کربلا کی ڈائری سے ایک صفحہ


میں پہلی بار عمرہ کرنے گیا تو مدینے کی زیارت بھی کی۔ وہاں جنت البقیع کے باہر ایک اجنبی ملا جس نے پوچھا، ’’کیا تمھارا کبھی کربلا جانے کا ارادہ ہے؟‘‘ میں نے کہا، ’’ایک بار جاچکا ہوں اور دوسرے بار جانے کی خواہش ہے۔‘‘ اس نے ایک لفافہ دیا اور کہا کہ یہ بھی لے جانا۔

میں نے وہ لفافہ جیب میں ڈال لیا۔ جب کوئی کربلا جاتا ہے تو لوگ اسے عریضے دیتے ہیں۔ ان میں وہ اپنی عرضیاں لکھتے ہیں۔ کربلا جانے والے وہ عریضے امام حسین کی قبر پر ڈال دیتے ہیں۔

میں نے سوچا کہ جب کربلا جاؤں گا تو وہ لفافہ روضے میں ڈال دوں گا۔

گزشتہ سال کربلا گیا تو وہ لفافہ میرے پاس تھا۔ کئی بار روضے پر گیا لیکن ہر بار بھول جاتا تھا۔ ایک دن وہ لفافہ لے کر نکلا تو بین الحرمین ایک شخص نے روک لیا۔ بس اتنا کہا، ’’لاؤ وہ لفافہ!‘‘ میں نے لفافہ اسے دے دیا۔ وہ ہجوم میں گم ہوگیا۔

پتا نہیں خط دینے والا کون تھا اور خط لینے والا کون تھا۔

…. ….

کربلا میں کئی مقامات پر ایک تصویر لگی ہوئی ہے۔ لوگ اسے امام حسین کی شبیہہ سمجھتے ہیں۔ ایک بار ہوٹل سے نکلا تو تصویر پر نظر پڑی۔ دل میں سوچا کہ امام حسین کی زیارت کتنا بڑا انعام ہے۔

…. ….

میں روضے کی طرف جارہا تھا کہ دیکھا، تلہ زینبیہ کے باہر سڑک پر ایک مجہول شخص خواہ مخواہ ہنسے جارہا ہے۔ میلے کپڑے، بال بے ہنگم اور الجھے ہوئے، پیروں میں چھالے۔ اس کے ہاتھ میں روٹی تھی جس پر مٹی لگی ہوئی تھی۔ وہ اس روٹی کو دانتوں سے توڑ توڑ کر کھائے جارہا تھا۔ میں قریب سے گزرا تو اس نے وہ روٹی میری طرف بڑھادی۔

اسی بارے میں: ۔  محرم تو سب کا ہوتا تھا!

کربلا میں جو مل جائے، وہ تبرک ہے۔ میں نے وہ ٹکڑا لے لیا اور مٹی صاف کیے بغیر اس کے سامنے بیٹھ کر کھالیا۔

اس دیوانے کی ہنسی رک گیا۔ آہستہ سے کہنے لگا، ’’امام حسین کی قبر پر مانگی ہوئی ہر دعا قبول ہوجاتی ہے۔ ایک دن میں نے مولا سے کہا، اپنی زیارت کروادیں۔ آواز آئی، ہم تو زیارت کروادیں گے لیکن تم ہوش کھو بیٹھو گے۔ میں نے کہا، منظور ہے۔‘‘

میں نے پوچھا، ’’پھر؟ زیارت ہوئی یا نہیں؟‘‘ دیوانے نے جواب دینے کے بجائے بے اختیار ہنسنا شروع کردیا۔ میں گھبرا کے وہاں سے اٹھ گیا۔

…. ….

ایک بار عمرے کے سفر میں ایک بزرگ ہمارے ساتھ تھے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے پاس ایک دعا ہے جسے پڑھنے سے مشکل دور ہو جاتی ہے۔ میں ایسی باتیں نہیں مانتا اور منہ پر ہی انکار کر دیتا ہوں۔ انھوں نے کئی قصے سنائے کہ ایک بار یوں ہوا، ایک بار یوں ہوا۔ میں نے کوئی دلچسپی نہ لی۔ انھوں نے وہ دعا ایک کاغذ پر لکھ کر دی کہ کبھی آزما لینا۔

گزشتہ سال نو محرم کو میں مغرب سے کچھ پہلے اپنے بیٹے حسین کو لے کر ہوٹل سے نکلا۔ میں نے کہا، آؤ تمھیں دکھاؤں کہ کربلا کی شب عاشور کیسی ہوتی ہے۔ یہاں شب عاشور سے عصر عاشور تک دنیا کا سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے۔

میں حسین کا ہاتھ پکڑ کے چلا۔ حضرت عباس کے روضے تک پہنچا تو احساس ہوا کہ رش بڑھ چکا ہے اور اتنے رش میں بچے کو ساتھ لے کر نکلنا ٹھیک نہیں تھا۔ میں نے واپسی کا راستہ اختیار کرنا چاہا لیکن ہجوم اتنا تھا کہ پریشان ہوگیا۔ اب میں راستہ لمبا کرتا جا رہا تھا لیکن جس طرف منہ کرتا، ہزاروں اور لاکھوں کا مجمع دکھائی دیتا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ ہم دونوں چاروں طرف سے ہجوم میں پھنس گئے اور مجھے خطرہ ہوا کہ حسین حبس سے بے ہوش نہ ہو جائے۔

اسی بارے میں: ۔  یونہی کربلا کسی کو عطا نہیں ہوتی

بڑی مشکل سے ہم ایک تنگ اور تاریک گلی میں گھسے۔ اب میں بڑی شارع پر نہیں آنا چاہتا تھا۔ اندر ہی اندر ہوٹلوں اور گلیوں سے دور سے دور ہوتا چلا گیا۔ کہیں کسی گلی میں نیاز پک رہی تھی، کہیں شربت تقسیم ہورہا تھا، کہیں عرب لڑکے زور زور سے باتیں کررہے تھے۔ میں راستہ بھول چکا تھا۔

اچانک مجھے ایک خیال آیا۔ اپنا بٹوہ کھولا اور اس میں سے وہ کاغذ نکالا جس پر انکل نے کئی سال پہلے دعا لکھ کر دی تھی۔ ابھی میں وہ دعا پڑھ بھی نہیں سکا تھا اور کاغذ پر نظر ہی ڈالی تھی کہ ایک شخص نے میرا بازو پکڑ کے کہا، ’’یا محمد! خیام حسینی!‘‘

میں نے چونک کر دیکھا، سڑک کے دوسری جانب خیام کی پختہ عمارت تھی۔ اسی گلی میں ہمارا ہوٹل تھا۔ وہاں رش نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ میں نے سکون کا سانس لیا۔

پھر مڑ کر اس شخص کا شکریہ ادا کرنا چاہا لیکن وہ تاریک گلی میں تحلیل ہوچکا تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 80 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi

3 thoughts on “کربلا کی ڈائری سے ایک صفحہ

  • 10-10-2016 at 6:33 am
    Permalink

    Bohot hi acha article hay. Jazzak Allah

  • 10-10-2016 at 8:02 am
    Permalink

    کیا کہنے زیدی صاحب

  • 11-10-2016 at 6:52 am
    Permalink

    مبشر علی زیدی کو پروردگار نے قلم کیساتھ زھن رسا بھی عطا فرمایا ہے وہ لفظوں کو گھسیٹتے ہیں نہ رگیدتے ہیں بلکہ لفظوں کو محترم جانتے ہوئے انکی نشست و برخواست کا خصوصی خیال رکھتے ہیں جواب میں لفظ بھی اپنی اسقدر میزبانی پہ مبشر علی زیدی کا خیال رکھتے ہیں
    میں سمجھتا ہوں لفظ بے حس ہوتے ہیں اور نہ بے جان بلکہ ہر لفظ انسانوں کی طرح اپنا مخصوص مزاج فطرت سے ودیعت پا کے وجود میں آتا ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ لفظ اکثریت کی نوک زباں یا نوک قلم کی اذیت سہہ نہیں پاتا اور مردہ ہو جاتا ہے جبکہ مبشر علی زیدی کے حسن سلوک و کمال انسیت اسے زندہ لفظ کی مسند پہ بٹھا دیتی ہے

Comments are closed.