کیا ہم عورت دشمن ہیں؟


wajahatمحترم سلیم جاوید ایک پڑھے لکھے اور متوازن مزاج لکھاری ہیں۔ آج ’ہم سب ‘پر ان کی تحریر پڑھ کر یقین نہیں آیا کہ انہوں نے محض تفنن طبع کا اظہار کیا ہے یا وہ واقعی ایسے خیالات کو سنجیدگی سے اپنائے ہوئے ہیں۔ کوئی چار دہائیاں قبل درویش پنجاب کے ایک قصبے کے سرکاری سکول میں پڑھتا تھا تو ہمارے کچھ اساتذہ اس قسم کی گفتگو فرمایا کرتے تھے۔ کبھی کبھی ہم طالب علموں سے بات کرتے ہوئے مگر اساتذہ کے باہم ہنسی مذاق میں اکثر ہمارے ان بزرگوں کا لب و لہجہ پوری کائنات کو گویا ایک صنفی سازش کے طور پر بیان کرتا تھا۔ انہی دنوں میں بڑے ابا کی کتابوں کی الماری سے ایک کتاب ‘لیڈی ڈاکٹر حلیمہ خانم‘ دریافت ہوئی۔ اسے پڑھ ڈالا۔ انیس سو بیس کی دہائی میں شدھی اور تبلیغ کی کشاکش کے دنوں کی یاد گاراس فکشن نما کتاب میں عورت اور مرد کی فطرت کے بارے میں کچھ مناظرہ نما دلائل تھے۔ طبیعت ٹھکی نہیں۔ ایک خیال سا تھا کہ نصف صدی گزر گئی ، وقت بدل گیا، دنیا بدل گئی۔ ہمارے خیالات میں بھی تبدیلی آ چکی ہو گی مگر بھائی سلیم جاوید کی تحریر پڑھ کر احساس ہوا کہ شاید ہم ایک دوسری دنیا کی طرف نکل گئے تھے۔ ابنائے وطن تو ابھی اسی کوچے میں بستے ہیں جہاں جسمانی خصوصیات کی بنا پر انسان کا سماجی، معاشی، قانونی اور سیاسی مقام طے پاتا ہے۔

ابھی وزیر اعظم نواز شریف نے پچھلے دنوں اشارہ کیا تھا کہ وطن عزیز میں غیرت کے نام پر قتل کا ناطقہ بند کیا جائے گا۔ مگر پھر ہماری قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کی رگ حمیت پھڑکی اور اس نے بچپن کی شادی کے خلاف ایک ترمیمی مسودہ قانون کو خلاف شریعت قرار دے دیا۔ وزیر اعظم کی بات کسی کو یاد نہ رہی ۔ بے کار جولاہے سے لٹھم لٹھا ہوتے رہے۔ شہر میں مضموں نہ پھیلا اور جوتا چل گیا۔
اگر ہماری سوچ میں یہ زاویے موجود ہیں تو پھر کیا تعجب کہ گھریلو تشدد ہمارے معاشرے میں عام ہے اور اب تو ایک مدت سے اس پر اجتماعی مکالمہ بھی نہیں ہو رہا۔ گویا ہم نے تشدد کی اجتماعی نفسیات کی اس سب سے بڑی وجہ جائز رویہ تسلیم کر لیا ۔ ایک مدت سے کان ترس گئے کہ اس ملک کے کسی مہذب آدمی کی زبان سے عورتوں کے بارے میں انصاف کی آواز سنائی دے۔ کیا اب اس ملک میں منظور قادر، حمید احمد خاں، حفیظ کارداراور مبشر حسن پیدا نہیں ہوتے۔ اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر ہم نے کہا کہ عورتوں کو زندہ دفن کرنا ہماری روایت ہے ۔ بے نظیر بھٹو کی آخری آرام گاہ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر لاڑکانہ کا وہ معروف قبرستان ہے جہاں کاری عورتوں کو دفن کیا جاتا ہے۔ کیسے مان لیا جائے کہ بے نظیر کو شہید رانی کا خطاب دینے والے پاکستان کی عام عورت کی بے حرمتی کو بھی ایک بنیادی سیاسی معاملہ سمجھتے ہیں۔ چار برس قبل کوہستان میں شادی کی ویڈیو کے مسئلے پر عورتوں اور مردوں کے قتل کا معاملہ سامنے آیا تھا ۔ اس مقدمے کا فیصلہ بھی سنا دیا گیا مگر ستم ظریفی ہے کہ جن خواتین کے قتل کی خبر پر مقدمہ قائم ہوا تھا، ان کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ وہ زندہ ہیں یا انہیں قتل کیا جا چکا۔ ابھی سوات میں بچی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو کے بارے میں عدالت کا فیصلہ آیا۔ قانونی معاملہ تو حل کر دیا گیا مگر صاحب سوات میں ذبح کی جانے والی خاتون اساتذہ اور دوسری محنت کش خواتین کے خون ناحق پر تاریخ کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔ یورپ کی تاریک صدیوں میں ایک مہم چلی تھی جسے وچ ہنٹ (Witch Hunt) کہا جاتا ہے۔ ساڑھے تین سو برس پر محیط اس ظلم بے اماں کا بدصورت دھبہ آج تک یورپ کے دامن پر ہے ۔ عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی غیر مشروط مخالفت انسانیت کے نام پر قرض ہے۔ پیدایش کے حادثے کی بنیاد پر امتیازانسانیت کے اجتماعی چہرے پر طمانچہ ہے۔ جو معاشرہ عورتوں کے تحفظ کے بارے میں حساس نہیں ، وہاں کس منہ سے تہذیب، تمدن اور ثقافت کے ترانے گائے جاتے ہیں۔ امتیازی سلوک محض حادثاتی واقعات کا نام نہیں، یہ معاشرتی رویے ایسے ناسور ہیں جن کی جڑیں ہماری اجتماعی پسماندگی میں ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ ہم ان رویوں پر سنجیدگی سے غور و فکر کر سکیں ۔ ہم اپنی کتاب قانون سے امتیازی قوانین اور اپنی معاشرت سے صنفی استحصال کو ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
مختلف مذہبی اور ثقافتی روایات سے تعلق رکھنے والے رجعت پسند گروہ صنفی مساوات کی یکساں شدو مد سے مخالفت کرتے ہیں۔ صنفی اور تولیدی حقوق کے بارے میں ایک جیسے رجحانات رکھتے ہیں اور گوناگوں باہمی اختلافات کے باوجود عورتوں کو مردوں سے کمتر سمجھتے ہیں۔انسانی تاریخ میں عورتیں امتیازی سلوک کی بدترین صورتوں کا شکار رہی ہیں۔ درحقیقت معاشرتی، سیاسی اور معاشی میدان میں عورتوں سے امتیازی سلوک مردوں کی بہت بڑی اکثریت کے حق میں جاتا ہے۔ عدم مساوات اور امتیازی سلوک کی اس شرم ناک صورت حال نے معاشرے کو ایک بڑی استحصالی سازش کی شکل دے رکھی ہے۔ عورتوں سے بدسلوکی صرف عورتوں ہی سے ناانصافی نہیں بلکہ پوری انسانیت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ عورتوں کی تخلیقی، فکری، پیداواری اور اخلاقی صلاحیتوں کو کچلنے سے اجتماعی انسانی امکان مجروح ہوتا ہے۔
کچھ قدامت پسند تاویل پیش کرتے ہیں کہ عورتوں کے لیے ایک مخصوص دائرہ کار اور بود و باش کے زبردستی عائد کردہ ضابطے دراصل ان کی حفاظت اور احترام کی عکاسی کرتے ہیںلیکن حقیقت یہ ہے کہ مردوں کو نصف انسانی آبادی کا دائرہ کار، صلاحیت اور امکان متعین کرنے کا اختیار کسی نے نہیں دیا۔ عورتوں اور مردوں میں واحد خط امتیاز جسمانی فرق ہے۔ تاہم حیاتیاتی وظائف اور عضویاتی فرق کو انسانی عقل ، صلاحیت اور امکان کی بنیاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دراصل قدامت پسند ذہن عورت اور مرد میں لکیر کھینچتے ہوئے انسانی جسم کے احترام سے انکار کرتا ہے۔ اگر انسان اپنے جسم کا احترام کھو بیٹھیں اور اپنی جسمانی خصوصیات پر تفاخر یا شرمندگی جیسے احساسات کا شکار ہو جائیں تو وہ سیاسی مکالمے، تمدنی بلوغت اور اجتماعی فیصلہ سازی میں مو¿ثر آواز اٹھانے کے اہل نہیں رہتے۔ ایسے محجوب اور منفعل انسانوں پر مشتمل معاشرہ آمرانہ اور استحصالی طبقوں کو لامحدود اختیارات کا شکنجہ کسنے میں مدد دیتا ہے۔
قدامت پسند فلسفے میں عورت کے تین ہی مناسب وظائف ہیں: بچے پیدا کرنا، گھر کی چاردیواری میں کھانے پکانے ، کپڑے دھونے اور جھاڑو دینے کے فرائض انجام دینا نیز عبادت کرنا، تاریخی طور پر عورتوں کو میدان جنگ میں ہتھیار بند ہونے اور لشکر کشی کا اہل نہیں سمجھا گیا اور قدامت پسندوں کے نزدیک پوری انسانی زندگی قتل و جدال کی لامتناہی داستان کے سوا کچھ نہیں۔ لہٰذا غیر جمہوری معاشروں میں عورتیں جنگی مہم جوئی میں عدم شرکت کے باعث خود بخود دوسرے درجے کی شہری قرار پاتی ہیں اسی لیے انھیں حکومت اور معاشرے میں قیادت کے مناصب سے باہر رکھا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں کچھ بنیاد پرست ریاستوں میں بھی عورتوں کو رائے دہی کا حق دیا گیا ہے لیکن بنیاد پرست حکومت میں رائے دہی کا حقیقی مفہوم تو بنیاد پرست گروہ کی تائید اور رسمی توثیق کے سوا کچھ نہیں ہوتا چنانچہ ایسی غیرحقیقی جمہوریت میں ووٹ کا حق بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔
قدامت پسند فکر میں مردوں کی عورتوں پر بالادستی کی ایک سیاسی نفسیات بھی ہے۔ غیرجمہوری معاشرے کی گھریلو چاردیواری میں مرد ایک مطلق العنان سربراہ ہے۔ بیوی اور بچوں سے مرد سربراہِ خاندان کی بے چون و چرا اطاعت کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ خاندانی زندگی میں اطاعت اور تسلیم و رضا کی اس ذہنی اور عملی تربیت سے حکومت کے لیے معاشرے کو مطلق العنان اطاعت کے ڈھب پر لانا آسان ہو جاتا ہے۔ گھر میں تسلیم و اطاعت کا یہ درس تعلیمی اداروں تک بھی پہنچتا ہے۔ کچھ ریاستیں تو سرے سے عورتوں کی تعلیم ہی پر پابندی عاید کرتی ہیں۔ کچھ صورتوں میں کم عمر بچوں کی تعلیم کے لیے عورتوں کی بجائے مرد اساتذہ کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ نوخیز طالب علم مو¿دت اور شفقت کی بجائے درشتی اور تُند خوئی کے عادی ہو جائیں۔ نظم و ضبط کے نام پر تجسس اور جرات اظہار جیسی صلاحیتوں کو دبایا جائے۔ تحقیق کی بجائے تقلید اور دلیل کی بجائے منقولی طریقہ¿ تدریس کو ترجیح دی جاتی ہے۔ نصاب تعلیم میں علمی حقائق کی بجائے نظریاتی تلقین پر زور دیا جاتا ہے۔ اس مشق کا اصل مقصد تابعِ فرمان شہریوں کی کھیپ تیار کرنا ہوتا ہے۔ رجعت پسند افراد عورتوں کے احترام کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن عورتوں کو مردوں سے حقیر گردانتے ہیں۔ تاریخی طور پر پیوستہ مفادات کے پروردہ گروہ ہوائے نفس کے اسیر رہے ہیں۔ انسانی تاریخ میں جہاں رجعت پسندوں نے سیاسی اختیار حاصل کیا، وہاں عصمت فروشی اور بردہ فروشی کو فروغ ملا۔ اس میں ایک نازک سی نفسیاتی علت کارفرما ہے۔ ذہنی رفاقت اور فکری یگانگت سے خالی نفسانی ہوس کا رجحان ہمیشہ نارسائی کے احساس پر ختم ہوتا ہے۔ چنانچہ رجعت پسند ذہن اس احساس نارسائی کی تلافی تشدد اور تحکمانہ اختیار میں تلاش کرتا ہے۔ جدید فکری روایت میں عورت اور مرد کا رشتہ جمہوری ہے۔ یہ رشتہ دو افراد کی ذات کے باہم انکشاف کا نام ہے۔ ایسا انکشاف رتبے ،حقوق اور اختیار کی مساوات کے بغیر ممکن نہیں۔ رجعت پسند ذہن کلی اختیار اور مطلق حاکمیت کے خبط کا اسیر ہے۔ جنسی رفاقت ایک فرد کے دوسرے پر اختیار کا نہیں ، دو تکمیلی ، پیداواری اور تخلیقی اکائیوں کی سانجھ کا نام ہے۔ رجعت پسند ذہن شریک حیات سے رفاقت کی بجائے اطاعت کا طالب ہوتا ہے۔ چنانچہ اُسے عام طور پر کم عمر، مجہول، منفعل اور مطیع ساتھی کی خواہش ہوتی ہے۔ ایسا تعلق تکمیل ہوس کا دروازہ تو کھول سکتا ہے، جذبہ¿ رفاقت کی تسکین نہیں کر سکتا۔ سو روایت پرست ذہن میں ہوس اور نفرت کے متناقض رویے جنم لیتے ہیں ۔ لامحدود خواہش اور نخوت آمیز بے گا نگی کا تضاد پیدا ہوتا ہے۔ قدامت پسند فرد کی یہ داخلی خلیج ریاست کے رگ و ریشے میں سرایت کر جاتی ہے۔ عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین بنائے جاتے ہیں۔ ان کی نقل و حرکت پر پابندی عاید کی جاتی ہے۔ انھیں تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے۔ ان پر روزگار کے دروازے بند کئے جاتے ہیں۔ تحقیق، تخلیق ، دریافت اور پیداوار کے شعبوں میں عورتوں کی صلاحیتوں سے انکار کیا جاتا ہے ۔ انھیں اجتماعی فیصلہ سازی میں مو¿ثر آواز سے محروم رکھا جاتا ہے۔ رجعت پسند ذہن عورت کو ایک مکمل انسان نہیں، محض اپنی خواہشات کی تکمیل کا آلہ سمجھتا ہے۔ جیسے سلیم جاوید صاحب سے اختلاف کیا جا رہا ہے ، پڑھنے والوں کو بھی درویش کی رائے سے اختلاف ہو سکتا ہے ۔ تاہم ہمیں اس موضوع پر بات تو کرنی چاہیے کہ جنس کی بنیاد پر معاشرے میں امتیاز اور تفریق کی لکیر قائم رکھتے ہوئے ایک منصفانہ معاشرہ کیسے تشکیل دیا جا سکتا ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “کیا ہم عورت دشمن ہیں؟

  • 28-01-2016 at 7:48 pm
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر، زبان و بیان کی خوبیوں سے مزین، متوازن اور مدلل۔ جب پیدائش کا صنفی اختیار کسی کے پاس نہیں پھر اس بنیاد پر امتیاز کیوں؟ عورت بھی اتنی ہی انسان ہے جتنا کہ مرد!!

  • 28-01-2016 at 7:50 pm
    Permalink

    It is like a breath of fresh air to read such a balanced and critical review of this topic of women’s rights and equality. Until we realize the importance of this 50% segment of society – people will not progress

  • 08-03-2016 at 10:46 am
    Permalink

    محترم وجاہت مسعود صاحب
    بہت ہی دلچسپ اور فکر انگیز تحریر۔ کیا کہنے۔ ذرا سوچیں خواتین اگر علم حاصل کرکے جاب کریں، دفتر جائیں اور اپنے پاؤں پر خود کھڑی ہونے کی کوشش کریں تو ہماری عزت کو خطرہ ہے، ہماری غیرت جاگ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں البتہ وہ اَن پڑھ رہ کر کوڑاکرکٹ اکٹھا کریں اور سرعام بازار میں بیھگ مانگتی پھریں تو ہمارے مذہب اور عزت کو کوئی خطرہ نہیں۔ سچ پوچھئے اُس وقت ہماری غیرت بھی سو رہی ہوتی ہے۔ کبھی کبھی میں بھی ان لوگوں کی طرح سوچتا ہوں کہ ہمارے آپ کے روایتی معاشرے میں عورت کام کی غرض سے آخر چادر اور چاردیواری کو کیوں پھلانگ کر باہر جاتی ہے؟ آخر گھر میں ٹک کر کیوں نہیں بیٹھتیں؟ کیوں نوکری کے شوق اور عذاب میں اپنی قدر گھٹاتی ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر کیفی اعظمیٰ کی مشہور نظم “عورت” کی کچھ سطریں یاد آجاتی ہیں:

    قدر اب تک تیری تاریخ نے جانی ہی نہیں
    تجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیں
    تو حقیقت بھی ہے، دلچسپ کہانی ہی نہیں
    تیری ہستی بھی ہے ایک چیز، جوانی ہی نہیں
    اپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھے
    اٹھ میری جان! میرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

Comments are closed.