آٹھ محرم الحرام اور بسم اللہ خان شہنائی والے


بسم اللہ خان ایک کٹر مذہبی انسان تھے۔ دین کے تمام فرائض پورے کرتے تھے۔ فجر کی نماز پڑھے بغیر ان کا دن شروع نہیں ہوتا تھا۔ جو کماتے تھے، اپنے بچوں اور ضرورت مندوں کو دے دلا کر ہاتھ کے ہاتھ فارغ ہو جاتے تھے۔ کنجوسی کرتے تو نواب ہوتے، توکل کرتے تھے، حال مست رہتے تھے۔ ایک سادہ سا گھر تھا، دروازوں اور دیواروں پر کہیں رنگ ہوتا تھا، کہیں نہ بھی ہوتا، ان کی بلا جانے۔ سونے کو چارپائی چاہئیے ہوتی تھی، وہ انہیں مل جاتی تھی۔ روزوں کے بھی پابند تھے۔ رمضان کے مکمل روزے باقاعدگی سے رکھتے تھے۔ پینے پلانے سے کوسوں دور اور کھانے میں بھی حرام حلال کی شدید احتیاط رکھتے تھے۔ ان کی زندگی کے بارے میں پڑھیں تو ہر مرتبہ یہ ضرور لکھا آئے گا کہ مذہبی ارکان پورے کرنے میں وہ کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے۔ بس ایک مسئلہ تھا۔ موسیقی ان کے نزدیک جائز تھی۔

آزادی کا پہلا دن تھا۔ لال قلعے پر تقریب ہونی تھی۔ دہلی میں چاروں طرف ڈھنڈیا مچی تھی کہ بسم اللہ خان کہاں ہیں۔ نہرو کہتے تھے آزادی کی اولین صبح استاد جی بسم اللہ کریں۔ ہرکارے دوڑائے گئے، معلوم ہوا کہ استاد ابھی کسی دوسرے شہر میں ہیں۔ ہوائی جہاز بھیجا گیا، بسم اللہ تشریف لائے، ساتھی ہمراہ تھے۔ سب سرکاری مہمان ہوئے۔ پروگرام کچھ اس طرح سے بنا کہ وہ شہنائی بجاتے ہوئے چلتے رہیں گے اور ساتھ ساتھ ان کے ساتھی ان کے پیچھے چلیں گے۔ انہیں اعتراض ہوا۔ کہنے لگے ہم چلتے ہوئے نہیں بجائیں گے (کیوں کہ کھڑے ہو کر یا چلتے ہوئے صرف محرم میں شہنائی بجتی تھی) پنڈت جی نے ترنت کہا کہ استاد صرف آپ نہیں چلیں گے آپ کے پیچھے ہم سب چلیں گے، پوری قوم چلے گی۔

سورج طلوع ہو رہا تھا۔ دلفریب ہوا چل رہی تھی۔ سب سے آگے استاد بسم اللہ خان شہنائی بجاتے ہوئے چلے جا رہے تھے۔ ان کے پیچھے تمام ساتھی تھے پھر سب حکومتی لوگوں کی ایک قطار تھی، اور صبح آہستہ آہستہ اندھیرے کو مٹا کر نکلتی آ رہی تھی۔ یہ رسم جاری رہی۔ ہر سال پندرہ اگست کے دن وزیر اعظم کی تقریر کے بعد بسم اللہ خان شہنائی بجاتے تھے اور لوگ سنتے تھے۔

لکھنے والوں نے لکھا کہ شہنائی پہلے سات سر نہیں نکالتی تھی۔ دہلی کے موسیقاروں کے پاس ایک باجا سا ہوتا جسے پٌنگی کہا جاتا تھا۔ اور پنگی کی آواز نہایت چبھنے والی اور تیز سی ہوتی تھی۔ اورنگ زیب بادشاہ ہوئے تو انہوں نے پنگی کو بھی دیس نکالا دے دیا۔ اسے ناپاک کہا گیا، یہ بھی لکھتے ہیں کہ اسی دور میں یہ نفیری کہلائی۔ جب پنگی پر پابندی لگی تو ایک صاحب جو کہ موسیقار گھرانوں کے نائی تھے اور اسی وجہ سے کچھ سر سنگیت اور باج بھی جانتے تھے انہوں نے اسے مزید بہتر بنانے کی ٹھانی۔ انہوں نے پنگی کا سائز تھوڑا بڑھایا، اس میں سات سوراخ نکالے، اسے بجانے کی تھوڑی پریکٹس کی اور لے گئے دوبارہ شاہی دربار میں۔ شہہ نے کہا بجاؤ، انہوں نے بجائی، شہہ کو پسند آئی، پوچھا نام کیا ہے، نائی کی رعایت لفظی رکھتے ہوئے ترنت کہنے لگے کہ بنارس میں اسے سہنائی کہتے ہیں، عالمگیر بولے کہ اب چوں کہ یہ شاہی دربار میں جنم لے چکی ہے تو آج کے بعد اسے شہنائی کہا جائے گا اور یوں اس ساز کو نیا نام ملا۔ بسم اللہ خان شہنائی کا تعلق بھی ایران سے جوڑتے تھے، ان کے مطابق حکیم بو علی سینا نے اسی ایجاد کیا اور سینا کی ہی مناسب سے یہ سہنائی کہلاتی تھی جو بعد میں شہنائی ہو گیا۔

اسی بارے میں: ۔  نئے سال کی غیراخلاقی مگریقینی پیشگوئیاں

کبیر داس، پریم چند، روی شنکر اور ہری پرشاد چوراسیہ کے بنارس میں بسم اللہ خان بھی پیدا ہوئے۔ بنارس بھگوان کی نگری کہلاتا تھا۔ شہنائی کو قبول عام بھی ہندو مذہب میں ہی حاصل تھا۔ صبح سویرے مندروں میں بجائی جاتی تھی، بہت ہوا تو ساتھ مجیرے اور سنکھ بجے نہیں تو اکیلی شہنائی بھی کافی ہوتی تھی۔ بسم اللہ خان کا دھیان پڑھائی وغیرہ میں نہیں لگتا تھا وہ اپنے ماموں علی بخش کے ساتھ مندر چلے جاتے اور ریاض کرتے رہتے۔ اٹھارہ برس کاشی کے وشواناتھ مندر میں ریاض کرنے والے بسم اللہ خان جب میدان میں آئے تو استاد بسم اللہ ہوئے۔ وہ اپنے عقیدے کے بہت پکے تھے لیکن اصحاب عقیدہ میں بہت سے تھے جو موسیقی کی حلت پر سوال اٹھاتے تھے۔ استاد بسم اللہ کہا کرتے تھے کہ اگر موسیقی حرام ہے تو یہ مجھے اتنی روحانی بلندیوں تک کیسے لے جاتی ہے، مجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ میں گا بجا کر بھی جنت حاصل کر لوں گا، موسیقی میرے نزدیک کائنات کی الوہی سچائی ہے۔ ایک انٹرویو میں بتانے لگے کہ عراق میں کہیں چند مذہبی راہنماؤں نے انہیں گھیر لیا اور دلائل دینے لگے کہ بسم اللہ تو غلط کرتا ہے، دیکھ موسیقی حرام ہے اور اس کے حق میں یہ یہ اور یہ دلیلیں ہیں۔ کہنے لگے میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا، میں نے آنکھیں بند کیں اور بھیرویں میں تین مرتبہ الہی الہی الہی گایا، میں ساتھ ساتھ آواز بھی بڑھاتا جا رہا تھا۔ جب گا چکا تو آنکھیں کھولیں اور ان سے پوچھا کیا یہ حرام ہے؟ کیا تم لوگ لحن اور قرات سے کام نہیں لیتے؟ وہ کیا ہے اور یہ کیا ہے؟ ۔۔۔ وہ سرسوتی کو موسیقی کی دیوی مانتے تھے، ریاض کیا تھا اٹھارہ سال وہیں مندروں میں، تو بسم اللہ خان کچھ یوں گنگا جمنی ہوئے کہ سرسوتی کے رنگ میں رنگے گئے۔ رسول بخش خاں کے پوتے اور پیغمبر خاں کے بیٹے بسم اللہ خان سے پہلے شہنائی بس ایک ساز تھی، پوچھنے والا کوئی نہ تھا۔ بسم اللہ نے شہنائی تھامی اور اس بلندی پر پہنچے کہ بھارت رتن کا اعزاز ملا۔

اسی بارے میں: ۔  عمران خان کو نا اہل نہیں ہونا چاہیے

انجمن حیدری بنارس کا جلوس ہے، آٹھ محرم الحرام ہے، عزادار کالے کرتے پہنے، سر جھکائے کھڑے ہیں۔ علم تھامنے والوں کے پیروں کے انگوٹھوں پر ٹکے ہیں۔ ذوالجناح کی زیارت کو لوگ آ رہے ہیں اور مس کر کے آہستگی سے دوسری طرف چلے جاتے ہیں۔ پانی پلانے کو سقے ادھر سے ادھر گھومتے ہیں، جا بجا سبیلیں بھی لگی ہیں۔ خواتین اوپر جھروکوں سے جھانک رہی ہیں، کچھ ماؤں کی گودوں میں بچے بھی ہیں، وہ بھی نیچے کی سیر کرتے ہیں، جلوس میں خاموشی ہے۔ آنکھیں راستہ دیکھ رہی ہیں۔ انتظار ہو رہا ہے اس سرخ و سپید بوڑھے کا جو ماتمی لباس میں شہنائی تھامے آئے گا اور نوحے کی دھن بجانا شروع کرے گا تو جلوس روانہ ہو گا۔ استاد آتے ہیں، باج شروع ہوتا ہے؛

آیا ہے کربلا میں غریب الوطن کوئی

سب کچھ ہے اس جہان میں لیکن میرے کریم

بھائی کو ذبح ہوتے نہ دیکھے بہن کوئی

اور گنگا کے پانیوں کو رلا دینے والی حزنیہ دھن کے ساتھ ماتم داروں کا جلوس روانہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد مختلف دھنیں بجائی جاتی ہیں، پہلے استاد خود پورا مرثیہ پڑھتے ہیں، اس کی طرز بتاتے ہیں، پھر دوبارہ سے شہنائی سنبھال لیتے ہیں، مارا گیا ہے تیر سے، بچہ رباب کا، ماتم دار اور سوگوار ساتھ ساتھ چلتے جاتے ہیں، اسی پچاسی برس کا بوڑھا سانس کی پوری طاقت اور عقیدت جناب امیر اور ان کی آل کی نذر کرتا ہے اور یہ سلسلہ تمام قصباتی سوچ والے تنگ نظروں کی مخالفت کے باوجود تاعمر رواں دواں رہتا ہے۔

بسم اللہ خان نہ رہے، ان کے بعد ان کے صاحب زادے نے یہ ذمہ داری سنبھالی، وہ بھی جلد رخصت ہو لیے، ان کے بعد سے اب تک شاگرد اس رسم کو جیسے تیسے نبھائے جاتے ہیں۔ سدا رہے نام پالنے والے کا!

 (اس ویڈیو میں آپ جلوس اور شہنائی ملاحظہ کر سکتے ہیں)۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 337 posts and counting.See all posts by husnain

7 thoughts on “آٹھ محرم الحرام اور بسم اللہ خان شہنائی والے

  • 10-10-2016 at 6:43 pm
    Permalink

    Hasnain sb khush rahen. Nice writing n nice subject

  • 10-10-2016 at 8:15 pm
    Permalink

    بہت خوب۔ ان روایات کا ذکر ہوتا رہے تو نئی نسل کو بھی توانائی ملےگی۔
    شہنائی پر نوحے کی روایت غالباً پورے اودھ کے علاقے میں تھی۔ بچپن کی بہت سی یادوں میں یہ بھی شامل ہے۔ پتہ نہیں اب بھی جاری ہے کہ نہیں، کیونکہ اب اودھ میں بھی ایک جہالت بھرا کٹّرپن عام ہوگیا ہے، شیعوں اور سنیوں دونوں میں۔ میرا خاندان سنیوں کا تھا، لیکن ان میں جو نمایاں حیثیت کے لوگ تھے محرم میں مجلس، لنگر، سبیل وغیرہ پابندی سے کرتے تھے۔ ایک رشتہ دار راجہ تھے، انکے یہاں تعزیہ داری بھی ہوتی تھی پورے اہتمام۔ وہاں شہنائی پر نوحہ بھی ہوتا تھا۔ ایک اودھی روایت “دہے” رونے کی تھی۔ آٹھویں یا نویں کی رات کو قریب کے گانووں سے ہندو عورتیں آتی تھیں اور تعزیوں کے پاس کھڑی ہوکر “دہے” روتی تھیں، ایک خاص دھُن میں۔ یہ بہت مختصر نوحے اودھی زبان میں ہوتے تھے۔ استاد کے تعلق سے یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ انکا خاندان قدیم سے بنارس کے سب سے بڑے معبد، کاشی وشواناتھ مندر، میں بھی شہنائی بجانے پر مامور رہا ہے۔

  • 10-10-2016 at 8:17 pm
    Permalink

    معذرت خواہ ہوں، آخر میں مامور کی جگہ معمور لکھ گیا۔

  • 11-10-2016 at 4:58 pm
    Permalink

    سر بہت شکریہ، کل تیمور نے بتایا کہ یہ مضمون آپ نے انہیں بھیجا۔ اس سے زیادہ حوصلہ افزائی کیا ہو گی ایک لکھنے والے کی۔ تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔
    جی بالکل، مہیشور دیال نے اپنی دلی والی کتاب میں بھی جلوس کے آگے آگے باجا بجنے کا ذکر کیا ہے۔ آپ درست فرماتے ہیں۔ اودھ اور دلی، دونوں جگہ یہ روایت موجود تھی۔ تعزیہ داری تو شروع سے ہمارے سنی بھائی ہی سنبھالتے آئے ہیں اور باقی رسوم میں بھی دل و جان سے شامل رہتے تھے۔
    دہے رونے والا واقعہ نیا ہے میرے لیے، بہت شکریہ کہ آپ نے ذکر کیا، اسے ڈھونڈتا ہوں کتابوں میں، وہ غالب کے نوحہ گر یاد آ گئے اس بات سے۔
    استاد کا یہ ذکر میں سہوا نہیں کر پایا۔ بالا جی کے وشواناتھ مندر میں پرکھوں کے زمانے سے شہنائی بجانے کا ذکر تو ان پر بنی ڈاکیومینٹری میں بھی تھا۔ چوک گیا بس۔
    صد تشکر
    نیاز مند

  • 11-10-2016 at 4:59 pm
    Permalink

    عمید بہت شکریہ۔

  • 11-10-2016 at 5:00 pm
    Permalink

    بہت نوازش بھائی فراز

Comments are closed.