قومی مفاد کا حقیقی اکتوبر


ناروے کا ڈرامہ نگار ہنرک ابسن کسی قدر دل پھینک واقع ہوا تھا۔ عمر بھر کی بے قراری تھی۔ دل ہاتھ میں لئے پھرتے تھے، کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ چھپے۔ ایسا نہیں کہ کسی کلی نے آنکھ بھر کر نہیں دیکھا۔ قطار اندر قطار پھول کھلے تھے مگر ہزار سالہ بلبل ہنرک ابسن بال بکھیرے پھرتے تھے۔ پیرانہ سالی میں ایملی باردخ سے معرفت ہو گئی۔ خط میں لکھتے ہیں کہ تم میری زندگی کے ستمبر میں مئی کا سورج بن کر آئی ہو۔ ہنرک ابسن اسمٰعیل میرٹھی تو نہیں تھے اور نہ ناروے میں مئی کا سورج آگ برساتا تھا۔ کہنا یہ چاہتے تھے کہ ان کے عہد شباب میں جینا۔۔۔ جینے والو، تمہیں ہوا کیا ہے؟ ہمارے ہاں موسموں کو مہینوں کے نام سے یاد رکھنے کی روایت نہیں۔ ہم تو بسنت اور برسات کے لوگ ہیں۔مگر آپ کو یاد دلانا تھا کہ آج 8 اکتوبر ہے۔ سنہ 58 کے اکتوبر کو 58 برس گزر گئے۔ ایسے بھی تھے کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات۔ قومیں اپنا اکتوبر خود منتخب کرتی ہیں۔ آج اکتوبر کے دو مہینوں کا ذکر رہے مگر پہلے اچھی خبر۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ایک اہم اجلاس میں تاریخی فیصلہ کیا ہے کہ قومی مفاد کے نام پر عسکریت پسندی کو اثاثہ سمجھنے کی سوچ ترک کر دی جائے گی۔ پاکستان کی قوم کھلے میدان میں اور سمپورن سرگم میں دنیا کو بتائے گی کہ ہم باوقار لوگ ہیں۔ ہم دیوار کی آڑ سے گھات نہیں لگاتے۔ ہم علم، معیشت اور سیاست میں اپنا جائز حصہ مانگتے ہیں۔ اس میں اطمینان کا حقیقی زاویہ اس تاثر میں ہے کہ سیاسی قیادت نے عسکری قیادت کو راہ سجھائی ہے اور عسکری قیادت نے سر تسلیم خم کیا ہے۔ ایسی سیاسی قیادت کو سلام ہے، ایسی فوجی قیادت کو سیلوٹ ہے۔ ایسی دانشمند قوم پر فخر ہے۔ کیا قومی مفاد کا حقیقی اکتوبر طلوع ہو چکا ہے؟

آئیے اپنی تاریخ کا ایک ورق کھولتے ہیں۔ 1958 کے اکتوبر کا پہلا ہفتہ تھا۔ چوہدری غلام عباس نے لائن آف کنٹرول کے پار بھارتی مقبوضہ علاقوں میں جتھے بھیجنے کا اعلان کیا۔ یہ اسکندر مرزا کی سازش تھی۔ ارادہ یہ تھا کہ سردار ابراہیم کی حکومت اگر کشمیری کارکنوں کو روکے تو آزادی کشمیر سے غداری کا الزام لگایا جائے۔ اگر سرحد پار جانے دے تو جنگ کی صورت میں وزیراعظم فیروز خان نون کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔ خان عبد القیوم نے بتیس میل لمبا جلوس نکالا۔ مشرقی پاکستان اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر شاہد علی کو کرسیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ خان قلات نے بندوق سنبھال کر پہاڑوں پر چڑھنے کا اعلان کیا۔ یہ سب ایک ہفتے میں ہوا۔ 8 اکتوبر 58 کی صبح آئین توڑ کر مارشل لا لگا دیا گیا۔ چوہدری غلام عباس منٹگمری جیل پہنچ گئے۔ خان قیوم نے معافی مانگ لی۔ مشرقی پاکستان سے سنگت کا دھاگہ انتخاب کے وعدے سے بندھا تھا۔ 8 اکتوبر کی نازکی سے معلوم ہوا کہ بندھا تھا عہد بودا۔ ہماری نسل نے اکتوبر سنہ 58 کے سائے میں آنکھ کھولی، ہم نے 58 برس تک اکتوبر 2016 کا انتظار کیا۔ جسٹس رستم کیانی نے کہا تھا کہ فوجی حاکمیت کی روایت شروع ہونے سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ سیاسی اور عسکری قیادت میں اعتماد اور احترام کا بحران پیدا ہو جائے گا۔ اعتماد کی اسی خلیج کا شاخسانہ منتخب وزرائے اعظم کو سیکیورٹی رسک قرار دینا تھا۔ پاکستان کے وفاداروں کو وطن سے محبت اور آمریت کی مخالفت کی دو دھاری تلوار پر چلنا پڑتا تھا۔ ایک خاص وضع قطع کے بیوپاری منڈی میں اتر آئے۔ ان کا دعوی تھا کہ وہ قومی مفاد کی آڑھت پر اجارہ رکھتے ہیں۔ نیز یہ کہ وہ جس مشتِ غبار پر ہاتھ رکھ دیں، وہی جنس قومی مفاد کہلائے گی۔ خبر کے مطابق اکتوبر 2016 میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سیاسی اور عسکری قیادت نے قومی مفاد کے خد و خال پر پڑی دھول صاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حزب اختلاف اور حزب اقتدار نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس فیصلے کی تائید کی ہے۔حالیہ برسوں میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک سو چالیس حرفوں کی ایک سطر سے قومی خدوخال دھندلا جاتے تھے۔ یہ ٹویٹ اب سنائی نہیں دی۔ گویا یاس کی چھاؤں میں سونے والے کے لئے وقت ہے کہ جاگے اور صبح فردا کی چاپ پر غور کرے۔ تاروں کے قافلے کو تیری صدا درا ہو۔۔۔

اسی بارے میں: ۔  ایک ماہرِ نفسیات کی ڈائری: دیواروں پہ لٹکی تصویریں

برادر محترم کہا کرتے ہیں کہ قوم کی کشتی کا رخ ایک جھٹکے سے تبدیل نہیں کیا جاتا۔ منجدھار سے کھلواڑ نہیں کی جاتی۔ قوم کا موقف مانجھی اور پتوار کی جگل بندی ہے۔ سر میں سر کو ایسے بیٹھنا چاہئے جیسے ندی چشمے سے ملتی ہے۔ سونامی کا طوفان قوم کا نصب العین نہیں ہوتا۔یہاں موج سے موج ہم آغوش ہوتی ہے اور قوم کا موقف مرتب ہوتا ہے۔ قوموں کا دھارا جب میدانوں میں پہنچتا ہے تو اس کے سامنے کوئی رکاوٹ ٹھہر نہیں سکتی۔ آئیے انسانی تاریخ کا ایک اور ورق الٹتے ہیں۔

1942 کا اکتوبر تھا، دوسری عالمی جنگ کے فیصلہ کن مرحلے میں جرمنی، جاپان، امریکہ، برطانیہ اور سوویت یونین میدان میں اتر چکے تھے۔ جرمنی اپنی حکمت عملی کو طوفان بلا خیز (Blitzkrieg) کا نام دیتا تھا۔ سٹالن کے پاس بہت سی زمین اور شہریوں کے جان و مال پر مکمل اختیار تھا۔ روزویلٹ اور چرچل کی طاقت پارلیمنٹ، پریس، ٹیکنالوجی اور عدلیہ میں تھی۔ یہاں اختیار اور احتساب میں توازن موجود تھا۔ اکتوبر 1942 میں کچھ فیصلہ کن معرکے ہونا تھے۔ نوے روز میں پانچ لڑائیاں ہوئیں۔ مختصر حال جان لیجئے۔

اکتوبر 1942 میں جنوبی بحرالکاہل میں گوڈل کنال کے مقام پر امریکی حملہ شروع ہوا۔ فروری تک جاپانیوں نے ان جزائر پر قبضے کا خیال ترک کر دیا۔ اکتوبر 1942 العالمین کی دوسری لڑائی شروع ہوئی اور نومبر تک شمالی افریقہ میں رومیل کی فوج کا منہ پھیرا جا چکا تھا۔ جنوبی روس میں سٹالن گراڈ پر قبضے کی لڑائی اکتوبر 1942 میں نقطہ عروج پر پہنچ گئی۔ ہٹلر کو اصرار تھا کہ روس کے جنوب میں مشرقی یورپ کے اس دروازے پر ہر صورت قبضہ کیا جائے۔ جرمن فوج گھیرے میں آ گئی اور بالآخر اسے ہتھیار ڈالنا پڑے۔ اکتوبر 1942 ہی میں الجزائر اور مراکش میں برطانوی اور امریکی افواج اتاری گئیں۔ شمالی افریقہ میں اس لڑائی کی کامیابی نے یورپ میں دوسرا محاذ کھولنے کا راستہ ہموار کر دیا۔ ناروے کے شمالی ساحلوں اور سوویت یونین کے درمیان گہرے برفانی سمندروں تک رسائی کی لڑائی بھی اکتوبر 1942 میں شروع ہوئی۔ جرمن بحریہ شکست کھا گئی۔ خفت مٹانے کے لئے ہٹلر نے آبدوز حملوں پر توجہ دینے کا اعلان کیا مگر سطح سمندر پر ہاری جانے والی لڑائی زیر سطح نہیں جیتی جا سکتی۔

اسی بارے میں: ۔  کھلے پڑے تھے ورق، لفظ دیکھتے تھے مجھے

چھ اکتوبر کی صبح ہماری عسکری اور سیاسی قیادت نے قدم میں قدم ملا کر کہا ہے کہ ہم ایک قوم ہیں، ہمارا مفاد ایک ہے اور ہماری مشترکہ لڑائی ایک سوچ سے ہے۔ یہ سوچ زمینی حقیقت کو جھٹلا کر قومی مفاد کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ہم یہاں سے قدم بڑھانا شروع کریں گے تو شمالی پہاڑوں سے جنوبی ساحلوں تک ایک تاریخی اکتوبر کی تاریخ لکھیں گے۔ موقع اچھا ہے، لاہور کے ناصر کاظمی کو یاد کرتے ہیں۔

چلو کہ برف پگھلنے کی صبح آ پہنچی

خبر بہار کی لایا ہے کوئی گل پارا

دلی کے امیر خسرو کی بات سنتے ہیں۔

اشک ریز آمدہ است ابر بہار

ساقیا گل بریز بادہ بیار

صاحب عرفان حافظ شیراز سے فال لیتے ہیں۔

حافظ رسید موسم گل معرفت مگوی

دریاب نقد وقت و ز چون و چرا مپرس

امیر خسرو اور حافظ کا ترجمہ درویش سے نہیں پوچھئے۔ استاذی سلیم مظہر سے دریافت کر لیجئے۔ علم کی کنہ تک پہنچتے ہیں۔ مفہوم سے بھی آگاہ ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ قومی مفاد کے حقیقی اکتوبر کا خیر مقدم کیسے کیا جاتا ہے۔

یہ کالم روز نامہ جنگ میں 8 اکتوبر 2016 کو شائع ہوا

https://jang.com.pk/print/191312-wajahat-masood-column-2016-10-08-qaumi-mafad-ka-haqiai-october


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔