1965 کی جنگ اور میرا بچپن


کچھ دن پہلے کسی ہم عمر نے مجھ سے سوال کیا کہ 1965 کی جنگ میں تم کہاں تھیں؟ جواب دیتے دیتے بہت ساری یادیں زہن کی اسکرین پر تیزی سے اُترتی اور گزرتی چلی گئیں۔ میں سوال کرنے والے کو بتا رہی تھی 1965 کی جنگ میرے بہت ہی بچپن کی یادوں کی بنیاد رہی ہے۔ ون یونٹ کا دور تھا۔ بابا لاہور میں سرکاری ملازمت کر رہے تھے۔ میں نے آنکھ کھولی تو خود کو لاہور ہی میں پایا۔ وحدت کالونی لاہور کے سی بلاک میں ہمارا سرکاری گھر تھا۔

ایک دن سنا کہ جنگ ہو گئی ہے۔ جنگ پتہ نہیں کیسی ہوتی ہے! ذہن ابھی اتنا با خبر نہ ہوا تھا۔ وہ سرکاری ملازمین جو دوسرے صوبوں سے آ کر لاہور میں رہائش پذیر ہوئے تھے انہیں شاید ہدایات دی گئی ہوں گی کہ اپنی اپنی فیملی کو اپنے اصل علاقوں میں بھیج دیں۔ مجھے بس اماں اور بابا کے بیچ کی گفتگو یاد ہے۔ بابا چاہ رہے تھے کہ میں اور اماں بھی حیدرآباد چلے جائیں مگر اماں پورے یقین اور ایمان کے ساتھ ڈٹی کھڑی تھیں کہ موت اٹل ہے۔ جہاں لکھی ہے، وہیں آئے گی۔ بچانے والے کی ذات سب سے بڑی ہے۔ وہ بابا کو تنہا چھوڑنے کی کبھی بھی قائل نہیں رہی تھیں۔ بہت سے گھر خالی ہو گئے مگر ہم 26/C وحدت کالونی میں بیٹھے رہے۔

ہمارے دائیں بائیں کے گھروں میں لاہور ہی کی پنجابی فیملیز رہتی تھیں، جن میں سے ایک گھر 25/C کی خواتین بہت ہی حوصلہ مند اور دبنگ تھیں۔ ان کے بھائی ارشاد حسین کاظمی صحافی ہوا کرتے تھے۔ ایک بہن بلقیس کاظمی پائلٹ اسکول کی پرنسپل تھیں اور ایک بہن نرگس کاظمی گو کہ پروفیشنل ٹیچر تو نہیں تھیں مگر میری بنیادی تعلیم و تربیت میں ان کا بڑا حصّہ اور اثر رہا تھا۔ وہی اماں کی بھی گہری سہیلی تھیں۔ ان کے اور ہمارے گھر کے بیچ صرف ایک چھوٹی سی دیوار تھی۔ پاکستان اُن کے اندر رچا بسا تھا۔ مجھے پاکستان سے روشناس انہوں نے کرایا، جس کی وجہ سے لگتا تھا کہ پاکستان تو ازل سے اس زمین پر موجود ہے۔ پتہ ہی نہیں تھا کہ پاکستان صرف اٹھارہ سال کا جوان ہے۔ پھر اچانک 1965 کے ایک دن پتہ چلا کہ ازل سے اس زمین پر موجود پاکستان کا ایک دشمن بھی ہے، جس کا نام ہندوستان ہے۔ پھر پتہ چلا کہ وہ کافر ہیں اور ہم مسلمان ہیں۔ اور اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ آہستہ آہستہ معاملات کھلتے گئے کہ ہم عظیم قوم ہیں۔ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ فتح ہمارا حق ہے۔ ہم شہید، غازی اور مجاہد ہیں۔

جنگ شروع ہو چکی تھی۔ بظاہر زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔

گو کہ گھروں کے بیچ بنے گراؤنڈ میں خندقیں کھود دی گئی تھیں۔ کچھ وردی والے بھی آئے تھے جنہوں نے خطرے کے وقت خندق میں پناہ لینا سکھایا تھا۔ خطرے کے وقت سائرن بج اُٹھتے مگر خندقیں خالی پڑی رہتیں۔ اماں تو خندق میں بیٹھنے سے قطعی انکار کر دیتیں کہ مجھے جیتے جی قبر میں نہیں بیٹھنا۔ میں اور کالونی کے کچھ بچے دن بھر ان خندقوں میں چور سپاہی کھیلا کرتے تھے۔ جنگی جہاز زنّاٹے سے سروں پر سے گزرتے تو ہم ہاتھ ہلا کر انہیں سلام کرتے۔ ان کی اُڑان اتنی نیچی ہوتی کہ لگتا ابھی اسی گراؤنڈ میں اُتر پڑیں گے! نیچی اُڑان کی وجہ سے ایک گمان سا گزرتا کہ اندر بیٹھا جوان ہمیں بھی ہاتھ ہلا کر سلام کا جواب دیتا ہے!

پھر جنگ کی وجہ سے ایک عدد سیاہ رنگ بھاری بھرکم سا فون ہمارے گھر میں لگ گیا، شاید ایمرجنسی کی صورت میں رابطے کے لیے۔ وہ فون ایمرجنسی میں ہمارے بلاک کے دوسرے لوگوں کے استعمال کے لیے بھی تھا۔ میں فون کے گرد منڈلاتی رہتی کہ کب وہ بجتا ہے کہ میں اسے اٹھاؤں اور بات کروں۔ خود نہ بھی بجتا تو بھی رسیور کان پر رکھ کر اس کی آواز سننا ایک دلچسپ مشغلہ تھا گویا!

معمول کی زندگی میں ایک اور چیز بہت ہی اہم ہو گئی تھی اور وہ تھا ریڈیو۔ ایک ایسا مرکز جس کے گرد بیٹھنا بہت ضروری ہو گیا تھا۔ میرے کانوں میں آج بھی شمیم اعجاز کی آواز گونجتی ہے ۔۔۔۔۔ یہ ریڈیو پاکستان ہے۔۔۔ اب آپ شمیم اعجاز سے خبریں سنیے ۔۔۔۔ خبریں سمجھ تو نہیں آتی تھیں مگر الفاظ ذہن میں رچنا بسنا شروع ہو گئے۔ مثلاً محاذ، سرحد، واہگہ، جوڑیاں، ہمارے جوان، پاک فوج، شہادت، پیش قدمی، جوانمردی، منہ کی کھانی، دشمن، بھارت، شاستری، میجر عزیز بھٹی شہید، صدر ایوب، بمباری، جانی نقصان، تباہی، فضائی حملہ وغیرہ وغیرہ

ان خبروں کے ساتھ ساتھ سننے والوں کے چہروں کے اتار چڑھاؤ میں مجھے خوف اور پریشانی یاد نہیں پڑتی۔ گو کہ دبی دبی سرگوشیوں کی سی آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں کہ لاہور کو خطرہ ہے، پر زندگی معمول کے مطابق گزر رہی تھی۔ شمیم اعجاز کے لیے بہت بعد میں سنا تھا کہ خبریں پڑھتے ہوئے شاید ان کے سامنے وہ خبر بھی پڑھنے کے لیے رکھ دی گئی تھی جس میں ان کے بھائی کی شہادت کی خبر درج تھی، جو انہوں نے بڑے حوصلے کے ساتھ پڑھ دی تھی۔

ہاں مگر راتیں معمول کے مطابق نہیں ہوتی تھیں۔ بلیک آؤٹ ہوجاتا تھا۔ کھڑکیوں کے شیشوں پر سیاہ رنگ کے کاغذ چڑھا دیے گئے تھے۔ ایک ذرا سی موم بتی جلتی تھی بند کمرے میں اور وہ بھی سائرن کے ساتھ ہی بجھا دی جاتی تھی۔ مجھے آج بھی اندازہ نہیں ہے کہ بارڈر وحدت کالونی سے کتنا دور تھا مگر مجھے بمباری کی وہ لپکتی جھپکتی روشنی یاد ہے جو دیواروں پر پڑا کرتی تھی۔ بمباری کی وہ آوازیں جن میں توپ سے گولے پھینکنے والی دھمک ہوا کرتی تھی۔ گو کہ آج بھی مجھے پتہ نہیں کہ وہ فضائی بمباری ہوتی تھی یا زمینی! اسی کے ساتھ ہی کھڑکیوں کے شیشے لرزنا شروع ہو جاتے تھے اور اس زمانے کے دیسی باورچی خانے کے طاقچوں پر رکھے برتن گر پڑتے تھے۔

بس یہ وہ لمحات ہوتے تھے جب اماں اونچی آواز میں نصر من الله و فتح قریب پڑھا کرتی تھیں۔ کچھ وقت گزرتا، پھر شاید خطرہ ٹل جانے کا بھی سائرن بجتا تھا اور بڑے سکون کے ساتھ برتن سمیٹ کر واپس اپنی جگہ پر رکھ دیے جاتے۔ کالونی کے گراؤنڈ میں کبھی کبھی پتہ نہیں کیسے اور کہاں سے اُڑ آئے ہوئے دھات کے چاندی رنگ جیسے ادھ جلے ٹکڑے پڑے ملتے جنہیں اُٹھانا اور سنبھال کر رکھنا میرے لیے بہت ہی پُر کشش کام تھا۔ ایسا ہی ایک ٹکڑا 1975 تک میرے پاس رہا، جو بعد میں کوئی گھر بدلتے ہوئے کہیں کھو گیا۔

ہر بلیک آؤٹ زدہ رات کے بعد دن ہو جاتا اور زندگی اپنے معمول پر لوٹ آتی۔ شاید اس یقین کے ساتھ کہ نہ تو ہم تباہ ہو سکتے ہیں اور نہ ہی شکست ہمارا مقدر ہے۔

آج جس طرح میڈیا پر جنگ لڑی جا رہی ہے، یاد کرتی ہوں تو وہ جنگ بھی ریڈیو پاکستان پر لڑی جا رہی تھی اور ریڈیو پاکستان کے ساتھ ساتھ لاہور کے لوگ اس کے سپاہی تھے۔ اماں اور ہماری پڑوسی خواتین فتح کی باتیں کیا کرتیں۔ میں آج سوچتی ہوں تو خیال آتا ہے کہ اماں ایک سندھی اور مزاجاً صوفی اور مذہبی خاتون تھیں۔۔۔ لاہور ان کے لیے پردیس تھا۔ پنجابی ملی اردو، سندھی کی آمیزش کے ساتھ بولتی تھیں اور اپنی پنجابی سہیلیوں کے ساتھ اس جنگ کی گویا سپاہی بن جاتی تھیں۔

ریڈیو پاکستان پر خبروں کے بعد جنگی ترانوں کا ماحول سجتا تھا۔ میں آج بھی کبھی کبھی ہیڈ فونز لگا کر وہ ترانے سنتی ہوں اپنی ناسٹیلجیا کی تسکین کے لیے۔ ان ترانوں کو بھی اسی طرح سنا جاتا تھا ریڈیو کے قریب بیٹھ کر جس طرح خبریں سنی جاتی تھیں۔ اماں جو سندھ کی لوک داستان ماروی (مارئی) کا جیتا جاگتا روپ تھیں اور اپنے گاؤں کو بلکل اسی طرح یاد کیا کرتی تھیں جس طرح عمر بادشاہ کے محل میں مقید مارئی اپنے وطن کے کچے آنگنوں اور اپنے سادہ دل ہم وطنوں کو یاد کرتی تھی اور اس یاد کے اضطراب اور وطن کے ساتھ اس کی وابستگی کو شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے ابیات میں جس گہرائی کے ساتھ بیان کیا ہے، اماں شاہ سائیں کے وہی ابیات لاہور سے دور، سندھ میں رہ گئے اپنے وطن کو یاد کرتے ہوئے اپنی پُر سوز آواز میں ترنم کے ساتھ گایا کرتی تھیں۔ مگر میں نے انہیں 1965 کی جنگ کے دنوں میں اپنی 25/C وحدت کالونی لاہور والی پنجابی سہیلیوں کے ساتھ، مہدی حسن کی آواز میں خطہِ لاہور تیرے جانثاروں کو سلام۔۔۔ شہریوں کو، غازیوں کو، شہسواروں کو سلام ۔۔۔ پر جھومتے ہوئے دیکھا تھا۔ پھر نورجہان جب گاتی تھیں ۔۔۔۔ اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے۔۔۔۔ میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں ۔۔۔۔۔ اج تکدیاں تینوں سارے جگ دیاں اکھاں ۔۔۔۔۔ لگتا تھا جیسے اماں کا اپنا بھائی بھی محاذ پر گیا ہو! پوری پنجابن بن گئی تھیں جنگ کے جذبات میں۔

مگر ابھی ابھی یہ یادیں لکھتے ہوئے مجھے ایک ایسا دلچسپ ترانہ یاد آ گیا ہے جو آج سوچوں تو ذہن کسی اور موضوع کی طرف نکل جائے گا! معلوم نہیں وہ ترانہ آج بھی کہیں موجود ہے یا نہیں مگر جو صدر ایوب کی شان میں تھا۔

صبرِ ایّوب کی ہوگئی انتہا ۔۔۔۔۔ اب تو غازی بنو یا شہیدِ وطن ۔۔۔۔۔

ابھی یہ لکھتے ہوئے خیال آ رہا ہے کہ یہ ترانہ شاید اس حقیقت کے پس منظر میں ہو گا جو قوم سے چھپائی جا رہی ہوگی!

پھر ایک دن پتہ چلا کہ آسمان میں تلوار نظر آ رہی ہے۔ حضرت علی کی ذوالفقار سے یہ پہلی شناسائی تھی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہُ سے شناسائی تو جانے کب کی بابا نے لاشعور میں ڈال دی تھی مگر ان کی تلوار میں نے پہلی بار سنی۔ اور یہ کہ اس تلوار کی شکل کیا ہے۔

وہ رات میرے بچپن کی خوبصورت یادوں میں سے ایک ہے، جب بابا نے ایک ہاتھ میں میری اُنگلی پکڑی ہوئی تھی اور دوسرے بازو کے گھیرے میں اماں کو لیا ہوا تھا اور ایک چاندنی رات جیسی رات میں ہم اپنے گھر سے باہر کی چوڑی گلی میں آ کھڑے ہوئے تھے اور بابا اور اماں نے آسمان پر وہ تلوار ڈھونڈی تھی اور دونوں آسمان کی جانب اپنے ہاتھ بلند کیے تلوار کی سی ایک روشن لکیر اور اس کے دونوں سِروں پر چمکتے ستاروں کو گویا اپنی اپنی اُنگلی سے لکیر کھینچ کر پہچاننے کی کوشش کر رہے تھے! اور میں بھی گردن اُٹھائے اسے تجسس سے دیکھ رہی تھی۔

وہ تلوار کی سی لکیر اور اس کے دونوں سروں پر دو ستارے مجھے آج بھی اُسی طرح یاد ہیں۔

پھر ایک دن پتہ چلا ہم جنگ جیت گئے ہیں(؟)! جنگ جیتنے کی خوشی بھی ویسی ہی گرمجوش تھی جیسی جنگ کرنے کی۔ پھر سب کچھ جنگ سے پہلے والے معمول پر آ گیا۔

پھر ایک دن صدر ایوب پتہ نہیں کیوں وحدت روڈ سے گزر رہے تھے اور کیوں ہم اسکول کے بچوں کو سڑک کے کنارے بڑی دیر تک کھڑا کر دیا گیا تھا۔ ہم کھڑے رہے پر صدر ایوب نہیں آئے۔ چند دن پہلے تک مجھے صدر ایوب سے جو پیار تھا وہ نفرت میں بدل گیا۔ شاید آمریت سے یہ میری پہلی شناسائی تھی!

پھر ایک دن محلّے میں مٹھائی بھی بٹی۔ سب بہت خوش تھے۔ شاستری صدر ایوب کی تاب سہہ نہ سکا اور تاشقند میں مر گیا۔

1965 کی جنگ کے بعد ہم حج پر گئے تھے اور مجھے عربوں اور دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کا بابا کے ہاتھ چومنا یاد ہے، جب بابا ان کے سوال کے جواب میں بتاتے کہ ہاں میں پاکستانی ہوں۔

مگر 1965 کی اس جنگ نے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ مجھ پر جو اپنے اثرات چھوڑے وہ میں زندگی میں اپنے ساتھ ساتھ لیے بڑی ہوئی۔ تب سے اب تک، اگر جنگی جہاز اچانک شور مچاتے ہوئے گزریں تو میرا فوری ری ایکشن گھبراہٹ اور خوف ہوتا ہے۔ گو کہ اگلے لمحے میں خود کو پُر سکون کر لیتی ہوں مگر دل کی دھڑکن کچھ لمحوں کے لیے قابو میں نہیں رہتی۔ کسی بھی چیز کی گڑگڑاہٹ کی سی آواز مجھے پریشان کر دیتی ہے اور جب تک پتہ نہ چل جائے کہ کس چیز کی آواز ہے، مجھے چین نہیں آتا۔

جنگ سے نفرت اور خوف میرے مزاج کا حصّہ بن گیا۔ دو بار جب کام کے سلسلے میں دلّی جانا ہوا تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ دلّی، جو اردو ادب پڑھتے ہوئے میرے لیے ہمیشہ کشش کا باعث رہی، رو بروُ میرے حلق سے نہیں اُتر رہی تھی! ہر چہرے میں مجھے دشمن دکھتا تھا۔ ایک عجیب سا انجانا خوف میرے اندر سرسراتا رہتا!

میں مظفر علی (امراؤ جان فلم کے ڈائریکٹر اور رومی کے عاشق اور صوفی منش شخص) کے ہاں رہ رہی تھی۔ میں نے جب ان سے یہ بات شیئر کی تو وہ حیرت سے مجھے دیکھتے رہ گئے!

بچپن سے آج تک جنگ سے متعلق تصاویر مجھے اپنے اندر کھینچ لیتی ہیں۔ میں نے پہلی کہانی اردو میں اخبارِ جہاں میں لکھی تھی۔ تب میں میٹرک کی طالبہ تھی۔ وہ جنگ زدہ شہر میں رہنے والے بچے کی کہانی تھی جو ہر وقت اس پریشانی میں رہتا ہے کہ اگر جنگ ہوئی تو کیا ہم سب مر جائیں گے؟ میرا اسکول اور میرا گھر؟ اور میرا یہ پرندہ؟ وہ بچہ اس پرندے کو بچانے کے انتظامات کرتا رہتا ہے۔ بلآخر ایک دن اس کے گھر پر بھی بم گرتا ہے۔ بچہ اور گھر سب ختم ہو جاتا ہے۔ صرف پنجرے میں پرندہ باقی رہ جاتا ہے۔

کئی سال بعد 1985 میں پی ٹی وی کے لیے میں نے اسی کہانی کا ڈرامہ لکھا ”امن اور پیچوُ“ جسے نیوزی لینڈ کے ڈرامہ فیسٹیول میں ایوارڈ بھی دیا گیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 75 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah