اپنی فطرت پر قیاس’ اصناف نازک‘سے نہ کر….


salim javedمیں نے کہا “ایٹم میں پروٹان اور الیکٹران کا اپنا اپنا مقام ہے۔کسی کو ایک حویلی میں بیٹھے زندگی گذارنی ہے تو کسی کو ساری عمر کے چکر کاٹنے ہیں۔ ایسے ہی خدا نے اس کائنات کو مردو وعورت کے جوڑے سے چلایا ہے”۔

افلاطون کے سامنے آپ دنیا کی کوئی بات کریں، اس نے اس میں کیڑے نکالنے ہوتے ہیں۔  کہنے لگا ’ ایک تیسری جنس بھی توہوتی ہے‘۔

میں نے کہا ’ہاں! نیوٹران بھی ہوتے ہیں مگر تم مجھے موضوع سے نہ ہٹاو ‘۔

میں نے عرض کیا کہ اسلام میں مساوات ضرور ہے لیکن اس کا مطلب برابری نہیں بلکہ یہ کہ حق دار کو اس کا حق ملنا چاہیئے یعنی انزل الناس علی منازلھم۔

خدا نے عورت اور مرد کی فطرت میں بہت بڑا فرق رکھا ہے۔ عورت “چاہے” جانے کےلئے پیدا ہوئی ہے۔ اس کی اساس ہی جذبات پر ہے۔  وہ “ایک” کو چاہتی ہے اور “ایک ہی” سے چاہا جانا پسند کرتی ہے۔  وہ اپنے محبوب سے پوری محبت کی طلب گار ہوتی ہے۔

اسکے برخلاف، مرد ہرجائی ہے۔ اس کے لئے وجود زن فقط کائنات میں رنگینی کا سبب ہے اور دل لبھانے کی چیز ہے۔ یوں کہو کہ اس کے لئے کھلونا ہے۔ اس ضمن میں ایک نازک نکتہ عرض کرتا ہوں، شاید تیرا ذہن وہاں پہنچ سکے۔ قدرت نے عورت کی جسمانی ساخت ایسے رکھی ہے کہ اسکی مرضی کے بغیر بھی مرد اسکے ساتھ ریپ کرسکتا ہے۔ پر یہ کام ، مرد کے ساتھ، اس کی مرضی کے بنا، زلیخا جیسی مقتدر عورت بھی نہیں کر سکتی۔

کہنے لگا ’ اور یہ جو آئے روز اخبارات میں پڑھتے ہو کہ بیوی نے آشنا سے مل کر خاوند کو قتل کردیا‘۔

عرض کیا” ضروری نہیں کہ مقتول خاوند، اس عورت کا محبوب بھی ہو (ارینج میریج) اگرچہ مجھے اس پر بھی انکار نہیں کہ کسی اندرونی نفسیاتی بیماری یا بیرونی شدید ترغیبات (جیسے میڈیا) کے زیر اثر، مرد یا عورت کی فطرت مسخ بھی ہوسکتی ہے۔  بہرحال، فطرت عورت کی یہی ہے کہ عورت کو “ایک ” ہی محبوب درکار ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ صحرا میں بھی زندگی گذار سکتی ہے۔ اور یہ محبوب، وہ کس بنا پر چنتی ہے،یہ وہ راز ہے جسے”کوک شاستر” کے مصنفین بھی نہیں جان سکتے”۔

لہٰذا جو لوگ، عورت کی فطری تہہ کا ادراک رکھتے ہیں، وہ یہ بات آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ ایک مرد کے لئے، بیک وقت کئی خوبصورت عورتیں مہیا ہونا(بشرطیکہ وہ”مرد” ہو)، ایک انعام ہے لیکن ایک عورت کو بیک وقت دو مرد مہیا ہونا، ایک سزا ہے۔

(افلاطون کو ایک شکایت یہ بھی رہتی تھی کہ جنت میں مرد کی 73 حوریں ہیں تو عورت کے ساتھ ناانصافی کیوں؟ حالانکہ جس وفاداری سے ہماری بھابھی، گذشتہ 20 سال سے افلاطون جیسے ’کھوچل‘ کے ساتھ گذارا کر رہی ہے، اصولاً یہ مطالبہ اس نیک بخت کا ہونا چاہئے تھا)۔

اپنی بدنام زمانہ مکروہ ہنسی کے ساتھ بائیں آنکھ دبا کر بولا” عورت بخیل ہے۔ اگر اسے مرد سے سچی محبت ہے تو مرد کو دوسری شادی کیوں نہیں کرنے دیتی؟عورت کو مرد کی داشتہ قبول ہے پر سوکن قبول نہیں ہے تو جنت میں آخر اتنی سوکنیں کیسے برداشت کرے گی؟”۔

میں نے کہا “اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ اپنے مرد کے سامنے برتر رہنا چاہتی ہے۔ جب مرد، کسی دوسری عورت کی طرف متوجہ ہوتاہے تو پہلی عورت کو اپنا آپ ’ڈی گریڈ‘ محسوس ہوتا ہے۔ دوسری عورت کی خود پر برتری اسے برداشت نہیں اور خدا نے عورت میں یہ احساس رکھ کر، گویا مرد کی راحت کا سامان کیا ہے۔ اب اپنے مرد کو کسی دوسری عورت سے بچانے کے لئے، وہ دل و جان سے اس کو خوش رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ بھی سوچو، کوءعورت خود پر سوکن لانے کو تیار نہیں لیکن خود کسی کی دوسری بیوی بننے کو تیار ہوتی ہے۔ کیوں؟

کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ جب میں دوسری بیوی بنوں گی تو میں پہلی والی سے برتر ہوں گی۔ اگر عورت کو کسی ذریعے سے یقین دلا دیا جائے کہ مرد چاہے جتنی بیویاں لے آئے مگر تم ہی اس کے دل کی ملکہ بھی ہوگی اور باقی سب سے ہر لحاظ سے حسین و برتر ہوگی تو اسے مرد کی باقی بیویوں پر اعتراض نہیں ہوتا۔ اس لئے تو دنیا میں ہی بتا دیا گیا کہ یہی زمینی عورت، وہاں سب حوروں کی سردار ہوگی اور ان کے مجموعی حسن سے بھی اس کا حسن زیادہ ہوگا۔

کہنے لگا”پھر 73 حوریں گن کر ہی کیوں؟”

میں نے کہا”یہ عرب محاورے سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ جیسے پنجابی میں کہتے ہیں کہ میں نے تینوں 36 واری کہا ہے تو اسکا مطلب کثرت ہوتا ہے”۔

افلاطون کا اصل احساس کمتری، گوری چمڑی کا نہ ہونا ہے پس انتقاماً، مذہب و اہل مذہب کی تحقیر کرنے سے ریلیکس فیل کرتا ہے۔

کہنے لگا”سلیم بھائی! آپ جتنا بھی زور لگا لو، لیکن اس شرمندگی کے داغ کو نہیں دھو سکتے کہ اسلام ایک شہوت انگیز مذہب ہے”۔

میں نے کہا” شرمندگی کس بات کی؟ پیارے افلاطون! ایک بات میری یاد رکھنا۔ شہوت ہی حیات اور عقلیات کی جوہری قوت ہے جس کی حفاظت اور نمو بہت ضروری ہے۔ فرصت ملی تو کسی اور ملاقات میں تجھے سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ اسلام، ’شہوت انگیز‘ مذہب نہیں ہے”۔


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “اپنی فطرت پر قیاس’ اصناف نازک‘سے نہ کر….

  • 28-01-2016 at 5:06 pm
    Permalink

    Alfaz Aor Misal Ka Esa Imtizaj He Ke… Banda Wah Bhi Nahi Bol Sakta..
    Dua He Yaar Log, Maqsad Samjhein… Aor Sirf Misalon Par Hi Na Ruk Jaein… Warna Jo Ilzamat “Beheshti Zevar” Par Lagte Hein.. Wo Iss Tehreer Par Bhi Lag Sakte Hein.

  • 28-01-2016 at 6:42 pm
    Permalink

    عقل حیران ہے کہ آج افلاطون کا نام اہانت آمیز لہجے میں طنزیہ تحقیر کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔ بخدا عورت کی ’فطری تہہ‘ میں غواصی کا جو حق آپ نے ادا کیا ہے اس پر یہ مضمون حرفِ آخر ہے اور نوادرات میں شمار ہونا چاہئے۔ آخری فلسفیانہ مقولے کا تو کیا ہی کہنا کہ شہوت ہی حیات و عقلیات کی جوہری قوت ہے۔ مضمون پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فرائیڈ اور راسپوتین مل کر مذہب اسلام کی تفسیر لکھ رہے ہوں۔

  • 28-01-2016 at 7:07 pm
    Permalink

    فرائیڈ اور راسپوٹین کا اکٹھ! عاصم بخشی صاحب داد قبول کیجیے۔ اس اکٹھ کی تفصیل ایک موضوع حدیث میں ملتی ہے جس کے مطابق مومن کو جنت میں ستر ہزار محل ملیں گے، ہر محل میں ستر ہزار کمرے ہوں گے، ہر کمرے میں ستر ہزار تخت ہوں گے اور ہر تخت پر ستر ہزار حوریں ہوں گی۔ اب آپ فوراً کیلکولیٹر پکڑیے اور حساب لگا کر عربی محاورے میں کثرت کے محاورے کا لطف اٹھایے اور دیکھیے کہ فرائیڈ بے چارہ کیا بیچتا تھا۔

  • 29-01-2016 at 1:15 pm
    Permalink

    حضورِ والا! بے مثل ندرتِ خیال اور رفعتِ فکر سے مزین یہ حکیمانہ مضمون لکھنے اور پھر اس کو منصۂ شہود پہ لانے پر بندۂ ناچیز کی جانب سے تہنیت قبول کیجئے۔ حرف حرف حکایت اور سطر سطر حکمت کی ایسی گراں قدر امثلہ شاذ ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ گنجینۂ معنی کا یہ طلسم بلاشبہ بار بار پڑھے جانے کے لائق ہے۔ عدوین کی اس پہ انگشت آرائی و دشنام طرازی ہرچند بھی باعث تعجب نہیں ہے کہ ازل سے یہی دستور رہا ہے۔ امید ہے کہ آپ اس سے بھی تندیٔ بادِ مخالف کا کام لیں گے۔
    نیازکیش
    بشارت علی

  • 29-01-2016 at 4:47 pm
    Permalink

    The example of electron and proton is totally irrelevant here sir. These elements have no will of their own, they remain till their extinction what they are. It seems that you tried to give your argument a scientific tinge, but it failed badly sir. Moreover, as per your example the sole purpose of electron nothing but “Tawaf” of nucleus. What a pitiable journey of useless life.

  • 30-01-2016 at 9:06 pm
    Permalink

    ہماری پاک مملکت خداداد کی دیواریں ایک سرے سے دوسرے سرے تک مردانہ کمزوری کے اشتہاروں سے لبریز ہیں، زنانہ کمزوری کا ذکر کہیں پڑھنے کو نہیں ملا۔ ایک اور نکتہ حق تعالیٰ نے عورت کی فطرت میں یہ بھی رکھا ہے کہ وہ رات بھر میں دسیوں مردوں سے مباشرت کر سکتی ہے، جبکہ مرد متعدد عورتوں (یا امردوں) سے متمتع ہونے یا انھیں متمتع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ کیا عجب کہ اس میں بھی سوچنے والوں کے لیے نشانیاں ہوں۔

  • 30-04-2016 at 6:52 pm
    Permalink

    عورت کے بارے میں ایسا علم ایک مرد ہی کا ہو سکتا ہے۔ بیچاری عورت کو کیا پتہ اپنے بارے میں

Comments are closed.