ترا دل تو ہے صنم آشنا ….


blue areaمہر جان

آپ دیسی لبرلز اور مذہبی افراد، دونوں کے بیانیے کو غور و خوض سے پڑھ لیں۔ مذہبی لوگ وہی بیان کررہے جو کم وپیش ان کو قرآن و احادیث میں بتلایا گیا ہے کہ ریاست کے خدو خال کیسے ہو نے چاہییں۔ حکمرانی کا تصور کیا ہونا چاہیے؟ اقتدار اعلیٰ کا سر چشمہ عوام ہو نا چاہیے یا احکام الٰہی…. سزا و جزا کا کیا تصور ہو…. عورت کی گواہی اور رجم …. یہ سب احکامات قرآن میں صریحا بیان کیے گئے ہیں اور عملاً ریاست مدینہ کی صورت میں اور خلفاے راشدین کی صورت میں تاریخ میں محفوظ موجود ہیں۔ اب اگر کوئی ان احکامات کا پرچار کرتا ہے تو لبرل حضرات ان کو مذہبی گردانتے ہیں ۔ لبرل ازم کی تلوار لے کر ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں لیکن بڑے موثر اور چالاکی کے ساتھ اہل مذہب سے تو الجھتے ہیں لیکن جہاں سے یہ احکام استنباط ہوئے ہیں، وہاں پہ یہ لوگ خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔

میرے خیال میں مذہب والے ہیجان کا شکار نہیں ہیں وہ تو اپنے مذہب کی بات بھی کررہے ہیں اور پیروی بھی کررہے ہیں ریاست مدینہ ہو یا خلافت راشدہ کادور ان کے لیے سب سے بہترین مثالیں ہیں اور قرانی احکامات بھی یہی ییں کہ” اپنے امیر کی اطاعت کرو اختلاف کی صورت میں قرآن وسنت کی طرف لوٹ آو” علامہ اقبال تو ببانگ دہل یہ کہتے بھی رہے

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جا تی ہے چنگیزی

یہ سارا مذہبی بیانیہ مذہب کے اندر موجود ہے

لیکن مسئلہ دیسی لبرلز کے ساتھ ہے۔ آپ انہیں پاکستانی لبرلز بھی کہہ سکتے ہیں اور ریاستی بھی جو مذہب میں لبرل ازم اور سیکولر ازم ڈھونڈنے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ’ خدا بھی ملے اور صنم بھی …‘ اگر مذہبی افراد بشمول اوریا مقبول جان، انصار عباسی اور عامر خاکوانی یہ سب بالفرض مان بھی لیں کہ ریاست مذہبی پیشواہیت کی سرپرستی میں نہیں چلنی چاہیے پھر دیسی سیکولر اور لبرلز رجم ، عورت کی گواہی اور اسلامی سزاو¿ں کے بارے میں کیا موقف اختیار کریں گے ۔ اور جہاں تک بات آزادی اور مساوات کی ہے تو پھر ریاستی تاریخ (مطالعہ پاکستان) یہ کہتی ہے کہ یہ ریاست مذہب ہی کی بنیاد پہ بنی۔ مذہب کی بنیاد پر الحاقات ہوئے اور دو قومی نظریہ ہی ریاست کی بنیاد ہے جب کہ مذہب میں حق حکمرانی کا تصور بھی واضح ہے تو پھر لبرل حضرات بضد کیوں ہیں کہ مذہب کی بنیاد پہ بننے والی ریاست میں سیکولرازم رائج ہو جس نظام میں اقتدار اعلی کا سر چشمہ عوام ہیں، احکام الٰہی نہیں ۔

سیکولر ازم یا لبرل ازم کا بیانیہ نہایت ہی جاذب و دلکش ہے لیکن اس کو مذہب اسلام کی ساخت میں رہ کر رائج نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دوسرے مذاہب میں ریاست اور چرچ الگ کیے جاسکتے تھے جو کہ کیے بھی گئے لیکن یہاں اسلام کو لوگ مذہب نہیں، دین سمجھتے ہیں اور سونے پہ سہاگہ مذہبی نرگسیت بھی عروج پر ہے ۔اس لیے دیسی سیکولر بجائے اہل مذہب سے بار بار الجھنے کے یا تو خدا کا واصل بنیں یا پھر صنم پر اکتفا کریں اور آخر میں صنم کے بارے میں اہل مذہب کا موقف جسے جاننا ہو وہ اسلام آباد کے بلیو ایریا میں کھلے عام آویزاں ایک بینر دیکھ لے ۔شعیب بن عزیز کا ایک اچھا شعر ، شاید لغوی معنوں میں تو نہیں مگر لہجے میں ضرور صورت حال واضح کر رہا ہے ۔

بینر پہ لکھے حرف خوشامد پہ جو خوش ہے
دیوار پہ لکھی ہوئی تحریر بھی پڑھ لے


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “ترا دل تو ہے صنم آشنا ….

  • 29-01-2016 at 6:02 am
    Permalink

    آپ سے گذارش ہے کہ محترم وجاہت مسعود صاحب کی اس موضوع پر سلسلہ وار تحریر کا مطالعہ ضرور کرلیں،اسکی چار اقساط شائع ہوچکی ہیں،اس میں انہوں نے سیکلولر ریاست کے خدوخال پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور یہ نقطہ بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ سیکولرازم اسلام یا مذہب مخالف ہرگز نہیں۔ آپ بے شک اس رائے کو تسلیم نہ کیجئے گا کہ ہر کسی کو اپنی آزادانہ رائے استوار کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
    آپ کی تحریر کا ایک نقطہ:
    پاکستان کی تاریخ جو ہمیں مطالعہ پاکستان میں پڑھائی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔نصاب کا مطالعہ پاکستان ایک غیر جانبارانہ اور مکمل طور پر درست تاریخ مہیا نہیں کرتا۔

  • 29-01-2016 at 2:08 pm
    Permalink

    میں نے بلکل مطالعہ کیا ہے کیا وجاھت مسعود صاحب اسلامی سزاوں ,رجم,لونڈیوں کا تصؤر,عورت کی آدھی گواھی ان سب میں جو کہ (مذہب اسلام میں موجود ہیں) اور سیکولرازم میں تطبیق کر پاہینگے????????

Comments are closed.