے دیکھا تھا۔

اس کے بعد یاور، ہم چار بہن بھائیوں میں پانچویں کی حیثیت سے شامل ہو گیا۔ کوئٹہ، اس وقت بھی پنجاب سے بہت دور تھا اور چاند دیکھنے والوں یا چھٹیاں منظور کرنے والوں کو اختر کی روایت کا بالکل بھی علم نہیں تھا، سو تین دن کی چھٹیوں میں یاور بلوچستان کیا جاتا، ہمارے ساتھ ہی عید اور اختر منایا کرتا۔

پھر یوں ہوا کہ اچھی تعلیم کا تاوان چکانے ، میں اور یاور، کورس، پوسٹنگ اور ٹریننگ کے چکر میں پڑ گئے۔

2005 میں امی ابو کوئٹہ آئے تو انہیں لگا کہ ساری علمدار روڈ، لائل پور کے ان لوگوں کی راہ تک رہی ہے جو ان کے بیٹے کو اپنا بیٹا کہتے ہیں ۔ دو دن تو وہ میرے ساتھ رہے مگر پھر ایک شام، بتائے بغیر ، علمدار روڈ پہ یاور کے گھر اٹھ آئے اور باقی ہفتہ وہیں گزارا۔ تین کمروں کا یہ سادہ سا گھر، ان کی گلی میں آخری گھر تھا مگر دادئی (دادی) کے ساتھ رہنے کے باعث یہ ان کے خاندان کا مرکزی گھر تھا سو آباد رہتا تھا۔

فائلوں میں کہیں ایک پرانا خط بھی ہے جس میں امی لکھتی ہیں کہ یاور امریکہ میں سال کی ٹریننگ کر کے پاکستان پہنچا تو سیدھا انہیں سلام کرنے آیا تھا اور انہیں اس بات کی بہت خوشی تھی کہ ان کے بچوں میں سے بھی کوئی ان جگہوں کو دیکھ آیا ہے، جن کا لوگ، صرف ذکر کرتے ہیں۔

شورکوٹ قریب تھا مگر اگلی بار، یاور لائل پور آیا تو گھر پہ کوئی نہیں تھا۔ امی کینسر کی پہلی سرجری کے بعد ہسپتال میں تھیں اور سب بچے سہمے سہمے فارملین اور فینائل کی ملی جلی آب و ہوا میں موت کی آہٹ سن رہے تھے ۔ یاور ملا تو بہت دنوں کے بعد ، ان کے چہرے پہ زندگی کی رمق آئی۔ آنے والے دنوں میں، امی نے تو اپنے سرطان کے پہلے حملے کو شکست دے دی ، مگر یاور کے گھر والوں نے ایک دوسرے سرطان کے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے ۔ ان گرمیوں میں یاور کا فٹ بال کا شوقین بھائی، محمد عباس، اور ساری عمر کوئٹہ میں گالف کھیلنے والے اس کے والد، آسٹریلیا چلے گئے۔ میزان چوک میں ان کی دکان پہ قفل پڑ گیا تھا اور پیچھے رہ جانے والا میثم، اب گھر بیٹھ کر تصویریں بناتا تھا۔

امی کا انتقال ہوا تو مجھ سے پہلے یاور گھر پہنچا۔ سو ، چھ سال بعد، جب علمدار روڈ پہ ایک سو بیس لاشیں، بند آنکھوں سے آسمان تک رہی تھیں ، میں بھی اس خاموش ماتم میں یاور کی نمائندگی کر رہا تھا۔

کچھ ہی ہفتوں بعد ہزارہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں سو لوگ مارے گئے۔ کسی نے پانی کے ٹینکر میں بارود بھر کر اڑایا تھا۔ دھوئیں اور سیاہی کے درمیان ایک بچہ بیٹھا ، موٹر سائیکل کی ٹینکی سے کچھ کھرچ کھرچ کر ایک خاکی لفافے میں ڈال رہا تھا۔ میں نے پوچھا اس لفافے میں کیا ہے۔۔۔کہنے لگا ’’میرا بھائی ہے۔ اسی موٹر سائیکل پہ گھر سے آیا تھا۔‘‘

اس بار احتجاج خاموش نہیں تھا۔ ایک طرف لاشوں کی دھجیاں چنی جا رہی تھیں اور دوسری طرف کچھ ہزارہ بچے بیٹھے سوال پوچھ رہے تھے۔

یہ کس کا لہو تھا کون مرا۔۔۔۔
بد معاش حکومت۔۔ بول ذرا
حکومت کیا بولتی، اندھا کنواں تو گونگا ہوتا ہے۔

پھر کچھ عرصے کے لئے امن ہو گیا۔ ہزارہ کی جان تو ٹل گئی مگر کوہ نیم روز سے لاشیں بدستور اٹھتی رہیں۔ وکیل گئے، استاد گئے، مزدور گئے، آباد کار گئے اور اس سے پہلے کہ کوئی اور کہیں اور جاتا، یاور نے اپنے باقی گھر والوں کو بھی آسٹریلیا بھیج دیا ۔ گھر کو تالا لگ گیا ہے ۔ دادئی، اب چھوٹے چچا کے ساتھ رہتی ہیں اور وہ گلی بھی بند ہو گئی ہے۔۔۔ ایسی ہوتی ہے بند گلی ۔
Oct 7, 2016

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔