حلیم کا خدا حافظ!


پہلے خدا حافظ کا خدا ہی حافظ ہوا، اب اس کی باری ہے۔۔۔ لیکن چھوٹتے ہی اس چیز کا نام کیسے لکھ دوں، کوئی پکار اٹھے گا کہ ابتداء ہی بدعت سے کی ہے۔ اس کا بھلا سا نام ہے۔ کسی چیز کا نام بھول جائے تو کیسی الجھن ہوتی ہے۔ شکل ذہن میں آرہی ہے، تصویر سی بن رہی ہے مگر نام ہے کہ زبان کی نوک پر آتے آتے پھسل جاتا ہے۔ میرے چچا چیزوں کے نام بھول جانے کا مذاق کیا کرتے تھے۔ وہ دادی اماں کو اس طرح مخاطب کرتے کہ سبھی سُن لیں، پھر پوچھتے۔

’’آپا، وہ کیا ہوتی ہے، اتنی بڑی بڑی، ہری ہری، گول گول۔۔۔‘‘

’’سر تمہارا۔۔۔‘‘ دادی اماں مصنوعی خفگی سے جواب دیتیں۔ ’’تُرئی کو پوچھ رہے ہو؟‘‘

’’تُرئی۔۔۔‘‘ چچا کا اطمینان کا سانس لیتے جیسے تُرئی واقعی ان کے سامنے آگئی ہو۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اگر وہ آج پوچھتے__

’’وہ کیا چیز ہوتی ہے، بھوری بھوری گاڑھی گاڑھی جوآج کل کے دنوں میں سب رات بھر پکاتے ہیں، پھر مل کر کھاتے ہیں؟‘‘

جو نام میرے ذہن میں آرہا ہے، کیا وہ نام میں ادا کرسکتا ہوں۔

’’غلط!‘‘ کوئی پکار اٹھے گا۔ ’’یہ نام نہیں لیتے۔ اس سے بے ادبی ہوتی ہے۔۔۔ اس کو دلیم کہہ سکتے ہیں!‘‘

یا الٰہی، یہ کیا ماجرا ہے۔ وہی برسوں سے جانی پہچانی حلیم۔۔۔ اسی نام سے پکارتے ہیں، پکاتے اور کھاتے آئیں، اب اس کا نام اچانک گناہ آلود کیوں ہوگیا؟

خدا معلوم کس دانا کی دریافت ہے لیکن ہونٹوں نکلی کوٹھوں چڑھی۔ ہوتے ہوتے یہ نیا نام میرے سامنے بھی آگیا کہ حلیم کو حلیم نہ کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ حلیم کو حلیم نہ کہا جئے تو پھر کیا کہا جائے؟ کیا کسی اور نام سے اس کا وہی مزہ باقی رہے گا، وہ سوندھا پن، وہ گاڑھا پن، وہ ہلکا مصالحہ اور گل کر نرم ہو جانے والے گوشت کا الگ ذائقہ۔

لیکن ان سب باتوں کو بھول جائیے۔ ہمارے زمانے کے عقل مند و دانا لوگوں نے ، جو مذہب کو نئے سرے سے دریافت کررہے ہیں، نئی اطلاع بہم پہنچائی کہ حلیم کو حلیم کہنا جائز نہیں۔

حلیم بھی حلق میں اٹک کر رہ گئی۔

دوپہر کے وقت دفتر میں جب ہم چند لوگ جمع ہو جاتے ہیں تو انتظار کرتے ہیں کہ دیکھیں آج شاہ زیب کے گھر سے کیا آیا ہے۔ اس لیے کہ وہ اور اس کے گھر والے چٹخارے کے قائل ہیں۔ آج پوٹلی کُھلنے کی باری آئی تو میرا خیال تھا کہ ضرور حلیم آئی ہوگی۔ مگر حلیم کے بجائے اس نے کہانی سنا دی۔

’’رات کو ہم حلیم تیار کررہے تھے۔ دیگ چولہے پر چڑھی ہوئی تھی اور سب باہر باورچی بنے جارہے تھے۔۔۔‘‘ شاہ زیب بتا رہا تھا۔ ’’میری باری آئی تو میں نے زور سے کہا، کیا کرتے ہو ٹھیک سے حلیم کو گھونٹا لگائو۔ میرا اتنا کہنا تھا کہ فلاں بھائی صاحب سیخ پا ہو گئے۔ انھوں نے ٹوک دیا کہ اس کو دلیم کہا کرو۔ وجہ پوچھی تو بہت کریدنے، ٹٹولنے کے بعد جواب ملا کہ حلیم تو خدا کا نام ہے۔ آئی ایم سوری سر، اللہ کا نام ہے۔ اس طرح گھونٹا کہنے سے بے ادبی ہو جاتی ہے۔۔۔‘‘

لیکن دلیم کیا، دلیم کیوں؟ کیا دلیے اور دال سے ہے؟ میں نے پوچھنا چاہا۔ دال سے یا ض سے__ اس نئے تلفّظ والے رمضان کی طرح جو رمدان بنتا جارہا ہے؟ اور صحیح مخرج سے الفاظ نکالنے سے گناہ کم ہو جاتا ہے؟ مگر میں پوچھ نہ سکا۔ میرے ہاتھ پائوں ٹھنڈے پڑ گئے۔ میں کیسے کہہ دوں کہ بھوک لگ رہی ہے اور حلیم کھانا چاہتا ہوں۔۔۔نعوذ باللہ

!

حلیم، حلیم۔۔۔ میرے دماغ میں گُھٹالا چل پڑا۔ مجھے یاد آیا کہ گلشنِ اقبال میں چوک کے پاس افغانی تندور سے پہلے اور علی انڈا برگر کے پاس ایک ٹھیلا روز آتا ہے جس پر بڑی بڑی پتیلیاں دھری ہوتی ہیں اور وہ چاٹ مصالحہ چھڑک کر دیتا ہے کہ آپ ہونٹ چاٹتے رہ جائیے۔ ٹھیلے کے دونوں طرف لکڑی کے تختے پر اس نے لکھ کر لگا دیا ہے___ ٹیسٹی حلیم۔ پہلے آئیے۔ پھر کھائیے۔ نہیں تو پچھتائیے۔

کھائے بغیر پچھتاوا ہونے لگا۔ حلیم نے دلیم تک لسانی یا ادبی سفر پر گفتگو کرنے والا تھا کہ عقیدہ راستے میں دیوار بن کر کھڑا ہوگیا۔ بے ادبی ٹھیلے والا کا مقصد ہے اور نہ میرا۔ اس کی خاطر جان تو نہیں دے سکتا۔۔۔ سستا اور معمولی سا کھانا۔

میں گھبرا گیا کہ گستاخی کا یہ امکان کسی فتنے کی طرح کیسے بیدار ہوگیا۔ ادھر شاہ زیب کے چہرے پر بہت سے سوال ابھر آئے اور ایک خفیف سی مسکراہٹ، جیسے میں نے اس کی چوری پکڑ لی ہو۔

لیکن اب خود میرے دل میں دھکڑ پکڑ ہورہی تھی ایک مانوس سا ذائقہ میری زبان پر آتے آگے کڑواہٹ میں بدلنے لگا۔ کتنے جانے پہچانے انداز اس کے ساتھ وابستہ تھے، ایک ایک کر کے یاد آنے لگے۔

اس مہینے کا چاند نظر آتے ہی نکہت چچی دعوت کے لیے دن گننے لگتی تھیں۔ دور دور تک اطلاع دی جاتی، ان کے زیراہتمام دیگ اترتی اور سارے گھر والے مل کر کھاتے۔ محلّے والوں کو حصّے بھیجے جاتے۔ آنے جانے والوں کے لیے ناشتہ دان اور پلاسٹک کے ڈبّے الگ تیار کیے جاتے۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ کوئی اس دعوت میں شریک ہونے سے رہ جائے۔

سب اس کو حلیم کی دعوت کہتے تھے۔ چند ایک لوگ کھچڑا کہتے اور بتاتے تھے کہ حلیم اور کھچڑے میں تکنیک کا فرق ہوتا ہے۔ میرے والد کبھی کبھار ترنگ میں آکر مولوی عبدالحلیم شرر کہہ کر پکارتے تھے، کہ ڈونگا ادھر بڑھا دینا۔

اس میں وہ گھرانا بھی شامل تھا جو بہت دین دار تھا۔ ان کے والد مذہبی عالم تھے۔ اگر اس نام میں قباحت ہوتی تو وہ حلیم کیسے کھاتے؟ مگر پھریہ ہوا کہ نکہت چچی کا انتقال ہوگیا اور اب وہ رسم بھی موقوف ہوئی۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ بھی اچھا ہوا، بُرا نہ ہوا۔ ورنہ کوئی اعتراض کر دیتا کہ نام ہی غلط ہے۔

مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب ڈرا دھمکا کر چندہ وصول نہیں کیا جاتا تب گلی گلی حلیم کا اہتمام ہوتا۔ لڑکے بالے محلّے کے گھروں سے پیسے لیتے اور اجتماعی کارروائی کے طور پر رات بھر حلیم کی دیگ گھونٹی جاتی پھر محلّے میں بانٹی جاتی۔ حلیم پکانا اور محلّے پڑوس میں بانٹنا کم ہوتے ہوتے اب بھی غائب نہیں ہوا ہے۔

حلیم کا یہ اہتمام محض زبان کا چٹورا پن نہیں، ایک اور بڑی روایت کا حصّہ ہے۔ پانی اور شربت کی سبیلیں اور تعزیے، پھر شب عاشور کو مجلس شام غریباں ٹی وی پر دیکھنا۔ ناصر جہاں کی آواز میں نوحہ، گھبرائے گی زینب اور پھر سلام آخر۔۔۔

کیا یہ روایت بھی گستاخی کا حصّہ بن جائے گی؟ میرے ذہن میں غالب کے اشعار کلبلانے لگے۔ جب کچھ اور سمجھ میں نہ آئے تو پھر غالب سمجھانے کے لیے آجاتے ہیں۔

غالب نے کتنے اطمینان کے ساتھ لکھ دیا تھا:

یہ مسائل تصوف یہ تیرا بیان غالب

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

ارے صاحب، ولی کو بادہ خوار کہہ رہے ہیں۔ ولی بھی تو ننانوے ناموں میں سے ایک ہے۔معاذ اللہ۔ اس سے بھی بڑھ کر:

ہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا

اب غالب کا کوئی کیا کرے؟ دیوان کا دیوان بازار سے اُٹھوالیا جائے اور الفاظ میں ترمیم کے بعد دوبارہ چھاپا جائے؟ غالب تو غالب، کتنے سارے نام ہماری عام زبان کا حصّہ بن چکے ہیں۔ اب اگر میں کسی کو بتانا چاہوں کہ حمید اور سمیع کے بارے میں میری کیا رائے ہے تو یہ بھی گستاخی ٹہری۔ حمید جن الفاظ کے مستحق ہیں، ان سے میں محروم کیوں رکھوں؟

اچھا، حمید پر توخاک ڈالیے۔۔۔ ارے سچ مچ نہیں، لغوی معنوں ہیں۔ اگر میں کسی کو بتانا چاہوں کہ فلاں حکیم کا علاج اچھا نہیں، وہ دوائوں میں ملاوٹ کرتا ہے۔ اسی طرح میں کیسے بتائوں کہ وہ وکیل بہت چوٹٹا ہے، اوپر کی آمدنی کا ایک روپیہ نہیں چھوڑتا۔ ان الفاظ و القاب کو ادا کرنے کا کوئی اور طریقہ ممکن ہے تو مجھے بتا دیا جائے، میں ممنون ہوں گا۔

مگر حلیم کی مشکلات اس کے نام کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتیں۔ نام تو اس کا بدل کر جو چاہے اول فول رکھ دیجیے۔ حلیم کی شناخت کا کیا ہوگا۔ ایک دفتر میں کسی ساتھی کو کھانے کا اہتمام کرنا تھا۔ کھانے والوں کی تعداد زیادہ، اہتمام بھی مشکل۔ ایک اور دوست نے مشورہ دیا کہ حلیم پکوالو۔ تمہیں پسند بھی ہے۔ سب پیٹ بھر کر کھا لیں گے۔

جن کو یہ سستا نسخہ بتایا گیا تھا، وہ پریشان ہوگئے۔ حلیم تو نہیں پک سکتا۔ فلاں ساتھی نے چپکے سے بتا دیا ہے۔ اگر حلیم پکے گا تو لوگ سمجھیں گے کہ آپ بھی ’’ان‘‘ میں سے ہیں۔

اب یہ ’’ان‘‘ کون ہیں، آپ بھی سمجھ گئے ہوں گے۔ میں چپ ہو جاتا ہوں کہ میں بھی چاہتا ہوں کہ قیامت کے روز ایمان والوں کے ساتھ اٹھایا جائوں۔

ایسی حلیم پر خدا کی سنوار۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں